Pakistan Ne Hamen Kya Dia ?

قومی و فکری مطالعہ

پاکستان نے ہمیں کیا دیا اور ہم نے وطن کو کیا لوٹایا؟

جب سے ہوش سنبھالا ہے، پاکستان کے مقصدِ وجود کے نعروں کا والہانہ جوش اور ملکی حالاتِ زار کا شکوہ ساتھ ساتھ سننے کو ملا ہے۔ سنجیدہ ذہن ہمیشہ اس سوال پر غورو فکر کرتے ہیں کہ آخر ایک عظیم الشان اسلامی نظریے پر قائم ہونے کے باوجود مملکتِ خداداد پاکستان اپنے بانیان کے خوابوں کی مکمل تعبیر کیوں نہ پا سکا؟ کیا کوتاہی اس وطن کی مٹی میں تھی یا ہمارے اپنے اخلاص اور کردار میں؟
تحریک پاکستان اور آزادی کی تاریخ
فہرستِ مضامین
  • ۱. ۲۷ ویں شب اور تحریکِ آزادی کی تاریخی قربانیاں
  • ۲. پاکستان کا نظریاتی تشخص اور اقبال و قائد کا خواب
  • ۳. پاکستان نے ہمیں کیا کچھ عطا کیا؟ (شناخت، آزادی اور تحفظ)
  • ۴. قدرتی حسن، سیاحت اور جغرافیائی شاہکاروں کی سرزمین
  • ۵. صنعتی، معاشی اور عالمی ریکارڈز کا حامل پاکستان
  • ۶. محاسبۂ ذات: ہم نے وطن کو کیا لوٹایا اور راہِ نجات کیا ہے؟

۱. ۲۷ ویں شب اور تحریکِ آزادی کی تاریخی قربانیاں

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اس کرۂ ارض پر عالمِ اسلام کے لیے ایک نعمتِ غیر مترقبہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء بمطابق ۲۷ رمضان المبارک (لیلۃ القدر) اور جمعۃ الوداع کا مبارک دن تھا جب اللہ تعالیٰ نے برصغیر کے مسلمانوں کو آزادی کی یہ بیش بہا نعمت عطا فرمائی۔

یہ آزادی محض کسی سمجھوتے یا حادثے کا نتیجہ نہیں تھی، بلکہ تاریخِ انسانی کی سب سے بڑی ہجرت اور قربانیوں کی داستان تھی۔ مائیں اپنے لختِ جگر کو سینے سے لگائے، بہنیں اپنی عفت کو دامن میں چھپائے، اور بیٹے اپنے بوڑھے والدین کو کندھوں پر اٹھائے لہو کی ندیاں پار کر کے اس پاک سر زمین تک پہنچے تھے۔

ایک پورا کنبہ اپنے آبائی گھر سے روانہ ہوتا تھا لیکن منزل تک پہنچتے پہنچتے صرف ایک لاچار فرد بچتا تھا؛ مگر اس کے دل میں مایوسی کے بجائے ایک اسلامی فلاحی ریاست کا روشن خواب اور جذبہ موجزن ہوتا تھا۔

پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الٰہ الا اللہ

۲. پاکستان نے ہمیں کیا دیا؟ (شناخت اور آزادی کی نعمت)

آج گاہے بگاہے شکوہ کناں لہجے میں یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ "پاکستان نے ہمیں کیا دیا؟" لیکن سچ تو یہ ہے کہ پوچھنے کا سوال یہ ہے کہ "پاکستان نے ہمیں کیا کچھ نہیں دیا؟"

۱. خودمختار قومی تشخص: پاکستان نے ہمیں ہندو اکثریت کی غلامی اور معاشی و سماجی تعصب سے نجات دلا کر دنیا کے نقشے پر ایک خوددار قوم کا وقار بخشا۔
۲. دینی و مذہبی آزادی: اس دھرتی نے ہمیں مساجد کے میناروں سے گونجتی اذانوں، شعائرِ اسلام کی آزادی اور بلا خوف و خطر اپنی عبادات بجا لانے کا محفوظ ماحول فراہم کیا۔
۳. جان و مال اور آبرو کا تحفظ: اگر آج ہمارے پاس ایک پاسپورٹ، آزاد عدالتیں، اور ایک منظم ریاست کی چھتری موجود ہے تو یہ اسی وطن کی بدولت ہے۔

۳. قدرتی حسن، سیاحت اور جغرافیائی شاہکار

اللہ تعالیٰ نے اس خطۂ ارض کو دنیا بھر کے بے نظیر جغرافیائی تنوع سے نوازا ہے۔ بلند ترین برف پوش چوٹیوں سے لے کر بحیرۂ عرب کے سنہری ساحلوں تک، پاکستان کا ہر گوشہ حسن و جمال کا مرقع ہے:

کے ٹو (K2) اور نانگا پربت
وادئ کاغان، ناران اور شوگران
فیری میڈوز اور دیوسائی نیشنل پارک
شنگریلا اور اپر کچورا جھیلیں
شاہراہِ قراقرم (دنیا کا آٹھواں عجوبہ)
گوادر، کلفٹن اور ہنگول کے ساحل
بادشاہی مسجد، شاہی قلعہ اور فیصل مسجد
سیاچن، تاؤ بٹ اور وادئ نیلم

۴. معاشی توانائیاں اور عالمی ریکارڈز کا حامل پاکستان

پاکستان محض خوبصورتی کا نہیں بلکہ بے پناہ قدرتی خزانوں اور صنعتی صلاحیتوں کا مسکن ہے:

واحد ایٹمی مسلم ریاست: عالمِ اسلام کا واحد ملک جس کے پاس ناقابلِ تسخیر دفاعی و جوہری صلاحیت موجود ہے۔
کھیلوں کی عالمی صنعت: دنیا بھر میں فٹ بال اور کھیلوں کا بہترین سامان پاکستان کا شہر سیالکوٹ تیار کرتا ہے۔
دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام: دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں پر قائم پاکستان کا اریگیشن سسٹم دنیا کے وسیع ترین نظاموں میں شمار ہوتا ہے۔
قدرتی معدنیات کے ذخائر: جہلم میں دنیا کی دوسری بڑی نمک کی کان (کھیوڑہ)، بلوچستان میں کوئلے، تانبے اور سونے (ریکوڈک) کے بے بہا خزانے، اور صنوبر کے نایاب قدیم جنگلات۔
عالمی فلاحی ریکارڈ (ایدھی نیٹ ورک): دنیا کی سب سے بڑی رضاکارانہ ایمبولینس سروس کا اعزاز اسی ملک کے نام ہے۔

۵. محاسبۂ ذات: ہم نے وطن کو کیا لوٹایا؟

اس دھرتی نے ہمیں نام دیا، وقار دیا اور ہر نعمت سے نوازا؛ مگر لمحۂ فکریہ یہ ہے کہ جواب میں ہم نے اس وطن کو کیا دیا؟

ہم نے اپنے حقوق کا مطالبہ تو خوب کیا مگر اپنے فرائض اور آئینی و اخلاقی ذمہ داریوں کو فراموش کر دیا۔ کرپشن، اقربا پروری، لسانی و فرقہ وارانہ تعصبات اور قانون شکنی نے ملکی ترقی کی رفتار کو سست کر دیا۔

قرآنِ حکیم کا واضح اصول ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اندر تبدیلی پیدا نہ کرے۔ اگر ہم پاکستان کو قائد و اقبال کے خوابوں کی حقیقی اسلامی فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں شکوے چھوڑ کر اپنے اپنے دائرۂ کار میں محنت، دیانت اور قانون کی پاسداری کو اپنانا ہوگا۔

۶. حاصلِ کلام و تجدیدِ عہد

پاکستان اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم اور زندہ امانت ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بحیثیتِ فرد اور بحیثیتِ قوم اپنے گریبان میں جھانکیں، ذاتی مفادات پر قومی مفاد کو ترجیح دیں اور اس پاک مٹی کی تعمیر و ترقی کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ آئیں عہد کریں کہ ہم شکوہ سنج ہونے کے بجائے اس چمن کو سنوارنے والے باغبان بنیں گے۔

Sight of Right Editorial

Dedicated to sharing verified Islamic research, Quranic Tafseer, and Hadith proofs to promote the right path according to the Holy Quran and Sunnah.

No comments

Post a Comment