Fiqah Saqoot e Baghdad tak

فقہ سقوطِ بغداد تک 

(656ھ) 


فقہ کی تدوین و ترتیب کا چوتھا مرحلہ چوتھی صدی ہجری کے اوائل سے شروع ہوتا ہے اور 656ھ میں سقوطِ بغداد پر ختم ہوتا ہے، جب چنگیز خان کے پوتے ہلاکو خان نے عالمِ اسلامی کے دار الخلافہ بغداد پر غلبہ حاصل کیا، آخری عباسی خلیفہ کو نہایت بے دردی سے قتل کر دیا اور ایسی خوں آشامی اور ہلاکت خیزی کا ثبوت دیا کہ انسانیت سوزی اور قتل و غارت گری کی تاریخ میں کم ہی اس کی مثال مل سکے گی۔



اس عہد کی خصوصیات اس طرح ہیں

اسی عہد میں شخصی تقلید کا رواج ہوا اور لوگ تمام احکام میں ایک متعین مجتہد کی پیروی کرنے لگے، تقلید کی اس صورت کو مختلف اسباب کی وجہ سے تقویت پہنچی، جن کا تذکرہ مناسب محسوس ہوتا ہے

الف) بہت سے ایسے لوگ دعویٰ اجتہاد کرنے لگے جو حقیقت میں اس منصب کے اہل نہیں تھے اور وہ اجتہاد کو قرآن و حدیث سے انحراف کا چور دروازہ بنانے لگے، اس لیے دین کے تحفظ اور دفع فساد کے لیے اس زمانہ کے بالغ نظر اور محتاط علماء نے ضروری سمجھا کہ موجودہ حالات میں باب اجتہاد کو بند کر دیا جائے اور اُمت کو ان آوارہ خیالوں کے فتنہ سے بچایا جائے۔

ب) ائمہ مجتہدین کی سعی و محنت سے فقہ اسلامی کی ترتیب و تدوین پایہ کمال کو پہنچ چکی تھی اور ان کی مساعی کی وجہ سے لوگوں کے لیے ہر طرح کے مسائل کا حل موجود تھا؛ اس لیے گذشتہ ادوار میں جس درجہ اجتہاد و استنباط کی ضرورت تھی اب اتنی ضرورت باقی نہیں رہ گئی تھی اور یہ اللہ تعالٰیٰ کا قدرتی نظام ہے کہ جب کسی چیز کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی ہے تو اس طرف لوگوں کی توجہ بھی کم ہوجاتی ہے۔

ج) بعض مجتہدین کو من جانب اللّه لائق تلامذہ اور لائق ماہرین و متبعین ہاتھ آئے اور انھوں نے اس مجتہد کی آراء و افکار کو نہایت بہتر طور پر مرتب کر دیا، اس کی وجہ سے لوگوں میں ان کے اجتہادات کے تئیں قبولِ عام کا رجحان پیدا ہو گیا اور اس طرح ایک مستقل دبستانِ فقہ کی تشکیل عمل میں آگئی، جن فقہا کو ایسے لائق شاگرد میسر نہیں آئے، ان کی فقہ باضابطہ طور پر مدون نہیں ہو پائی اور آہستہ آہستہ علمی زندگی سے اس کا رشتہ کٹ گیا، اس کی واضح مثال امام اوزاعیؒ اور لیث بن سعدؒ ہیں، جن کو ان کے معاصرین تفقہ کے اعتبار سے بعض ائمہ متبوعین سے بھی فائق قرار دیتے تھے؛ لیکن آج کتابوں میں چند مسائل سے متعلق ان کی آراء مل جاتی ہیں اور بس۔

د) صحابہ اور تابعین کے عہد میں کسی کو قاضی بنایا جاتا تو اسے ہدایت دی جاتی کہ وہ کتاب اللّه اور سنتِ رسول کو اصل بنائے اور اگر کتاب و سنت میں حکم نہ ملے تو اجتہاد سے کام لے، اس سلسلہ میں وہ خط جو حضرت عمرؓ نے ابو موسیٰ اشعری رضی اللّه عنہ کو لکھا تھا حدیث و فقہ اور قضاء سے متعلق اکثر کتابوں میں نقل کیا گیا ہے، بعد کے ادوار میں یوں ہوا کہ بعض قضاۃ حق اجتہاد کو جور و زیادتی اور کسی فریق کے حق میں طرف داری کا ذریعہ بنانے لگے، اس پس منظر میں حکومتیں جب کسی کو قاضی مقرر کرتیں تو ان کو پابند کردیتیں کہ فلاں مذہب کے مطابق فیصلہ کیا کریں تاکہ فیصلوں میں یکسانی رہے اور جانب داری کی گنجائش باقی نہ رہے چنانچہ عباسی خلفاء عام طور پر فقہ حنفی پر قاضی مقرر کیا کرتے اسی طرح ترکوں نے بھی عہدۂ قضاء کو احناف کے لیے مخصوص رکھا صلاح الدین ایوبی رحمہ اللّه نے مصر میں اور سلطان محمود سبکتگین رحمہ اللّه اور نظام الملک طوسی نے مشرقی علاقہ کی عدالتوں کو فقہ شافعی کے مطابق فیصلے کرنے کا حکم دیا، یہ بھی تقلیدِ شخصی کی ترویج کا ایک اہم سبب بنا۔

ہ) تقلید پر انحصار کا ایک سبب علمی انحطاط بھی تھا، اللّه تعالیٰ کا نظام یہ ہے کہ ہر عہد میں اس عہد کی ضرورت کے مطابق افراد پیدا ہوتے ہیں اور ضرورت جوں جوں کم ہوتی جاتی ہے اس طرح کے افراد بھی کم ہوتے جاتے ہیں؛ یہی دیکھیے کہ روایتِ حدیث کے دور میں کیسے قوی الحفظ محدثین پائے جاتے تھے جنہیں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں حدیثیں یاد ہوتی تھیں اور سند و متن صفحہ ذہن پر اس طرح نقش ہوجاتا تھا کہ گویا وہ پتھر پر کندہ کر دیے گئے ہیں لیکن تدوین حدیث کا کام مکمل ہونے کے بعد پھر اس صلاحیت کے لوگ پیدا نہیں ہو سکے، زمانۂ جاہلیت میں لکھنے پڑھنے کا رواج نہیں تھا، تو لوگوں کو شاعروں کی پوری پوری دیوان نوکِ زبان ہوتی تھیں اور اس طرح جاہلیت کا ادب محفوظ ہو سکا، بعد کے ادوار میں ایسی مثالیں شاذ و نادر ہی مل سکیں اسی طرح جب تک شریعتِ اسلامی کے ایک مکمل نظامِ حیات کی ترتیب و تدوین اور زندگی کے مختلف شعبوں سے متعلق مسائل کے حل کی ضرورت تھی اور اس ضرورت کو پوری کرنے کے لیے مجتہدانہ بصیرت مطلوب تھی، اجتہادی صلاحیتوں کے لوگ پیدا ہوتے رہے، جب اس کی ضرورت کم ہو گئی تو اس نسبت سے ایسے افراد کی پیدائش بھی کم ہو گئی۔

تقلید کے رواج نے جو ایک منفی اثر پیدا کیا وہ فقہی تعصب و تنگ نظری اور جدل و مناظرہ کی کیفیت کا پیدا ہوجانا ہے گذشتہ ادوار میں بھی فقہی مسائل میں اختلافِ رائے پایا جاتا تھا لیکن ایک دوسرے سے تعصب کی کیفیت نہیں تھی اور نہ اس کے لیے معرکہ جدل برپا ہوتا تھا، اس دور میں بدترین قسم کی تنگ نظری وجود میں آئی، لوگ اپنے امام کی تعریف میں مبالغہ کی آخری حدود کو بھی پار کرجاتے تھے اور مخالف نقطہ نظر کے حامل امام ذی احترام کی شان میں گستاخی اور بدکلامی سے بھی باز نہیں رہتے تھے  یہاں تک کہ ان مذموم مقاصد کے لیے بعض خدا نا ترس لوگوں نے روایتیں بھی گھڑنی شروع کر دیں۔

چونکہ عوام میں فقہ حنفی اور فقہ شافعی کو زیادہ رسوخ حاصل تھا اس لیے معرکے بھی انھیں دونوں مکاتب فکر کے درمیان نسبتاً گرم ہوتے تھے اور اپنے مسلک کی ترویج کے لیے بعض اوقات بہت ہی پست حرکات کی جاتی تھیں، سلطان محمود سبکتگین اصل میں حنفی تھا اور کچھ زیادہ پڑھا لکھا نہیں تھا، ایک شافعی عالم نے اس کو متاثر کرنے کے لیے اس کے سامنے بے ترتیبی کے ساتھ جیسے تیسے وضو کیا، پھر جلدی جلدی نماز پڑھی اور سلام پھیرنے سے پہلے قصداً وضو توڑنے کا ارتکاب کیا اور بادشاہ سے کہا کہ یہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللّه کی نماز ہے پھر اچھی طرح وضو کیا اور بہتر طریقہ پر نماز ادا کی اور بادشاہ سے کہا کہ یہ امام شافعی رحمہ اللّه کی نماز ہے چنانچہ سلطان محمود نے اس واقعہ سے متاثر ہو کر شافعیت کو اختیار کر لیا اور نقل کرنے والوں کے بہ قول اس حرکت کا ارتکاب کرنے والا کوئی عامی نہیں تھا بلکہ یہ تھے ممتاز شافعی فقیہ قفال شاشی۔

تاریخ الفقہ الاسلامی، محمد علی سائس:132

اب یہ فقہی تعصبات ہی کا حصہ ہے کہ ہمارے کتابوں میں یہ بحث ملتی ہے کہ حنفی شافعی اور شافعی حنفی کے پیچھے نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟ رسول اللّه ﷺ نے تو فاجر کے پیچھے بھی نماز پڑھنے کی اجازت دی تھی اور صحابہ نے تو حجاج بن یوسف کے پیچھے بھی نماز ادا فرمائی لیکن متأخرین کے ہاں یہ ایک سوال بن گیا، احکامِ نماز میں جو اختلافِ رائے مثلاً احناف اور شوافع کے درمیان پایا جاتا ہے، یہ صحابہ کے درمیان بھی تھا اور تابعین و ائمہ مجتہدین کے زمانہ میں بھی تھا لیکن وہ بے تکلف ایک دوسرے کے پیچھے نماز ادا کرتے رہے اور یہ بات ان کے یہاں چنداں قابل اعتناء نہیں تھی۔

اسی طرح احناف کے یہاں یہ بحث ملتی ہے کہ شوافع سے نکاح دُرست ہے یا نہیں؟ اور

 انا مؤمن انشاء اللّه
انشاء اللّه میں مؤمن ہوں 

 کہنے کی وجہ سے کیا ان کو مسلمان سمجھا جائے گا؟ یہاں تک کہ بعض لوگوں نے لکھ دیا کہ ان کے ساتھ اہل کتاب کا سا معاملہ کیا جائےــــــ یہ کس قدر تعصب انگیز اور مزاجِ دین کے مغائر باتیں ہیں؟ سلفِ صالحین کے زمانہ میں مناظرہ ایک طرح کا تبادلہ خیال ہوتا تھا، جس میں ایک دوسرے کا پورا احترام ملحوظ رکھا جاتا اور جو بات صحیح نظر آتی تھی اسے لوگ قبول کرتے تھے لیکن اس دور میں مناظرہ کے نام پر مجادلہ اور باہمی سب و شتم کا سلسلہ شروع ہوا، اس کا نتیجہ یہ تھا کہ بادشاہوں اور رئیسوں کے دربار اور بڑی بڑی مسجدیں مناظرہ کا اکھاڑہ بن گئی تھیں اور بہت سے جاہل فرماں روا، جیسے مرغوں اور جانوروں کا مقابلہ کراتے اور تماشا دیکھتے تھے اسی طرح علما سے مناظرہ کرا کر ان سے لطف لیا جاتا تھا اسی لیے اس عہد کے بہت سے حنفی اور شافعی علماء کے حالات میں خاص طور سے اس کا ذکر ملے گا کہ یہ مذہب مخالف کے فلاں عالم سے مناظرہ کرتے تھے اور یہ کہ مناظرہ میں ان کو بڑا کمال حاصل تھا۔ اس عہد میں مقلد علماء نے دو اہم کام کیے، ایک تو اپنے دبستانِ فقہ کی آراء کے لیے دلائل کی تلاش اور استنباط کیونکہ اصحاب مذہب سے بہت سے مسائل میں صرف ان کی رائے ملتی تھی اور اس رائے پر دلیل منقول نہیں تھی لہٰذا کچھ تو علمی اور تحقیقی ضرورت اور کچھ مناظروں کی گرم بازاری اور فریق مخالف کی جواب دہی کے پس منظر میں نصوص اور عقل و قیاس سے مذہب کی آراء پر دلیل فراہم کی گئیں دوسرا کام ایک ہی مذہب فقہی کی حدود میں مختلف آراء کے درمیان ترجیح کا ہوا، یہ ترجیح کی ضرورت دو موقعوں پر پیش آتی ہے، ایک اس وقت جب امام سے مختلف راویوں نے الگ الگ رائے نقل کی ہو، اس صورت میں راوی کے استناد و اعتبار کے لحاظ سے ترجیح دی جاتی ہے کہ کونسی نقل زیادہ دُرست ہے؟ اسی بنا پر حنفیہ کے یہاں ظاہر روایت کو نوادر پر، مالکیہ کے ہاں ابن قاسم کی روایت کو ابن وھب، ابن ماجشون اور اسد ابن فرات کی روایت پر اور شوافع کے یہاں ربیع ابن سلیمان کی روایت کو مزنی کی روایت پر مقدم رکھا جاتا ہے، دوسرے اُس وقت جب امام سے ایک سے زیادہ اقوال صحیح و مستند طریقہ پر ثابت ہوں ایسی صورت میں امام کے اصول استنباط اور کتاب و سنت اور قیاس سے موافقت اور ہم آہنگی کی بنیاد پر بعض اقوال کو ترجیح دی جاتی ہے اس لیے ان میں اختلاف رائے کا پیدا ہونا فطری ہے اسی لیے ایک ہی مذہب کے مختلف مصنفین کے نزدیک اقوال وآراء کی ترجیح میں خاصا اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔

اس دور کا ایک قابل ذکر کام ائمہ مجتہدین کے اقوال کی تشریح و توضیح بھی ہے، یعنی مجمل احکام کی توضیح، بعض مطلق اقوال سے متعلق شرائط و قیود کا بیان اور آراء کی تنقیح ـــ اس طرح اس عہد میں ائمہ متبوعین کے مذاہب کی تنظیم و تدوین اور توضیح و تائید کا بڑا اہم کام انجام پایا ہے۔

252 comments / Replies

  1. فقہ کی تدوین و ترتیب کا چوتھا مرحلہ........ سے شروع ہوتا ہے اور 656ھ میں سقوطِ بغداد پر ختم ہوتا ہے،

    ReplyDelete
  2. چنگیز خان کے پوتے ہلاکو خان نے عالمِ اسلامی کے دار الخلافہ ...... پر غلبہ حاصل کیا،

    ReplyDelete
  3. اسی عہد میں ...... کا رواج ہوا

    ReplyDelete
  4. بہت سے ایسے لوگ ...... کرنے لگے جو حقیقت میں اس منصب کے اہل نہیں تھے

    ReplyDelete
  5. دین کے تحفظ اور دفع فساد کے لیے اس زمانہ کے بالغ نظر اور محتاط علماء نے ضروری سمجھا کہ موجودہ حالات میں ........ کو بند کر دیا جائے

    ReplyDelete
  6. کی سعی و محنت سے فقہ اسلامی کی ترتیب و تدوین پایہ کمال کو پہنچ چکی تھی

    ReplyDelete
  7. گذشتہ ادوار میں جس درجہ ..... کی ضرورت تھی اب اتنی ضرورت باقی نہیں رہ گئی تھی

    ReplyDelete
  8. بعض مجتہدین کو من جانب اللّه لائق تلامذہ اور ..... ہاتھ آئے اور انھوں نے اس مجتہد کی آراء و افکار کو نہایت بہتر طور پر مرتب کر دیا،

    ReplyDelete
  9. لوگوں میں ان کے اجتہادات کے تئیں قبولِ عام کا رجحان پیدا ہو گیا اور اس طرح ایک مستقل .... کی تشکیل عمل میں آگئی،

    ReplyDelete
  10. جن فقہا کو ایسے لائق شاگرد میسر نہیں آئے، ان کی فقہ باضابطہ طور پر مدون نہیں ہو پائی اور آہستہ آہستہ علمی زندگی سے اس کا رشتہ کٹ گیا، اس کی واضح مثال امام اوزاعیؒ اور .... ہیں،

    ReplyDelete
  11. صحابہ اور تابعین کے عہد میں کسی کو قاضی بنایا جاتا تو اسے کیا ہدایت دی جاتی؟؟؟؟

    ReplyDelete
    Replies
    1. کتاب اللہ اور سنت رسول کو اصل بناۓ اور اگر کتاب اور سنت میں حکم نہ ملے تو اجتہاد سے کام لے

      Delete

    2. کتاب اللہ اور سنت رسول کو اصل بناۓ اور اگر کتاب اور سنت میں حکم نہ ملے تو اجتہاد سے کام لے

      Delete

    3. کتاب اللہ اور سنت رسول کو اصل بناۓ اور اگر کتاب اور سنت میں حکم نہ ملے تو اجتہاد سے کام لے

      Delete

    4. کتاب اللہ اور سنت رسول کو اصل بناۓ اور اگر کتاب اور سنت میں حکم نہ ملے تو اجتہاد سے کام لے

      Delete
    5. کتا ب اللہ اور سنت رسول کو اصل بنا ے
      اور اگر کتاب و سنت میں نہ ملے تو اجتہا د
      سے کا م لے

      Delete
  12. خط جو حضرت عمرؓ نے ....... کو لکھا تھا حدیث و فقہ اور قضاء سے متعلق اکثر کتابوں میں نقل کیا گیا ہے

    ReplyDelete
  13. عباسی خلفاء عام طور پر کس مذہب پر قاضی مقرر کیا کرتے؟؟

    ReplyDelete
  14. ... نے بھی عہدۂ قضا کو احناف کے لیے مخصوص رکھا

    ReplyDelete
  15. صلاح الدین ایوبی رحمہ اللّه نے مصر میں اور ..... اور نظام الملک طوسی نے مشرقی علاقہ کی عدالتوں کو فقہ شافعی کے مطابق فیصلے کرنے کا حکم دیا

    ReplyDelete
  16. تقلید پر انحصار کا ایک سبب ....... بھی تھا،

    ReplyDelete
  17. زمانۂ جاہلیت میں ...... کا رواج نہیں تھا

    ReplyDelete
  18. تقلید کے رواج نے جو ایک منفی اثر پیدا کیا وہ فقہی تعصب و تنگ نظری اور ...کی کیفیت کا پیدا ہوجانا ہے

    ReplyDelete
  19. عوام میں فقہ حنفی اور ... کو زیادہ رسوخ حاصل تھا اس لیے معرکے بھی انھیں دونوں مکاتب فکر کے درمیان نسبتاً گرم ہوتے تھے

    ReplyDelete
  20. سلطان محمود سبکتگین اصل میں .... تھا ا

    ReplyDelete
  21. صحابہ نے تو .....کے پیچھے بھی نماز ادا فرمائی

    ReplyDelete
  22. سلفِ صالحین کے زمانہ میں مناظرہ ایک طرح کا ..... ہوتا تھا

    ReplyDelete
  23. اس دور کا ایک قابل ذکر کام ائمہ مجتہدین کے اقوال کی ..... بھی ہے،

    ReplyDelete
  24. اس عہد میں ائمہ متبوعین کے مذاہب کی تنظیم و تدوین اور ..... کا بڑا اہم کام انجام پایا ہے۔

    ReplyDelete

Powered by Blogger.