Nimaz ka bayan

نماز کا بیان

 

سوال : اسلام میں نماز کا حکم کیا ہے؟
جواب : نماز لاٙ اِلہٙ اِلّا اٙللّٰہ مُحٙمّٙد رٙسُوْلُ اللّٰہ  کی گواہی دینے کے بعد اسلام کے ارکان میں سب سے بڑا (رکن) ہے اور یہ اسلام کا ستون ہے اللّه تعالی نے قرآن کریم میں بار بار اس کو قائم کرنے کا حکم فرمایا ہے اور یہ مردوں اور عورتوں میں سے ہر بالغ عاقل پر فرض ہے اور جو اس کی فرضیت کا انکار کرے وہ ملت اسلام سے خارج ہو جاتا ہے






سوال : کب اولاد کو نماز کا حکم کیا جائے؟

جواب : نبی پاک صلی اللّه علیہ وسلم نے فرمایا " اپنی اولاد کو نماز کا حکم کرو اس حال میں کہ وہ سات برس کی عمر کے ہوں اور ان کو (نماز نہ پڑھنے) پر مارو اس حال میں کہ وہ دس (برس)  کی عمر کے ہوں اور خوابگاہوں میں ان کے درمیان تفریق کرو اور ایک روایت میں ہے کہ "بچے کو نماز سکھاؤ اس حال میں کہ سات سال کی عمر کا ہو اور (نماز نہ پڑھنے) پر اس کو مارو اس حال میں کہ دس (سال) کی عمر کا ہو" اور والد کا اولاد کو نماز کا حکم کرنے میں دیکھ بھال کرنا واجب میں سے ہے


اللّه تعالی شانہ فرماتے ہیں  

وٙاْمُرْ اٙھْلٙکٙ بِالصّٙلٰوْۃِ وٙاصْطٙبِرْ عٙلٙیْھٙا


(طہ ١٣٢)


ترجمہ : اور اپنے متعلقین کو بھی نماز کا حکم کرتے رہیے اور خود بھی اس کے پابند رہیے


نماز کے اوقات اور اول (اوقات) آخری (اوقات) اور مستحب (اوقات)  کا بیان


سوال : ادا (نماز)شب و روز میں کتنی مرتبہ فرض ہوتی ہے؟

جواب : ادا نماز شب و روز میں پانچ اوقات میں پانچ مرتبہ فرض ہوتی ہے اور ان (اوقات)میں سے ہر وقت کی ابتداء اور انتہا ہے


سوال : پانچوں اوقات  اور ان کے اول (اوقات) اور آخری (اوقات) بیان کیجیئے ؟

جواب : اول  نماز ظہر کا وقت حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللّه کے نزدیک اس کی ابتداء زوال آفتاب کے بعد سے ہے اور اس کی انتہا اس وقت ہے جب ہر چیز کا سایہ زوال کے سایہ کے سوا اس (چیز) سے دو گنا ہو جائے اور حضرت ابو یوسف رحمہ اللّه و حضرت محمد رحمہ اللّه فرماتے ہیں کہ (نماز ظہر) کا وقت زوال (آفتاب) کے بعدہر چیز کا سایہ زوال کے سایہ کے علاوہ اس (چیز) کے برابر ہونے تک ہے

دوم  نماز عصر کا وقت,اس کا اول وقت تب ہوتا ہے جب دونوں قولوں کے اختلاف پر ظہر کا وقت نکل جائے اور اس کاآخری وقت آفتاب غروب نہ ہونے تک ہے

سوم نماز مغرب کا وقت, اس کا اول وقت تب ہوتا ہے جب آفتاب غروب ہو جائے اور اس کا آخری وقت شفق غائب نہ ہونے تک ہے

چہارم نماز عشاء کا وقت,اس کا اول وقت تب ہوتا ہے جب شفق غائب ہوجائے اور اس کا آخری وقت فجر ثانی طلوع نہ ہونے تک ہے
پنجم نماز فجر کا وقت, اس کا اول وقت تب ہوتا ہے جب فجر ثانی طلوع ہو جائے اور اس کا آخری وقت طلوع آفتاب نہ ہونے تک ہے 


سوال : شفق کیا ہے؟

جواب : غروب آفتاب کے بعد مغرب کی طرف دیکھئے آپ کو غروب (آفتاب) کے بعد افق (یعنی آسمان کے کنارے)پر سرخی ملے گی اور وہ افق پر تقریبا چالیس منٹ یا زائد (وقت) باقی رہتی ہے اور وہ سرخی تھوڑی تھوڑی کم ہوتی جاتی ہے پس جب یہ سرخی چلی جاتی ہے تو اس افق پر (سرخی) کے پیچھے سفیدی آجاتی ہے اور یہ سرخی پھر اس کے بعد سفیدی ان میں سے ہر ایک پر شفق کا اطلاق ہوتا ہے پس حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللّه سےفرماتے ہیں کہ تحقیق شفق یہاں سفیدی ہی ہے پس جب سفیدی چلی جائے (تو) مغرب کا وقت نکل گیا اور عشاء کا وقت داخل ہو گیا اور آپ رحمہ اللّه کے صاحبین حضرت ابو یوسف و حضرت محمد رحمہما اللّه فرماتے ہیں کہ تحقیق شفق سرخی ہی ہے پس جب سرخی غائب ہو جائے تو مغرب کا وقت چلا گیا اور عشاء کا وقت داخل ہو گیا 


سوال : فجر ثانی کیا ہے؟

جواب : جب رات جانے کے قریب ہو تو آپ کو شرقی افق میں ستون کی مانند طولاً نور ملے گا پس وہ نور فجر اول,صبح کاذب اور فجر مستطیل ہے پھر اس کے پیچھے  اندھیرا  آتا ہے (جو) افق پر چھا جاتا ہے پھر اندھیرے کے بعد عرضاً پھیلنے والا نمودار ہوتا ہے اور اس میں قدرے قدرے اضافہ ہوتا ہے پس یہ بلند ہونے والا نور فجر ثانی اور صبح صادق ہے اور اس کا نام صبح مستنیر اور صبح مستطیر(بھی) رکھا جاتا ہے



سوال : فرض نمازوں میں سے ہر وقت کی رکعتوں کی تعداد بیان کیجیئے؟

جواب : ظہر, عصر اور عشاء کے وقت میں فرض چار رکعت, مغرب میں تین رکعت اور فجر میں دو رکعت ہیں



سوال : کیا ان نمازوں کے ساتھ مذکورہ (رکعتوں) کے علاوہ کوئی اور نماز (مشروع) ہے؟

جواب : مذکورہ (رکعتوں)  کے علاوہ نمازیں مشروع ہیں لیکن وہ فرض نہیں ہیں پس ان میں سے وتر ہے اور وہ واجب ہے اور فرائض اور واجب کے علاوہ سنتیں ہیں حدیث شریف میں جنکی فضیلت وارد ہوئی ہے اوت ہم عنقریب ان کو ذکر کریں گے انشاءاللّه  تعالی



سوال : نماز وتر کا وقت بیان کیجیئے؟

جواب : وتر کا وقت وہ عین عشاء کا وقت ہے مگر یہ کہ ترتیب کے واجب ہونے کی وجہ سے نماز وتر عشاء کے فرض سے پہلے جائز نہیں اور نماز وتر کا آخری وقت فجر ثانی طلوع نہ ہونے تک ہے



سوال : کیا نمازوں کے اوقات میں بعض (اوقات) کو بعض پر فضیلت حاصل ہے؟


جواب : جی ہاں ! اس میں تفصیل ہے اور وہ درج ذیل ہے 

1

  نماز فجر میں اسفار مستحب ہے پس وہ (نماز فجر) میں اسفار میں داخل ہو اور مسنون قرأت کے ساتھ لوٹا سکے اور اس کو اتنا مؤخر نہ کرے کہ طلوع آفتاب میں شک واقع ہو جائے

2

 موسم گرما میں نماز ظہر میں ابراد یعنی تاخیر مستحب ہے اور موسم سرما میں اسکی تعجیل مستحب ہے

3

 موسم گرما اور سرما میں نماز عصر کی تاخیر مستحب ہے جبکہ آفتاب متغیر نہ ہو اور (آفتاب) کا تغیر اس حیثیت سے ہے کہ اگر آپ (آفتاب) کی طرف دیکھیں تو آپ کی آنکھ اس کو دیکھنے سے چکا چوند نہ ہو

موسم گرما اور موسم سرما میں مغرب کی تعجیل مستحب ہے 

تہائی رات تک عشاء کی تاخیر مستحب ہے
 یہ (تفصیل) عام حالات اور عام دنوں میں ہے پس بہر حال جب بادل کا دن ہو تو اس میں عصر اور عشاء کی تعجیل مستحب ہےاور ان کے ماسوا کی تاخیر مستحب ہے

6

جو شخص رات کی نماز (یعنی تہجد) سے مانوس ہو اس کیلیئے مستحب ہے کہ نماز وتر کو رات کے آخر تک مؤخر کرے اگر بیدار ہونے پر اعتماد ہو. اور جسے (بیدار ہونے)  پر اعتماد نہ ہو اور اندیشہ ہو کہ فجر ثانی سے پہلے بیدار نہیں ہوگا تو سونے سے پہلے وتر پڑھ لے

170 comments / Replies

  1. : نماز لاٙ اِلہٙ اِلّا اٙللّٰہ مُحٙمّٙد رٙسُوْلُ اللّٰہ کی گواہی دینے کے بعد اسلام کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سب سے بڑا (رکن) ہے اور یہ اسلام کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہے

    ReplyDelete
  2. السلام علیکم و عحمۃ اللہ و برکتہ

    ReplyDelete
    Replies
    1. وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

      Delete
    2. وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ وبرکاتہ

      Delete
  3. نماز اسلام کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہے

    ReplyDelete
  4. نماز مردو زن میں ہر ۔۔۔۔۔۔۔۔پر فرض ہے

    ReplyDelete
  5. والد کا اولاد کو نماز کا حکم کرنا۔۔۔۔۔۔ہے

    ReplyDelete
  6. اوقات میں سے ہر ایک کی۔۔۔۔۔۔اور ۔۔۔۔۔ہے

    ReplyDelete
  7. یہ مردوں اور عورتوں میں سے ہر بالغ عاقل پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہے

    ReplyDelete
  8. ظہر کا وقت حضرت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کے نزدیک اس کی ابتداء ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کے بعد سے ہے اور اس کی انتہا اس وقت ہے جب ہر چیز کاسایہ زوال کے سایہ کے سوا اس (چیز) سے ۔۔۔۔۔۔ گنا ہو جائے

    ReplyDelete
    Replies
    1. This comment has been removed by the author.

      Delete
    2. امام ابو حنیفہ
      زوال آفتاب

      دو گنا

      Delete
    3. ابو حنیفہ
      زوال افتاب۔دوگنا

      Delete
    4. ابو حنیفہ
      زوال آفتاب
      دو

      Delete
    5. امام ابو حنیفہ
      زوال آفتاب
      دوگنا

      Delete
    6. امام ابو حنیفہ زوال آفتاب دوگنا

      Delete
    7. امام ابو حنیفہ
      زوال آفتاب

      دو گنا

      Delete
    8. ابو حنیفہ
      زوال آفتاب
      دو

      Delete
    9. ابو حنيفہ
      زوال آفتاب
      دوگنا

      Delete
  9. جو اس کی فرضیت کا انکار کرے وہ ملت اسلام سے
    ۔۔۔۔۔۔۔ ہو جاتا ہے

    ReplyDelete

  10. سوم نماز مغرب کا وقت, اس کا اول وقت تب ہوتا ہے جب آفتاب غروب ہو جائے اور اس کا آخری وقت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔غائب نہ ہونے تک

    ReplyDelete
  11. پس ان میں سے وتر ہے اور وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ہے

    ReplyDelete
  12. نماز فجر میں اسفار۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہے

    ReplyDelete

  13. موسم گرما اور سرما میں نماز عصر کی تاخیر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہے جبکہ آفتاب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ ہو

    ReplyDelete
  14. موسم گرما اور موسم سرما میں مغرب کی تعجیل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہے

    ReplyDelete
  15. حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔کہ تحقيق شفق یہاں ...... ہی ہے۔

    ReplyDelete
  16. رکتعوں کے علاوہ نمازیں مشروع ہیں۔لیکن وہ ..... نہیں ہیں

    ReplyDelete
  17. تہائی رات تک عشا کی تاخير ..... ہے۔

    ReplyDelete

Powered by Blogger.