Fiqah Ehad e Jadeed me

فقہ عہدِ جدید میں 


فقہ اسلامی کے ارتقا کے سلسلہ میں جدید دور کا نقطہ آغاز تیرہویں صدی ہجری کے اواخر کو قرار دیا جا سکتا ہے، جب خلافتِ عثمانیہ کے حکم پر
مجلۃ الاحکام العدلیۃ کی ترتیب عمل میں آئی، اس عہد میں فقہ اسلامی کی خدمت کا ایک رجحان پیدا ہوا ہے اور اس سلسلہ میں جو کاوشیں ہوئی ہیں اور ہو رہی ہیں، وہ یہ ہیں




مسلکی تعصب جو خلافتِ عباسیہ کے سقوط کے بعد سے بہت شدت اختیار کر گیا تھا اور فقہی مسائل مناظرہ و مجادلہ کا موضوع بن چکے تھے، الحمد للہ اب اس صورتِ حال میں بہتری آئی ہے، اب اہلِ علم مختلف ائمہ اور مجتہدین کی آراء کو پورے احترام اور انصاف کے ساتھ ذکر کرتے ہیں، عوامی مجلسوں میں تمام ہی سلفِ صالحین کے موعظت آمیز واقعات نقل کیے جاتے ہیں، کتابوں میں مخالف دلائل کا بھی انصاف کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے، حرمین شریفین میں چار علاحدہ مصلی کی صورت ختم ہوجانے کے بعد سے ایک دوسرے کے پیچھے نماز ادا کرنے کا مزاج عام ہوا ہے، ان موضوعات پرمناظروں کی گرم بازاری ختم ہوئی ہے اور نئے مسائل پر غور کرنے کے لیے مختلف مسالک کے علماء ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھتے اور پورے جذبہ مسامحت کے ساتھ تمام نقاطِ نظر کو سنتے ہیں، یہ بہت ہی مثبت تبدیلی ہے، جو خاص کر گذشتہ نصف صدی میں اُبھر کر سامنے آئی ہے۔


مقلدین کے مطابق موجوده دور میں دوسرا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ جہاں احناف و شوافع اور شوافع و مالکی کی بے معنی آتش جنگ بجھ چکی ہے، وہیں اس دور میں "ظاہریت" اپنے اسی مزاج کے ساتھ جو ابن حزم وغیرہ کی تحریروں سے ظاہر ہے، نئے لباس اور نئے پیکر میں ظہور پزیر ہوئی ہے، یہ حضرات اپنے آپ کو اہل حدیث، سلفی، محمدی، اثری، مختلف ناموں سے موسوم کرتے ہیں مقلدین کے نزدیک انھوں نے نماز سے متعلق چار، پانچ مسائل، طلاق سے متعلق ایک مسئلہ اور طریقہ مصافحہ کو اپنی تمام علمی کاوشوں اور محنتوں کا محور بنا رکھا ہے اور اپنے گمان میں اسے تبلیغ دین تصور کرتے ہیں مقلدین کے نزدیک اس فرقہ نے اُمت کے سوادِ اعظم اور سلفِ صالحین پر طعن و تشنیع اور فروعی مسائل پر مناظرہ و مجادلہ نیز دوسرے مسلمانوں کی تکفیر و تفسیق کا اس سے زیادہ بدترین طریقہ اختیار کر رکھا ہے، جو کسی زمانہ میں تنگ نظر مقلد عوام ایک دوسرے کے خلاف کیا کرتے تھے۔

مقلدین کے بقول یہ غلو پسند فرقہ برصغیر میں اپنی نسبت شیخ محمدبن عبد الوھاب نجدی اور عرب علما سے کرتا ہے لیکن بقول مقلدین شیخ نجدی نے خود اپنے آپ کو حنبلی قرار دیا ہے اور عام عرب علما و محققین ایسی تنگ نظری اور تعصب میں مبتلا نہیں ہیں جو اس فرقہ کا امتیاز ہے، بقول مقلدین خود ہندوستان میں اس مکتبِ فکر کے بزرگوں نواب صدیق حسن خان، ثناء اللّه امرتسری، مولانا عبد اللّه غزنوی وغیرہ کے یہاں اس طرح کا غلو نہیں ملتا، مقلدین کے بقول برصغیر میں غیر مقلدین کی جو نئی نسل نشو و نما پا رہی ہے افسوس کہ ان کی اکثریت اس وقت اُمت میں تفریق و انتشار کی نقیب و ترجمان بنی ہوئی ہے۔

سترھویں صدی کے انقلاب کے بعد سے جدید مسائل کی ایجاد، عالمی تعلقات میں قربت اور مختلف ممالک کے درمیان باہمی ارتباط میں اضافہ، تہذیبی اقدار میں تبدیلی اور سیاسی و معاشی نظام میں آنے والے تغیرات کے پسِ منظر میں جس تیزی سے نئے مسائل پیدا ہو رہے ہیں، ماضی میں اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا، بحمدللّه علما اور ارباب افتاء کی توجہ ان مسائل کے حل کی طرف مبذول ہوئی ہے، اس سے دوہرا فائدہ ہوا، ایک تو شریعت اسلامی کو اس وقت جس خدمت کی ضرورت ہے، اہلِ علم کی صلاحیتیں اس خدمت میں صرف ہو رہی ہے، دوسرے گذشتہ دو تین صدیوں سے کسی نئے علمی کام کی بجائے تفصیل کا اختصار اور اختصار کی تفصیل؛ نیز غیر اہم مسائل کی تحقیق اور فریق مخالف کے نقطہ نظر کو کمزور ثابت کرنے پر جو کاوشیں ہو رہی تھیں، صحیح میدانِ عمل مہیا ہونے کی وجہ سے اب اس رویہ کی اصلاح ہوئی ہے۔
اس دور میں جو علمی کارنامے انجام پائے ہیں یا پا رہے ہیں، ان کو ہم چار حصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں

اوّل فقہی مضامین کو دفعہ وار جدید قانونی کتابوں کے انداز پرمرتب کرنا کہ اس سے لوگوں کے لیے استفادہ آسان ہوجاتا ہے اور عدالتوں کے لیے یہ باب ممکن ہوتی ہے کہ وہ اس قانون کو اپنے لیے نشانِ راہ بنائے، اس کی ابتدا "مجلۃ الاحکام" سے ہوئی حکومتِ عثمانیہ ترکی نے اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے، وزیر انصاف کی صدارت میں اکابر فقہا کی ایک کمیٹی تشکیل دی اور انہیں حکم دیا کہ فقہ حنفی کے مطابق نکاح، تجارت اور تمام معاملات کے احکام کو دفعہ وار مرتبہ کریں، 1285ھ مطابق 1869ء میں یہ کام شروع ہوا اور سات سال کی محنت کے بعد 129 ھ مطابق 1876ء میں پایہ تکمیل کو پہنچا پھر شعبان 1293ھ کو حکومت کے حکم سے اس کی تنفیذ عمل میں آئی، اس مجموعہ کے شروع میں فقہ، اس کی اقسام اور نوے قواعد پر مشتمل مقدمہ ہے، یہ مجموعہ سولہ مرکزی عنوانات اور اس کے تحت مختلف ابواب پر مشتمل ہے، ہر باب کے شروع میں اس باب سے متعلق فقہی اصطلاحات نقل کی گئی ہیں، کل دفعات (1851) ہیں، یہ مجموعہ فقہ حنفی کے راجح اقوال پر مبنی ہے البتہ بعض مسائل میں احوالِ زمانہ کی رعایت کرتے ہوئے ضعیف اقوال کو بھی قبول کیا گیا ہے۔

اس کے بعد مختلف مسلم ممالک میں حکومت کی زیر نگرانی احوالِ شخصیہ سے متعلق مجموعہ قوانین کی ترتیب عمل میں آئی، یہ مجموعے کسی ایک فقہ پر مبنی نہیں تھے بلکہ ان میں مختلف مذاہب سے استفادہ کیا گیا تھا لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ مختلف ممالک میں یورپ کے اثر سے قانونِ شریعت میں ناقابلِ قبول تبدیلیاں کردی گئی ہیں، جیسے تعدادِ ازدواج کا مسئلہ، احکامِ طلاق، میراث میں مرد و عورت کے درمیان فرق، وغیرہ اسی طرح مجموعہ قوانین کی ترتیب کی بہت ہی قابل قدر انفرادی کوششیں بھی عمل میں آئی ہیں، اس سلسلہ میں فقیہ محمد قدری پاشاہ کی 
"مرشدالحیران لمعرفۃ احوال الانسان" فقہ حنفی کے مطابق احوالِ شخصیہ، وقف اور معاملات سے متعلق احکام پر مشتمل ہے اور جس کی دفعات (1045) ہیں، شیخ ابو زہرہ کی "الاحوال الشخصیۃ" 
جس میں کسی ایک مذہب کی پابندی نہیں کی گئی اور شیخ احمد بن عبد اللّه قاری کی مجلۃ الاحکام الشرعیۃ علی مذہب الامام احمد بن حنبل شیبانی جومجلۃ الاحکام کے طرز پر فقہ حنبلی کے نقطہ نظر سے معاملات کے احکامات کا مجموعہ ہے، 2384 دفعات پرمشتمل ہے

نیز جرم و سزا کے اسلامی قانون سے متعلق ڈاکٹر عبد القادر عودہ شہید کی
 "التشریع الجنائی الاسلامی" (2/حصے، 984 دفعات) خصوصیت سے قابل ذکر ہیں، عالم عرب میں اس طرح کی اور بھی بہت سی کوششیں ہوئی ہیں، جس نے عام لوگوں کے لیے استفادہ کو آسان کر دیا ہے۔

برصغیر میں اس سلسلہ میں جو کوشش ہوئی ہیں ان میں ڈاکٹر تنزیل الرحمن کی مجموعہ قوانین اسلام اور ہندوستان میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے زیر نگرانی پرسنل لا سے متعلق مجموعہ قوانین (جوغالباً 6/جلدوں پرمشتمل ہے) نہایت اہم ہے، یہ دونوں مجموعے بنیادی طور پر فقہ حنفی کے لحاظ سے مرتب کیے گئے ہیں البتہ بعض مسائل میں دوسرے دبستانِ فقہ سے بھی استفادہ کیا گیا ہے اسی سلسلہ کی ایک اہم کوشش اسلام کے عدالتی قوانین سے متعلق قاضی مجاہد الاسلام قاسمی کی اسلامی عدالت ہے جو 740/دفعات پر مشتمل ہے اور اُردو زبان میں اس موضوع پر منفرد کتاب ہے، اس کا عربی ترجمہ بھی بیروت سے شائع ہوچکا ہے۔

اس دور میں قدیم کتابوں کی خدمت میں بھی بعض نئے پہلو اختیار کیے گئے ہیں، جیسے مضامین کی فقہ بندی، تفصیلی فہرست سازی، تعلیق و تحقیق اور ایک اہم سلسلہ حروفِ تہجی کی ترتیب پر مضامین فہرست سازی کا بھی شروع ہوا ہے، جو کتاب سے مراجعت کرنے والوں کے لیے بہت ہی سہولت بخش ہے، چنانچہ احمد مہدی نے "ردالمحتار" کی، محمد اشقر نے "المغنی لابن قدامہ" کی اور محمد منتصر کتانی نے "المحلی لابن حزم" کی ابجدی فہرست بنائی ہے اسی طرح فقہ مالکی میں "الشرح الصغیر للدردبر" ابجدی فہرست کے ضمیمہ کے ساتھ شائع ہوئی ہے، ان فہارس نے طویل کتابوں سے استفادہ اور مطلوبہ مضامین کے حصول کو آسان کر دیا ہے، خاص کر جن کتابوں کو کمپیوٹر میں فہارس کے ساتھ محفوظ کر دیا گیا ہے، ان سے استفادہ مزید سہل ہو گیا ہے۔

موجودہ دور میں مختلف علوم کی انسائیکلوپیڈیا مرتب کرنے کا رحجان عالمی سطح پر اور ہر زبان میں بڑھ رہا ہے، بحمدللّه فقہ اسلامی میں بھی اس سلسلہ میں متعدد کوششیں کی گئی ہیں چنانچہ جب مشہور اسلامی مؤلف اور داعی ڈاکٹر مصطفی سباعی دمشق یونیورسٹی میں "کلیۃ الشریعۃ" کے صدر شعبہ بنے تو فقہ اسلامی کی "دائرۃ المعارف" کی ترتیب کا منصوبہ پیش کیا اور 1956ھ میں حکومتِ شام نے اسے منظور کر لیا، اس مقصد کے لیے ڈاکٹر مصطفی سباعی، ڈاکٹر احمد سمان، ڈاکٹر مصطفی زرقاء، ڈاکٹر معروف دوالیبی اور ڈاکٹر یوسف العش جیسے ممتاز اصحاب تحقیق پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی اور کام چار مراحل پر تقسیم کیا گیا، جن میں پہلا مرحلہ موسوعہ میں آنے والے فقہی موضوعات کی تعیین و ترتیب تھی، افسوس کہ طویل عرصہ گذرجانے کے باوجود اس کا پہلا مرحلہ ہی تشنہ تکمیل ہے۔

1958 میں جب مصر و شام کا اتحاد ہوا تو مشترک طور پر مصر اور شام نے مل کر اس موسوعہ کی ترتیب کا ذمہ لیا لیکن یہ اتحاد جلد ہی 1961ء میں ٹوٹ گیا چنانچہ 1962ء میں حکومتِ مصر نے ازسرنو اس کی منصوبہ سازی کی اور ایک مضحکہ خیز بات یہ ہوئی کہ جمال عبد الناصر جیسے دین بیزار شخص کی طرف منسوب کرکے اس کا نام 
موسوعۃ جمال عبد الناصر فی الفقہ الاسلامی رکھ دیا گیا، موسوعۃ کے لیے مقررہ یہ کمیٹی کام کر رہی ہے اور اب تک اس کی پندرہ سولہ جلدیں منظر عام پر آچکی ہیں، اس موسوعۃ میں حنفیہ، مالکیہ، شوافع، حنابلہ اور ظاہریہ کے علاوہ امامیہ، زیدیہ اور اباضیہ فرقوں کے نقطہ نظر کو بھی ضروری دلائل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور اُصولِ فقہ اور قواعدِ فقہ کو بھی شامل رکھا گیا ہے۔

اسی طرح کی ایک اور کوشش 
جمعیۃ الدراسات الاسلامیۃ قاھرہ نے شیخ محمد ابوزہرہ کی صدارت میں شروع کی تھی، جس میں مذکورہ آٹھوں مذاہب کا نقطہ نظر جمع کرنا پیش نظر ہے لیکن غالباً یہ کوشش منظر عام پر نہیں آسکی ہے۔

اس سلسلہ کی سب سے کامبیاب اور نتیجہ خیز کوشش وزارتِ اوقاف کویت کی طرف سے ہوئی ہے، جس نے 1966ء میں "الموسوعۃ الفقہیہ" کے منصوبہ کو منظوری دی اور اس مقصد کے لیے فقہی موسوعہ کا تصور پیش کرنے والی پہلی شخصیت ڈاکٹر زرقاء کی حدمات حاصل کیں، اس موسوعہ میں بھی حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی، ظاہری، زیدی، اثناء عشری اور اباضی نقاط نظر کو تفصیل کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، یہ عظیم الشان کام پینتالیس جلدوں میں مکمل ہوچکا ہے اور واقعہ ہے کہ اس موضوع پر ایک تاریخی علمی کام ہوا ہے، جو یقیناً فقہ اسلامی کی نشاۃ ثانیہ کا حصہ ہے، مقامِ مسرت ہے کہ اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا نے اس موسوعہ کو اُردو کا جامہ پہنایا ہے، تادمِ تحریر چالیس جلدوں کا ترجمہ مکمل ہوچکا ہے اور اس وقت نظرِثانی اور مراجعت کے آخری مراحل میں ہے، دُعا ہے کہ اللّه تعالیٰ اس کی اشاعت کو آسان فرمائے اور اُردو دنیا کو اس عظیم علمی ذخیرہ کے ذریعہ شاد کام کرے۔

انسائیکلوپیڈیائی کاوشوں میں ڈاکٹر رواس قلعہ جی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا کہ انہوں نے عہدِ صحابہ اور عہدِ تابعین کے ان فقہا کی آراء کو یکجا، منضبط اور مرتب کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے، جن کے اقوال مختلف کتابوں میں بکھرے ہوئے تھے اور سلف کا ایک بہت بڑا علمی اور فقہی ورثہ لوگوں کی نگاہ سے اوجھل ہوتا جا رہا تھا، ڈاکٹر رواس نے الف بائی ترتیب سے عمر، علی، عبد اللّه بن مسعود، عائشہ،عبد اللّه بن عمر، حسن بصری اور ابراہیم نخعی وغیرہ کی فقہ کو جمع کیا ہے اور اس طرح اہلِ علم کی نئی نسل کو ابتدائی دور کے فقہا کے اجتہادات سے مربوط کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔

اس عہد میں ایک بہتر رحجان نئے مسائل پر اجتماعی غور و فکر کا بھی پیدا ہوا ہے، جس میں مختلف فقہی مذاہب کے اہلِ علم سے استفادہ کیا جائے اور اس دور کی مشکلات کو حل کیا جائے؛ چنانچہ رابطہ عالم اسلامی کی مؤتمر منعقدہ مکہ مکرمہ 1384ھ میں "مجمع الفقہ الاسلامی" کے سلسلہ میں ڈاکٹر مصطفی زرقاء نے نہایت اہم تجویز پیش کی، یہ تجویز قبول کی گئی، مجمع کی تشکیل عمل میں آئی چنانچہ اب تک اس کے دسیوں اجلاس ہوچکے ہیں اور کئی درجن مسائل زیر بحث آچکے ہیں، ان ہی خطوط پر زیادہ وسعت کے ساتھ 1983ء میں جدہ (O.I.C) کے تحت فقہ اکیڈمی کی تشکیل ہوئی، جو اس وقت عالمی سطح پر سب سے زیادہ باوقار اور فعال اکیڈمی سمجھی جاتی ہے 2004ء تک اس اکیڈمی کے 14/سیمینار ہوچکے تھے اور اس میں 133/مسائل زیر بحث آچکے تھے، ان دونوں اکیڈیمیوں کے سمیناروں کی تجاویز کا اُردو ترجمہ اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا سے شائع ہوچکا ہے

 اسی طرح یوروپ میں "یوروپی افتاء کونسل" قائم ہے، جس کا مرکز برطانیہ ہے اور جس کے عالم اسلام میں اور بھی کئی ادارے ہیں جو خاص کر مسلمانوں کو درپیش جدید فقہی مسائل کو اجتماعی غور و فکر اور تبادلہ خیال کے ذریعہ حل کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔
ہندوستان کے علما نے بھی اس سمت میں کوششیں کی ہیں، دار العلوم ندوۃ العلماء نے مجلس تحقیقاتِ شرعیہ اور جمعیۃ علماِ ہند نے "ادارۃ المباحث الفقہیۃ" کواسی مقصد کے تحت قائم کیا تھا، پاکستان میں مفتی محمد شفیع اور محمد یوسف بنوری وغیرہ نے "مجلس تحقیق مسائل حاضرہ" کی بنیاد رکھی تھی، ان مجالس نے وقتا فوقتا اجتماعات منعقد کیے ہیں اور متعدد مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے لیکن مسائل کی رفتار کے اعتبار سے کام آگے نہیں بڑھ سکا کیونکہ ان اداروں کی حیثیت ضمنی تھی اور جن تنظیموں اور اداروں کے تحت یہ رکھا گیا تھا، ان کے کام کا دائرہ خود بہت وسیع ہے۔

اسی پس منطر میں 1889ء میں قاضی مجاہد الاسلامی قاسمی نے اسلامک فقہ اکیڈمی کی بنیاد رکھی، اکیڈیمی نے اب تک 15سیمینار کیے ہیں اور ان سیمیناروں میں پچاس سے زیادہ مسائل زیربحث آئے ہیں، ان سیمیناروں میں پیش کیے جانے والے مقالات کی 20/سے زیادہ ضخیم جلدیں طبع ہوکر منظرعام پر آچکی ہیں، اس کے علاوہ فقہی تحقیق اور نئی نسل کو صحیح خطوط پر تربیت کے سلسلہ میں اکیڈیمی نے نہایت اہم اور ناقابل فراموش خدمات انجام دی ہیں۔

اس عہد سے پہلے عام طور پر فقہی ذخیرہ عربی زبان ہی میں ہوا کرتا تھا یا چند کتابیں فارسی زبان میں لکھی گئی تھیں؛ لیکن موجودہ عہد میں فقہ کے عربی ذخیرہ کو اُردو اور دوسری زبانوں میں منتقل کرنے کا ذوق پیدا ہوا اور مختلف علاقائی اور عالمی زبانوں میں فقہ کے موضوع پر یا تو ترجمے کیے گئے یا مستقل طور پر کتابیں لکھی گئیں، ان زبانوں میں اُردو زبان کو اوّلیت کا شرف حاصل ہے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اس وقت اُردو زبان میں علوم اسلامی اور فقہ کا جتنا بڑا ذخیرہ موجود ہے، عربی زبان کے سوا کسی اور زبان میں اس کی مثال ملنی مشکل ہے بلکہ بعض کتابیں تو ایسی ہیں کہ عربی و انگریزی میں بھی ان کے ترجمے ہوئے اور انھیں قبول عام و خاص حاصل ہوا، ان میں اُصولِ فقہ، تاریخ فقہ، قواعدِ فقہ، فقہ کے تمام ابواب کوجامع اور فقہ کے کسی ایک باب نیز فقہ حنفی، فقہ شافعی اور فقہ سلفی سے متعلق ہر طرح کی کتابیں موجود ہیں۔

اور ظاہر ہے کہ بہت سی کتابیں نایاب ہوجانے یا ان تک رسائی حاصل نہ ہونے کی وجہ سے چھوٹ بھی گئی ہوں گی اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ اس موضوع پر اُردو زبان میں کم و بیش ڈیڑھ ہزار تالیفات موجود ہیں اور یقیناً یہ اُردو زبان کی بڑی سعادت اور اس کے لیے تمغہ افتخار ہے، سنہ2000ء تک کے جائزہ کے مطابق 1247/ کتابیں موجود ہیں


222 comments / Replies

  1. فقہ اسلامی کے ارتقا کے سلسلہ میں جدید دور کا نقطہ آغاز .... کو قرار دیا جا سکتا ہے

    ReplyDelete
    Replies
    1. تیرہویں صدی ہجری کے اوآخر

      Delete
    2. تیرہویں صدی ہجری کے اواخر

      Delete
    3. تیرہویں صدی ہجری کے اواخر

      Delete
    4. تیرہویں صدی ہجری کے اواخر

      Delete
    5. تیرہوی صدی ہجری کے اواخر

      Delete
    6. تیرہویں صدی ہجری کے اواخر

      Delete
    7. تیرہویں صدی کے اواخر

      Delete
    8. تیرہویں صدی کے اواخر

      Delete
    9. تیرھویں صدی کے اؤاخر

      Delete
  2. خلافتِ عثمانیہ کے حکم پر
    ......کی ترتیب عمل میں آئی،

    ReplyDelete
  3. مسلکی تعصب کس وقت شدت اختیار کر گیا تھا؟

    ReplyDelete
    Replies
    1. خلافت عباسیہ کے سقوط کے بعد

      Delete
    2. خلافت عباسیہ کے سقوط کے بعد

      Delete
    3. خلافتِ عباسہ کے سقوط کے بعد

      Delete
    4. خلافت عباسیہ کے سقوط کے بعد

      Delete
    5. خلافت عبا سیہ کے سقوط کے بعد

      Delete
    6. خلافت عباسیہ کے سقوط کے بعد

      Delete
    7. خلافت عباس یہ کے سقوط کے بعد

      Delete
  4. اہلِ علم مختلف ائمہ اور .... کی آراء کو پورے احترام اور انصاف کے ساتھ ذکر کرتے ہیں

    ReplyDelete
  5. ، حرمین شریفین میں چار .... کی صورت ختم ہوجانے کے بعد سے ایک دوسرے کے پیچھے نماز ادا کرنے کا مزاج عام ہوا ہے،

    ReplyDelete
  6. مقلدین کے مطابق موجوده دور میں دوسرا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ جہاں احناف و شوافع اور شوافع و مالکی کی بے معنی آتش جنگ بجھ چکی ہے، وہیں اس دور میں "....." اپنے اسی مزاج کے ساتھ جو ابن حزم وغیرہ کی تحریروں سے ظاہر ہے، نئے لباس اور نئے پیکر میں ظہور پزیر ہوئی ہے

    ReplyDelete
  7. مقلدین کے نزدیک انھوں نے نماز سے متعلق چار، پانچ مسائل، طلاق سے متعلق ایک مسئلہ اور .... کو اپنی تمام علمی کاوشوں اور محنتوں کا محور بنا رکھا ہے

    ReplyDelete
  8. مقلدین کے بقول یہ غلو پسند فرقہ برصغیر میں اپنی نسبت شیخ ..... اور عرب علما سے کرتا ہے

    ReplyDelete
  9. شیخ نجدی نے خود اپنے آپ کو ..... قرار دیا

    ReplyDelete
  10. عام عرب علما و محققین ایسی تنگ نظری اور .... میں مبتلا نہیں ہیں جو اس فرقہ کا امتیاز ہے،

    ReplyDelete
  11. خود ہندوستان میں اس مکتبِ فکر کے بزرگوں نواب صدیق حسن خان، ثناء اللّه امرتسری، ... وغیرہ کے یہاں اس طرح کا غلو نہیں ملتا،

    ReplyDelete
  12. فقہی مضامین کو دفعہ وار جدید قانونی کتابوں کے انداز پرمرتب کرنا کہ اس سے لوگوں کے لیے استفادہ آسان ہوجاتا ہے اور عدالتوں کے لیے یہ باب ممکن ہوتی ہے کہ وہ اس قانون کو اپنے لیے نشانِ راہ بنائے، اس کی ابتدا "......" سے ہوئی

    ReplyDelete
  13. حکومتِ عثمانیہ ترکی نے اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے، وزیر انصاف کی صدارت میں اکابر فقہا کی ایک کمیٹی تشکیل دی اور انہیں حکم دیا کہ فقہ..... کے مطابق نکاح، تجارت اور تمام معاملات کے احکام کو دفعہ وار مرتبہ کریں،

    ReplyDelete
  14. ، 1285ھ مطابق 1869ء میں یہ کام شروع ہوا اور سات سال کی محنت کے بعد 129 ھ مطابق ..... میں پایہ تکمیل کو پہنچا

    ReplyDelete
  15. ، کل دفعات ..... ہیں، یہ مجموعہ فقہ حنفی کے راجح اقوال پر مبنی ہے

    ReplyDelete
  16. مختلف ممالک میں ....کے اثر سے قانونِ شریعت میں ناقابلِ قبول تبدیلیاں کردی گئی ہیں،

    ReplyDelete
  17. فقیہ .... کی
    "مرشدالحیران لمعرفۃ احوال الانسان" فقہ حنفی کے مطابق احوالِ شخصیہ، وقف اور معاملات سے متعلق احکام پر مشتمل ہے اور جس کی دفعات (1045) ہیں،

    ReplyDelete
  18. جرم و سزا کے اسلامی قانون سے متعلق .... کی
    "التشریع الجنائی الاسلامی" (2/حصے، 984 دفعات) خصوصیت سے قابل ذکر ہیں،

    ReplyDelete
    Replies
    1. ڈاکٹر عبدالقادر عودہ شہید

      Delete
    2. ڈاکٹر عبدالقادر عودہ شہید

      Delete
    3. ڈا کٹر عبد القا در عودہ شہید

      Delete
    4. ڈاکٹر عبدالقادر عودہ شہید

      Delete
  19. برصغیر میں اس سلسلہ میں جو کوشش ہوئی ہیں ان میں ڈاکٹر تنزیل الرحمن کی ........ اور ہندوستان میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے زیر نگرانی پرسنل لا سے متعلق مجموعہ قوانین (جوغالباً 6/جلدوں پرمشتمل ہے) نہایت اہم ہے

    ReplyDelete
  20. اسلام کے عدالتی قوانین سے متعلق قاضی ...... کی اسلامی عدالت ہے جو740/دفعات پر مشتمل ہے

    ReplyDelete
  21. فقہ مالکی میں "......" ابجدی فہرست کے ضمیمہ کے ساتھ شائع ہوئی ہے،

    ReplyDelete
  22. دائرۃ المعارف" کی ترتیب کا منصوبہ .....میں حکومتِ شام نے منظور کر لیا،

    ReplyDelete
  23. مصر اور شام کا اتحاد کس سن میں ہوا؟

    ReplyDelete
  24. ایک اور کوشش
    جمعیۃ الدراسات الاسلامیۃ قاھرہ نے...... کی صدارت میں شروع کی تھی

    ReplyDelete
  25. فقہی موسوعہ کا تصور پیش کرنے والی پہلی شخصیت کا کیا نام ہے؟

    ReplyDelete
  26. انسائیکلوپیڈیائی کاوشوں میں ..... کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا

    ReplyDelete
  27. رابطہ عالم اسلامی کی مؤتمر منعقدہ مکہ مکرمہ 1384ھ میں "......" کے سلسلہ میں ڈاکٹر مصطفی زرقاء نے نہایت اہم تجویز پیش کی

    ReplyDelete
  28. طرح یوروپ میں "یوروپی افتاء کونسل" قائم ہے، جس کا مرکز ..... ہے ا

    ReplyDelete
  29. پاکستان میں .... وغیرہ نے "مجلس تحقیق مسائل حاضرہ" کی بنیاد رکھی تھی

    ReplyDelete
    Replies
    1. مفتی محمد شفیع اور محمد یوسف بنوری

      Delete
    2. مفتی محمد شفیع اور
      محمد یوسف بنوری

      Delete
    3. مفتی محمد شفیع محمد یوسف بنوری

      Delete
    4. مفتی محمد شفیع محمد یو سف بنوری

      Delete
    5. مفتی محمد شفیع۔محمد یوسف بنوری

      Delete
    6. مفتی محمد شفیع محمد یوسف بنوری

      Delete
  30. 1889ء میں .... نے اسلامک فقہ اکیڈمی کی بنیاد رکھی،

    ReplyDelete
  31. یہ اُردو زبان کی بڑی سعادت اور اس کے لیے تمغہ افتخار ہے، سنہ2000ء تک کے جائزہ کے مطابق ..... کتابیں موجود ہیں

    ReplyDelete
  32. یہ ہو تو رہے ہیں

    ReplyDelete

Powered by Blogger.