Fiqha'a Sahaba Ke Darmiaan Ikhtelaf
فقہا صحابہ کے درمیان اختلافِ رائے کے مختلف اسباب
قرآن وحدیث کے کسی لفظ میں ایک سے زیادہ معنوں کا احتمال، جیسے قرآن نے تین "قرؤ" کوعدت قرار دیا ہے "قرأ" کے معنی حیض کے بھی ہیں اور طہر کے بھی چناچہ حضرت عمرؓ ، حضرت علیؓ اور حضرت عبد اللّه بن مسعود رضی اللّه عنہم نے اس سے حیض کا معنی مراد لیا اور حضرت عائشہ، حضرت زید بن ثابتؓ نے طہر کا۔
بعض احادیث ایک صحابی تک پہنچی اور دوسرے تک نہیں پہنچی، جیسے جدہ کی میراث کے سلسلہ میں حضرت ابوبکرؓ اس بات سے واقف نہیں تھے کہ آپﷺ نے اسے چھٹا حصہ دیا ہے، حضرت مغیرہ بن شعبہ اور محمد بن مسلم نے شہادت دی کہ حضورﷺ نے دادی کو چھٹا حصہ دیا ہے چناچہ اسی پر فیصلہ ہوا۔
بعض دفعہ حضور ﷺ کے کسی عمل کا مقصد و منشا متعین کرنے میں اختلافِ رائے ہوتا تھا، جیسے حضرت عبد اللّه بن عباس رضی اللّه عنہ کی رائے تھی کہ طواف میں رمل کا عمل آپ نے مشرکین کی تردید کے لیے فرمایا، جو کہتے تھے کہ مدینہ کے بخار نے مسلمانوں کو کمزور کرکے رکھ دیا ہے، یہ آپ کی مستقل سنت نہیں، دوسرے صحابہ اس کو مستقل قرار دیتے تھے یا حج میں منی سے مکہ لوٹتے ہوئے وادی ابطح میں توقف، حضرت عبد اللّه بن عباسؓ اور حضرت عائشہؓ اسے سنت نہیں سمجھتے تھے اور اس کو حضور ﷺ کا ایک طبعی فعل قرار دیتے تھے کہ اس کا مقصد آرام کرنا تھا لیکن دوسرے صحابہؓ اسے سنت قرار دیتے تھے۔ جن مسائل میں کوئی نص موجود نہ ہوتی اور اجتہاد سے کام لیا جاتا، ان میں نقطہ نظر کا اختلاف پیدا ہوتا، مثلاً اگر کوئی مرد کسی عورت سے عدت کے درمیان نکاح کرلے، تو حضرت عمرؓ بطورِ سرزنش اس عورت کو ہمیشہ کے لیے اس مرد پر حرام قرار دیتے تھے اور حضرت علیؓ کی رائے یہ تھی کہ دونوں میں تفریق کردی جائے اور سرزنش کی جائے لیکن اس کی وجہ سے ان دونوں مرد و عورت کے درمیان دائمی حرمت پیدا نہیں ہوگی اسی طرح حضرت ابوبکرؓ کا طریقہ یہ تھا کہ بیت المال میں جو کچھ آتا، اسے تمام مسلمانوں پر مساوی تقسیم فرماتے اور حضرت عمرؓ نے اپنے زمانہ میں برابر تقسیم کرنے کی بجائے لوگوں کے درجہ و مقام اور اسلام کے لیے ان کی خدمات کو سامنے رکھ کر تقسیم کرنا شروع کیا۔
غور کیا جائے! تو صحابہ کے درمیان اختلاف رائے کا ایک سبب ذوق اور طریقہ استنباط کا فرق بھی تھا، بعض صحابہ کا مزاج حدیث کے ظاہری الفاظ پر قناعت کا تھا، جیسے حضرت ابوہریرہؓ، حضرت عبد اللّه بن عمرؓ، حضرت ابوذر غفاریؓ وغیرہ بعض صحابہؓ حدیث کے مقصد و منشا پر نظر رکھتے تھے اور قرآن مجید اور دین کے عمومی مزاج و مذاق کی کسوٹی پر اسے پرکھنے کی کوشش کرتے تھے، حضرت عمرؓ، حضرت عبد اللّه بن مسعودؓ اور حضرت علیؓ وغیرہ اسی گروہ سے تعلق رکھتے تھے، چند مثالوں سے اس کی وضاحت مناسب معلوم ہوتی ہے
حضرت فاطمہ بنت قیس نے روایت کیا کہ مطلقہ بائنہ عدت میں نہ نفقہ کی حق دار ہے، نہ رہائش کی، حضرت عمرؓ نے سنا تو اس کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور فرمایا کہ میں ایک عورت کی بات پر نہ معلوم کہ اس نے یاد رکھا یا بھول گئی، کتاب اللّه اور سنتِ رسول ﷺ کو نہیں چھوڑ سکتا حضرت عمرؓ کو خیال تھا کہ یہ فاطمہ بنت قیس کا وہم ہو سکتا ہے کیونکہ قرآن (الطلاق:1) میں مطلقہ کے لیے رہائش فراہم کرنے کی ہدایت موجود ہے۔
حضرت عبد اللّه بن عمرؓ نے روایت کیا کہ مردہ کو اس کے لوگوں کے اس پر رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے، حضرت عائشہؓ نے اس پر نکیر فرمائی اور کہا کہ یہ قرآن کے حکم کے خلاف ہے۔
"وَلَاتَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى"
"ایک شخص پردوسرے کے گناہ کا بوجھ نہیں ہوگا "
(فاطر:18)
حضرت ابوہریرہؓ نے روایت کیا کہ جنازہ کو اُٹھانے والے پر وضو واجب ہے، حضرت عبد اللّه بن عباسؓ نے سوال کیا کہ کیا سوکھی ہوئی لکڑیوں کو چھونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، حضرت عبد اللّه بن عباسؓ نے فرمایا کہ پھر تو گرم پانی سے غسل کیا جائے تو اس سے بھی وضو واجب ہو جائے گا؟ اس طرح کی بہت سی مثالیں صحابہ کے درمیان باہمی مناقشات کی پائی جاتی ہیں، جن سے ظاہر ہے کہ مسائل شرعیہ کو اخذ کرنے کے سلسلہ میں دونوں طرح کا ذوق پایا جاتا تھا اور یہی ذوق بعد کو فقہا مجتہدین تک منتقل ہوا اور اس کی وجہ سے الگ الگ دبستانِ فقہ وجود میں آئے۔
اس عہد میں سب سے اہم کام حضرت ابوبکرؓ کے عہدِ خلافت میں سرکاری طور پر قرآن مجید کی جمع وتدوین کا اور حضرت عثمان غنیؓ کے دور میں قرأت قریش پر مصحفِ قرآنی کی کتابت اور اس کی اشاعت کا ہوا، حضرت عمرؓ کے دل میں جمع احادیث کا داعیہ بھی پیدا ہوا لیکن انھوں نے کافی غور و فکر اور تقریباً ایک ماہ استخارہ کرنے کے بعد اس کا ارادہ ترک کر دیا کہ کہیں یہ قرآن مجید کی طرف سے بے توجہی اور بے التفاتی کا سبب نہ بن جائے۔
یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ صحابہ سب کے سب فقیہ و مجتہد تھے بلکہ ایک محدود تعداد ہی اس جانب متوجہ تھی کیونکہ استعداد و صلاحیت کے فرق کے علاوہ دین کے بہت سے کام اور وقت کے بہت سے تقاضے تھے اور سب کے لیے افرادِ کار کی ضرورت تھی، علامہ ابن قیمؒ نے ان صحابہ کا ذکر کیا ہے، جن سے فتاویٰ منقول ہیں، مرد و خواتین کو لے کر ان کی تعداد 130 ہوتی ہے پھر ان کے تین گروہ کیے ہیں، ایک وہ جن سے بہت زیادہ فتاویٰ منقول ہیں، ان کی تعداد سات ہے، حضرت عمرؓ، حضرت علیؓ، حضرت عبد اللّه بن مسعودؓ، حضرت عائشہؓ، حضرت زید بن ثابتؓ، حضرت عبد اللّه بن عباسؓ اور حضرت عبد اللّه بن عمرؓ، خلیفہ مامون کے پڑ پوتے ابو بکر محمد نے صرف حضرت عبد اللّه بن عباسؓ کے فتاویٰ کو جمع کیا تو ان کی بیس جلدیں ہوئیں۔
بیس صحابہؓ متوسطین میں شمار کیے گئے ہیں، جن سے بہت زیادہ نہیں لیکن مناسب تعداد میں فتاویٰ منقول ہیں اور بقول ابنِ قیمؒ ان کے فتاویٰ کو ایک چھوٹے جزء میں جمع کیا جاسکتا ہے، حضرت ابوبکرؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت اُم سلمہؓ اور حضرت ابوہریرہؓ وغیرہ اسی گروہ میں ہیں، بقیہ صحابہ وہ ہیں جن سے ایک دو مسئلہ میں فتویٰ دینا منقول ہے، ان کی تعداد (125) ہے اسی گروہ میں حضرت حسن و حسین، سیدۃالنساء حضرت فاطمہؓ، حضرت حفصہؓ، حضرت صفیہؓ، حضرت اُم حبیبہؓ، حضرت میمونہؓ، حضرت بلالؓ، حضرت عبادؓ اور حضرت اُمِ ایمن ؓ (وغیرہ) ہیں۔

حاضر جناب۔آپ کہاں؟
ReplyDeleteجی
Deleteجی
Deleteجی
ReplyDeleteاسلام علیکم
ReplyDeleteوعلیکم اسلام
Deleteہیںفقہا صحابہ کے درمیان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کے مختلف اسباب
ReplyDeleteاختلاف راۓ
Deleteاختلاف راۓ
Deleteاختلاف رائے
Deleteاختلاف رائے
Deleteاختلاف راۓ
Deleteاختلاف راۓ
Deleteاختلافِ رائے
Deleteاختلاف رائے
Deleteاختلاف راۓ
Deleteاختلاف رائے
Deleteاختلاف رائے
Deleteاختلا ف را ئے
Deleteاختلاف رائے
Deleteاختلاف راے
Deleteقرآن نے تین "۔۔۔۔۔۔" کوعدت قرار دیا ہے
ReplyDeleteقرو
Deleteقرو
Deleteقرو
Deleteقرو
Deleteقر و
Deleteقرؤ
Deleteقرؤ
Deleteقرو
Deleteقرو
Deleteقرو
Deleteقرو
Delete
ReplyDelete"ایک شخص پردوسرے کے گناہ کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں ہوگا "
بوجھ
Deleteبوجھ
Deleteبوجھ
Deleteبوجھ
Deleteبوجھ
Deleteبوجھ
Deleteبوجھ
Deleteبوجھ
Deleteبو جھ
Deleteبوجھ
Deleteبوجھ
Deleteبوجھ
ReplyDelete۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صحابہؓ متوسطین میں شمار کیے گئے ہیں
ReplyDeleteبیس
Deleteبیس
Deleteبیس
Delete20
Delete20
Deleteبیس
Deleteبیس
Deleteبیس
Deleteبیس
Deleteبیس
Deleteبیس
Delete