zawi / Zoe alarhaaam ka bayan

ذوی الارحام کا بیان


سوال : تحقیق آپ نے وارث ہونے کی ترتیب کے بیان میں ذکر فرمایا کہ جب ورثہ میں اصحاب الفروض اور عصبات نہ ہوں (تو) ذوی الارحام مال کے مستحق ہوتے ہیں تو ہم چاہتے ہیں کہ ہم معلوم کریں کہ ذوی الارحام کون ہیں؟

جواب: یہ دس ہیں
(1)
بیٹی کا ولد
(2)
بہن کا ولد
(3)
بھائی کی بیٹی
(4)
چچا کی بیٹی
(5)
ماموں
(6)
خالہ
(7)
ماں کا باپ
(8)
ماں کی طرف سے چچا
(9)
پھوپھی
(10)
ماں کی طرف سے بھائی کا ولد اور (رشتہ داری میں) ان میں سے زیادہ نزدیک ان میں سے زیادہ دور کی بہ نسبت زیادہ حقدار ہے


سوال : کیا ان کے استحقاق ترکہ میں کوئی ترتیب ہے یا یہ (ورثہ) استحقاق میں برابر ہیں؟


جواب : یہ (ورثہ) آنے والی ترتیب کے مطابق وارث ہوتے ہیں پس ان میں سے میراث کا زیادہ حقدار وہ ہے جو میت کی اولاد یعنی بیٹی کی اولاد میں سے ہو پھر ماں باپ یا ان دونوں میں سے کسی ایک کی اولاد (میں سے ہو ) اور وہ بھائیوں کی بیٹیوں اور بہنوں کی اولاد ہے پھر اس کے ماں باپ کے ماں باپ یا ان دونوں میں سے کسی ایک کی اولاد (میں سے ہو ) اور وہ ماموں, خالائیں, اور پھوپھیاں ہیں.

سوال : جب وہ شخص رشتہ داری کی حیثیت سے ایک درجہ میں برابر ہوں تو کیا وہ دونوں میراث کے مستحق ہو سکتے ہیں یا ان میں سے ایک کو دوسرے پر مقدم کیا جاتا ہے؟


جواب : ان دونوں میں سے میراث کا مستحق وہ ہوتا ہے جو کسی وارث کے واسطہ سے میت کے زیادہ قریب ہو



No comments:

Powered by Blogger.