Fiqah Aur Ehad-E-Nabwi ﷺ

فقہ اور عہدِ نبوی صلی اللّه علیہ وسلم 


قرآن و حدیث کی بنیاد براہِ راست فرمانِ باری پر ہے، فرق یہ ہے کہ قرآن مجید میں الفاظ و معانی دونوں اللّه تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور حدیث میں الفاظ اور تعبیر رسول اللّه  ﷺ کی طرف سے ہے پس قرآن و حدیث کا سرچشمہ ذاتِ خداوندی ہے اور واسطہ رسول اللّه ﷺ کا ہے، اس لیے اس کے ذریعہ جو علم حاصل ہوگا وہ معصوم ہوگا، یعنی غلطیوں اور خطاؤں سے محفوظ اور اجتہاد کے ذریعہ جو احکام اخذ کیے جاتے ہیں، ان میں خطاء کا احتمال موجود ہوتا ہے اور جب محفوظ طریقہ علم موجود ہو تو غیر محفوظ اور غلطی کا احتمال رکھنے والے ذریعہ علم کی ضرورت نہیں رہتی اسی لیے عہدِ نبوی میں احکامِ فقہیہ کا مدار کتاب و سنت پرتھا۔



پھر چونکہ مکی زندگی میں آپ کے مخاطب زیادہ تر کفار و مشرکین تھے اور ابھی سب سے اہم مسئلہ ان کے دلوں میں ایمان کا پودا لگانے کا تھا اس لیے زیادہ توجہ اعتقادی اور اخلاقی اصلاح کی طرف تھی، مکہ میں نبوت کے بعد آپ کا قیام بارہ سال پانچ مہینہ، تیرہ دن رہا ہے، قرآنِ مجید کی ایک سو چودہ سورتوں میں سے زیادہ تر سورتیں مکہ ہی میں نازل ہوئیں؛ کیونکہ بیس سورتوں کے مدنی ہونے پر اتفاق ہے اور بارہ کے مکی یا مدنی ہونے کی بابت اختلاف ہے، باقی بیاسی سورتیں بالاتفاق مکی ہیں۔

مکی زندگی میں قرآن کا خاص موضوع دعوتِ ایمان اور اصلاحِ عقیدہ تھا، ہاں بعض اُصولی احکام اور بعض متفق علیہ برائیوں کی مذمت سے متعلق ہدایاتِ زندگی میں بھی دی گئیں، 
جیسے قتل ناحق کی ممانعت 
لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے کی مذمت التکویر
 زنا کی حرمت۔۔۔  المؤمنون

یتیموں کے ساتھ بدسلوکی کی ممانعت اور ناپ تول
 کو درست رکھنے کی ہدایات 
غیر اللّه پر جانور یا نذر کی ممانعت 
ان ہی جانوروں کا گوشت کھانے کی اجازت جن پر ذبح کرتے وقت اللّه کا نام لیا گیا ہو ،
عبادات میں بالاتفاق "نماز" مکی زندگی میں فرض ہوچکی تھی اور زکوٰۃ کے بارے میں اختلاف ہے، لیکن زکوٰۃ کا ذکر مکی آیات میں بھی ملتا ہے ممکن ہے کہ مکہ میں اجمالی حکم دیا گیا ہو اور مدنی زندگی میں اس کی تنفیذ عمل میں آئی ہو، عملی زندگی سے متعلق احکام عام طور پر مدنی زندگی میں ہی دیے گئے ہیں۔

قرآنِ مجید میں جو فقہی احکام آئے ہیں، ان میں بعض اپنے منشا و مراد کے اعتبار سے بالکل واضح ہیں

جیسے نماز، روزہ، زکوٰۃ، وغیرہ کا فرض ہونا، زنا، قتل، تہمت تراشی کی حرمت، میراث کے احکام، نکاح میں محرم اور غیر محرم رشتہ داروں کی تعیین، یہ عقیدہ کے درجہ میں ہیں اور ان کا انکار موجب کفر ہے

اور بعض میں ایک سے زیادہ معنوں کا احتمال اور اختلافِ رائے کی گنجائش ہے لہٰذا ان مسائل میں استنباط میں اختلافِ رائے کی وجہ سے ایک دوسرے کی تکفیر نہیں کی جاسکتی۔
قرآن کا طرزِ بیان فقہی اور قانونی کتابوں جیسا نہیں ہے کہ ایک موضوع سے متعلق تمام مسائل ایک ہی جگہ ذکر کر دیے گئے ہوں بلکہ قرآن میں حسب ضرورت ایک موضوع سے متعلق احکام مختلف مقامات پر آیا کرتے ہیں اور فقہی احکام کے ساتھ ترغیبات و ت رہیبات اور ان احکام کی حکمتوں اور مصلحتوں پر بھی روشنی ڈالی جاتی ہے تاکہ انسان کو اس کے تقاضے پر عمل کرنے کی رغبت ہو کیونکہ قرآن مجید کا اصل مقصد ہدایت ہے۔

حدیث نبوی کے سلسلہ میں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ رسول اللّه ﷺ کی دو حیثیتیں تھیں، ایک بشری اور دوسرے نبوی چنانچہ آپ کی بشری حیثیت کو قرآن نے پوری تاکید سے بیان کیا ہے

"قُلْ إِنَّمَاأَنَابَشَرٌ مِثْلُكُمْ"

 کہدو کہ میں تمہاری طرح کا ایک بشر ہوں


اس حیثیت سے آپﷺ نے جو بات فرمائی ہو، اس کی حیثیت حکم شرعی کی نہیں ہوگی جیسا کہ آپ نے ابتداً اہلِ مدینہ کو کھجور میں "تابیر" یعنی کھجور کے مادہ درخت میں نر درخت کے ایک خاص حصہ کو ڈالنے سے منع فرمایا تھا لیکن جب اس کی وجہ سے پیداوار گھٹ گئی تو آپﷺ نے اپنی ہدایت کو واپس لے لیا اور فرمایا

 "أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأَمْرِ دُنْيَاكُمْ"

تم زیادہ جانتے ہوں اپنے دنیوی معاملہ کو


لیکن یہ فرق کرنا بہت دشوار ہے کہ آپ کے کون سے احکام بشری حیثیت سے تھے، اس لیے جب تک اس پر کوئی واضح دلیل موجود نہ ہو، آپ کے تمام فرمودات اور معمولات کی حیثیت شرعی ہی ہوگی۔

آپ کے بعض افعالِ طبعی نوعیت کے ہیں، مثلاً
 آپ کے استراحت کا انداز، کسی غذا کا آپ کو پسند آنا اور کسی غذا کا آپ کو پسند نہ آنا، چلنے، بیٹھنے، گفتگو کرنے، ہنسنے اور مسکرانے کی مبارک ادائیں، ان میں جن اُمور کو باختیار عمل میں لایا جاسکتا ہو، وہ بھی مستحب کے درجہ میں ہوں گے اور جو باتیں آدمی کے ارادہ و اختیار سے باہر ہیں، ان سے شرعی حکم متعلق نہیں ہوگا کیونکہ حکم شرعی کا تعلق ارادہ و اختیار اور قوت و استطاعت سے ہے۔
بعض افعال آپ نے بطورِ وقتی تدبیر کے کیے ہیں، جیسے میدانِ جنگ میں جگہ کا انتخاب، راستہ کا انتخاب، فوجوں کی صف بندی، وغیرہ، یہ احکام بحیثیت امیر آپ کی طرف سے تھے اور اُس وقت جو صحابہ موجود تھے، ان پر اس کی اطاعت فرض تھی، آئندہ ان اُمور کے سلسلہ میں مناسب حال تدبیر کا اختیار کرنا درست ہوگا۔
جیسا کہ ذکر کیا گیا کہ اس عہد میں احکامِ شرعیہ کا اصل ماخذ تو قرآن و حدیث ہی تھا لیکن آپ سے اجتہاد کرنا بھی ثابت ہے۔

 ایک خاتون آپ کی خدمت میں آئیں اور عرض کیا کہ میری والدہ کا انتقال ہو گیا، ان کے ذمہ نذر کے روزے باقی تھے، کیا میں ان کی طرف سے روزے رکھ لوں؟ آپﷺ نے فرمایا اگر تمہاری ماں پر کسی کا قرض باقی ہوتا تو کیا اسے ادا کرتیں؟ انھوں نے کہا ہاں! 

 آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ 

"فَدَيْنُ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى"

 اللّه کا قرض زیادہ قابل ادائیگی ہے


 دیکھیے! یہاں حضور ﷺ نے اجتہاد و قیاس سے کام لیا ہے البتہ اگر آپ سے اجتہاد میں لغزش ہوجاتی تو اللّه تعالیٰ کی طرف سے متنبہ کر دیا جاتا چناچہ غزوۂ بدر کے قیدیوں کے سلسلہ میں آپ ﷺ نے فدیہ لے کر رہا کردینے کا فیصلہ فرمایا، اس فیصلہ پر اللّه تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ نازل ہوئی

 (الانعام:67،68) 

اسی طرح غزوۂ تبوک کے موقع سے آپ نے پیچھے رہ جانے والے منافقین کی معذرت اپنے اجتہاد سے قبول کی اور اس پر اللّه تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ ہوئی

پس آپﷺ نے اجتہاد بھی فرمایا ہے، فرق یہ ہے کہ اگر آپ سے اجتہاد میں کوئی لغزش ہوجاتی تو آپﷺ کو اس پر تنبیہ فرمادیا جاتا اس لیے آپﷺ کا اجتہاد بھی نص کے حکم میں ہے۔

آپ کے عہد میں صحابہؓ نے بھی اجتہاد کیا ہے، آپﷺ کی عدم موجودگی میں تو کیا ہی ہے کیونکہ خود آپﷺ نے معاذ بن جبل رضی اللّه عنہ کو اجازت دی تھی کہ اگر قرآن و حدیث میں حکم نہ ملے تو اجتہاد سے کام لو اور صحابہؓ نے آپ کے ارشاد پر عمل بھی کیا، مثلاً حضرت علیؓ کے پاس یمن میں ایک لڑکے کے سلسلہ میں تین دعویدار پہنچے، حضرت علیؓ نے پہلے تو ہر ایک کو راضی کرنے کی کوشش کی کہ وہ دوسرے کے حق میں دستبردار ہو جائے لیکن جب کوئی اس پر آمادہ نہ ہوا تو قرعہ اندازی کرکے جس کے حق میں قرعہ نکلا اس کو لڑکا حوالہ کر دیا اور باقی دونوں سے کہا کہ وہ دونوں کو ایک ایک تہائی دیت ادا کرے

وممن حكم باجتهادہ ۔

 رسول اللّه ﷺ کی عدم موجودگی میں صحابہؓ کے اجتہاد کے اور بھی متعدد واقعات موجود ہیں۔

بعض اوقات حضور ﷺ کی موجودگی میں بھی صحابہؓ نے اجتہاد فرمایا ہے، اس کی واضح مثال آپ ﷺ کی موجودگی میں غزوہ بنوقریظہ کے موقع سے بنو قریظہ کے معاملہ میں حضرت سعد بن معاذؓ کا فیصلہ کرنا ہے اسی طرح امام احمدؓ نے حضرت عبد اللّه بن عمرو بن العاصؓ سے نقل کیا ہے کہ آپﷺ کی خدمت میں ایک مقدمہ آیا، آپ نے حضرت عمرو بن عاص رضی اللّه عنہ کو اس کا فیصلہ کرنے کا حکم فرمایا انہوں نے معذرت بھی کرنی چاہی لیکن آپ ﷺ نے حکم دیا اور فرمایا کہ اگر صحیح فیصلہ کرو گے تو دس نیکیاں ملیں گی اور اگر کوشش کے بعد غلطی ہو جائے، تب بھی ایک نیکی ضرور ہی حاصل ہوگی۔

عرب چونکہ اصل میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اُمت تھے، اس لیے بہت سی روایات و رواجات، صالح، منصفانہ اور شریفانہ بھی پائے جاتے تھے، جیسے قصاص، دیت، قسامت، مقدمات کے ثابت کرنے کا طریقہ، نکاح میں حرام رشتے وغیرہ۔۔ لیکن بہت سے طریقے غیر شریفانہ اور غیر منصفانہ تھے، شریعتِ اسلامی نے عام طور پر پہلی قسم کے احکام کو باقی رکھا اور دوسری قسم کے احکام کی اصلاح فرمائی؛ یہاں اختصار کے ساتھ کچھ اصلاحی ہدایات و ترامیم کا ذکر کیا جاتا ہے

 زمانۂ جاہلیت میں ایک طریقہ "نکاح شغار" کا تھا، دو مرد ایک دوسرے سے اپنی محرم خاتون کا نکاح کرتے تھے اور ایک نکاح کو دوسرے کے لیے مہر ٹھہراتے تھے، رسول اللّه ﷺ نے اس سے منع فرمایا اسی کو نکاحِ شغار کہا جاتا تھا۔

 والد کی وفات کے بعد لڑکا سوتیلی ماں سے اپنا نکاح کرلیتا تھا اگر وہ خود نکاح نہ کرتا تو اسے یہ حق ہوتا کہ کسی اور سے نکاح کر دے اور مہر وصول کر لے یا اسے نکاح کرنے سے روک دے یہاں تک کہ اس کی موت ہو جائے اور یہ اس کے مال کا وارث ہو جائے۔

 (احکام القرآن للجصاص:1/106،202)

 قرآن نے اس طریقہ کی مذمت فرمائی اور اس سے منع کر دیا۔

 نکاح میں دو بہنوں کو جمع کیا جاتا تھا اور غیر محدود تعداد ازدواج کی اجازت تھی یہاں تک کہ جب غیلان ثقفی مسلمان ہوئے تو ان کی دس بیویاں تھیں، قرآن نے دو بہنوں کو جمع کرنے اور چار سے زیادہ نکاح کرنے کو منع فرمادیا۔ زمانۂ جاہلیت میں منہ بولے بیٹے اور بیٹی کو بھی اپنی اولاد کا درجہ دیا جاتا تھا، نکاح کے معاملہ میں بھی اور میراث کے معاملہ میں بھی۔ اللّه تعالیٰ نے اس کی تردید فرمائی

 "وَمَاجَعَلَ أَدْعِيَاءَكُمْ أَبْنَاءَكُمْ" 


اور نہ اس نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا حقیقی بیٹا بنایا ہے


(الأحزاب:4)


 زمانۂ جاہلیت میں عورت کے مہر پر ولی قبضہ کرلیتا تھا، قرآن مجید نے کہا کہ عورت کا مہر عورت کو دیا جائے


 "وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً" 


 طلاق کی کوئی تعداد متعین نہ تھی، جتنی چاہتے طلاق دیتے جاتے اور عورت کو نکاح سے آزاد بھی نہ ہونے دیتے قرآن نے طلاق کو تین تک محدود کر دیا۔

 "ایلاء" سال دو سال کا بھی ہوا کرتا تھا، جو ظاہر ہے کہ عورت کے لیے نہایت ہی تکلیف دہ بات تھی، قرآن مجید نے چار ماہ کی مدت مقرر کردی کہ اگر قسم کھا کر اس سے زیادہ بیوی سے بے تعلق رہے تو طلاق واقع ہو جائے گی۔

 ظہار یعنی بیوی کو محرم کے کسی عضو حرام سے تشبیہ دینے کو طلاق تصور کیا جاتا تھا
 قرآن نے اسے طلاق تو قرار نہیں دیا لیکن اس پر کفارہ واجب قرار دیا۔

 عدت سال بھر ہوا کرتی تھی، قرآن نے وضع حمل اور غیر حاملہ کے لیے وفات کی صورت میں چار ماہ دس دن اور طلاق کی صورت میں جوان عورت کے لیے تین حیض اور دوسروں کے لیے تین ماہ قرار دی۔ اسلام سے پہلے وارث اور غیر وارث دونوں کے لیے جتنے مال کی چاہے وصیت کرسکتے تھے، اسلام نے وارث کے لیے وصیت کو غیر معتبر قرار دیا اور وصیت کی مقدار ایک تہائی تک محدود کر دیا۔

 میراث کا قانون بڑا ظالمانہ تھا، صرف ان مردوں کو جو جنگ میں لڑنے کے قابل ہوتے، انھیں میراث دی جاتی تھی اور نابالغوں کے لیے میراث میں حصہ نہیں تھا، اسلام نے عورتوں اور نابالغ بچوں کو حق میراث عطا کیا۔ عرب سود کو درست سمجھتے تھے، اسلام نے نہایت سختی کے ساتھ اس کو منع کر دیا۔ مال رہن کا قرض دینے والا مالک ہوجاتا تھا؛ اگر مقروض نے وقت پر قرض ادا نہیں کیا، اسلام نے اس بات کی تو اجازت دی کہ اگر مقروض قرض ادا نہیں کرے تو بعض صورتوں میں مال کو فروخت کرکے اپنا قرض وصول کرلے اور باقی پیسہ واپس کر دے لیکن یہ درست نہیں کہ پورے مال رہن کا مالک ہو جائے۔

 زمانۂ جاہلیت میں ایک طریقہ یہ تھا کہ خرید و فروحت کے درمیان اگر بیچی جانے والی شے کو چھوڑدیا یا اس پر کنکری پھینک دی تو اس کے ذمہ اس کا خریدنا لازم ہو گیا، جس کو منابذہ، ملامسہ، بیع حصاۃ کہا کرتے تھے، رسول اللّه ﷺ نے اس طریقہ پر خرید و فروخت کو منع فرمایا بیع ملامسہ وغیرہ کی بعض اور تعریفیں بھی کی گئی ہیں جسے بیع کے لفظ میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ لوگ کسی سامان کی قیمت کو بڑھانے کے لیے مصنوعی طور پر بولی لگا دیتے تھے، اس کو"نجش" کہتے ہیں، آپﷺ نے اس کو بھی منع فرمایا۔

 قتل اور جسمانی تعدی میں لوگ صرف قاتل اور ظالم ہی سے بدلہ نہیں لیتے تھے بلکہ اس کے متعلقین اور پورے قبیلہ کو مجرم کا درجہ دیتے تھے، قرآن نے اس کو منع کیا اور صرف مجرم کو سزاوار ٹھہرایا۔ حج میں قریش مزدلفہ سے آگے نہیں جاتے تھے اور اسے اپنے لیے باعثِ ہتک سمجھتے تھے، قرآن مجید نے سبھی کو عرفات جانے کا حکم دیا بلکہ وقوفِ عرفہ کو حج کارکنِ اعظم قرار دیا گیا۔ 

پس زمانۂ جاہلیت کے بہت سے احکام میں شریعتِ اسلامی نے اصلاح کی اور جو رواجات عدل و انصاف کے تقاضوں کے خلاف تھے، ان کو کالعدم قرار دے دیا۔

102 comments / Replies

  1. قرآن و حدیث کی بنیاد براہ راست....... پر ہے

    ReplyDelete
  2. حدیث میں الفاظ اور تعبیر........ لی طرف سے ہے

    ReplyDelete
    Replies
    1. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم

      Delete
    2. فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم

      Delete
    3. رسول اللہ صلی علیہ وسلم

      Delete
  3. قرآن و حدیث کا سرچشمہ........ ہے

    ReplyDelete
    Replies
    1. ذات خداوندی و واسطہ رسول اللہ

      Delete
    2. ذات خداوندی واسطہ رسول اللہ

      Delete
  4. اجتھاد کے ذریعے جو احکام اخذ کیے جاتے ہیں ان میں........ کا احتمال موجود رہتا ہے

    ReplyDelete
  5. عہد نبوی میں اجتھاد فقیہ کا مدار........ پر تھا

    ReplyDelete
  6. مکی زندگی میں آپ کے زیادہ تر مخاطب....... تھے

    ReplyDelete
  7. مکہ میں نبوت کے بعد آپ کا قیام.......... رہا ہے

    ReplyDelete
  8. ........سورتوں کے مدنی ہونے پر اتفاق ہے

    ReplyDelete
  9. ........سورتیں بالاتفاق مکی ہیں

    ReplyDelete
  10. مکی زندگی میں قرآن کا خاص موضوع دعوت ایمان اور....... تھا

    ReplyDelete
  11. عبادات میں بالاتفاق....... میں فرض ہو چکی تھی

    ReplyDelete
  12. قرآن کاطرز بیان فقہی اور......... کتابوں جیسا نہیں ہے

    ReplyDelete
  13. حدیث نبوی کے سلسلہ میں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ رسول اللّه ﷺ کی ..........حیثیتیں تھیں،.ی



    ReplyDelete
  14. قُلْ إِنَّمَاأَنَا........مِثلکم

    ReplyDelete
  15. آپ نے ابتداً اہلِ مدینہ کو کھجور میں "........" یعنی کھجور کے مادہ درخت میں نر درخت کے ایک خاص حصہ کو ڈالنے سے منع فرمایا تھا

    ReplyDelete
  16. آپ کے بعض افعالِ .......نوعیت کے ہیں،اً

    ReplyDelete
  17. اللّه کا قرض زیادہ.........ہے ی

    ReplyDelete
  18. آپﷺ کا اجتہاد بھی ........ کے حکم میں ہے۔

    ReplyDelete
  19. آپ کے عہد میں ......... نے بھی اجتہاد کیا ہ

    ReplyDelete
  20. عرب چونکہ اصل ...... کی اُمت تھے

    ReplyDelete
  21. زمانۂ جاہلیت میں ایک طریقہ "نکاح....." کا تھا،

    ReplyDelete
  22. "وَمَاجَعَلَ ...... أَبْنَاءَكُمْ"

    ReplyDelete
  23. زمانۂ جاہلیت میں عورت کے مہر پر .۔..... قبضہ کرلیتا تھا،

    ReplyDelete
  24. ۔ لوگ کسی سامان کی قیمت کو بڑھانے کے لیے مصنوعی طور پر بولی لگا دیتے تھے، اس کو......." کہتے

    ReplyDelete

Powered by Blogger.