Katibaan-E-Wahi

حفظِ قرآن اور کتابتِ قرآن


اہلِ عرب کا حافظہ بہت قوی تھا وہ اپنے تمام شجرہ نسب اور اہم تاریخی واقعات ، جنگی کارنامے ، بڑے بڑے خطبے ، لمبے لمبے قصیدے اور اشعار زبانی یاد رکھتے تھے ، جب قرآن پاک نازل ہوا تو عرب کی عام عادت کے مطابق خود حضور اکرم ﷺ  اور آپ ﷺ  کے صحابہ کرامؓ نے اسکو زبانی یاد رکھا اور ہمیشہ کیلٸے یہ سلسلہ جاری فرمایا اور اللّه تعالیٰ نے ارشاد فرمایا 

بَلۡ هُوَ اٰيٰتٌۢ بَيِّنٰتٌ فِىۡ صُدُوۡرِ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ‌ؕ وَمَا يَجۡحَدُ بِاٰيٰتِنَاۤ اِلَّا الظّٰلِمُوۡنَ 


دراصل یہ روشن نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے دلوں میں جنہیں عِلم بخشا گیا ہے، اور ہماری آیات کا انکار نہیں کرتے مگر وہ جو ظالم ہیں


اور ساتھ ہی ساتھ اسکی کتابت کا اہتمام  فرمایا جس وقت کوٸی آیت نازل ہوتی اسی وقت آپ ﷺ اصحابہ اکرامؓ  کو زبانی یاد کروا دیتے ترتیب کا لحاظ  اور 
مقام بتاتے اور کسی کاتب کو بلوا کے لکھوا دیتے تھے 







کاتبانِ وحی


چند کے نام ذکر کیے ہیں 


 حضرت زید بن ثابت رضی اللّه عنہ 

حضرت زبیر بن العوام رضی اللّه عنہ

حضرت ابان بن سعید بن العاص رضی اللّه عنہ 

حضرت عبداللّه بن مسعود رضی اللّه عنہ

حضرت امیر معاویہ بن ابی سفیان رضی اللّه عنہ 


کاتب وحی یا کاتبین وحی ایک اسلامی اصطلاح ہے جس کا اطلاق ان صحابہ کرام پر ہوتا ہے جنہوں نے محمد صلی اللّه علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں وحی لکھی اور اسے مدون کیا۔

 تعداد 


کاتبین وحی کی تعداد کے حوالے سے کتب تاریخ میں مختلف تعداد پائی جاتی ہیں ۔۔ بعض مورخین نے ان کی تعداد 16 بتائی ہے، جبکہ بعض نے 42 افراد کا بھی ذکر کیا ہے۔
 عہدِ نبوی میں اصل مدار تو حفظِ قرآن مجید ہی پر تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ حضور پاک صلی اللّه علیہ وسلم نے کتابت قرآن کا بھی خاص اہتمام فرمایا، کتابت قرآن کا طریقہ کار حضرت زید بن ثابتؓ نے اس طرح بیان فرمایا

” میں رسول اللّه صلی اللّه علیہ وسلم کے لیے وحی کی کتابت کرتا تھا جب آپ پر وحی نازل ہوتی تو آپ سخت بوجھ محسوس کرتے اور آپ کے جسمِ اطہر پر پسینہ کے قطرے موتیوں کی طرح ڈھلکنے لگتے تھے پھر آپ سے یہ کیفیت ختم ہوجاتی تو میں مونڈھے کی کوئی ھڈّی یا کسی اور چیز کا ٹکڑا لے کر خدمتِ اقدس میں حاضر ہوتا آپ صلی اللّه علیہ وسلم لکھواتے رہتے میں لکھتا جاتا یہاں تک کہ میں لکھ کر فارغ ہوجاتا تو قرآن کے نقل کرنے کے بوجھ سے مجھ کو ایسا محسوس ہوتا جیسے میری ٹانگ ٹوٹنے والی ہے اور میں کبھی چل نہیں سکوں گا۔۔ بہرحال جب میں فارغ ہوتا تو آپ فرماتے "پڑھو" میں پڑھ کر سناتا اگر اس میں کوئی فروگذاشت ہوتی تو آپ اس کی اصلاح فرمادیتے اور پھر اسے لوگوں کے سامنے لے آتے"

کتابتِ وحی کا کام صرف حضرت زید بن ثابتؓ ہی کے سپرد نہ تھا بلکہ آپ نے بہت سے صحابہ رضوان اللّه علیہم اجمعین کو اس مقصد کے لیے مقرر فرمایا ہوا تھا، جو حسبِ ضرورت کتابتِ وحی کے فرائض انجام دیتے تھے، کاتبینِ وحی کی تعداد چالیس تک شمار کی گئی ہے۔ان میں زیادہ مشہور یہ حضرات ہیں


 ( رضی اللّه عنہم )


ابوبکر صدیق
عمر بن خطاب
عثمان بن عفان
علی بن ابی طالب
ابی بن کعب
عبداللہ بن ابی السرح
زبیر بن العوام
خالد بن سعید
ابان بن سعید بن العاص
حنظلہ بن ربیع
معیقیب بن ابی فاطمہ
عبداللہ بن ارقم
شرحبیل بن حسنہ
عبداللہ بن رواحہ 
عامر بن فہیرہ
عمرو بن العاص
ثابت بن قیس
مغیرہ بن شعبہ
خالد بن ولید
معاویہ بن ابی سفیان 
زید بن ثابت 

محمد صلی اللّه علیہ و آلہ وسلم پر جب بھی وحی نازل ہوتی تھی تو آپ اپنے بعض کاتبین وحی کو بلواتے تھے اور ان کو نئی نازل شدہ آیتیں لکھواتے تھے اور ساتھ ہی ساتھ آپ جبرائیل کے بتانے پر اس کی جگہ کی تعیین بھی فرما دیتے تھے کہ اسے کس سورت میں کس آیت کے بعد رکھنا ہے، حضرت عثمانؓ فرماتے ہیں

” محمد صلی اللّه علیہ و آلہ وسلم پر جب آیتیں نازل ہوتی تھیں تو آپ اپنے بعض کاتبینِ وحی کو بلواتے تھے اور ان سے کہتے تھے کہ اس آیت کو اس سورت میں (اس مقام پر) رکھو جس میں فلاں فلاں شیٔ کا ذکر ہے"

چنانچہ آپ کی ہدایت پر وہ لکھ لیا جاتا اور اس زمانہ میں عرب میں کاغذ کمیاب تھے اس لیے اسے کھجور کی شاخوں، پتھر کی سلوں، چمڑے کے پارچوں اور جانوروں کی ہڈیوں پر لکھا جاتا تھا اور لکھ کر محمد صلی اللّه علیہ و آلہ وسلم کے گھر میں رکھ دیا جاتا تھا تو اس طرح عہد نبوی ہی میں پورا قرآن کریم آپ کی نگرانی میں لکھا ہوا محفوظ تھا

 مگر کاغذ کی کمیابی کے سبب مختلف قسم کی چیزوں میں منتشر تھا اسی طرح صحابہ میں سے بھی بعض قرآن کریم کے لکھنے کا اہتمام کرتے تھے، عمر بن خطاب کے اسلام لانے کا مشہور قصہ ہے جس میں آپ غصہ کی حالت میں اپنے بہن کے گھر گئے تو وہاں ان کی نظر ان پر پڑی جس میں قرآن کریم لکھا ہوا تھا اسی طرح اللّه کے نبی نے دشمن کی سرزمین میں قرآن مجید کو لے جانے سے منع فرمایا تھا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام کے پاس اس وقت مکمل یا نامکمل نسخے موجود تھے ورنہ پھر اس ارشاد کا کوئی مطلب ہی نہ ہوگا، ان کے علاوہ اور بھی متعدد دلائل وشواہد ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام میں بھی اس کے لکھنے کا رواج تھا لیکن ان کی اکثریت اپنے حافظہ ہی پر اعتماد کرتی تھی۔

203 comments / Replies

  1. اہل عرب کا_____ بہت قوی تھا

    ReplyDelete
  2. عہد نبوی میں اصل مدار تو _____پر ہی تھا

    ReplyDelete
  3. ان کی اکثریت اپنے _____پر ہی انحصار کرتی تھی

    ReplyDelete
  4. پورا قرآن کریم آپکی نگرانی میں لکھا ہوا ____ تھا

    ReplyDelete
  5. صحابہ کرام کے پاس اس وقت __________ نسخے تھے

    ReplyDelete
  6. صحابہ کرام میں اس وقت بھی ______ کا رواج تھا

    ReplyDelete
  7. دراصل یہ _______ نشانیاں ہیں

    ReplyDelete
  8. کتابت وحی کا کام صرف _________ ہی کے سپرد نہ تھا

    ReplyDelete
    Replies
    1. حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالی

      Delete
    2. حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہہ

      Delete
    3. حضرت زید بن ثابت رضی

      Delete
    4. حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ

      Delete
    5. حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ

      Delete
    6. حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ

      Delete
    7. حضرت ز ید بن ثابت

      Delete
  9. کاتبینِ وحی کی تعداد_________ تک شمار کی گٸی ہے

    ReplyDelete
  10. قرآن کے نقل کرنے کے بوجھ سے مجھے ایسا محسوس ہوتا جیسے میری_______ ٹوٹنے والی ہے

    ReplyDelete
  11. ان کے علاوہ اور بھی متعدد______ ہیں

    ReplyDelete
  12. ان کی اکثریت اپنے حافظہ پر ہی _______ کرتی تھی

    ReplyDelete
  13. آپﷺ بعض کاتبینِ وحی کو بلواتے تھے اور انکو نٸی _______ لکھواتے تھے

    ReplyDelete
  14. پہلے 5 کاتبینِ وحی کے نام لکھیں

    ReplyDelete
    Replies
    1. حضرت زید بن ثابت
      حضرت زبیر بن العوام
      حضرت امیر معاویہ
      حضرت عبداللہ
      حضرت ابان

      Delete
    2. حضرت زید بن ثابت
      حضرت زبیر بن العوام
      حضرت ابان بن سعید بن العاص
      حضرت عبداللّه بن مسعود
      حضرت امیر معاویہ بن ابی سفیان

      Delete
    3. حضرت زید بن ثابت
      حضرت زبیر بن العوام
      حضرت ابان بن سعید بن العاص
      حضرت عبداللّه بن مسعود
      حضرت امیر معاویہ بن ابی سفیان

      Delete
  15. _______
    کے اسلام کا قصہ مشہور ہے

    ReplyDelete
  16. جانوروں کی ______پر لکھا جاتا تھا

    ReplyDelete
  17. لکھ کر ________ کے گھر رکھ دیا جاتا تھا

    ReplyDelete
    Replies
    1. حضرت محمد صلی الله عليه وسلم

      Delete
    2. محمد صلی اللہ علیہ وسلم

      Delete
    3. حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم

      Delete
    4. حضرت محمد صلى الله علیہ وسلم

      Delete
    5. حضرت محمد صلى الله علیہ وسلم

      Delete
  18. ہماری آیات کا انکار نہیں کرتے مگر وہ جو ___________ ہیں

    ReplyDelete
  19. اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

    ReplyDelete
    Replies
    1. و علیکم اسلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

      Delete
    2. وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

      Delete
  20. اہل عرب کا حافظہ بہت ۔۔۔۔۔۔۔۔ تھا۔

    ReplyDelete

  21. عہد نبوی میں اصل مدار تو _____پر ہی تھا

    ReplyDelete

  22. ہماری آیات کا انکار نہیں کرتے مگر وہ جو ___________ ہیں

    ReplyDelete

  23. پہلے 5 کاتبینِ وحی کے نام لکھیں

    ReplyDelete
    Replies
    1. ذید بن ثابت
      عمر بن خطاب
      عثمان بن عفان
      علی بن ابی طالب
      ابی بن کعب

      Delete
    2. حضرت ذید بن ثابت
      حضرت زبیر بن العوام
      حضرت ابی بن سعید بن العاص
      حضرت عبداللہ بن مسعود
      حضرت امیر معاویہ بن سفیان

      Delete
    3. باجی میرے نام کے ساتھ ڈیلیٹ کیوں لکھا آتا ہے

      Delete
    4. حضرت زید بن ثابت
      حضرت ابان بن سعید بن العاص
      حضرت زبیر بن العوام
      حضرت امیر معاویہ بن سفیان
      حضرت عبداللہ بن مسعود

      Delete

  24. آپﷺ بعض کاتبینِ وحی کو بلواتے تھے اور انکو نٸی _______ لکھواتے تھے

    ReplyDelete

  25. کاتبینِ وحی کی تعداد_________ تک شمار کی گٸی ہے

    ReplyDelete
  26. دراصل یہ _______ نشانیاں ہیں

    ReplyDelete

Powered by Blogger.