Makkah Mukarmah Madeena Munawrah or Qaduani

"مکہ مکرمہ مدینہ منورہ اور قادیانی" 


"ان اول بیت وضع للناس" 

بے شک پہلا گھر (بیت اللّہ) لوگوں کے لیے بنایا گیا 

(القرآن)

انوار تجلیات، فیوض و برکات، عقیدت و افتخار کے لحاظ سے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ دو ایسے روحانی و نورانی مراکز ہیں. جن کی روئے زمین پر نظیر نہیں ملتی. مکہ فضیلتوں کا شہر ہے. یہاں اللّہ تعالیٰ کا وہ گھر ہے جسے ابراہیم علیہ السلام و اسماعیل علیہ السلام نے مل کر بنایا. اس شہر میں انبیاء کے امام جناب محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادت و باسعادت ہوئی. یہی وہ شہر ہے جس کی اللّہ تعالیٰ قرآن مجید میں قسمیں کھاتا ہے. یہی وہ شہر ہے جسے مختلف محبوب ناموں سے کبھی بلدالامین، کبھی ام القری اور کبھی حرم امن کے نام سے یاد کیا گیا. اس شہر کو ارض قرآن ہونے کا شرف حاصل ہے. بیت اللّہ میں پڑھی جانے والی ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے. مکہ عابدوں کی جگہ ہے. مدینہ عاشقوں کا مقام ہے. مدینہ میں سرکار دو عالم ﷺ کا روضۂ اقدس ہے. جو مرجع خلائق ہے. کل روئے زمین پر ایسے آستانہ جو دو کرم کی مثال نہیں ملتی. یہاں شاہ گدا سبھی بھکاری ہیں. اس سر زمین کی فضیلت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس مٹی کے ذروں نے رحمت عالم ﷺ کی قدم بوسی کا اعزاز حاصل کیا. اس سر زمین کی معراجِ قسمت، کہ امام انبیاء ﷺ اسی میں پردہ نشین ہیں.
یہی وہ شہر ہے جہاں گنبد خضری کی بہاروں سے فضا گلفام ہے. ستر ہزار ملائکہ روزانہ درود و سلام کے لیے حاضر ہوتے ہیں. مدینہ میں ہر دن عید اور ہر شب، شب سعید ہے

سراجا منیرا نگار مدینہ
تجلی مکہ بہار مدینہ

مرزا غلام قادیانی کا دل جناب رسالت مآب ﷺ کی ذات اور آپ ﷺ کے دونوں شہروں کے بارے میں بغض اور عداوت سے بھرا پڑا تھا. وسائل کے باوجود اس کا ارتدادی جذبہ اور زندیقیت اسے مکہ اور مدینہ نہ لے جاسکا اور نہ اسے مرکز مہرو وفا کا دیدار کرنے کی توفیق ہوئی

مرزا قادیانی کے زمانہ حیات (1891) میں معروف سیرت نگار قاضی سلمان منصور پوری رحمتہ اللّہ علیہ نے فرمایا کہ حضرت مسیح علیہ السلام حج کریں گے، عمرہ کریں گے. مدینہ طیبہ میں حاضری دیں گے اور نزول کے پینتالیس سال بعد فوت ہوکر روضۂ طیبہ میں دفن ہوں گے. مرزا قادیانی خود کو مسیح کہتا ہے لیکن:
🚫 " میں نہایت جزم کے ساتھ بآواز بلند کہتا ہوں کہ حج بیت اللّہ مرزا قادیانی کے نصیب میں نہیں. میری اس پیشگوئی کو سب صاحب یاد رکھیں

 (تائید السلام ص 116)

اس اعلان کے پندرہ سال بعد تک مرزا قادیانی آنجہانی زندہ رہا مگر اسے حرمین کی حاضری سے قدرت نے محروم رکھا. جس طرح جناب رسالت مآب ﷺ کے مقابل مرزا قادیانی نے اپنی جھوٹی خانہ ساز نبوت کا ڈھونگ رچایا اسی طرح مرزا قادیانی اپنے مرکز قادیان کو مکہ و مدینہ سے برتر ثابت کرنے میں مختلف نوعیت کے دعوے کرتا رہا





اس بارے میں اس کی خرافات کا نمونہ یہ ہے
🚫" اس روز کشفی طور پر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی صاحب مرحوم مرزا غلام قادر میرے قریب بیٹھ کر بآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے ہیں اور پڑھتے پڑھتے انہوں نے ان فقرات کو پڑھا کہ:

" انا انزلنا قریباً من قادیان "

 تو میں نے سن کر بہت تعجب کیا کہ کیا قادیان کا نام بھی قرآن شریف میں لکھا ہوا ہے؟ تب انہوں نے کہا کہ یہ دیکھو لکھا ہوا ہے. تب میں نے نظر ڈال کر جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ فی الحقیقت قرآن شریف کے دائیں صفحہ پر قریب نصف کے موقع پر یہی الہامی عبارت لکھی ہوئی موجود ہے. تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ ہاں واقعی طور پر قادیان کا نام قرآن شریف میں درج ہے.اور میں بے کہا تین شہروں کا نام اعزاز کے ساتھ قرآن شریف میں درج کیا گیا ہے. مکہ، مدینہ اور قادیان"
ازالہ اوہام (حاشیہ) ص76 حصہ اول، خزائن ص 140ج3،از مرزا غلام احمد قادیانی

--------------------------------------------------------------------

🚫" لوگ معمولی اور نفلی طور پر حج کرنے کو بھی جاتے ہیں مگر اس جگہ (قادیان میں آنا، ناقل) نقلی حج سے ثواب زیادہ ہے اور غافل رہنے میں نقصان اور خطر. کیونکہ سلسلہ آسمانی ہے اور حکم ربانی"
(آئینہ کمالات اسلام ص352، خزائن ص352ج5)

--------------------------------------------------------------------

🚫زمین قادیان اب محترم ہے
ہجوم خلق سے ارض حرم ہے.
(در ثمین ص52، از مرزا قادیانی)

------------------------------------------------------------------
🚫" حضرت مسیح موعود(مرزا) نے اس کے متعلق بڑا
 زور دیا ہے اور فرمایا ہے کہ جو بار بار یہاں (قادیان) نہیں آتے. مجھے ان کے ایمان کا خطرہ ہے. پس جو قادیان سے تعلق نہیں رکھے گا وہ کاٹا جائے گا. تم ڈرو کہ تم میں سے نہ کوئی کاٹا جائے. پھر تازہ دودھ کب تک رہے گا. آخر ماؤں کا دودھ بھی سوکھ جایا کرتا ہے. کیا مکہ اور مدینہ کی چھاتیوں سے یہ دودھ سوکھ گیا کہ نہیں "
(حقیقت الرویاص46، از مرزا بشیر الدین محمود)

--------------------------------------------------------------------

قارئین کرام! مکہ ومدینہ طیبہ کی عظمت کو پامال کرنے والا مرزا غلام احمد قادیانی" ابرہہ " سے بھی بڑا کافر تھا اور اس کے ماننے والوں سے بائیکاٹ ہم سب کا ایمانی فریضہ ہے 


110 comments / Replies

  1. ان اول بیت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ReplyDelete
  2. مکہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کا شہر ہے

    ReplyDelete
  3. بیت اللّہ میں پڑھی جانے والی ایک نماز کا ثواب ایک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کے برابر ہے

    ReplyDelete
  4. مکہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کی جگہ ہے

    ReplyDelete
  5. زمین قادیان اب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہے

    ReplyDelete
  6. مرزا غلام احمدقادیانی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سےبھی بڑا کافر تھا

    ReplyDelete
  7. مرزا قادیانی کو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کی حاضری سےقدرت نے محروم رکھا

    ReplyDelete
  8. بے شک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لوگوں کے لیے بنایا گیا
    القرآن

    ReplyDelete
  9. مدینہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کا مقام ہے

    ReplyDelete
  10. This comment has been removed by the author.

    ReplyDelete
  11. زمین قادیان اب ___ہے

    ReplyDelete
  12. مدینہ میں ھر دن ____ ہےاور ہر شب ____ہے

    ReplyDelete
  13. اس شہر کو ارض _____ہونے کا شرف حاصل ہے

    ReplyDelete

Powered by Blogger.