Fiqah Aur Khilafat-E-Rashidah
فقہ اور خلافتِ راشدہ
یہ عہد 11/ہجری سے شروع ہوکر 40/ہجری پرختم ہوتا ہے۔
اس عہد میں احکامِ شریعت کے اخذ و استنباط کا سرچشمہ قرآن مجید اور حدیثِ نبوی کے علاوہ اجماعِ اُمت اور قیاس تھا چنانچہ حضرت عمرؓ نے قاضی شریح کو جو خط لکھا، اس میں حسب ذیل نصیحت فرمائی
"جب کتاب اللّه میں کوئی حکم پاؤ تو اس کے مطابق فیصلہ کرو، کسی اور طرف توجہ نہ کرو اگر کوئی ایسا معاملہ سامنے آئے کہ کتاب اللّه میں اس کا حکم نہ ہو، تو رسول اللّه ﷺ کی سنت کے مطابق فیصلہ کرو اگر کتاب اللّه میں نہ ملے اور نہ سنتِ رسول میں، تو جس بات پر لوگوں کا اجماع ہو اس کے مطابق فیصلہ کرو، نہ کتاب اللّه میں ہو، نہ سنتِ رسول میں اور نہ تم سے پہلوں نے اس سلسلہ میں کوئی رائے ظاہر کی ہو، تو اگر تم اجتہاد کرنا چاہو تو اجتہاد کے لیے آگے بڑھو اور اس سے پیچھے ہٹنا چاہو، تو پیچھے ہٹ جاؤ اور اس کو میں تمہارے حق میں بہتر ہی سمجھتا ہوں"۔
حضرت ابوبکرؓ بھی اس بات کے لیے کوشاں رہتے تھے کہ جن مسائل کے بارے میں قرآن و حدیث کی کوئی نص موجود نہ ہو، ان میں اہم شخصیتوں کو جمع کیا جائے اور ان سے مشورہ کیا جائے اور اگر وہ کسی بات پر متفق ہوجائیں تو اس کے مطابق فیصلہ کیا جائے چنانچہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی خلافت پر جو اتفاق ہوا، وہ آپ ہی کی پہل پر اسی طرح بعض مسائل پر اجماع منعقد ہونے میں حضرت ابوبکر رضی اللّه عنہ کی سعی کو دخل رہا ہے، جیسے مانعین زکوٰۃ سے جہاد، رسول اللّه ﷺ کی متروکات میں میراث کا جاری نہ ہونا، رسول اللّه ﷺ کا آپ کی جائے وفات پردفن کیا جانا، قرآن مجید کی جمع و ترتیب، وغیرہ۔
چونکہ رسول اللّه ﷺ کے بعد غیر منصوص مسائل میں اجتہاد کے سوا چارہ نہیں تھا؛ اس لیے صحابہ کرامؓ کے درمیان اختلافِ رائے بھی پیدا ہوا، بعض مواقع پر کوشش کی گئی کہ لوگوں کو ایک رائے پر جمع کیا جائے لیکن اس کے باوجود نقاطِ نظر کا اختلاف باقی رہا، صحابہ کا مزاج یہ تھا کہ وہ اس طرح کے اختلافات کو مذموم نہیں سمجھتے تھے اور پورے احترام اور فراخ قلبی کے ساتھ دوسرے کو اختلاف کا حق دیتے تھے، اس کی چند مثالیں یہاں ذکر کی جاتی ہیں
حضرت عمرؓ اور حضرت عبد اللّه بن مسعودؓ کے نزدیک بیوہ حاملہ عورت کی عدت ولادت تک تھی اور غیر حاملہ کی چار مہینے دس روز، حضرت علیؓ اور عبد اللّه بن عباسؓ کا نقطہ نظر یہ تھا کہ ولادت اور چار ماہ دس دنوں میں سے جو مدت طویل ہو وہ عدتِ وفات ہوگی۔ حضرت عمرؓ اور عبد اللّه بن مسعودؓ کے نزدیک مطلقہ عورت کی عدت تیسرے حیض کے غسل کے بعد پوری ہوتی تھی اور حضرت زید بن ثابتؓ کے نزدیک تیسرا حیض شروع ہوتے ہی عدت پوری ہوجاتی تھی، حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عبد اللّه بن عباسؓ کی رائے یہ تھی کہ باپ کی طرح دادا بھی سگے بھائیوں کو میراث سے محروم کر دے گا، حضرت عمرؓ ، حضرت علیؓ اور حضرت زید بن ثابتؓ کو اس سے اختلاف تھا۔
ایک بڑا اختلاف عراق و شام کی فتوحات کے وقت پیدا ہوا۔
عبد الرحمن بن عوفؓ اور عمار بن یاسرؓ کا نقطہ نظر یہ تھا کہ مالِ غنیمت کے عام اُصول کے مطابق اسے مجاہدین پر تقسیم کر دیا جائے اور حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ اورحضرت علیؓ کی رائے تھی کہ اسے بیت المال کی ملکیت میں رکھا جائے تاکہ تمام مسلمانوں کو اس سے نفع پہنچے اور طویل بحث و مباحثہ کے بعد اسی پرفیصلہ ہوا۔ حضرت عثمانِ غنی کا فتویٰ یہ تھا کہ خلع حاصل کرنے والی عورت پر عدت واجب نہیں، صرف فراغتِ رحم کو جاننے کے لیے ایک حیض گذارنا ضروری ہوگا، دوسرے صحابہ مکمل عدت گذارنے کو واجب قرار دیتے تھے۔ اس طرح کے بیسیوں اختلاف عہدِ صحابہ میں موجود تھے، کتبِ فقہ اور خاص کر شروحِ حدیث ان کی تفصیلات سے بھری پڑی ہیں اور موجودہ دور کے معروف صاحب علم ڈاکٹر رواس قلعہ جی نے صحابہ کی موسوعات کو جمع کرنے کا کام شروع کیا ہے، اس سے مختلف صحابہ کی فقہ اور ان کا فقہی ذوق اور منہج استنباط واضح طور پرسامنے آتا ہے۔
حضرت عمرؓ نے لوگوں کو بعض اختلافی مسائل میں ایک رائے پر جمع کرنے کی خاص طور پر کوشش فرمائی چنانچہ بعض مسائل پر اتفاق رائے ہو گیا اور جن میں اتفاق نہیں ہو سکا، ان میں بھی کم سے کم جمہور ایک نقطہ نظر پرآ گئے، ان میں سے چند مسائل یہ ہیں
اس وقت تک شراب نوشی کی کوئی سزا متعین نہیں تھی، حضرت عمرؓ نے اس سلسلہ میں اکابر صحابہ سے مشورہ کیا، حضرت علیؓ نے فرمایا کہ جب کوئی شخص شراب پیتا ہے تو نشہ میں مبتلا ہوتا ہے پھر نشہ کی حالت میں ہذیان گوئی شروع کرتا ہے اور اس میں لوگوں پر بہتان تراشی بھی کر گزرتا ہے اس لیے جو سزا تہمت اندازی (قذف) کی ہے، یعنی اسی (80) کوڑے، وہی سزا شراب نوشی پر بھی دے دی جانی چاہیے چنانچہ اسی پر فیصلہ ہوا
(مؤطا امام مالک، حدیث نمبر:709)
بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ نے بھی اسی (80) کوڑے کا مشورہ دیا تھا۔ اگر کوئی شخص لفظ بتہ کے ذریعہ طلاق دے، تو اس میں ایک طلاق کا معنی بھی ہو سکتا ہے اور تین طلاق کا بھی چنانچہ ہوتا یہ تھا کہ طلاق دینے والے کی نیت کے مطابق فیصلہ کیا جاتا تھا، حضرت عمرؓ کا احساس یہ تھا کہ بعض لوگ اس گنجائش سے غلط فائدہ اُٹھاتے ہیں اور غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے کہہ دیتے ہیں کہ میری نیت ایک طلاق کی تھی، اس لیے انہوں نے اس کے تین طلاق ہونے کا فیصلہ فرمایا۔
کے اندیشے سے دو تین شب کے علاوہ صحابہؓ کے سامنے یہ نماز ادا نہیں فرمائی، مختلف لوگ تنہا تنہا پڑھ لیتے تھے، حضرت عمرؓ نے ایک جماعت بنادی، ان پر حضرت ابی بن کعبؓ کو امام مقرر کیا اور تراویح کی بیس رکعتیں مقرر فرمادیں، جو آج تک متوارثاً چلا آ رہا ہے۔
صحابہؓ اور خاص کر حضرت عمرؓ نے بعض فیصلے شریعت کی مصلحت اور اس کے عمومی مقاصد کو سامنے رکھ کر بھی کیے ہیں، جیسے حضرت عمرؓ نے اپنے عہد میں "مولفۃ القلوب" جو زکوٰۃ کی ایک اہم مدد ہے، کو روک دیا تھا کیونکہ مسلمانوں کی تعداد بڑھ گئی تھی اور اسلام کی شوکت قائم ہو گئی تھی لہٰذا ان کے خیال میں اب اس مدد کی ضرورت باقی نہیں تھی۔
حضرت عمرؓ کے دور میں ایک شدید قحط پڑا کہ لوگ اضطرار کی کیفیت میں مبتلا ہو گئے، اس زمانہ میں حضرت عمرؓ نے چوری کی سزا موقوف فرمادی اسی طرح حضرت حاطب بن بلتعہ کے غلاموں نے قبیلہ مزینہ کے ایک شخص کی اُونٹنی چوری کرلی، آپؓ نے ان غلاموں کے ہاتھ نہیں کاٹے، حضرت عمرؓ کا نقطہ نظر یہ تھا کہ اس وقت لوگ حالتِ اضطرار میں ہیں اور اضطراری حالت میں چوری کرنے سے حد جاری نہیں ہوگی کیونکہ انسان اختیاری افعال کے بارے میں جواب دہ ہے، نہ کہ اضطراری افعال کے بارے میں۔
حضورﷺ نے بھٹکی ہوئی اُونٹنی کو پکڑنے سے منع فرمایا کیونکہ وہ خود اپنی حفاظت کرسکتی ہے یہاں تک کہ اُس کا مالک اُس کو پالے، حضرت ابوبکر و عمرؓ کے دور میں اسی پر عمل رہا لیکن حضرت عثمان غنیؓ نے اپنے زمانہ میں ایسی اُونٹنی کو پکڑ لینے اور بیچ کراس کی قیمت کو محفوظ رکھنے کا حکم دیا تاکہ اس کا مالک آجائے
(شرح الزرقانی علی المؤطا لمالک:3/129)
کیونکہ اخلاقی انحطاط کی وجہ سے اس بات کا اندیشہ پیدا ہو گیا تھا کہ بدقماش لوگ ایسی اونٹنی کو پکڑلیں
گویا منشا اونٹنی کی حفاظت تھا، طریقہ کار، زمانہ کے حالات کے لحاظ سے بدل گیا۔ اسی طرح اگر کوئی شخصی مرضِ وفات میں اپنی بیوی کو طلاق بائن دے دے، تو شریعت کے عمومی اُصول کا تقاضا تو یہی تھا کہ مطلقہ کو اس مرد سے میراث نہ ملے لیکن چونکہ اس کو بعض غیر منصف مزاج لوگ بیوی کو میراث سے محروم کرنے کا ذریعہ بناسکتے تھے، اس لیے صحابہ نے ظلم کے سد باب کی غرض سے ایسی مطلقہ کو بھی مستحق میراث قرار دیا، حضرت عثمان غنیؓ کا خیال تو یہ تھا کہ اگر عدت ختم ہونے کے بعد شوہر کی موت ہو، تب بھی عورت وارث ہوگی اور حضرت عمر رضی اللّه عنہ کی رائے تھی کہ عدت کے اندر شوہر کی وفات کی صورت میں عورت کو میراث ملے گی۔ اسی طرح امن و امان اور حفاظتِ جان کی مصلحت کے پیشِ نظر حضرت علیؓ کے مشورہ پر حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اگر ایک شخص کے قتل میں ایک جماعت شریک ہو تو تمام شرکاء قتل کیے جائیں گے۔
صحابہ فروعی مسائل میں اختلاف رائے کو برا نہیں سمجھتے تھے اور ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے، ایک دوسرے کی اقتداء میں نماز ادا کرتے تھے اگرکوئی شخص سوال کرنے آئے تو ایک دوسرے کے پاس تحقیق مسئلہ کے لیے بھیجتے تھے اور اپنی رائے پر شدت نہ اختیار کرتے تھے، حضرت عمرؓ سے ایک صاحب ملے اور حضرت علیؓ اور حضرت زید بن ثابتؓ کا فیصلہ انہیں سنایا، حضرت عمرؓ نے سن کر کہا کہ اگر میں فیصلہ کرتا تو اس کے برخلاف اس طرح کرتا، ان صاحب نے کہا کہ آپ کو تو اس کا حق اور اختیار حاصل ہے؛ پھر آپ اپنی رائے کے مطابق فیصلہ فرمادیں، حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اگر میرے پاس اللّه ، رسول کا حکم ہوتا تو میں اس کو نافذ کردیتا لیکن میری بھی رائے ہے اور رائے میں سب شریک ہیں چناچہ انہوں نے حضرت علیؓ اور حضرت زیدؓ کے فیصلہ کو برقرار رکھا
"والرأی مشترک فلم ینقص ماقال علی وزید"۔

ReplyDeleteخلافت راشدہ کا عہد ...... سے شروع ہوکر 40/ہجری پرختم ہوتا ہے
11ہجری
Delete11 hijri
Delete11 هجري
Delete11 ہجری
Delete11 hijri se
Deleteہجری 11
Delete11ھ
Deleteاس عہد میں احکامِ شریعت کے اخذ و استنباط کا سرچشمہ قرآن مجید اور حدیثِ نبوی کے علاوہ ....... اور قیاس تھا
ReplyDeleteاجماع
DeleteIjmah
Delete۱۱ حجری
Deleteاجماع
Deleteاجماع
Deleteجب ....... میں کوئی حکم پاؤ تو اس کے مطابق فیصلہ کرو
ReplyDeleteکتاب اللہ
DeleteQuran pak
Deleteکتاب اللہ
Deleteکتاب اللہ
Deleteکتاب اللّہ
Deleteاگر کوئی ایسا معاملہ سامنے آئے کہ کتاب اللّه میں اس کا حکم نہ ہو، تو ....... کے مطابق فیصلہ کرو
ReplyDeleteسنت رسول
Deleteسنت رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم
Deleteسنت رسول
DeleteSunat Rasool s a w
Deleteسنتِ رسول صلی الله عليه وسلم
Deleteکتاب اللّه میں نہ ملے اور نہ سنتِ رسول میں، تو جس بات پر لوگوں کا ..... ہو اس کے مطابق فیصلہ کرو
ReplyDeleteاجماع
Deleteاجما ع
Deleteاجماع
DeleteIjma
Deleteاجماع
Deleteاجماع
Deleteاجماع
Deleteرسول اللّه ﷺ کے بعد ....... مسائل میں اجتہاد کے سوا چارہ نہیں تھا
ReplyDeleteغیر منصوص
Deleteغیر
Deleteمنصو ص
Ghair mansous
Deleteغیر منصوص
Deleteحضرت عمرؓ اور حضرت عبد اللّه بن مسعودؓ کے نزدیک بیوہ حاملہ عورت کی عدت ولادت تک اور غیر حاملہ کی چار ........ ز،
ReplyDeleteمہینے10دن
Delete4 مہینے 10 دن
Deleteچار ماہ دس دن
Deleteحضرت علیؓ اور عبد اللّه بن عباسؓ کا نقطہ نظر یہ تھا کہ ولادت اور چار ماہ دس دنوں میں سے جو مدت طویل ہو وہ ہوگی۔
ReplyDeleteعدت وفات ہوگی
Deleteعدت وفات ہو گی
Deleteحدت wafat hugai
Deleteعدتِ وفات
Deleteعدت وفات
Deleteعدت وفات
ReplyDelete۴مہنیے ۱۰ دن
ReplyDelete