Mozon or lakri par masah karne ka bayan

موزوں اور لکڑی پر مسح کرنے کا بیان




 سوال : کیا وضو میں پاؤں دھونے کا بدل (موجود)  ہے؟

جواب  : جی ہاں ! ثابت شدہ احادیث صحیحہ کثیرہ سے موزوں پر مسح کرنا پاؤں دھونے کا بدل ثابت ہے



سوال : کیا اس مسح کے جواز کیلیئے کوئی شرط ہے؟

جواب : جی ہاں! (موزوں)  کو طہارت پر پہننا اس (مسح) کے جواز کیلیئے شرط ہے



سوال  : کیا مسح کیلیئے توقیت (یعنی وقت کی تحدید) ہے؟

جواب  : جب وہ موزوں کو طہارت پر پہنے پھر بے وضو ہو جائے تو اس کیلیئے جائز ہے کہ ان پر ایک دن ایک رات مسح کرے اگر مقیم ہو اور تین دن اور تین راتیں (مسح کرے)  اگر مسافر ہو.پس جب بھی اس مدت میں وضو کرے تو سفر و حضر میں موزوں پر مسح کرے





سوال : ایک دن ایک رات یا تین دن تین راتوں کی ابتداء (موزوں)  کو پہننے کے وقت سے یا حدث کے وقت سے ہے؟

جواب : (موزوں) کو طہارت پر پہننے کے بعد حدث کے وقت کی ابتداء معتبر ہو گی مثلاً اس نے زوال کے بعد کامل وضو کیا اور طہارت پر موزے پہنے اور غروب کے وقت اسے حدث لاحق ہو گیا تو اس کیلیئے آئندہ دن کے غروب کے وقت تک ان پر مسح کرنا جائز ہے اور اسی پر مسافر کے مسح کو قیاس کیجیئے



سوال : کیا موزوں پر مسح اس شخص کیلیئے جائز ہے جس پر  غسل فرض ہو؟

جواب : موزوں پر مسح کرنا اس کیلیئے جائز نہیں بلکہ باقی بدن کے ساتھ پاؤں دھونا اس پر فرض ہے



سوال : اگر موزہ پھٹا ہوا ہو تو کیا اس پر مسح جائز ہے؟

جواب : اگر پھٹن زیادہ ہو اس حیثیت سے کہ پاؤں کی چھوٹی انگلیوں میں سے تین انگلیوں کی مقدار (پھٹن) سے ظاہر ہوتی ہو تو اس پر مسح جائز نہیں اور اگر اس (مقدار)  سے کم ہو تو  اس پر مسح جائز ہے


سوال : زیادہ پھٹن کی یہ مقدار ایک موزے سے لی جائے گی یا دونوں سے؟

جواب  : اس (مقدار) میں ایک موزے کی پھٹن نہیں. میری مراد یہ ہے کہ جب وہ دونوں موزوں کی پھٹن پاؤں کی تین انگلیوں کی مقدار ہو تو ان پر مسح جائز ہے اور اگر (پھٹن کی)  یہ مقدار ہر ایک (موزے) کی یا دونوں(موزوں) میں سے کسی ایک (موزے) کی ہو تو ان پر مسح جائز نہیں


سوال : موزوں پر کیسے مسح کرے؟

جواب : موزوں کی پشت پر انگلیوں کے ساتھ خط کھینچتے ہوئے مسح کرے اس طور پر کہ ہاتھوں کی انگلیوں کو پانی سے تر کرے پھر ان کو مکمل طور پر (موزوں کی پشت پر) رکھ دے پھر ان کو پاؤں کی انگلیوں سے پنڈلی کی طرف سے اسی طرح کھینچے اور ہر موزے کے مسح میں تین انگلیوں کی مقدار ضروری ہے


سوال : کون سی شے اس مسح کو توڑ دیتی ہے؟

جواب : جو (شے) وضو کو توڑ دیتی ہے وہ اس کو توڑ دیتی ہے اور نیز  موزے کا اتارنا اور مدت کا گزر جانا اس کو توڑ دیتا ہے


سوال : جب مدت گزر جائے یا دونوں موزوں میں سے ایک یا دونوں کو اتار دے اور وضو کے نواقض میں سے کوئی شے نہ پائی جائے تو وہ کیا کرے؟

جواب : ان دونوں صورتوں میں وہ صرف اپنے پاؤں دھوئے اور نماز پڑھے باقی وضو کو لوٹانا اس پر لازم نہیں


سوال : تحقیق آپ نے ذکر فرمایا ہے کہ مقیم ایک دن اور ایک رات اور مسافر تین دن اور تین راتیں مسح کرے تو اس شخص کے بارے میں تمھارا قول کیا ہے جو مسافر تھا پس مقیم ہو گیا یا مقیم تھا پھر مسافر کو گیا؟

جواب : جس نے مسح شروع کیا اس حال میں کہ وہ مسافر تھا پھر وہ مقیم ہو گیا پس اگر وہ ایک دن اور ایک رات یا (اس سے)زیادہ (مدت)  مسح کر چکا ہے تو موزے اتارنا اس پر لازم ہے اور اگر (ایک دن اور ایک رات) سے کم (مدت) ہوئی ہے تو ایک دن اور ایک رات کا مسح مکمل کرے اور جس نے مسح شروع کیا اس حال میں کہ وہ مقیم تھا پس ایک دن اور ایک رات پورے ہونے سے پہلے وہ مسافر ہو گیا تو مکمل تین دن اور تین راتیں مسح کرے



سوال : اس شخص کے بارے میں آپ کا قول کیا ہے جس نے موزے کے اوپر کالوش پہن لیا (تو)  کیا اس پر مسح جائز ہے؟

جواب : جی ہاں ! اس پر مسح جائز ہے جبکہ حدث لاحق ہونے سے پہلے پہنا ہو 



سوال : جرابوں پر مسح کا حکم کیا ہے؟

جواب : ان پر مسح جائز نہیں مگر یہ کہ مجلّد یا منعل ہوں یہ (حکم) حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللّه کے نزدیک ہے اور حضرت ابو یوسف و حضرت محمد رحمہما اللّه فرماتے ہیں کہ ان پر مسح جائز ہے جبکہ وہ اتنی گاڑھی ہوں کہ نہ چھنتی ہوں



سوال : موزوں کے علاوہ کسی(چیز)پر مسح  میں آپ کا قول کیا ہے؟

جواب : پٹی پر مسح جائز ہے جبکہ اسے ضرورت علاج کے تحت زخم یا ٹوٹے ہوئے عضو پر باندھا گیا ہو اور اسی طرح لکڑی پر (مسح جائز ہے) جبکہ اسے ٹوٹے ہوئے عضو پر باندھا گیا ہو جیسے بازو اور پنڈلی



سوال : کیا پٹی اور لکڑی پر مسح کی صحت میں ان کو طہارت پر باندھنا شرط ہے؟

جواب : ان مسح میں یہ شرط نہیں پس اگر ان کو بے وضو باندھا پھر وضو کرنا چاہا تو ان پر مسح جائز ہے. 


سوال : اگر زخم اچھا ہونے کے بعد پٹی کھول دی اور اسے گرا دیا تو کیا اس کا مسح باقی ہے؟
جواب : اس صورت میں پٹی یا لکڑی کا مسح باطل ہو جاتا ہے. پس اگر وہ اس سے پہلے وضو کر چکا تھا اور (وضوء)  میں پٹی یا لکڑی پر اس نے مسح کیا پھر ان کی ضرورت  نہ ہونے کی بنا پر ان کو کھول دیا اور پھینک دیا اور نواقض وضو میں سے کوئی ناقض پیش نہیں آیا تو وہ (صرف) پٹی اور لکڑی کی جگہ کو دھوئے پھر نماز پڑھے


سوال : کیا پگڑی, ٹوپی, برقع اور دستانوں پر مسح جائز ہے؟

جواب : ان اشیاء پر مسح جائز نہیں

101 comments / Replies

  1. اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

    ReplyDelete
  2. جی ہاں! (موزوں) کو طہارت پر پہننا اس (مسح) کے جواز کیلیئے_____ ہے

    ReplyDelete
  3. پس جب بھی اس مدت میں وضو کرے تو ______ و حضر میں _____ پر مسح کرے

    ReplyDelete
  4. اس نے زوال کے بعد ____ وضو کیا اور طہارت پر موزے پہنے اور غروب کے وقت اسے ____ لاحق ہو گیا

    ReplyDelete
  5. جو (شے) وضو کو توڑ دیتی ہے وہ اس کو توڑ دیتی ہے اور نیز ____ کا اتارنا اور مدت کا گزر جانا اس کو توڑ دیتا ہے

    ReplyDelete
  6. حضرت ابو یوسف و حضرت ____ فرماتے ہیں کہ ان پر مسح جائز ہے جبکہ وہ اتنی گاڑھی ہوں کہ نہ ______ ہوں

    ReplyDelete
  7. This comment has been removed by the author.

    ReplyDelete
  8. نواقض وضو میں سے کوئی ناقض پیش نہیں آیا تو وہ (صرف) ___ اور ____ کی جگہ کو دھوئے پھر نماز پڑھے

    ReplyDelete

Powered by Blogger.