zawi / Zoe alarhaaam ka bayan

علم المیراث فقہ حنفی Islamic Law of Inheritance

علم المیراث میں ذوی الارحام کا تفصیلی بیان

علم المیراث (فرائض) اسلامی شریعت کا وہ بنیادی اور نازک ترین شعبہ ہے جس کے حصے خود اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید کی سورۃ النساء میں تفصیل کے ساتھ متعین فرمائے ہیں۔ اسلامی قانونِ وراثت میں جب میت کے ترکے کے اصل حقدار (اصحاب الفروض اور عصبات) موجود نہ ہوں، تو شریعت نے قریبی خونی رشتہ داروں یعنی "ذوی الارحام" کو محروم نہیں رکھا بلکہ ان کے لیے وراثت کے مکمل اور مربوط ضوابط طے فرمائے ہیں۔
فہرستِ مضامین
  • ۱. علم الفرائض میں ورثاء کے درجات و مراتب
  • ۲. ذوی الارحام کی تعریف اور ان کے ۱۰ بنیادی افراد کی فہرست
  • ۳. کلاسیکی فقہ کے مطابق ذوی الارحام کی اصنافِ اربعہ (۴ گروہ)
  • ۴. استحقاقِ ترکہ میں اولویت اور مراتب کی ترتیب
  • ۵. ہم رتبہ رشتہ داروں میں قربِ واسطہ کا اصولی قاعدہ
  • ۶. خلاصۂ کلام و علمی مراجع
اسلامی قانونِ وراثت میں ترکے کی تقسیم کی بنیادی ترتیب کیا ہے؟
فقہائے کرام (بالخصوص ائمہ احناف) کے مطابق میت کے تجہیز و تکفین، ادائے قرض اور نفاذِ وصیت کے بعد ترکہ درج ذیل ترتیب سے تقسیم کیا جاتا ہے:
  1. اصحاب الفروض (Zawil Furoodh): وہ معزز ورثاء جن کے حصے قرآن و سنت نے قطعی طور پر مقرر فرمائے ہیں (جیسے والدین، شوہر/بیوی، بیٹیاں وغیرہ)۔
  2. عصبات (Asabaat): وہ رشتہ دار جو اصحاب الفروض کے حصوں کے بعد بچا ہوا تمام ترکہ حاصل کرتے ہیں (جیسے بیٹے، بھائی، چچا وغیرہ)۔
  3. رد (Radd): اگر عصبہ نہ ہو تو بچا ہوا مال سوائے زوجین کے باقی اصحاب الفروض پر لوٹا دیا جاتا ہے۔
  4. ذوی الارحام (Distant Kindred): اگر اصحاب الفروض، عصبات یا رد کا استحقاق نہ بنے تو ترکہ میت کے دیگر خونی رشتہ داروں (ذوی الارحام) کو منتقل ہوتا ہے۔
سوال ۱: جب ورثہ میں اصحاب الفروض اور عصبات نہ ہوں تو ذوی الارحام مال کے مستحق ہوتے ہیں، ذوی الارحام کون کون سے رشتہ دار ہیں؟
جواب: لغت میں "ذوی الارحام" رحم یعنی خونی رشتے داروں کو کہتے ہیں، جبکہ علمِ میراث کی اصطلاح میں اس سے مراد وہ تمام قریبی رشتہ دار ہیں جو نہ تو مقررہ حصے والے (اصحاب الفروض) ہیں اور نہ ہی عصبہ بنتے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ درج ذیل ۱۰ معتبر رشتہ دار بنتے ہیں:
1 بیٹی کی اولاد (نواسا / نواسی)
2 بہن کی اولاد (بھانجا / بھانجی)
3 بھائی کی بیٹی (بھتیجی)
4 چچا کی بیٹی
5 سگا یا سوتیلا ماموں
6 سگی یا سوتیلی خالہ
7 ماں کا باپ (نانا / دادائے فاسد)
8 ماں کی طرف سے چچا (اخیافی چچا)
9 پھوپھی (سگی یا علاتی)
10 ماں شریک بھائی کی اولاد
اصولی قاعدہ: رشتہ داری کی قربت اور استحقاق میں ان میں سے میت کے زیادہ نزدیک والا دور کے رشتے دار کے مقابلے میں زیادہ حقدار ہوگا۔
فقہی درجہ بندی: ذوی الارحام کی اصنافِ اربعہ (۴ طبقات)
امام سراج الدین سجاوندیؒ نے اپنی شہرۂ آفاق تصنیف "السراجی فی المیراث" میں ذوی الارحام کو چار منظم طبقات میں تقسیم فرمایا ہے:

صنفِ اول (میت کی شاخیں / فروع):

وہ لوگ جو میت کی طرف منسوب ہوں، جیسے نواسے، نواسیاں اور پوتوں کی بیٹیاں۔

صنفِ دوم (میت کی جڑیں / اصول):

وہ بزرگ جو میت کی ولادت کا سبب بنیں مگر اصحاب الفروض نہ ہوں، جیسے نانا (جدِ فاسد) یا نانی کی والدہ۔

صنفِ سوم (میت کے والدین کی فروع):

میت کے والدین کی اولاد جو عصبہ نہ بنے، جیسے بھتیجیاں، بھانجے اور بھانجیاں۔

صنفِ چہارم (میت کے دادا دادی کی فروع):

میت کے دادا دادی اور نانا نانی کی اولاد، جیسے پھوپھیاں، ماموں، خالائیں اور اخیافی چچا۔
سوال ۲: کیا ان کے استحقاقِ ترکہ میں کوئی ترتیب ہے یا یہ تمام ورثاء استحقاق میں برابر ہیں؟
جواب: یہ تمام رشتہ دار استحقاق میں برابر نہیں ہوتے بلکہ درجات کے مطابق وارث بنتے ہیں:
  • سب سے پہلے میت کی اپنی اولاد (صنفِ اول) یعنی بیٹی کی اولاد (نواسا/نواسی) حقدار ہے۔
  • ان کے بعد میت کے والدین کی اولاد (صنفِ سوم) یعنی بھائیوں کی بیٹیوں اور بہنوں کی اولاد کا حق ہے۔
  • پھر میت کے دادا دادی کی شاخیں (صنفِ چہارم) یعنی ماموں، خالائیں، اور پھوپھیاں ترکے کی حقدار بنتی ہیں۔
جب صنفِ اول کا کوئی فرد موجود ہو تو صنفِ دوم، سوم یا چہارم کو ترکہ نہیں دیا جائے گا۔
سوال ۳: جب دو یا زیادہ اشخاص رشتہ داری کی حیثیت سے ایک ہی درجے میں برابر ہوں تو کیا دونوں شریک ہوں گے یا کسی ایک کو ترجیح حاصل ہوگی؟
جواب: اگر دو رشتہ دار ایک ہی صنف اور ایک ہی درجے میں برابر ہوں تو ترجیح کا مدار "قربِ واسطہ" (Proximity to Heir) پر ہوتا ہے۔
قاعدۂ ترجیح: ان دونوں میں سے میراث کا مستحق وہ شخص قرار پائے گا جو کسی وارث (صاحبِ فرض یا عصبہ) کے واسطے سے میت کے زیادہ قریب ہو۔ مثلاً: "وارث کی بیٹی" کو "غیر وارث کی بیٹی" پر مقدم رکھا جائے گا۔
علمی مراجع و مصادر:

یہ تمام احکام فقہِ حنفی کی متفقہ کتب سے ماخوذ ہیں جن میں امام ابو حنیفہؒ، امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ کے دلائل کی تفاصیل موجود ہیں۔
کتب: ۱. السراجی فی المیراث (امام سراج الدین السجاوندیؒ) | ۲. الہدایہ فی شرح بدایۃ المبتدی (امام المرغینانیؒ) | ۳. رد المحتار علی الدر المختار (علامہ ابن عابدین الشامیؒ).

علم میراث - ذوی الارحام کا بیان

Sight of Right Editorial

Dedicated to sharing verified Islamic research, Quranic Tafseer, and Hadith proofs to promote the right path according to the Holy Quran and Sunnah.

No comments

Post a Comment