Olad waldain ghulamon or rishtadaron ke nafqat

اولاد کا نفقہ  کا بیان


سوال : جب خاوند  بیوی کا ولد ہو لڑکا یا لڑکی تو کس پر اس کا نفقہ واجب ہوتا ہے؟


جواب : نابالغ اولاد کا نفقہ باپ کے ذمہ ہے اس نفقہ میں کوئی اس کا باہم شریک نہیں ہوگا جیسا کہ بیوی کے نفقہ میں کوئی مرد شوہر کا باہم شریک نہیں ہوتا۔


سوال : آپ نے اولاد کو نابالغوں کے ساتھ مقید کیوں فرمایا؟ 


جواب : کیونکہ نرینہ اولاد میں سے بالغوں کا نفقہ ان کے باپ پر واجب نہیں ہوتا کیونکہ کمائی کرنے پر وہ خود قادر ہیں مگر یہ کہ بالغ بیٹا اپاہج ہو تو اس کا نفقہ اس کے والدین پر تین تہائیون کے طریق پر واجب ہوتا ہے باپ کے ذمہ دو تہائی اور ماں کے ذمہ ایک تہائی اور اس بالغ بیٹی کا نفقہ بھی اس کے والدین پر تین تہائیوں کے طریق پر واجب ہوتا ہے جس کا شوہر نہ ہو یہ حکم تب ہے جب بالغ اپاہج بیٹا اور بیٹی مسلمان ہوں ۔


سوال : نابالغ اولاد کا نفقہ تمام احوال میں واجب ہوتا ہے یا اس میں تفصیل ہے ؟


جواب : ان کا نفقہ ان کے باپ پر واجب ہوتا ہے بشرطیکہ وہ اپنے لئے مال کے مالک نہ ہوں پس اگر ان کی ملک میں مال ہو تو ان کے مال میں سے ان پر خرچ کیا جائے۔


سوال : کیسے تصور کیا جائے کہ نابالغ بچے کا مال ہے باوجودیکہ وہ کمانے پر قدرت نہیں رکھتا؟


جواب : یہ اس صورت میں ممکن ہے کہ جب ہبہ کرنے والا اپنی زندگی میں نابالغ بچے کو مال ہبہ کرے یا اس کیلئے مال کی وصیت کرے کہ اس کی وفات کے بعد وہ  مال اس نابالغ کو دے دیا جائے یا وراثت میں اسے مال حاصل ہوجائے۔


والدین کے نفقہ کا بیان 


سوال : والدین کا نفقہ کس پر واجب ہے؟


جواب : جب کسی کے پاس مال ہو جس کا وہ مالک ہو تو اس میں سے اپنے اوپر خرچ کرے جوان ہو یا بوڑھا مرد عورت اور اس عموم میں بیوی کے سوا والدین وغیرہ داخل ہوجائیں گے کیونکہ بیوی کا نفقہ اس کے شوہر پر واجب ہوتا ہے اگرچہ بیوی مالدار ہو۔ پس اگر والدین میں سے کوئی ایک فقیر ہو یا دونوں فقیر ہوں تو ان دونوں کا نفقہ اولاد پر واجب ہوگا اور کوئی ولد والدین کے نفقہ میں والد کا باہم شریک نہیں ہوگا جیسے والدین کا نفقہ واجب ہوتا ہے دادوں نانون دادیون اور نانیون کا نفقہ بھی واجب ہوتا ہے بشرطیکہ وہ فقراء ہوں ۔


سوال : ایک غائب مرد اس حال میں کہ اس کا مال اس کے والدین کے قبضہ میں ہے پس انہوں نے اس مال میں سے اپنے اوپر خرچ کیا تو کیا وہ اس خرچ کے ضامن ہونگے؟


جواب : وہ ضامن نہیں ہونگے


سوال : غائب شخص کا مال تھا پس اس کے والدین نے اس کے سامان یا اس کی زمین کو بیچ دیا تاکہ وہ اپنے اوپر خرچ کریں تو کیا یہ ان کیلئے جائز ہے؟


جواب : اگر وہ نفقہ کے محتاج ہونے کی وجہ سے اس کا سامان بیچین تو حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ان کیلئے  یہ جائز ہے اور اگر زمین بیچیں تو جائز نہیں


سوال : ایک غائب مرد کہ اس کے والدین اپنے نفقہ کیلئے اس کے محتاج ہیں تو کیا قاضی فیصلہ دےدے کہ اس کے مال میں سے ان پر خرچ کیا جائے؟


جواب : جی ہاں قاضی اس کا فیصلہ دے دے۔


سوال : غائب بیٹے کا مال اجنبی کے قبضہ میں ہے پس اجنبی نے وہ مال اس کے والدین پر خرچ کردیا تو کیا وہ ضامن ہوگا؟


جواب : اگر وہ قاضی کی اجازت سے خرچ کرے تو ضامن نہیں ہوگا اور اگر اس کی اجازت کے بغیر کرے تو ضامن ہوگا۔


سوال : کیا دین کے اختلاف کے ساتھ کسی کیلئے نفقہ واجب ہوتا ہے؟


جواب : دین کے اختلاف کے ساتھ کسی پر نفقہ واجب نہیں ہوتا مگر بیوی ، والدین ، دادوں ، نانون، دادیون ، نانیون ،ولد اور ولد کے ولد کیلئے نفقہ واجب ہوتا ہے اور ان کے سوا رشتہ داروں کا نفقہ دین کے اختلاف کے ساتھ واجب نہیں ہوتا جیسا کہ ان کے سوا کیلئے فقیر پر نفقہ واجب نہیں ہوتا۔


سوال : کیسے تصور کیا جائے کہ نابالغ والد کا دین اس کے باپ کے دین کے مخالف ہے؟


جواب : اس کی صورت یہ ہے کہ زمی زمیہ سے نکاح کرے پس وہ اس کیلئے ولد جنے پھر وہ زمیہ مسلمان ہوجائے اور اس ولد کا باپ مسلمان نہ ہو تو یہ ولد دین میں مسلمان ماں کے تابع ہوکر مسلمان ہوگا اور کافر باپ کے خلاف اس ولد کے نفقہ کا فیصلہ دیا جائے گا۔


فائدہ : جب مرد غائب ہوجائے اس حال میں کہ اس کا مال ایسے شخص کے قبضہ میں ہو جو اس مال کا اور اس امر کا اعتراف کرے کہ فلاں خاتون اس کی بیوی ہے تو قاضی اس مال میں بیوی اس مرد کی نابالغ اولاد اور اس کے والدین کا نفقہ مقرر کردے اور بیوی سے نفقہ کا کفیل لے لیگا اور غائب کے مال میں صرف انہیں لوگوں کے نفقہ کا فیصلہ دے گا۔


ذوی الارحام کے نفقہ کا بیان


سوال : کیا رشتہ داروں میں سے والدین اور اولاد کے سوا کیلئے نفقہ واجب ہوتا ہے؟


جواب : ہر ذی رحم محرم کیلئے رشتہ داروں کے ذمہ ان کی میراث کے بقدرنفقہ واجب ہوتا ہے بشرطیکہ وہ ذی رحم محرم فقیر نابالغ ہو یا فقیر بالغہ خاتون ہو یا لنجالڑکا یا فقیر نابینا ہو۔


فائدہ : جب قاضی کسی مرد کے خلاف ولد اور والدین کیلئے یا رشتہ داروں کیلئے نفقہ کا فیصلہ دے پس ایک مدت گزرجانے اور وہ ان پر خرچ نہ کرے تو نفقہ ساقط ہوجائے گا مگر یہ کہ قاضی اس کے خلاف قرض لینے میں ان کو اجازت دے دے۔


غلاموں کے نفقہ کا بیان


سوال : ایک شخص کہ اس کی ملک میں غلام یا باندی ہے تو اس کے ذمہ کیا ان دنوں کا نفقہ واجب ہوتا ہے؟


جواب : اس کے ذمہ ہے وہ اپنے غلام اور باندی پر خرچ کرے پس اگر وہ اس سے انکار کردے اس حال میں ان کے پاس ہنر ہے تو وہ کمائی کریں اور اس میں سے خرچ کریں اور اگر ان کے پاس ہنر نہ ہو تو قاضی آقا کو ان کے بیچنے پر مجبور کرے۔







No comments:

Powered by Blogger.