Fiqah Saqoot e baghdad - ikhtatam terhveen sadi

فقہ، سقوطِ بغداد تا اختتام تیرہوی صدی 



یہ عہد بھی بنیادی طور پر پہلے ہی عہد کے مماثل ہے، جس میں مختلف مسالک کے اہل علم نے اپنے مذہب فقہی کی خدمت کی، مختلف مذاہب سے متعلق متون اور متون پر مبنی شروح و حدیث کی ترتیب عمل میں آئی، فتاویٰ مرتب ہوئے، فتاویٰ سے مراد دو طرح کی تحریریں ہیں، ایک متاخرین کے اجتہادات، دوسرے مستفتیوں کے سوالات کے جوابات اسی طرح علمی اعتبار سے اس دور کی خصوصیات کو تین نکتوں میں بیان کیا جاسکتا ہے۔



اوّل: یہ کہ گذشتہ ادوار میں علماء کے درمیان باہمی ارتباط اور افادۂ و استفادہ کا دائرہ بہت وسیع تھا، خاص کر حج کا موسم ایک ایسی بڑی درسگاہ کی شکل اختیار کرلیتا تھا، جس میں پوری دنیا کے اہلِ علم ایک دوسرے سے کسب فیض کرتے تھے اور ان کی آراء اور علوم سے فائدہ اُٹھاتے تھے لیکن مذہبی تصلب اور مسلمان آبادیوں کی مختلف مملکتوں میں تقسیم وغیرہ کی وجہ سے اب افادہ و استفادہ کا یہ عالمی مزاج محدود ہو گیا اور ایک ملک اور ایک علاقہ کے علماء ایک دوسرے سے استفادہ پر اکتفاء کرنے لگے۔

دوسرے: متقدمین کی کتابوں میں طرزِ گفتگو مجتہدانہ ہوا کرتا ہے، متأخرین کے یہاں زیادہ سے زیادہ جزئیات کو جمع کرنے کا اہتمام پیدا ہوا، اس دور میں متقدمین کی کتابوں سے اہلِ علم کا رشتہ کمزور ہو گیا اور یہ ایک حقیقت ہے کہ جزئیات کی کثرت سے آدمی مسائل کا حافظ ہو سکتا ہے لیکن اس میں تفقہ کی شان پیدا نہیں ہوسکتی۔

تیسرے: متقدمین کے یہاں طریقہ تالیف سادہ، سلیس اور واضح ہوا کرتا تھا، عبارت سہل ہوا کرتی تھی اور اصل توجہ فن اور مضمون پر ہوتی تھی لیکن متاخرین کے یہاں الفاظ کی کفایت اور مختصر نویسی کمال ٹھہرا یہاں تک کہ عبارتیں چیستاں بن گئی پھر کئی کئی مصنفین نے اس کی عقدہ کشائی میں اپنا زورِ قلم صرف کیا، حاشیے، شرحیں؛ پھر ان شرحوں پر حواشی اور کبھی ان شروح پر شروح، نتیجہ یہ ہوا کہ فن سے توجہ ہٹ گئی اور غیر متعلق اُمور پر محنتیں صرف ہونے لگیں، اس اختصار نویسی کا نمونہ علامہ نسفی کی "کنزالدقائق" زکریا انصاری کی 
منہج الطلاب اور مالکیہ میں "مختصرخلیل" میں دیکھی جاسکتی ہے، خاص کر مالکیہ کے یہاں مسائل کی تعبیر میں اور بی زیادہ اغلاق پایا جاتا ہے۔

اِس صورتِ حال نے فقہی ارتقا کے راستے روک دیے اور زیادہ تر متون کی مختصرات اور پھر ان مختصرات پر شروح و حواشی کا کام ہوتا رہا لیکن اس کے ساتھ ساتھ بہت سی گراں قدر تالیفات بھی اسی عہد کی یادگار ہیں خاص کر دسویں صدی ہجری کے اوائل تک متعدد صاحب نظر اہل علم پیدا ہوئے

224 comments / Replies

  1. سقوطِ بغداد تا اختتام تیرہوی صدی
    یہ عہد بھی بنیادی طور پر پہلے ہی عہد کے .... ہے،

    ReplyDelete
  2. فتاویٰ سے مراد دو طرح کی تحریریں ہیں، ایک متاخرین کے اجتہادات، دوسرے .... کے جوابات

    ReplyDelete
  3. علمی اعتبار سے اس دور کی خصوصیات کو.... نکتوں میں بیان کیا جاسکتا ہے۔

    ReplyDelete
  4. گذشتہ ادوار میں علماء کے درمیان ... اور افادۂ و استفادہ کا دائرہ بہت وسیع تھا،

    ReplyDelete
  5. حج کا موسم ایک بڑی.... کی شکل اختیار کر لیتا تھا.

    ReplyDelete
  6. مذہبی تصلب اور مسلمان آبادیوں کی مختلف مملکتوں میں تقسیم وغیرہ کی وجہ سے اب افادہ و استفادہ کا یہ عالمی مزاج ..... ہو گیا

    ReplyDelete
  7. ایک ملک اور ایک علاقہ کے علماء ایک دوسرے سے .... پر اکتفاء کرنے لگے۔

    ReplyDelete
  8. متقدمین کی کتابوں میں طرزِ گفتگو ... ہوا کرتا ہے،

    ReplyDelete
  9. متأخرین کے یہاں زیادہ سے زیادہ ... کو جمع کرنے کا اہتمام پیدا ہوا،

    ReplyDelete
  10. جزئیات کی کثرت سے آدمی مسائل کا حافظ ہو سکتا ہے لیکن اس میں .... پیدا نہیں ہوسکتی۔

    ReplyDelete
  11. متقدمین کے یہاں طریقہ تالیف .... اور واضح ہوا کرتا تھا،

    ReplyDelete
  12. متقدمین کی یہاں اصل توجہ کس چیز پر ہوتی؟؟

    ReplyDelete
  13. کمتاخرین کے یہاں الفاظ کی کفایت اور ...کمال ٹھہرا

    ReplyDelete
  14. اس اختصار نویسی کا نمونہ علامہ نسفی کی "......" زکریا انصاری کی
    منہج الطلاب اور مالکیہ میں "...." میں دیکھی جاسکتی ہے،

    ReplyDelete
  15. اِس صورتِ حال نے ... کے راستے روک دیے

    ReplyDelete
  16. بہت سی گراں قدر تالیفات بھی اسی عہد کی یادگار ہیں خاص کر ..... کے اوائل تک متعدد صاحب نظر اہل علم پیدا ہوئے

    ReplyDelete
  17. This comment has been removed by the author.

    ReplyDelete

Powered by Blogger.