Lafz Fiqah Quran-O-Sunnat Mein

لفظ فقہ قرآن و سنّت میں 


 فقہ 


فقہ شریعت اسلامی کی ایک اہم اصطلاح ہے 

لغوی معنی 


کسی شے کا جاننا اور اُس کی معرفت و فہم حاصل کرنا۔

 لفظ "فقہ" قرآن مجید میں 


قرآن حکیم میں درج ذیل مواقع پر یہ لفظ اس معنی میں استعمال ہوا ہے


وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنفِرُواْ كَآفَّةً فَلَوْلاَ نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَآئِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُواْ فِي الدِّينِ وَلِيُنذِرُواْ قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُواْ إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ 


اور یہ تو ہو نہیں سکتا کہ مومن سب کے سب نکل آئیں تو یوں کیوں نہ کیا کہ ہر ایک جماعت میں سے چند اشخاص نکل جاتے تاکہ "دین کی فقہ" (سمجھ) حاصل کرتے اور جب اپنی قوم کی طرف واپس آتے تو انکو ڈر سناتے تاکہ وہ بھی محتاط ہو جاتے۔



قَالُواْ يَا شُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِيرًا مِّمَّا تَقُولُ وَإِنَّا لَنَرَاكَ فِينَا ضَعِيفًا وَلَوْلاَ رَهْطُكَ لَرَجَمْنَاكَ وَمَا أَنتَ عَلَيْنَا بِعَزِيزٍ 


وہ بولے، اے شعیب! تمہاری اکثر باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں۔



 أَيْنَمَا تَكُونُواْ يُدْرِككُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنتُمْ فِي بُرُوجٍ مُّشَيَّدَةٍ وَإِن تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُواْ هَـذِهِ مِنْ عِندِ اللّهِ وَإِن تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَقُولُواْ هَـذِهِ مِنْ عِندِكَ قُلْ كُلًّ مِّنْ عِندِ اللّهِ فَمَالِ هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثًا 


آپ فرما دیں (حقیقۃً) سب کچھ اللّه کی طرف سے (ہوتا) ہے۔ پس اس قوم کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ کوئی بات سمجھنے کے قریب ہی نہیں آتے



ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا فَطُبِعَ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَهُمْ لَا يَفْقَهُونَ

تو اُن کے دلوں پر مُہر لگا دی گئی سو وہ (کچھ) نہیں سمجھتے۔


 لفظ "فقہ" حدیث نبوی میں 



حدیثِ نبوی صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم میں بھی فقہ کا لفظ سمجھ بوجھ کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔حضرت امیر معاویہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا 

 مَنْ يُرِدِ اﷲُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّيْنِ۔


اللّه تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کرنا چاہتا ہے اسے دین میں سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔



 نیز آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا


 "فَقِيهٌ وَاحِدٌ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنْ أَلْفِ عَابِدٍ"


ایک فقیہ شیطان پر ہزار عابدوں سے بھاری ہوتا ہے۔


کیونکہ عابد کی عبادت بلا بصیرت ہوتی ہے، اس لیے شیطان کو اسے گمراہی کے گڑھے میں دھکیلنا اور شکوک وشبہات کے جال میں پھانسنا بہت آسان ہوتا ہے؛ جب کہ فقیہ اس کی سازشوں اور چالوں سے واقف ہوتا ہے اور وہ اس کے دامِ فریب میں عام طور پر نہیں آتا ہے،

صاحب الاشباہ والنظائر نے فقہ کی عظمت کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے: اسی لیے شرعی اصطلاح میں "فقہ" کا لفظ علمِ دین کا فہم حاصل کرنے کے لیے مخصوص ہے۔



 امام ابو حنیفہ فقہ کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں 

الفقه : معرفة النفس، مَالَهَا وما عليها۔


فقہ نفس کے حقوق اور فرائض و واجبات جاننے کا نام ہے۔




 بالعموم فقہا کرام فقہ کی اصطلاحی تعریف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں 


العلم بالأحکام الشرعية العملية من أدلتها التفضيلية


احکام فرعیہ شرعیہ عملیہ کو تفصیلی دلائل سے جاننے کا نام فقہ ہے۔

"شرعی احکام" سے مکلف کے افعال پر شریعت کی جانب سے جو حکم اور صفت مرتب ہوتی ہے وہ مراد ہے، جیسے کسی عمل کا فرض، واجب، مستحب یامباح یا اسی طرح حرام و مکروہ ہونا اور تفصیلی دلائل کا مطلب یہ ہے کہ یہ مسئلہ کس دلیل شرعی پر مبنی ہے، کتاب اللّه پر، سنت رسول پر، اجماع پر یا قیاس وغیرہ پر؛ اسی طرح حکم اور دلیل کے درمیان ارتباط کو جاننا بھی فقہ میں شامل ہے۔

علامہ ابن خلدون نے فقہ کی تعریف میں لکھا ہے
افعال مکلفین کی بابت اس حیثیت سے احکام الہٰی کے جاننے کا نام فقہ ہے کہ وہ واجب ہیں یامحظور، ممنوع وحرام، مستحب اور مباح ہیں یامکروہ۔

مندرجہ بالا تعریفات واضح کرتی ہیں کہ فقۂ اسلامی سے مراد ایسا علم و فہم ہے، جس کے ذریعے قرآن و حدیث کے معانی و اشارات کا علم ہو جائے اور احکامات کی مخصوص دلائل کے ذریعے معرفت حاصل ہو، جیسے نماز کی فرضیت کا علم
اَقِيْمُو الصَّلٰوۃ   کے ذریعے حاصل ہوا، زکوٰۃ کی فرضیت کا علم 
اٰتُوا الزَّکٰوۃَ  کے ذریعے حاصل ہوا





علم فقہ کا موضوع 


مکلّف آدمی کا فعل ہے جس کے احکام سے اس علم میں بحث ہوتی ہے، مثلاً انسان کے کسی فعل کا صحیح، فاسد، فرض وواجب، سنت ومستحب، یاحلال وحرام ہونا وغیرہ۔

فقہ کی غرض وغایت 


سعادت دارین کی کامیابی اور علم فقہ کے ذریعہ شرعی احکام کے مطابق عمل کرنے کی قدرت۔

فقیہ 


فقیہ (Jurist) اس پیشہ ور کو کہتے ہیں جو قانون کا مطالعہ کرتا ہے یا دوسری صورت میں قانون سے متعلق کوئی رائے تیار کرتا ہے، جو بعد میں صلح و مشورہ کے کام دیتی ہے یا نیا قانون نافذ کرنے میں کام آتی ہے

ضرورت فقہ 


انسان کی مکمل زندگی میں عقائد، عبادات، معاملات اور معاشرت وغیرہ سے متعلق شرعی احکام و مسائل ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں قرآن، حدیث اور صحابہ وغیرہ کے اقوال میں بکھرے پڑے ہیں، اب ہر انسان یہ چاہتا ہے کہ میں ہر مسئلہ بلاواسطہ قرآن، حدیث اور آثار صحابہ وغیرہ سے خود ہی تلاش کرلوں گا یہ ایک ناممکن اور بے حد دشوار ہے اس کے ناممکن ہونے کی وجوہات بہت ساری ہیں مثلاً

 انسان کی اپنی اپنی لامتناہی مصروفیات


شریعت کے تمام احکام عربی زبان میں ہیں اور ہر انسان عربی زبان سے واقف نہیں ہوتا اور ہوتا بھی ہے تو اس کے معانی مختلف ہونے کی وجہ سے صحیح معنی تک اس کا پہنچنا دشورا ہوتا ہے

شریعت کے بعض احکام ایسے ہیں جو آیات قرآني اور احادیثِ صحیحہ سے صراحۃ ثابت ہیں لیکن بعض احکام ایسے ہیں کہ جن میں کسی قدر ابہام و اجمال ہے اور بعض آیات و احادیث ایسی ہیں جو چند معانی کا احتمال رکھتی ہیں اور کچھ احکام ایسے ہیں جو بظاہر قرآن کی کسی دوسری آیت یا کسی دوسری حدیث سے متعارض معلوم ہوتی تو وہاں اجتہاد و استنباط سے کام لینا پڑتا ہے اور خود زبان نبوت سے اس کی تائید و تصویب بھی ہوتی ہے

 ترمذی، باب ماجاء فی القاضی کیف یقضی،حدیث نمبر:1249

اور اجتہاد و استنباط ہر ايك كے بس كی بات نہیں؛ ایسے موقع پر عمل کرنے والے کے لیے الجھن اور دشواری یہ پیدا ہوتی ہے کہ وہ اپنا عمل شریعت کے مطابق کیسے بنائے؟ کس پر عمل کرے اور کونسا راستہ اختیار کرے؟ اسی الجھن کی وجہ سے خود صحابہ کرام حضور صلی اللّه علیہ و آلہ وسلم کی موجودگی میں بلاواسطۂ نبی قرآن کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے تھے بلکہ كچھ خاص صحابہ کرام حضور صلی اللّه علیہ و آلہ وسلم کے پاس جاکر قرآنی تعلیمات مستقل طورپر سمجھا کرتے تھے۔

اسی طرح حضور صلی اللّه علیہ و آلہ و سلم کے بعد ہر شخص قرآن و حدیث سے بغیر کسی واسطے کے کوئی مسئلہ اپنے لیے تجویز نہیں کرتا تھا بلکہ جو عالم صحابہ کرام تھے ان سے مسئلہ معلوم کرکے عمل کیا کرتا تھا اسی طرح ہر زمانہ میں ہوتا رہا۔ بہرحال بعض حضرات ہر زمانے میں ایسے رہے جو قرآن و حدیث کے علوم میں ماہر، فہم و بصیرت میں اعلی، تقویٰ اور طہارت میں فائق اور حافظہ و ذکاوت میں اوقع تھے لوگ ان ہی سے مسائل معلوم کرکے عمل کرتے اور اپنی فہم و بصیرت پر بالکل اعتماد نہیں کرتے اور اگر ہر کوئی خود ہی اپنے مسئلہ کو قرآن و حدیث میں تلاش کرنے لگے تو گویا ایسا ہی ہو جائے گا جیسے کہ ہر شخص اپنے مرض کا علاج خود ہی طبی کتابوں میں تلاش کرلے ڈاکٹر وغیرہ کی اس کو ضرورت ہی نہیں اگر ایسا ہوا تو کیا ہر مریض اپنے مرض کا علاج ان كتابوں ميں تلاش کر پائے گا؟ ہرگز نہيں؛ بالکل اسی طرح دینی و شرعی مسئلہ کو سمجھیں کہ اس کا حل ہر کوئی نہیں کر سکتا۔ بہرحال جو لوگ قرآن و حدیث کو مکمل طور پر سمجھے ہیں اور اپنی مکمل زندگی کو مسائل کے حل کرنے اور قرآن و حدیث کے مطابق اس کو ڈھالنے میں وقف کر دیا اور ہر مسئلہ کا جواب قرآن و حدیث اور اس کے مطابق اصول کی روشنی میں بتایا ان میں مقبول چار حضرات کے مکاتب فکر ہوئے ہیں جن کے نام یہ ہیں، امام ابو حنیفہ امام شافعی، امام مالک اور امام احمد بن حنبل،ان حضرات کے بعد ان کے شاگرد حضرات ہر ایک کا مسئلہ قرآن و حدیث اور ان حضرات کے بتائے ہوئے اصول کے مطابق بتلایا کرتے تھے اسی طرح یہی معمول اب تک چلا آیا اور آئندہ بھی چلتا رہے گا ۔

صاحب الاشباہ والنظائر نے فقہ کی عظمت کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے

الفقۃ أشرف العلوم قدراً وأعظمھا أجرا وأتمھا عائدۃ وأعمھا فائدۃ وأعلاھا مرتبہ یملا العیون نوراً والقلوب سروراً والصدور انشراحاً


علم فقہ تمام علوم میں قدرومنزلت کے اعتبار سے بڑھا ہوا ہے اور اجر کے اعتبار سے بھی اس کا مرتبہ اونچا ہے، علم فقہ اپنے مقام ورتبہ کے اعتبار سے بھی بہت بلند ہے اور وہ آنکھوں کو نور اور جلا بخشتا ہے، دل کو سکون اور فرحت بخشتا ہے اور اس سے شرح صدر حاصل ہوتا ہے۔


 اور صاحب درمختار نے علم فقہ کی عظمت کا یوں تذکرہ کیا ہے۔



وخیر علوم علم فقہ ؛لانہ یکون الی العلوم توسلاً ؛فان فقیھا واحداً متورعاً علی الف ذی زھد تفضل واعتلیٰ ،تفقہ فان الفقہ افضل قائد الی البر والتقوی وأعدل قاصد وکن مستفیدا کل یوم زیادۃ من الفقہ واسبح فی بحور الفوائد


تمام علوم میں قدر و منزلت اور مقام و رتبہ کے اعتبار سے سب سے بہتر علم فقہ ہے، اس لیے کہ علم فقہ تمام علوم تک پہنچنے کا وسیلہ اور ذریعہ ہے، اسی وجہ سے ایک متقی فقیہ ہزار عابدوں پر بھاری ہوتا ہے، علم فقہ کو حاصل کرنا چاہیے، اس لیے کہ علم فقہ نیکی اور تقویٰ کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور ہر دن علم فقہ سے مستفید ہوتے رہنا چاہیے، اس کے سمندر میں غوطہ زنی کرنا چاہیے۔

109 comments / Replies

  1. فقہ....... کی ایک اہم اصطلاح ہے

    ReplyDelete
  2. فقہ کے لغوی معنی ہیں کسی شے کو جاننا اور اس کی........ حاصل کرنا

    ReplyDelete
  3. حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی فقہ کا معنی......... کے لئیے استعمال ہو ہے

    ReplyDelete
  4. ایک فقیہ شیطان پر....... سے بھاری ہے

    ReplyDelete
  5. عابد کی عبادت........ ہوتی ہے

    ReplyDelete
  6. ایک ہزار عبادت کرنے والوں

    ReplyDelete
  7. فقہ کا لفظ....... کے لئیے مخصوص ہے

    ReplyDelete
  8. فقہ نفس کے حقوق اور........ جاننے کا نام ہے

    ReplyDelete
  9. Replies
    1. آپ کون سی ہیں اب
      اوپر نام unknown آرہا
      نام لکھیں اپنا جا کر سیٹ کریں

      Delete
    2. یعنی منع

      Delete
  10. احکام فرعیہ شریعہ....... کو تفصیلی دلائل سے جاننے کا نام فقہ ہے

    ReplyDelete
  11. فقہ ____ کے حقوق اور واجبات و فرائض جاننے کا نام ہے ۔

    ReplyDelete
  12. شریعت کے تمام احکام ____ زبان میں ہیں

    ReplyDelete
  13. علم فقہ آنکھوں کو _____ اور جلا بخشتا ہے

    ReplyDelete
  14. علم فقہ نیکی اور _____ کی طرف رہنمائی کرتا ہے

    ReplyDelete

Powered by Blogger.