Ilm Asool-E-Hadees

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم


 اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ وَکَفٰی وَ سَلامٌ عَلٰی عِبَادِهِ الَّذِیْنَ اصْطَفیٰ

امابعد! علم اصول حدیث کی بعض اصطلاحیں مختصر طور پر ذکر کی جاتی ہیں۔حق تعالیٰ توفیق صواب شامل حال رکھ کر مبتدئینِ حدیث کو نفع پہنچائیں۔ آمین۔

 اصول حدیث کی تعریف

علم اصول حدیث وہ علم ہے جس کے ذریعے حدیث کے احوال معلوم کۓ جاتے ہیں۔



 اصول حدیث کی غایت


 علم اصول حدیث کی غایت یہ ہے کہ حدیث کے احوال معلوم کر کے مقبول پر عمل کیا جاۓ اور غیر مقبول سے بچا جاۓ۔


 اصول حدیث کا موضوع 



 علم اصول حدیث کا موضوع حدیث ہے۔


 حدیث کی تعریف 



حضرت رسول خداﷺ وصحابہ کرام رضوان اللّه علیہم اجمعین و تابعین رحمہم اللّه علیہم کے قول و فعل و تقریر کو حدیث کہتے ہیں اور کبھی اسکو خبر و اثر بھی کہتے ہیں۔










 حدیث کی تقسیم

حدیث دو قسم پر ہے

  خبر متواتر
خبر واحد


 خبر متواتر


 وہ حدیث ہے جس کے روایت کرنے والے ہر زمانے میں اس قدر کثیر ہوں کہ ان سب کہ جھوٹ پر اتفاق کر لینے کو عقل سلیم محال سمجھے۔

خبر واحد

 وہ حدیث جسکے راوی اس قدر کثیر نہ ہوں۔
پھر خبر واحد مختلف اعتباروں سے کئ قسم پر ہے۔


  خبر واحد کی پہلی تقسیم


خبر واحد اپنے منتہیٰ کے اعتبار سے تین قسم پر ہے
مرفوع، موقوف، مقطوع


١ -مَر فُوْع: وہ حدیث ہے جس میں رسول خداﷺکے قول یا فعل یا تقریر کا ذکر ہو۔
٢ -مَوْقُوف: وہ حدیث ہے جس میں صحابی کے قول یا فعل یا تقریر کا ذکر ہو۔
٣ -مَقْطُوع: وہ حدیث ہے جس میں تابعی کے قول یا فعل یا تقریر کا ذکر ہو۔


خبر واحد کی دوسری تقسیم


خبر واحد عدد رُواۃ کے  اعتبار سے بھی تین قسم پر ہے
 مشہور، عزیز، غریب

١- مشہور: وہ حدیث ہے جس کے راوی ہر زمانے میں تین سے کم کہیں نہ ہوں۔
٢ - عزيز: وہ حدیث ہے جس کے راوی ہر زمانے میں دو سے کم کہیں نہ ہوں۔
٣- غريب: وہ حدیث جسکا راوی کہیں نہ کہیں ایک ہو۔




خبر واحد کی تیسری تقسیم

خبر واحد اپنے راویوں کی صفات کے اعتبار سے سولہ قسم پر ہے۔


١-صَحِيْحٌ لِذَاتهٖ.   ٢-حَسَنٌ لِذَاتهٖ
٣-ضَعِيْف          ٤-صَحِيْحٌ لِغَيْرِهٖ
٥-حَسَنٌ لِغَيْرِهٖ     ٦- مَوْضُوْع
٧-مَتْروْك            ٨-شَاذّ
٩-مَحْفُوْظ          ١٠-مُنْكَرْ
١١-مَعْرُوْف            ١٢-مُعَلَّل
١٣-مُضْطَرب           ١٤-مَقْلُوْب
١٥-مُصَحَّف           ١٦-مُدْرج


١ -صَحِیْحٌ لِذَاتهٖ
 وہ حدیث ہے جس کے کل راوی عادل کامل الضَّبط ہوں اور اس کی سند متصل ہو،معلل و شاذ ہونے سے محفوظ ہو۔


٢ -حَسَنٌ لِذَاتِهٖ
 وہ حدیث ہے جس کے راوی میں صرف ضبط ناقص ہو،باقی سب شرائط صحیح لذاتہ کی اس میں موجود ہوں۔


٣ -ضَعِيْف
 وہ حدیث ہے جس کے راوی میں حدیث صحیح وحسن کے شرائط نہ پاۓ جائیں۔


٤ -صَحِيْحٌ لِغَيْرِهٖ
اس حدیث حسن لذاتہ کو کہا جاتا ہے جس کی سندیں متعدد ہوں۔


٥- حَسَنٌ لِغَيْرِهٖ
اس حدیث ضعیف کو کہا جاتا ہے جس کی سندیں متعدد ہوں۔


٦ -مَوْضُوْع
وہ حدیث ہے جس کے راوی پر حدیث نبوی  ﷺ میں جھوٹ بولنے کا طعن موجود ہو۔


٧- مَتْرُوْك
  وہ حدیث ہے جس کا راوی مُتہم بِالکذب ہو یا وہ روایت قواعد معلومہ فی الدّین کے مخالف ہو۔


٨ -شَاذّ
 وہ حدیث ہے جس کا راوی خود ثقہ ہو مگر ایک  ایسی جماعت کثیرہ کی مخالفت کرتا ہو جو اس سے زیادہ ثقہ ہیں۔


٩- مَحْفُوظ
وہ حدیث ہے جو شاذ کے مقابل ہو۔


١٠- مُنْكَر
 وہ حدیث ہے جس کا راوی باوجود ضعیف ہونے کے جماعت ثقات کے مخالف روایت کرے۔


١١ - مَعْرُوْف
وہ حدیث ہے جو منکر کے مقابل ہو۔


١٢- مُعَلَّل
 وہ حدیث ہے جس میں کوئ ایسی علّت خفیّہ ہو،جو صحت حدیث میں نقصان دیتی ہے۔اسکو معلوم کرنا ماہر فن ہی کا کام ہے،ہر شخص کا کام نہیں۔


١٣- مُضْطَرِب
وہ حدیث ہے جس کی سند یا متن میں ایسا اختلاف واقع ہو کہ اس میں ترجیح یا تطبیق نہ ہو سکے۔


١٤- مَقْلُوْب
وہ حدیث ہے جس میں بھول سےمتن یا سند کے اندر تقدیم و تاخیر واقع ہو گئ ہو یعنی لفظ مقدم کو مؤخر اور مؤخر کو مقدم کیا گیا ہو یا بھول کر ایک راوی کی جگہ دوسرا راوی ذکر کیا گیا ہو۔


١٥ -مُصَحَّف
 وه حدیث ہے جس میں باوجود صورت خطی باقی رہنے کہ کے نقطوں وحرکتوں و سکونوں کے تغیر کی وجہ سےتلفظ میں غلطی واقع ہو جائے۔


١٦ -مُدْرَج
 وہ حدیث ہے جس میں کسی جگہ راوی اپنا کلام درج(داخل) کر دے۔



خبر واحد کی چوتھی تقسیم


خبر واحد سقوط و عدم سقوط راوی کے اعتبار سے سات قسم پر ہے۔

١:مُتَّصِل           ٢: مُسْنَد  
٣:مُنْقَطِع          ٤:مُعَلَّق
٥:مُعْضَل           ٦:مُرْسَل
         ٧:مُدَلَّس  


١ - مُتَّصِل
 وہ حدیث ہے کہ اس کی سند میں راوی پورے مزکور ہوں۔


٢- مُسْنَد
  وہ حدیث ہے کہ اس کی سند رسول خدا  ﷺ تک متصل ہو۔


٣- مُنْقَطِع
 وہ حدیث ہے کہ اس کی سند متصل نہ ہو بلکہ کہیں نہ کہیں سے راوی گرا ہوا ہو۔


٤- مُعَلَّق
 وہ حدیث ہے جس کی سند کے شروع میں ایک راوی یا ایک سے زائد راوی گرے ہوۓ ہوں۔


٥- مُعْضَل
 وہ حدیث ہے جس کی سند کے درمیان میں سے کوئ راوی گرا ہوا ہو یا اسکی سند میں سے ایک یا ایک سے زائد راوی پے درپے گرے ہوۓ ہوں۔


٦- مُرْسَل
 وہ حدیث ہے جس کے آخر سےكوئ  راوی گرا ہوا ہو۔


٧- مُدلَّس
 وہ حدیث ہے جس کے راوی کی یہ عادت ہو کہ وہ اپنے شیخ یا شیخ کے شیخ کا نام(سند میں) چھپا لیتا ہو۔



 خبر واحدکی پانچویں تقسیم


خبر واحد صِیٙغ کے اعتبار سے دو قسم پر ہے

مُعَنْعَنْ، مُسَلْسَلْ


 ١- مُعَنْعَنْ
وہ حدیث ہے جس کی سند میں لفظ عَنْ ہو اور اسکو عَنْ عَنْ بھی کہا جاتا ہے۔


٢: مُسَلْسَل
 وہ حدیث ہے جس کی سند میں صِیَغِ أداء یا راویوں کی صفات یا حالات ایک ہی طرح کے ہوں۔

       

 بیان صِیَغِ اداء



محدثین حدیث کو ادا کرتے وقت مندرجہ ذیل الفاظ میں سے اکثر ایک لفظ استعمال کیا کرتے ہیں ۔


١:حَدَّثَنِى              ٢:اَخْبَرَنِى
٣:اَنْبَأَنِيْ.              ٤:حَدَّثَنَا
٥:اَخْبَرَنَا.             ٦:اَنْبَأَنَا
٧:قَرَاْتُ              ٨:قَالَ لِىْ فُلا نٌ
 ٩:ذَكَرَلِىْ فُلَانٌ     ١٠:رَوىٰ لِى فُلانٌ
١١:كَتَبَ إِلَيّ فُلَانٌ  ١٢:عَنْ فُلَانٌ
١٣:قَالَ فُلَان        ١٤:ذَكَرَ فُلانٌ
١٥:رَوىٰ فُلَانٌ.        ١٦:كَتَبَ فُلَانٌ



   حَدَّثَنِى و َاَخْبَرَنِىْ میں فرق

متقدمین کے نزدیک یہ دونوں لفظ مترادف ہیں۔اور متاخرین کے نزدیک یہ فرق ہے کہ اگر استاذ پڑھے اورشاگرد کے تنہا ہونے کی صورت میں حَدَّثَنِی اور بہت ہونے کی صورت میں حَدَّ ثَنَا  کہا جاتا ہے۔اور اگر شاگرد پڑھے اور استاد سنتا رہے تو شاگرد کے اکیلا ہونے کی صورت میں  اَخْبَرَنِی  اور بہت ہونے کی صورت میں  اَخْبَرَنَا  کہا جاتا ہے۔






157 comments / Replies

  1. علم اصول حدیث کے ذریعے حدیث کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔معلوم کیے جاتے ہیں؟

    ReplyDelete
  2. علم اصول حدیث کے ذریعے حدیث کے احوال معلوم کر کے۔۔۔۔۔۔۔۔پہ عمل کیا جاتا۔

    ReplyDelete
  3. علم اصول حدیث کا موضوع۔۔۔۔۔ہے۔

    ReplyDelete
  4. حدیث کو کبھی۔۔۔۔۔۔۔کہتے۔

    ReplyDelete
  5. خبر واحد اپنے۔۔۔۔۔کے اعتبار سےتین قسم پر ہے۔

    ReplyDelete

  6. ______________وہ حدیث ہے جس کے روایت کرنے والے ہر زمانے میں اس قدر کثیر ہوں کہ ان سب کہ جھوٹ پر اتفاق کر لینے کو عقل سلیم محال سمجھے۔

    ReplyDelete
  7. وہ حدیث جسکے راوی اس قدر کثیر نہ ہوں___________ہے

    ReplyDelete
  8. خبر واحد اپنے راویوں کی صفات کے اعتبار سے_____________پر ہے

    ReplyDelete
  9. وہ حدیث جسکے راوی اس قدر کثیر نہ ہوں۔_________ ہے

    ReplyDelete
  10. ١ -مَر فُوْع: وہ حدیث ہے جس میں رسول خداﷺکے قول یا فعل یا_________ کا ذکر ہو۔

    ReplyDelete
  11. خبر واحد ______ کے اعتبار سے بھی تین قسم پر ہے

    ReplyDelete

  12. ____________ وہ حدیث ہے جس کے راوی ہر زمانے میں تین سے کم کہیں نہ ہوں

    ReplyDelete
  13. - غريب: وہ حدیث جسکا _________ کہیں نہ کہیں ایک ہو۔

    ReplyDelete
  14. خبر واحد اپنے راویوں کی ________ کے اعتبار سے سولہ قسم پر ہے۔

    ReplyDelete

Powered by Blogger.