Surah Al-Fatiha

 1 سورۃ 

 الفاتحة


أَعـوذُ بِاللّهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ 

ترجمہ

شروع اللّه کے نام سے جو بےحد مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے۔

تفسیر


شروع اللّه کے نام سے جو بڑے مہربان نہایت رحم والے ہیں

 (آیت) (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ)  
سب تعریفیں اللّه کو لائق ہیں جو مربیّ ہیں ہر ہر عالم کے مخلوقات الگ الگ جنس ایک ایک عالم کہلاتا ہے مثلاً ملائکہ، عالم انسان، عالم جن 


الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ 
جو بڑے مہربان نہایت رحم والے ہیں


مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ جو مالک ہیں روز جزا کے
 مراد قیامت کا دن ہے جس میں ہر شخص اپنے عمل کا بدلہ پاوے گا


 اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ 
ہم آپ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور آپ ہی سے درخواست اعانت کی کرتے ہیں

اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ
 بتلا دیجئے ہم کو راستہ سیدھا 
(مراد دین کا راستہ ہے)


  ، صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ
 راستہ ان لوگوں کا جن پر آپ نے انعام فرمایا
 (مراد دین کا انعام ہے) 


غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّاۗلِّيْنَ 
، نہ راستہ ان لوگوں کا جن پر آپ کا غضب ہوا اور نہ ان لوگوں جو راستہ سے گم ہوگئے


 راہ ہدایت چھوڑنے کی دو وجہ ہوا کرتی ہیں ایک تو یہ کہ اس کی پوری تحقیق ہی نہ کرے ضالیّن سے ایسے لوگ مراد ہیں دوسری وجہ یہ ہے کہ تحقیق پوری ہونے کے باوجود اس پر عمل نہ کرے، مغضوب علیہم سے ایسے لوگ مراد ہیں کیونکہ جان بوجھ کر خلاف کرنا زیادہ ناراضگی کا سبب ہوتا ہے




معارف و مسائل 


سورة فاتحہ کے مضامین سورة فاتحہ سات آیتوں پر مشتمل ہے جن میں سے پہلی تین آیات میں اللّه تعالیٰ کی حمد وثناء ہے اور آخری تین میں انسان کی طرف سے دعاء و درخواست کا مضمون ہے جو رب العزت نے اپنی رحمت سے خود ہی انسان کو سکھایا ہے اور درمیانی ایک آیت میں دونوں چیزیں مشترک ہیں کچھ حمد وثناء کا پہلو ہے کچھ دعاء و درخواست کا

صحیح مسلم میں بروایت حضرت ابوہریرہ (رض) منقول ہے کہ رسول اللّه (صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ حق تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ نماز (یعنی سورة فاتحہ) میرے اور بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کی گئی ہے نصف میرے لئے ہے اور نصف میرے بندے کے لئے اور جو کچھ میرا بندہ مانگتا ہے وہ اس کو دیا جائے گا پھر رسول اللّه (صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ بندہ جب کہتا ہے اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ تو اللّه تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے میری حمد کی ہے اور جب وہ کہتا ہے الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ تو اللّه تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے میری تعریف وثناء بیان کی ہے اور جب بندہ کہتا ہے مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ تو اللّه تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی ہے اور جب بندہ کہتا ہے اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ تو اللّه تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ آیت میرے اور میرے بندے کے درمیان مشترک ہے کیونکہ اس میں ایک پہلو حق تعالیٰ کی حمد وثناء کا ہے اور دوسرا پہلو بندے کی دعاء و درخواست کا اس کے ساتھ یہ بھی ارشاد ہوا کہ میرے بندے کو وہ چیز ملے گی جو اس نے مانگی پھر جب بندہ کہتا ہے اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ (آخرتک) تو حق تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ سب میرے بندے کے لئے ہے اور اس کو وہ چیز ملے گی جو اس نے مانگی

157 comments / Replies

  1. اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

    ReplyDelete
  2. وعليكم السلام ورحمة الله و بر كا ته

    ReplyDelete
  3. و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکتہ

    ReplyDelete
  4. سورۃ الفاتحہ میں کتنی آیات ہیں؟

    ReplyDelete
  5. تمام تعریفیں کس کو لائق ہیں

    ReplyDelete
  6. روز جزا سے مراد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کا دن ہے

    ReplyDelete
  7. قیامت کے دن ہر انسان اپنے۔۔۔۔۔۔۔۔کا بدلہ پاوے گا۔

    ReplyDelete
  8. سیدھا راستہ۔۔۔۔۔۔۔کا راستہ ہے

    ReplyDelete
  9. سیدھے راستے والوں پر ۔۔۔۔۔۔۔فرمایا۔

    ReplyDelete
  10. راہ ہدایت چھوڑنے کی۔۔۔۔۔۔وجوہات ہوا کرتی ہیں

    ReplyDelete
  11. الضالین وہ لوگ جو راہ ہدایت کی پوری۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں کرتے

    ReplyDelete
  12. جن پہ غضب ہوا وہ وہ لوگ جو جانتے ہوئے بھی ۔۔۔۔۔۔نہیں کرتے

    ReplyDelete
  13. حق تعالٰی نے فرمایا نماز میرے اور بندے کے درمیان۔۔۔۔۔۔۔۔حصوں میں تقسیم ہے

    ReplyDelete
  14. ایک پہلو حق تعالیٰ کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کا ہے

    ReplyDelete
  15. درمیانی ایک آیت میں دونوں چیزیں ..... ہیں

    ReplyDelete
  16. جان بوجھ کر خلاف کرنا زیادہ....کا سبب ہے

    ReplyDelete
  17. ہم آ پ ہی کی عبادت کرتے ہیں اور آ پ ہی سے درخواست۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کرتے ہیں۔

    ReplyDelete

Powered by Blogger.