Fiqah Saqoot e Baghdad tak
فقہ سقوطِ بغداد تک
(656ھ)
فقہ کی تدوین و ترتیب کا چوتھا مرحلہ چوتھی صدی ہجری کے اوائل سے شروع ہوتا ہے اور 656ھ میں سقوطِ بغداد پر ختم ہوتا ہے، جب چنگیز خان کے پوتے ہلاکو خان نے عالمِ اسلامی کے دار الخلافہ بغداد پر غلبہ حاصل کیا، آخری عباسی خلیفہ کو نہایت بے دردی سے قتل کر دیا اور ایسی خوں آشامی اور ہلاکت خیزی کا ثبوت دیا کہ انسانیت سوزی اور قتل و غارت گری کی تاریخ میں کم ہی اس کی مثال مل سکے گی۔
اس عہد کی خصوصیات اس طرح ہیں
اسی عہد میں شخصی تقلید کا رواج ہوا اور لوگ تمام احکام میں ایک متعین مجتہد کی پیروی کرنے لگے، تقلید کی اس صورت کو مختلف اسباب کی وجہ سے تقویت پہنچی، جن کا تذکرہ مناسب محسوس ہوتا ہے
الف) بہت سے ایسے لوگ دعویٰ اجتہاد کرنے لگے جو حقیقت میں اس منصب کے اہل نہیں تھے اور وہ اجتہاد کو قرآن و حدیث سے انحراف کا چور دروازہ بنانے لگے، اس لیے دین کے تحفظ اور دفع فساد کے لیے اس زمانہ کے بالغ نظر اور محتاط علماء نے ضروری سمجھا کہ موجودہ حالات میں باب اجتہاد کو بند کر دیا جائے اور اُمت کو ان آوارہ خیالوں کے فتنہ سے بچایا جائے۔
ب) ائمہ مجتہدین کی سعی و محنت سے فقہ اسلامی کی ترتیب و تدوین پایہ کمال کو پہنچ چکی تھی اور ان کی مساعی کی وجہ سے لوگوں کے لیے ہر طرح کے مسائل کا حل موجود تھا؛ اس لیے گذشتہ ادوار میں جس درجہ اجتہاد و استنباط کی ضرورت تھی اب اتنی ضرورت باقی نہیں رہ گئی تھی اور یہ اللہ تعالٰیٰ کا قدرتی نظام ہے کہ جب کسی چیز کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی ہے تو اس طرف لوگوں کی توجہ بھی کم ہوجاتی ہے۔
ج) بعض مجتہدین کو من جانب اللّه لائق تلامذہ اور لائق ماہرین و متبعین ہاتھ آئے اور انھوں نے اس مجتہد کی آراء و افکار کو نہایت بہتر طور پر مرتب کر دیا، اس کی وجہ سے لوگوں میں ان کے اجتہادات کے تئیں قبولِ عام کا رجحان پیدا ہو گیا اور اس طرح ایک مستقل دبستانِ فقہ کی تشکیل عمل میں آگئی، جن فقہا کو ایسے لائق شاگرد میسر نہیں آئے، ان کی فقہ باضابطہ طور پر مدون نہیں ہو پائی اور آہستہ آہستہ علمی زندگی سے اس کا رشتہ کٹ گیا، اس کی واضح مثال امام اوزاعیؒ اور لیث بن سعدؒ ہیں، جن کو ان کے معاصرین تفقہ کے اعتبار سے بعض ائمہ متبوعین سے بھی فائق قرار دیتے تھے؛ لیکن آج کتابوں میں چند مسائل سے متعلق ان کی آراء مل جاتی ہیں اور بس۔
د) صحابہ اور تابعین کے عہد میں کسی کو قاضی بنایا جاتا تو اسے ہدایت دی جاتی کہ وہ کتاب اللّه اور سنتِ رسول کو اصل بنائے اور اگر کتاب و سنت میں حکم نہ ملے تو اجتہاد سے کام لے، اس سلسلہ میں وہ خط جو حضرت عمرؓ نے ابو موسیٰ اشعری رضی اللّه عنہ کو لکھا تھا حدیث و فقہ اور قضاء سے متعلق اکثر کتابوں میں نقل کیا گیا ہے، بعد کے ادوار میں یوں ہوا کہ بعض قضاۃ حق اجتہاد کو جور و زیادتی اور کسی فریق کے حق میں طرف داری کا ذریعہ بنانے لگے، اس پس منظر میں حکومتیں جب کسی کو قاضی مقرر کرتیں تو ان کو پابند کردیتیں کہ فلاں مذہب کے مطابق فیصلہ کیا کریں تاکہ فیصلوں میں یکسانی رہے اور جانب داری کی گنجائش باقی نہ رہے چنانچہ عباسی خلفاء عام طور پر فقہ حنفی پر قاضی مقرر کیا کرتے اسی طرح ترکوں نے بھی عہدۂ قضاء کو احناف کے لیے مخصوص رکھا صلاح الدین ایوبی رحمہ اللّه نے مصر میں اور سلطان محمود سبکتگین رحمہ اللّه اور نظام الملک طوسی نے مشرقی علاقہ کی عدالتوں کو فقہ شافعی کے مطابق فیصلے کرنے کا حکم دیا، یہ بھی تقلیدِ شخصی کی ترویج کا ایک اہم سبب بنا۔
ہ) تقلید پر انحصار کا ایک سبب علمی انحطاط بھی تھا، اللّه تعالیٰ کا نظام یہ ہے کہ ہر عہد میں اس عہد کی ضرورت کے مطابق افراد پیدا ہوتے ہیں اور ضرورت جوں جوں کم ہوتی جاتی ہے اس طرح کے افراد بھی کم ہوتے جاتے ہیں؛ یہی دیکھیے کہ روایتِ حدیث کے دور میں کیسے قوی الحفظ محدثین پائے جاتے تھے جنہیں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں حدیثیں یاد ہوتی تھیں اور سند و متن صفحہ ذہن پر اس طرح نقش ہوجاتا تھا کہ گویا وہ پتھر پر کندہ کر دیے گئے ہیں لیکن تدوین حدیث کا کام مکمل ہونے کے بعد پھر اس صلاحیت کے لوگ پیدا نہیں ہو سکے، زمانۂ جاہلیت میں لکھنے پڑھنے کا رواج نہیں تھا، تو لوگوں کو شاعروں کی پوری پوری دیوان نوکِ زبان ہوتی تھیں اور اس طرح جاہلیت کا ادب محفوظ ہو سکا، بعد کے ادوار میں ایسی مثالیں شاذ و نادر ہی مل سکیں اسی طرح جب تک شریعتِ اسلامی کے ایک مکمل نظامِ حیات کی ترتیب و تدوین اور زندگی کے مختلف شعبوں سے متعلق مسائل کے حل کی ضرورت تھی اور اس ضرورت کو پوری کرنے کے لیے مجتہدانہ بصیرت مطلوب تھی، اجتہادی صلاحیتوں کے لوگ پیدا ہوتے رہے، جب اس کی ضرورت کم ہو گئی تو اس نسبت سے ایسے افراد کی پیدائش بھی کم ہو گئی۔
تقلید کے رواج نے جو ایک منفی اثر پیدا کیا وہ فقہی تعصب و تنگ نظری اور جدل و مناظرہ کی کیفیت کا پیدا ہوجانا ہے گذشتہ ادوار میں بھی فقہی مسائل میں اختلافِ رائے پایا جاتا تھا لیکن ایک دوسرے سے تعصب کی کیفیت نہیں تھی اور نہ اس کے لیے معرکہ جدل برپا ہوتا تھا، اس دور میں بدترین قسم کی تنگ نظری وجود میں آئی، لوگ اپنے امام کی تعریف میں مبالغہ کی آخری حدود کو بھی پار کرجاتے تھے اور مخالف نقطہ نظر کے حامل امام ذی احترام کی شان میں گستاخی اور بدکلامی سے بھی باز نہیں رہتے تھے یہاں تک کہ ان مذموم مقاصد کے لیے بعض خدا نا ترس لوگوں نے روایتیں بھی گھڑنی شروع کر دیں۔
چونکہ عوام میں فقہ حنفی اور فقہ شافعی کو زیادہ رسوخ حاصل تھا اس لیے معرکے بھی انھیں دونوں مکاتب فکر کے درمیان نسبتاً گرم ہوتے تھے اور اپنے مسلک کی ترویج کے لیے بعض اوقات بہت ہی پست حرکات کی جاتی تھیں، سلطان محمود سبکتگین اصل میں حنفی تھا اور کچھ زیادہ پڑھا لکھا نہیں تھا، ایک شافعی عالم نے اس کو متاثر کرنے کے لیے اس کے سامنے بے ترتیبی کے ساتھ جیسے تیسے وضو کیا، پھر جلدی جلدی نماز پڑھی اور سلام پھیرنے سے پہلے قصداً وضو توڑنے کا ارتکاب کیا اور بادشاہ سے کہا کہ یہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللّه کی نماز ہے پھر اچھی طرح وضو کیا اور بہتر طریقہ پر نماز ادا کی اور بادشاہ سے کہا کہ یہ امام شافعی رحمہ اللّه کی نماز ہے چنانچہ سلطان محمود نے اس واقعہ سے متاثر ہو کر شافعیت کو اختیار کر لیا اور نقل کرنے والوں کے بہ قول اس حرکت کا ارتکاب کرنے والا کوئی عامی نہیں تھا بلکہ یہ تھے ممتاز شافعی فقیہ قفال شاشی۔
تاریخ الفقہ الاسلامی، محمد علی سائس:132
اب یہ فقہی تعصبات ہی کا حصہ ہے کہ ہمارے کتابوں میں یہ بحث ملتی ہے کہ حنفی شافعی اور شافعی حنفی کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟ رسول اللّه ﷺ نے تو فاجر کے پیچھے بھی نماز پڑھنے کی اجازت دی تھی اور صحابہ نے تو حجاج بن یوسف کے پیچھے بھی نماز ادا فرمائی لیکن متأخرین کے ہاں یہ ایک سوال بن گیا، احکامِ نماز میں جو اختلافِ رائے مثلاً احناف اور شوافع کے درمیان پایا جاتا ہے، یہ صحابہ کے درمیان بھی تھا اور تابعین و ائمہ مجتہدین کے زمانہ میں بھی تھا لیکن وہ بے تکلف ایک دوسرے کے پیچھے نماز ادا کرتے رہے اور یہ بات ان کے یہاں چنداں قابل اعتناء نہیں تھی۔
اسی طرح احناف کے یہاں یہ بحث ملتی ہے کہ شوافع سے نکاح دُرست ہے یا نہیں؟ اور
انا مؤمن انشاء اللّه
انشاء اللّه میں مؤمن ہوں
کہنے کی وجہ سے کیا ان کو مسلمان سمجھا جائے گا؟ یہاں تک کہ بعض لوگوں نے لکھ دیا کہ ان کے ساتھ اہل کتاب کا سا معاملہ کیا جائےــــــ یہ کس قدر تعصب انگیز اور مزاجِ دین کے مغائر باتیں ہیں؟ سلفِ صالحین کے زمانہ میں مناظرہ ایک طرح کا تبادلہ خیال ہوتا تھا، جس میں ایک دوسرے کا پورا احترام ملحوظ رکھا جاتا اور جو بات صحیح نظر آتی تھی اسے لوگ قبول کرتے تھے لیکن اس دور میں مناظرہ کے نام پر مجادلہ اور باہمی سب و شتم کا سلسلہ شروع ہوا، اس کا نتیجہ یہ تھا کہ بادشاہوں اور رئیسوں کے دربار اور بڑی بڑی مسجدیں مناظرہ کا اکھاڑہ بن گئی تھیں اور بہت سے جاہل فرماں روا، جیسے مرغوں اور جانوروں کا مقابلہ کراتے اور تماشا دیکھتے تھے اسی طرح علما سے مناظرہ کرا کر ان سے لطف لیا جاتا تھا اسی لیے اس عہد کے بہت سے حنفی اور شافعی علماء کے حالات میں خاص طور سے اس کا ذکر ملے گا کہ یہ مذہب مخالف کے فلاں عالم سے مناظرہ کرتے تھے اور یہ کہ مناظرہ میں ان کو بڑا کمال حاصل تھا۔ اس عہد میں مقلد علماء نے دو اہم کام کیے، ایک تو اپنے دبستانِ فقہ کی آراء کے لیے دلائل کی تلاش اور استنباط کیونکہ اصحاب مذہب سے بہت سے مسائل میں صرف ان کی رائے ملتی تھی اور اس رائے پر دلیل منقول نہیں تھی لہٰذا کچھ تو علمی اور تحقیقی ضرورت اور کچھ مناظروں کی گرم بازاری اور فریق مخالف کی جواب دہی کے پس منظر میں نصوص اور عقل و قیاس سے مذہب کی آراء پر دلیل فراہم کی گئیں دوسرا کام ایک ہی مذہب فقہی کی حدود میں مختلف آراء کے درمیان ترجیح کا ہوا، یہ ترجیح کی ضرورت دو موقعوں پر پیش آتی ہے، ایک اس وقت جب امام سے مختلف راویوں نے الگ الگ رائے نقل کی ہو، اس صورت میں راوی کے استناد و اعتبار کے لحاظ سے ترجیح دی جاتی ہے کہ کونسی نقل زیادہ دُرست ہے؟ اسی بنا پر حنفیہ کے یہاں ظاہر روایت کو نوادر پر، مالکیہ کے ہاں ابن قاسم کی روایت کو ابن وھب، ابن ماجشون اور اسد ابن فرات کی روایت پر اور شوافع کے یہاں ربیع ابن سلیمان کی روایت کو مزنی کی روایت پر مقدم رکھا جاتا ہے، دوسرے اُس وقت جب امام سے ایک سے زیادہ اقوال صحیح و مستند طریقہ پر ثابت ہوں ایسی صورت میں امام کے اصول استنباط اور کتاب و سنت اور قیاس سے موافقت اور ہم آہنگی کی بنیاد پر بعض اقوال کو ترجیح دی جاتی ہے اس لیے ان میں اختلاف رائے کا پیدا ہونا فطری ہے اسی لیے ایک ہی مذہب کے مختلف مصنفین کے نزدیک اقوال وآراء کی ترجیح میں خاصا اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔
اس دور کا ایک قابل ذکر کام ائمہ مجتہدین کے اقوال کی تشریح و توضیح بھی ہے، یعنی مجمل احکام کی توضیح، بعض مطلق اقوال سے متعلق شرائط و قیود کا بیان اور آراء کی تنقیح ـــ اس طرح اس عہد میں ائمہ متبوعین کے مذاہب کی تنظیم و تدوین اور توضیح و تائید کا بڑا اہم کام انجام پایا ہے۔
فقہ کی تدوین و ترتیب کا چوتھا مرحلہ........ سے شروع ہوتا ہے اور 656ھ میں سقوطِ بغداد پر ختم ہوتا ہے،
ReplyDeleteچوتھی صدی ہجری
Deleteچوتھي صدي هجري
Deleteچوتھی صدی ہجری
Deleteچوتھی صدی ہجری کے اوائل
DeleteAnum Arif
Deleteچوتھی صدی ہجری کے اوئل سے
Deleteچوتھی صدی
Deleteچوتھی صدی ہجری
Deleteچوتھی صدی ہجری
Deleteچوتھی صدی ہجری
Deleteچوتھی صدی ہجری
Deleteچوتھی صدی ہجری کے اوئل سے
Deleteچنگیز خان کے پوتے ہلاکو خان نے عالمِ اسلامی کے دار الخلافہ ...... پر غلبہ حاصل کیا،
ReplyDeleteبغداد
Deleteبغداد
Deleteبغداد
Deleteبغداد
Deleteبغداد
Deleteبغداد
Deleteبغداد
Deleteبغداد
Deleteبغداد
DeleteBagdad
Deleteبغداد
Deleteبغداد
Deleteاسی عہد میں ...... کا رواج ہوا
ReplyDeleteشخصی تقلید
Deleteشخصي تقليد
Deleteشخصی تقلید
Deleteشخصی تقلید
Deleteشخصی تقلید
Deleteشخصی تقلید
Deleteشخصی تقلید
Deleteشخصی تقلید
Deleteبہت سے ایسے لوگ ...... کرنے لگے جو حقیقت میں اس منصب کے اہل نہیں تھے
ReplyDeleteدعوئ اجتہاد
Deleteدعوى اجتهاد
Deleteدعویٰ اجتہاد
Deleteدعویٰ اجتھاد
Deleteدعویٰ اجتھاد
Deleteدعوئ اجتہاد
Deleteدعوی اجتہاد
Deleteدعوی اجتہا د
Deleteدعویٰ اجتہاد
Deleteدین کے تحفظ اور دفع فساد کے لیے اس زمانہ کے بالغ نظر اور محتاط علماء نے ضروری سمجھا کہ موجودہ حالات میں ........ کو بند کر دیا جائے
ReplyDeleteباب اجتہاد
Deleteباب اجتها د
Deleteبابِ اجتہاد
Deleteباب اجتہاد
Deleteباب اجتہاد
Deleteباب اجتہا د
Deleteباب اجتہاد
Deleteکی سعی و محنت سے فقہ اسلامی کی ترتیب و تدوین پایہ کمال کو پہنچ چکی تھی
ReplyDeleteائمہ مجتہدین
Deleteائمه مجتهدين
Deleteائمہ مجتہدین
Deleteائمہ مجتہدین
Deleteآئمہ مجتہدین
Deleteآئمہ مجتہد ین
Deleteآئمہ مجتہدین
Deleteگذشتہ ادوار میں جس درجہ ..... کی ضرورت تھی اب اتنی ضرورت باقی نہیں رہ گئی تھی
ReplyDeleteاجتہادواستنبٹط
Deleteاجتهاد استنباط
Deleteاجتہادواستنباط
Deleteاجتہاد و استنباط
Deleteاجتہادو استنباط
Deleteاجتہاد و استباط
Deleteاجتہاد استنبا ط
Deleteاجتہاد استنباط
Deleteبعض مجتہدین کو من جانب اللّه لائق تلامذہ اور ..... ہاتھ آئے اور انھوں نے اس مجتہد کی آراء و افکار کو نہایت بہتر طور پر مرتب کر دیا،
ReplyDeleteلائق ماہرین ومتبعین
Deleteلائق ماہرین و متبعین
Deleteلائق ماہرین و متبعین
Deleteلائق مہرین و متبعین
Deleteلائق ماہرین ومتعبین
Deleteلا ئق ماہر ین و متعبین
Deleteلوگوں میں ان کے اجتہادات کے تئیں قبولِ عام کا رجحان پیدا ہو گیا اور اس طرح ایک مستقل .... کی تشکیل عمل میں آگئی،
ReplyDeleteدبستان فقہ
Deleteدبستانِ فقہ
Deleteدبستان فقہ
Deleteدبستان فقہ
Deleteدبستان فقہ
Deleteدبستا ن فقہ
DeleteDabistan fiqa
Deleteجن فقہا کو ایسے لائق شاگرد میسر نہیں آئے، ان کی فقہ باضابطہ طور پر مدون نہیں ہو پائی اور آہستہ آہستہ علمی زندگی سے اس کا رشتہ کٹ گیا، اس کی واضح مثال امام اوزاعیؒ اور .... ہیں،
ReplyDeleteلعیث بن سعد
Deleteلیث بن سعد
Deleteلیث بن سعد
Deleteلیث بن سعد
Deleteلیث بن سعد
Deleteلیث بن سعد
Deleteصحابہ اور تابعین کے عہد میں کسی کو قاضی بنایا جاتا تو اسے کیا ہدایت دی جاتی؟؟؟؟
ReplyDeleteکتاب اللہ اور سنت رسول کو اصل بناۓ اور اگر کتاب اور سنت میں حکم نہ ملے تو اجتہاد سے کام لے
Delete
Deleteکتاب اللہ اور سنت رسول کو اصل بناۓ اور اگر کتاب اور سنت میں حکم نہ ملے تو اجتہاد سے کام لے
Deleteکتاب اللہ اور سنت رسول کو اصل بناۓ اور اگر کتاب اور سنت میں حکم نہ ملے تو اجتہاد سے کام لے
Deleteکتاب اللہ اور سنت رسول کو اصل بناۓ اور اگر کتاب اور سنت میں حکم نہ ملے تو اجتہاد سے کام لے
کتا ب اللہ اور سنت رسول کو اصل بنا ے
Deleteاور اگر کتاب و سنت میں نہ ملے تو اجتہا د
سے کا م لے
خط جو حضرت عمرؓ نے ....... کو لکھا تھا حدیث و فقہ اور قضاء سے متعلق اکثر کتابوں میں نقل کیا گیا ہے
ReplyDeleteابو موسی اشعری
Deleteابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ
Deleteحضرت
Deleteابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ
ابو موسٰی اشعری رضی اللہ عنہ
Deleteابو موسی العشری
Deleteابو موسی العشری رضی اللہ عنہ
Deleteابو موسٰی العشری
Deleteابو موسیٰ ال hashri
Deleteعباسی خلفاء عام طور پر کس مذہب پر قاضی مقرر کیا کرتے؟؟
ReplyDeleteفقہ حنفی
Deleteفقہِ حنفی
Deleteفقہ حنفی
Deleteفقہ حنفی
Deleteفقہ حنفی
Deleteفقہ حنفی
Deleteفقہ حنفی
Deleteفقہ حنفی Fika
Delete... نے بھی عہدۂ قضا کو احناف کے لیے مخصوص رکھا
ReplyDeleteترکوں
Deleteترکوں
Deleteترکوں
Deleteترکوں
Deleteترکوں
Deleteتر کو ں
Deleteترکو ں
Deleteصلاح الدین ایوبی رحمہ اللّه نے مصر میں اور ..... اور نظام الملک طوسی نے مشرقی علاقہ کی عدالتوں کو فقہ شافعی کے مطابق فیصلے کرنے کا حکم دیا
ReplyDeleteسلطان محمود سبکتگین
Deleteسلطان محمود سبکتگین
Deleteسلطان محمود سبکتگین
Deleteسلطان محمود سبکتگین علیہ رحمۃ
Deleteسلطان محمود سبکتگین
Deleteسلطا ن محمو د سبکتگین
Deleteتقلید پر انحصار کا ایک سبب ....... بھی تھا،
ReplyDeleteعالمی انحطاط
Deleteعالمی نہیں علمی
Deleteعلمی انحطاط
Deleteعلمی انحطاط
Deleteعلمی انحطاط
Deleteعلمی انحطاط
Deleteعلمی انحطا ط
Deleteزمانۂ جاہلیت میں ...... کا رواج نہیں تھا
ReplyDeleteلکھنے پڑھنے
Deleteلکھنے پڑھنے
Deleteلکھنے پڑھنے
Deleteلکھنے پڑھنے کا
Deleteلکھنے پڑھنے
Deleteلکھنے پڑھنے
Deleteتقلید کے رواج نے جو ایک منفی اثر پیدا کیا وہ فقہی تعصب و تنگ نظری اور ...کی کیفیت کا پیدا ہوجانا ہے
ReplyDeleteجدل و مناظرہ
Deleteجدل و مناظرہ
DeleteThis comment has been removed by the author.
Deleteجدل و مناظرہ
Deleteجدل و مناظرہ
Deleteجدل و مناظرہ
Deleteجدل و مناظرہ
Deleteجد ول منا ظرہ
Deleteعوام میں فقہ حنفی اور ... کو زیادہ رسوخ حاصل تھا اس لیے معرکے بھی انھیں دونوں مکاتب فکر کے درمیان نسبتاً گرم ہوتے تھے
ReplyDeleteفقہ شافعی
Deleteفقہ شافعی
Deleteفقہ شافعی
Deleteفقہ شافعی
Deleteفقہ شافعی
Deleteفقہ شافعی
Deleteفقہ شا فعی
Deleteسلطان محمود سبکتگین اصل میں .... تھا ا
ReplyDeleteحنفی
Deleteحنفی
Deleteحنفی
Deleteحنفی
Deleteحنفی
Deleteحنفی
Deleteصحابہ نے تو .....کے پیچھے بھی نماز ادا فرمائی
ReplyDeleteحجاج بن یوسف
Deleteحجاج بن یوسف
Deleteحجاج بن یوسف
Deleteحجاج بن یوسف
Deleteحجاج بن یوسف
Deleteحجاج بن یو سف
Deleteسلفِ صالحین کے زمانہ میں مناظرہ ایک طرح کا ..... ہوتا تھا
ReplyDeleteتبادلہ خیال
Deleteتبادلہ خیال
Deleteتبادلہ خیال
Deleteتبادلہ خیال
Deleteتبادلہ خیال
Deleteتبادلہ خیال
Deleteتبا دلہ خیال
Deleteاس دور کا ایک قابل ذکر کام ائمہ مجتہدین کے اقوال کی ..... بھی ہے،
ReplyDeleteتشریح وتوضیح
Deleteتشریح و توضیح
Deleteتشریح وتوضیح
Deleteتشریح وتوضیح
Deleteتشریح و توضیح
Deleteتشریح و توضیح
Deleteتشریح و تو ضیح
Deleteاس عہد میں ائمہ متبوعین کے مذاہب کی تنظیم و تدوین اور ..... کا بڑا اہم کام انجام پایا ہے۔
ReplyDeleteتوضیح وتائید
Deleteتوضیح و تائید
Deleteتوضیح وتائید
Deleteتوضیح و تائید
Deleteتوضیح وتایئد
Deleteتو ضیح و تا یئد
Delete