Surah Fatiha aayat 5-7 Tafseer

سورۃ نمبر 1 الفاتحة

آیات

  (5----7)  





آیت نمبر  5 



اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ 

لفظی ترجمہ

 اِيَّاكَ : صرف تیری   |  نَعْبُدُ : ہم عبادت کرتے ہیں   
|   وَ : اور   |  اِيَّاكَ : صرف تجھ سے   |  
 نَسْتَعِيْنُ : ہم
 مدد چاہتے ہیں 

ترجمہ

ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں


تفسیر


اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ

 اس آیت میں ایک پہلو حمد وثناء کا اور دوسرا دعاء و درخواست کا ہے

نَعْبُدُ عبادت سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں کسی کی انتہائی تعظیم و محبت کی وجہ سے اس کے سامنے اپنی انتہائی عاجزی اور فرمانبرداری کا اظہار

 نَسْتَعِيْنُ استعانت سے مشتق ہے، جس کے معنی ہیں کسی سے مدد مانگنا

 آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں انسان پر تین حالات گذرتے ہیں ماضی، حال مستقبل،

 پچھلی تین آیتوں میں سے اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ اور الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ 
میں انسان کو اس پر متنبہ کردیا گیا وہ اپنے ماضی اور حال میں صرف اللّه تعالیٰ کا محتاج ہے کہ اس کو ماضی میں نابود سے بود کیا اور اس کو تمام کائنات سے زیادہ بہترین شکل و صورت اور عقل و بصیرت عطا فرمائی اور حال میں اس کی پرورش اور تربیت کا سلسلہ جاری ہے

 اور مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ میں یہ بتادیا کہ مستقبل میں بھی وہ خدا ہی کا محتاج ہے، کہ روز جزاء میں اس کے سوا کسی کا مددگار نہیں ہوسکتا، اور جب ان تینوں آیتوں نے یہ واضح کردیا کہ انسان اپنی زندگی کے تینوں دور میں خدا ہی کا محتاج ہے تو اس کا طبعی اور عقلی تقاضا یہ ہوا کہ عبادت بھی صرف اسی کی کی جائے کیونکہ عبادت جو انتہائی تعظیم و محبت کے ساتھ اپنی انتہائی عاجزی اور تذلل کا نام ہے وہ کسی دوسری ہستی کے لائق نہیں اس کا نتیجہ لازمی یہ ہے کہ ایک عاقل انسان پکار اٹھے کہ ہم تیرے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے اسی مقتضائے طبع کو اِيَّاكَ نَعْبُدُ میں ظاہر فرمایا گیا ہے اور جب یہ معلوم ہوگیا کہ حاجت روا صرف ایک ہی ذات اللّه تعالیٰ کی ہے تو اقتضائے عقلی و طبعی یہ ہے کہ اپنے کاموں میں مدد بھی صرف اسی سے مانگنا چاہئے
 اسی اقتضائے عقل وطبع کو

 وَاِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ 

میں ذکر فرمایا گیا ہے
 (روح البیان)
غرض اس چوتھی آیت میں ایک حیثیت سے اللّه تعالیٰ کی حمد وثناء ہے کہ عبادت واعانت کے لائق صرف وہی ہے اور دوسری حیثیت سے انسان کی دعا و درخواست ہے کہ ہماری مدد فرمائے اور تیسری حیثیت اور بھی ہے کہ اس میں انسان کو تعلیم دی گئی ہے کہ اللّه کے سوا کسی کی عبادت نہ کرے اور حقیقی طور پر اللّه کے سوا کسی کو حاجت روا نہ سمجھے اور کسی کے سامنے دست سوال دراز نہ کرے کسی نبی یا ولی وغیرہ کو وسیلہ قرار دے کر اللّه  تعالیٰ سے دعا مانگنا اس کے منافی نہیں

 اس آیت میں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ارشاد یہ ہے کہ ہم تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں کسی کام میں مدد مانگتے ہیں اس کا ذکر نہیں۔

جمہور مفسرین نے لکھا ہے کہ اس کا ذکر نہ کرنے میں عموم کی طرف اشارہ ہے کہ ہم اپنی عبادت اور ہر دینی و دنیوی کام اور ہر مقصد میں صرف آپ کی مدد چاہتے ہیں پھر عبادت صرف نماز روزے کا نام نہیں امام غزالی نے اپنی کتاب اربعین میں عبادت کی دس قسمیں لکھی ہیں۔

 ١ نماز، ٢ زکوٰۃ، ٣ روزہ

 ٤ حج، ٥ تلاوت قرآن

 ٦ ہر حالت میں اللّه کا ذکر کرنا

 ٧ حلال روزی کے لئے کوشش کرنا

 ٨ پڑوسی اور ساتھی کے حقوق ادا کرنا

٩ لوگوں کو نیک کاموں کا حکم کرنا اور برے کاموں سے منع کرنا

١٠
 رسول اللّه (صلی اللّه  علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کا اتباع کرنا

اس لئے عبادت میں اللّه تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنے کے معنے یہ ہوگئے کہ نہ کسی کی محبت اللّه تعالیٰ کے
برابر ہو نہ کسی کا خوف اس کے برابر ہو نہ کسی سے امید اس کی طرح ہو نہ کسی پر بھروسہ اللّه کی مثل ہو نہ کسی کی اطاعت و خدمت اور کام کو اتنا ضروری سمجھے جتنا اللّه تعالیٰ کی عبادت کو نہ اللّه تعالیٰ کی طرح کسی کی نذر اور منت مانے نہ اللّه تعالیٰ کی طرح کسی دوسرے کے سامنے اپنی مکمل عاجزی اور تذلّل کا اظہار کرے نہ وہ افعال کسی دوسرے کے لئے کرے جو انتہائی تذلّل کی علامات ہیں جیسے رکوع و سجدہ۔

آیت    6


اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ 

لفظی ترجمہ

اِهْدِنَا : ہمیں ہدایت دے   |  الصِّرَاطَ : راستہ 
  |  الْمُسْتَقِيمَ : سیدھا 

ترجمہ

ہمیں سیدھا راستہ دکھا

تفسیر


آخری تین آیتیں جن میں انسان کی دعا و درخواست کا مضمون ہے اور ایک خاص دعا کی تلقین ہے یہ ہیں

 اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ
غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّاۗلِّيْنَ 

جس کا ترجمہ یہ ہے کہ بتلا دیجئے ہم کو راستہ سیدھا، راستہ ان لوگوں کا جن پر آپ نے انعام فرمایا نہ راستہ ان لوگوں کا جن پر آپ کا غضب کیا گیا اور نہ ان لوگوں کا جو راستہ سے گم ہوگئے

ان تینوں آیات میں چند باتیں قابل غور ہیں

تکمیل الدرایہ فی تفصیل درجات الہدایہ یہاں پہلی بات قابل غور یہ ہے کہ صراط مستقیم کی ہدایت کے لئے دعا جو اس آیت میں تعلیم فرمائی گئی ہے اس کے مخاطب جس طرح تمام انسان اور عامہ مؤمنین ہیں، اسی طرح اولیاء اللّه اور حضرات انبیاء (علیہم السلام) بھی اس کے مامور ہیں جو بلاشبہ ہدایت یافتہ بلکہ دوسروں کے لئے ہدایت کا سرچشمہ ہیں، پھر اس حاصل شدہ چیز کی باربار دعا مانگنے کا کیا مطلب ہے ؟

اس کا جواب ہدایت کی پوری حقیقت معلوم کرنے پر موقوف ہے اس کو کسی قدر تفصیل کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے جس سے سوال مذکور کے علاوہ ان تمام اشکالات کا بھی جواب معلوم ہوجاۓ گا جو مفہوم ہدایت کے متعلق قرآن کریم کے بہت سے مقامات میں عموماً پیش آتے ہیں اور ہدایت کی حقیقت سے ناآشنا قرآن کی بہت سی آیات میں باہمی تضاد واختلاف محسوس کرنے لگتا ہے

لفظ ہدایت کی بہترین تشریح امام راغب اصفہانی نے مفردات القرآن میں تحریر فرمائی ہے

 جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہدایت کے اصلی معنی ہیں کسی شخص کو منزل مقصود کی طرف مہربانی کے ساتھ رہنمائی کرنا اور ہدایت کرنا حقیقی معنی میں صرف اللّه تعالیٰ ہی کا فعل ہے جس کے مختلف درجات ہیں


ایک درجہ ہدایت کا عام ہے جو کائنات و مخلوقات کی تمام اقسام جمادات، نباتات، حیوانات وغیرہ کو شامل ہے یہاں آپ یہ خیال نہ کریں کہ ان بےجان بے شعور چیزوں کو ہدایت سے کیا کام ؟

کیونکہ قرآنی تعلیمات سے یہ واضح ہے کہ کائنات کی تمام اقسام اور ان کا ذرہ ذرہ اپنے اپنے درجے کے موافق حیات و احساس بھی رکھتا ہے اور عقل و شعور بھی، یہ دوسری بات ہے کہ یہ جوہر کسی نوع میں کم کسی میں زیادہ ہے اسی وجہ سے جن اشیاء میں یہ جوہر بہت کم ہے ان کو بےجان، بےشعور سمجھا اور کیا جاتا ہے احکام الٰہیہ میں بھی ان کے ضعف شعور کے آثار کا اتنا اثر آیا کہ ان کو احکام کا مکلّف نہیں بنایا گیا، جن مخلوقات میں حیات کے آثار تو نمایاں ہیں مگر عقل و شعور نمایاں نہیں ان کو ذی حیات جاندار مگر بےعقل و شعور کہا جاتا ہے اور جن میں حیات کے ساتھ عقل و شعور کے آثار بھی نمایاں نظر آتے ہیں ان کو ذوی العقول کہا جاتا ہے اور اسی اختلاف درجات اور عقل و شعور کی کمی بیشی کی وجہ سے تمام کائنات میں احکام شرعیہ کا مکّلف صرف انسان اور جنات کو قرار دیا گیا ہے کہ ان میں عقل و شعور بھی مکمل ہے مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ دوسری انواع و اقسام میں حیات و احساس یا عقل و شعور بالکل نہیں کیونکہ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے

وَاِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّايُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَلٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِيْحَهُمْ


 ( سورة بنی اسرائیل٤٤) 

یعنی کوئی چیز ایسی نہیں جو تعریف کے ساتھ اس کی پاکی (قالاً یاحالاً ) بیان نہ کرتی ہو لیکن تم لوگ ان کی پاکی بیان کرنے کو سمجھتے نہیں ہو

اور سورة نور میں ارشاد ہے

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ يُسَبِّحُ لَهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالطَّيْرُ صٰۗفّٰتٍ ۭ كُلٌّ قَدْ عَلِمَ صَلَاتَهٗ وَتَسْبِيْحَهٗ ۭ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِمَا يَفْعَلُوْنَ

 (آیت نمبر ٤١) 

یعنی کیا تجھ کو معلوم نہیں ہوا کہ اللّه تعالیٰ کی پاکی بیان کرتے ہیں سب جو کچھ آسمانوں میں اور زمین میں (مخلوقات) ہیں اور (بالخصوص) پرندے جو پر پھیلائے ہوئے اڑتے ہیں سب کو اپنی اپنی دعا اور تسبیح معلوم ہے اور اللّه تعالیٰ کو ان لوگوں کے سب افعال کا پورا علم ہے

ظاہر ہے کہ اللّه تعالیٰ کی حمد وثناء اور اس کی پاکی بیان کرنا اللّه تعالیٰ کی معرفت پر موقوف ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اللّه  تعالیٰ کی معرفت ہی سب سے بڑا علم ہے اور یہ علم بدون عقل شعور کے نہیں ہوسکتا اس لئے ان آیات سے ثابت ہوا کہ تمام کائنات کے اندر روح وحیات بھی ہے ادراک و احساس بھی عقل و شعور بھی مگر بعض کائنات میں یہ جو جوہر اتنا کم اور مخفی ہے کہ عام دیکھنے والوں کو اس کا احساس نہیں ہوتا اسی لئے عرف میں ان کو بے جان یا بے عقل کہا جاتا ہے اور اس بناء پر ان کو احکام شرعیہ کا مکلف بھی نہیں بنایا گیا قرآن کریم کا یہ فیصلہ اس وقت کا ہے جب دنیا میں نہ کہیں کوئی فلسفی تھا نہ کوئی فلسفہ مدون تھا بعد میں آنے والے فلاسفروں نے بھی اپنے اپنے وقت میں اس کی تصدیق کی قدیم فلاسفہ میں بھی اس خیال کے کچھ لوگ گذرے ہیں اور جدید فلاسفہ اور اہل سائنس نے تو پوری وضاحت کے ساتھ اس کو ثابت کیا ہے

الغرض ہدایت خداوندی کا یہ درجہ اولیٰ تمام مخلوقات، جمادات، نباتات، حیوانات، انسان اور جنات کو شامل ہے اسی ہدایت عامہ کا ذکر قرآن کریم کی آیت 

اعطٰی کل شیء خلقہ ثم ھدی


 (٥٠ : ٢٠)

 میں فرمایا گیا ہے یعنی اللّه تعالیٰ نے ہر چیز کو اس کی خلقت عطا فرمائی پھر اس خلقت کے مناسب اس کو ہدایت دی اور یہی مضمون سورة اعلیٰ میں ان الفاظ سے ارشاد ہوا

سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى الَّذِيْ خَلَقَ فَسَوّٰى وَالَّذِيْ قَدَّرَ فَهَدٰى

یعنی آپ اپنے پروردگار عالی شان کی تسبیح کیجئیے جس نے ساری مخلوقات کو بنایا پھر ٹھیک بنایا اور جس نے تجویز کیا پھر راہ بتائی۔

یعنی جس نے تمام مخلوقات کے لئے خاص خاص مزاج اور خاص خاص خدمتیں تجویز فرما کر ہر ایک کو اس کے مناسب ہدایت کردی

اسی ہدایت عامہ کا نتیجہ ہے کہ کائنات عالم کے تمام انواع واصناف اپنا اپنا مقررہ فرض نہایت سلیقہ سے ادا کر رہے ہیں جو چیز جس کام کے لئے بنادی ہے وہ اس کو ایسی خوبی کے ساتھ ادا کر رہی ہے کہ عقل حیران رہ جاتی ہے حضرت مولانا رومی نے اسی مضمون کو بیان فرمایا ہے

خاک وباد و آب وآتش بندہ اند 

بامن وتو مردہ باحق زندہ اند
زبان سے نکلی ہوئی آواز کے معنی کا ادارک نہ ناک کرسکتی ہے نہ آنکھ، حالانکہ یہ زبان سے زیادہ قریب ہیں اس ادراک کا فریضہ اللّه تعالیٰ نے کانوں کے سپرد کیا ہے وہی زبان کی بات کو لیتے ہیں اور ادراک کرتے ہیں

 دانائے روم نے خوب فرمایا

مر زبان را مشتری جز گوش نیست 

واقف این راز جز بےہوش نیست

اسی طرح کانوں سے دیکھنے یا سونگھنے کا کام نہیں لیا جاسکتا ناک سے دیکھنے یا سننے کا کام نہیں لیا جاسکتا 
سورة مریم میں اسی مضمون کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے


اِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اِلَّآ اٰتِي الرَّحْمٰنِ عَبْدًا


 (٩٣: ١٩)

یعنی کوئی نہیں آسمان اور زمین میں جو نہ آوے رحمٰن کو بندہ ہو کر 

دوسرا درجہ ہدایت کا اس کے مقابلے میں خاص ہے یعنی صرف ان چیزوں کے ساتھ مخصوص ہے جو عرف میں ذوی العقول کہلاتی ہیں یعنی انسان اور جن، یہ ہدایت انبیاء اور آسمانی کتابوں کے ذریعہ ہر انسان کو پہنچتی ہے پھر کوئی اس کو قبول کر کے مومن مسلم ہوجاتا ہے کوئی رد کرکے کافر ٹھہرتا ہے

تیسرا درجہ ہدایت کا اس سے بھی زیادہ خاص ہے کہ صرف مؤمنین ومتقین کے ساتھ مخصوص ہے یہ ہدایت بھی اللّه تعالیٰ کی طرف سے بلا واسطہ انسان پر فائض ہوتی ہے اس ہدایت کا دوسرا نام توفیق ہے یعنی ایسے اسباب اور حالات پیدا کردینا کہ قرآنی ہدایات کا قبول کرنا اور ان پر عمل کرنا آسان ہوجائے اور ان کی خلاف ورزی دشوار ہوجائے اس تیسرے درجے کی وسعت غیر محدود اور اس کے درجات غیرمتناہی ہیں یہی درجہ انسان کی ترقی کا میدان ہے اعمال صالحہ کے ساتھ ساتھ اس درجہ ہدایت میں زیادتی ہوتی رہتی ہے، قرآن کریم کی متعدد آیات میں اس زیادتی کا ذکر ہے

 مثلاً وَالَّذِيْنَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى

(١٧: ٤٧)


 وَمَنْ يُّؤ ْمِنْۢ بِاللّٰهِ يَهْدِ قَلْبَهٗ 

جو شخص اللّه پر ایمان لائے اس کے دل کو ہدایت کردیتے ہیں

وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَـنَهْدِيَنَّهُمْ سُـبُلَنَا


 (٦٩: ٢٩)

 جو لوگ ہمارے راستے میں مجاہدہ کرتے ہیں ہم ان کو اپنے راستوں کی مزید ہدایت کردیتے ہیں

یہی وہ میدان ہے جہاں ہر بڑے سے بڑا نبی و رسول اور ولی اللّه  آخر عمر تک زیادتی ہدایت و توفیق کا طالب نظر آتا ہے اسی مقام ہدایت کے متعلق مولانا رومی نے فرمایا


اے برادر بے نہایت در گہے ست 
ہرچہ بروے میرسی بروے مأیست
اور سعدی شیرازی نے فرمایا

نگویم کہ برآب قادر نیند
کہ برساحل نیل مستسقی اند

 درجات ہدایت کی اس تشریح سے آپ نے سمجھ لیا ہوگا کہ ہدایت ایک ایسی چیز ہے جو سب کو حاصل بھی ہے اور اس کے مزید درجات عالیہ حاصل کرنے سے کسی بڑے سے بڑے انسان کو استغناء بھی نہیں اسی لئے سورة فاتحہ کی اہم ترین دعا ہدایت کو قرار دیا گیا جو ایک ادنیٰ مومن کے لئے بھی مناسب حال ہے اور بڑے سے بڑے رسول اور ولی کے لئے بھی اتنی ہی اہم ہے یہی وجہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم) کی آخر عمر میں سورة فتح کے اندر فتح مکہ کے فوائد وثمرات بتلاتے ہوئے یہ بھی ارشاد ہوا کہ

 وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَـقِيْاً 

یعنی مکہ مکرمہ اس لئے آپ کے ہاتھوں فتح کرایا گیا تاکہ آپ کو صراط مستقیم کی ہدایت ہو

 ظاہر ہے کہ سید الانبیاء (صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم) پہلے سے نہ صرف ہدایت یافتہ بلکہ دوسروں کے لئے بھی ہدایت مجسم تھے پھر اس موقع پر آپ کو ہدایت ہونے کے اس کے سوا کوئی معنی نہیں ہوسکتے کہ ہدایت کا کوئی بہت اعلیٰ مقام آپ کو اس وقت حاصل ہوا

ہدایت کی اس تشریح سے آپ کے لئے فہم قرآن میں بہت سے فوائد حاصل ہوگئے
اوّل یہ کہ قرآن میں کہیں تو ہدایت کو ہر مومن و کافر کے لئے بلکہ کل مخلوقات کے لئے عام فرمایا گیا ہے اور کہیں اس کو محض متقین کے ساتھ مخصوص لکھا گیا جس میں ناواقف کو تعارض کا شبہ ہوسکتا ہے ہدایت کے عام و خاص درجات معلوم ہونے کے بعد یہ شبہ خود بخود رفع ہوجاتا ہے کہ ایک درجہ سب کو عام اور شامل ہے اور دوسرا درجہ مخصوص ہے

دوسرا فائدہ یہ ہے کہ قرآن میں ایک طرف تو جگہ جگہ یہ ارشاد ہے کہ اللّه تعالیٰ ظالمین یا فاسقین کو ہدایت نہیں فرماتے اور دوسری طرف مکرّر سکّرر یہ ارشاد ہے کہ اللّه تعالیٰ سب کو ہدایت فرماتے ہیں اس کا جواب بھی درجات کی تفصیل سے واضح ہوگیا کہ ہدایت عامہ سب کو کی جاتی ہے اور ہدایت کا تیسرا مخصوص درجہ ظالمین وفاسقین کو نصیب نہیں ہوتا

تیسرا فائدہ یہ ہے کہ ہدایت کے تین درجات میں سے پہلا اور تیسرا درجہ بلاواسطہ حق تعالیٰ کا فعل ہے، اس میں کسی نبی یا رسول کا دخل نہیں انبیاء (علیہم السلام) اور رسولوں کا کام صرف دوسری درجہ ہدایت سے متعلق ہے

قرآن کریم میں جہاں کہیں انبیاء (علیہم السلام) کو ہادی قرار دیا ہے وہ اسی دوسرے درجے کے اعتبار سے ہے اور جہاں یہ ارشاد ہے

 اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ 

(٥٦: ٢٨) 

یعنی آپ ہدایت نہیں کرسکتے جسکو چاہیں تو اس میں ہدایت کا تیسرا درجہ مراد ہے یعنی توفیق دینا آپ کا کام نہیں
الغرض اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ ایک جامع اور اہم ترین دعا ہے جو انسان کو سکھلائی گئی ہے، انسان کا کوئی فرد اس سے بےنیاز نہیں، دین اور دینا دونوں میں صراط مستقیم کے بغیر فلاح و کامیابی نہیں دنیا کی الجہنوں میں بھی صراط مستقیم کی دعا نسخہ اکسیر ہے مگر لوگ توجہ نہیں کرتے ترجمہ اس آیت کا یہ ہے کہ بتلا دیجئے ہم کو راستہ سیدھا


صراط مستقیم کونسا راستہ ہے ؟


سیدھا راستہ وہ ہے جس میں موڑ نہ ہوں، اور مراد اس سے دین کا وہ راستہ ہے جس میں افراط اور تفریط نہ ہو افراط کے معنی حد سے آگے بڑہنا اور تفریط کے معنی کوتاہی کرنا پھر اس کے بعد کی دو آیتوں میں اس صراط مستقیم کا پتہ دیا گیا ہے جسکی دعا اس آیت میں تلقین کی گئی ہے

ارشاد ہوتا ہے

صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ 

یعنی راستہ ان لوگوں کا جن پر آپ نے انعام فرمایا 

اور وہ لوگ جن پر اللّه تعالیٰ کا انعام ہوا ان کی تفصیل ایک دوسری آیت میں اس طرح آئی ہے

 اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ 

وَالصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّهَدَاۗءِ وَالصّٰلِحِيْنَ ۚ وَحَسُنَ اُولٰۗىِٕكَ رَفِيْقًا

 یعنی وہ لوگ جن پر اللّه تعالیٰ کا انعام ہوا یعنی انبیاء، اور صدیقین اور شہداء اور صالحین، مقبولان بارگاہ الہی کے یہ چار درجات ہیں

 جن میں سب سے اعلیٰ انبیاء (علیہم السلام) ہیں 

اور صدیقین وہ لوگ ہیں جو انبیاء کی امت میں سب سے زیادہ رتبے کے ہوتے ہیں جن میں کمالات باطنی بھی ہوتے ہیں عرف میں ان کو اولیاء کہا جاتا ہے

شہداء وہ ہیں جنہوں نے دین کی محبت میں اپنی جان تک دے دی

 اور صلحاء وہ ہیں جو شریعت کے پورے متبع ہوتے ہیں واجبات میں بھی مستحبات میں بھی جن کو عرف میں نیک دیندار کہا جاتا ہے 

آیت   7 


صِرَاطَ الَّذِيۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَيۡهِمۡ ۙ غَيۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَيۡهِمۡ وَلَا الضَّآلِّيۡنَ


لفظی ترجمہ

صِرَاطَ : راستہ   |  الَّذِينَ : ان لوگوں کا  
  أَنْعَمْتَ : تونے انعام کیا   |  عَلَيْهِمْ : ان پر  | غَيْرِ : نہ  
الْمَغْضُوبِ : غضب کیا گیا  
عَلَيْهِمْ : ان پر  |  وَلَا : اور نہ
    الضَّالِّينَ : جو گمراہ ہوئے 

ترجمہ

اُن لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا، جو معتوب نہیں ہوئے، جو بھٹکے ہوئے نہیں ہیں 
 ؏

تفسیر


اس آیت میں پہلے مثبت اور ایجابی طریق سے صراط مستقیم کو متعین کیا گیا ہے کہ ان چار طبقوں کے حضرات جس راستے پر چلیں وہ صراط مستقیم ہے اس کے بعد آخر کی آیت میں سلبی اور منفی صورت سے اس کی تعیین کی گئی ہے ارشاد ہے

غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّاۗلِّيْنَ 

یعنی نہ راستہ ان لوگوں کا جن پر آپ کا غضب کیا گیا اور نہ ان لوگوں کا جو راستے سے گم ہوگئے

 الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ سے وہ لوگ مراد ہیں جو دین کے احکام کو جاننے پہچاننے کے باوجود شرارت یا نفسانی اغراض کی وجہ سے ان کی خلاف ورزی کرتے ہیں یا دوسرے لفظوں میں احکام الہیہ کی تعمیل میں کوتاہی (یعنی تفریط) کرتے ہیں جیسے عام طور پر یہود کا حال تھا کہ دنیا کے ذلیل مفاد کی خاطر دین کو قربان کرتے اور انبیاء کی توہین کرتے تھے اور ضآلین سے مراد وہ لوگ ہیں جو ناواقفیت اور جہالت کے سبب دین کے معاملے میں غلط راستے پر پڑگئے اور دین کی مقررہ حدود سے نکل کر افراط اور غلو میں مبتلا ہوگئے جیسے عام طور پر نصاریٰ تھے کہ نبی کی تعظیم میں اتنے بڑھے کہ انھیں کو خدا بنا لیا ایک طرف یہ ظلم کہ اللّه کے انبیاء کی بات نہ مانیں انہیں قتل تک کرنے سے گریز نہ کریں اور دوسری طرف یہ زیادتی کہ ان کو خدا بنالیں

آیت کا حاصل مطلب یہ ہوا کہ ہم وہ راستہ نہیں چاہتے جو اغراض نفسانی کے تابع بدعمل اور دین میں تفریط کرنے والوں کا ہے اور نہ وہ راستہ چاہتے ہیں جو جاہل گمراہ اور دین میں غلو (افراط) کرنے والوں کا ہے بلکہ ان کے درمیان کا سیدھا راستہ چاہتے ہیں جس میں نہ افراط ہے نہ تفریط، اور جو شہوات اور اغراض نفسانی کے اتباع سے نیز شبہات اور عقائد فاسدہ سے پاک ہے

سورة فاتحہ کی ساتوں آیات کی تفسیر ختم ہوگئی اس پوری سورت کا خلاصہ اور حاصل مطلب یہ دعا ہے کہ یا اللّه ہمیں صراط مستقیم کی ہدایت عطا فرما اور چونکہ دنیا میں صراط مستقیم کا پہچاننا ہی سب سے بڑا علم اور بڑی کامیابی ہے اور اسی کی پہچان میں غلطی ہونے سے اقوام عالم تباہ ہوتی ہیں ورنہ خدا طلبی اور اس کے لئے مجاہدات کی تو بہت سے کفار میں بھی کوئی کمی نہیں اسی لئے قرآن نے صراط مستقیم کو پوری وضاحت کے ساتھ ایجابی اور سلبی دونوں پہلوؤں سے واضح فرمایا ہے
صراط مستقیم کتاب اللّه اور رجال اللّه دونوں کے مجموعہ سے ملتا ہے یہاں ایک بات قابل غور ہے اور اس میں غور کرنے سے ایک بڑے علم کا دروازہ کھلتا ہے وہ یہ کہ صراط مستقیم کی تعیین کے لئے بظاہر صاف بات یہ تھی کہ صراط الرسول یا صراط القرآن فرما دیا جاتا جو مختصر بھی تھا اور واضح بھی کیونکہ پورا قرآن درحقیقت صراط مستقیم کی تشریح ہے اور پوری تعلیمات رسول اسی کی تفصیل لیکن قرآن کی اس مختصر سورت میں اختصار اور وضاحت کے اس پہلو کو چھوڑ کر صراط مستقیم کی تعیین کے لئے اللّه  تعالیٰ نے مستقل دو آیتوں میں ایجابی اور سلبی پہلوؤں سے صراط مستقیم اس طرح متعین فرمایا کہ اگر سیدھا راستہ چاہتے ہو تو ان لوگوں کو تلاش کرو اور ان کے طریق کو اختیار کرو، قرآن کریم نے اس جگہ نہ یہ فرمایا کہ قرآن کا راستہ اختیار کرو کیونکہ محض کتاب انسانی تربیت کے لئے کافی نہیں اور نہ یہ فرمایا کہ رسول کا راستہ اختیار کرو کیونکہ رسول کریم (صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم) کی بقاء اس دنیا میں دائمی نہیں اور آپ کے بعد کوئی دوسرا رسول اور نبی نہیں اس لئے صراط مستقیم جن لوگوں کے ذریعے حاصل ہوسکتا ہے ان میں نبیّن کے علاوہ ایسے حضرات بھی شامل کردئیے گئے جو تاقیامت ہمیشہ موجود رہیں گے مثلاً صدیقین، شہداء، اور صالحین

خلاصہ یہ ہے کہ سیدھا راستہ معلوم کرنے کے لئے حق تعالیٰ نے کچھ رجال اور انسانوں کا پتہ دیا، کسی کتاب کا حوالہ نہیں دیا

 ایک حدیث میں ہے کہ جب رسول کریم (صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام کو خبر دی کہ پچھلی امتوں کی طرح میری امت بھی ستر فرقوں میں بٹ جائے گی اور صرف ایک جماعت ان میں حق پر ہوگی

 تو صحابہ کرام نے دریافت کیا کہ وہ کونسی جماعت ہے ؟ اس پر آنحضرت (صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم) نے جو جواب دیا ہے اس میں بھی کچھ رجال اللّه ہی کا پتہ دیا گیا ہے فرمایا 

ما انا علیہ و اصحابی

 یعنی حق پر وہ جماعت ہوگی جو میرے اور میرے صحابہؓ کے طرز پر ہو

اس خاص طرز میں شاید اس کی طرف اشارہ ہو انسان کی تعلیم و تربیت محض کتابوں اور روایتوں سے نہیں ہوسکتی بلکہ رجال ماہرین کی صحبت اور ان سے سیکھ کر حاصل ہوتی ہے یعنی درحقیقت انسان کا معلم اور مربی انسان ہی ہوسکتا ہے

بقول اکبر مرحوم

کورس تو لفظ ہی سکھاتے ہیں 
آدمی، آدمی بناتے ہیں

اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ دنیا کے تمام کاروبار میں مشاہد ہے کہ محض کتابی تعلیم سے نہ کوئی کپڑا سینا سیکھ سکتا ہے نہ کھانا پکانا، نہ ڈاکٹری کی کتاب پڑھ کر کوئی ڈاکٹر بن سکتا ہے نہ انجینیری کی کتابوں کے محض مطالعے سے کوئی انجینیر بنتا ہے

 اسی طرح قرآن و حدیث کا محض مطالعہ انسان کی تعلیم اور اخلاقی تربیت کے لئے ہرگز کافی نہیں ہوسکتا، جب تک اس کو کسی محقق ماہر سے باقاعدہ حاصل نہ کیا جائے قرآن و حدیث کے معاملے میں بہت سے لکھے پڑھے آدمی اس مغالطے میں مبتلا ہیں کہ محض ترجمے یا تفسیر دیکھ کر وہ قرآن کے ماہر ہوسکتے ہیں یہ بالکل فطرت کے خلاف تصور ہے اگر محض کتاب کافی ہوتی تو رسولوں کے بھیجنے کی ضرورت نہ تھی کتاب کے ساتھ رسول کو معلم بنا کر بھیجنا اور صراط مستقیم کو متعین کرنے کے لئے اپنے مقبول بندوں کی فہرست دینا اس کی دلیل ہے کہ محض کتاب کا مطالعہ تعلیم و تربیت کے لئے کافی نہیں بلکہ کسی ماہر سے سیکھنے کی ضرورت ہے

معلوم ہوا کہ انسان کی صلاح و فلاح کے لئے دو چیزیں ضروری ہیں ایک کتاب اللّه جس میں انسانی زندگی کے ہر شعبے سے متعلقہ احکام موجود ہیں، دوسرے رجال اللّه یعنی اللّه والے ، ان سے استفادے کی صورت یہ ہے کہ کتاب اللّه کے معروف اصول پر رجال اللّه کو پرکھا جائے جو اس معیار پر نہ اتریں ان کو رجال اللّه ہی نہ سمجھا جائے اور جب رجال اللّه  صحیح معنی میں حاصل ہوجائیں تو ان سے کتاب اللّه کا مفہوم سیکھنے اور عمل کرنے کا کام لیا جائے

فرقہ وارانہ اختلافات کا بڑا سبب یہی ہے کہ کچھ لوگوں نے صرف کتاب اللّه کو لے لیا، رجال اللّه سے قطع نظر کرلی، ان کی تفسیر وتعلیم کو کوئی حیثیت نہ دی اور کچھ لوگوں نے صرف رجال اللّه کو معیارِ حق سمجھ لیا اور کتاب اللّه سے آنکھ بند کرلی اور ان دونوں طریقوں کا نتیجہ گمراہی ہے

SIGHT OF RIGHT 

242 comments / Replies

  1. السلام علیکم ورحمۃاللہ و برکتہ

    ReplyDelete
  2. اس آیت میں ایک پہلو۔۔۔۔۔۔کا ہے اور دوسرا۔۔۔۔۔کا۔

    ReplyDelete
  3. انسان پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حالات گزرتے ہیں

    ReplyDelete
  4. انسان کوماضی میں۔۔۔۔۔۔۔۔سے ۔۔۔۔۔۔۔کیا گیا

    ReplyDelete
  5. حال میں انسان کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور ۔۔۔۔۔۔۔کا سلسلہ جاری ہے

    ReplyDelete
  6. انسان اپنی زندگی کے۔۔۔۔۔۔۔ادوار میں اللہ تعالی کا محتاج ہے

    ReplyDelete
  7. ۔۔۔۔۔۔۔۔اور ۔۔۔۔۔۔۔تقاضا یہ ہے کہ عبادت بھی صرف اللہ تعالی کی ہی کی جائے

    ReplyDelete
  8. ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔صرف اللہ تعالی کی ذاتہے

    ReplyDelete
  9. عبادت و ۔۔۔۔۔۔۔کے لائق صف اللہ تعالی کی ذات ہے

    ReplyDelete
  10. عبادت کی دس اقسام کون کون سی ہیں

    ReplyDelete
    Replies

    1. ١ نماز، ٢ زکوٰۃ، ٣ روزہ

      ٤ حج، ٥ تلاوت قرآن

      ٦ ہر حالت میں اللّه کا ذکر کرنا

      ٧ حلال روزی کے لئے کوشش کرنا

      ٨ پڑوسی اور ساتھی کے حقوق ادا کرنا

      ٩ لوگوں کو نیک کاموں کا حکم کرنا اور برے کاموں سے منع کرنا

      ١٠
      رسول اللّه (صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کا اتباع کرن

      Delete
    2. نماز
      زکوتہہ
      روزہ
      حج
      تلاوت قرآن
      ہر حالت میں اللہ
      ‎ تعالیٰ کا ذکر کرنا
      حلال۔ روزی کی لئے کوسش کرنا
      پڑوسی اور ساتھی کے حقوق ادا کرنا
      لوگوں کو نیک کاموں کا حکم کرنا اور برے کاموں سے منع کرنا
      رسول اللہ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم کی سنت کا اتباع کرنا

      Delete
    3. نماز
      زکواتہ
      روزہ
      حج
      تلاوت قر آن
      ہر حا لت میں اللہ کا ذکر کرنا
      حلال روزی کما نا
      پڑوسی اور ساتھی کے حقوق ادا کر نا
      لو گوں کو نیک کا موں کا حکم کرنا اوربرے
      کاموںسے منع کر نا
      رسول اللہ کی سنت کا اتبا ع کر نا

      Delete
    4. ١ نماز
      ٢ زکوٰۃ
      ٣ روزہ
      ٤ حج
      ٥ تلاوت قرآن
      ٦ ہر حالت میں اللّه کا ذکر کرنا
      ٧ حلال روزی کے لئے کوشش کرنا
      ٨ پڑوسی اور ساتھی کے حقوق ادا کرنا
      ٩ لوگوں کو نیک کاموں کا حکم کرنا اور برے کاموں سے منع کرنا

      ١٠ رسول اللّه (صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کا اتباع کرنا

      Delete
    5. ١ نماز، ٢ زکوٰۃ، ٣ روزہ

      ٤ حج، ٥ تلاوت قرآن

      ٦ ہر حالت میں اللّه کا ذکر کرنا

      ٧ حلال روزی کے لئے کوشش کرنا

      ٨ پڑوسی اور ساتھی کے حقوق ادا کرنا

      ٩ لوگوں کو نیک کاموں کا حکم کرنا اور برے کاموں سے منع کرنا

      ١٠
      رسول اللّه (صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کا اتباع کرن


      Delete
    6. نماز
      زكوة
      روزہ
      حج
      تلاوت قرآن
      ہر حالت میں اللہ کا ذکر کرنا
      حلال روزی کیلۓکوشش کرنا
      لوگوں کو نیک کاموں کا حکم کرناااوربرےکام سے روکنا
      رسول اللہ کی سنت کی اتباع کرنا
      پڑوسی اور ساتھی کے حقوق پورے کرنا

      Delete
    7. نماز, روزہ, زکوت
      حج, تلاوت قرآن, ہر حالت میں اللہ کا ذکر کرنا, ساتھی اور پڑوسی کا حق ادا کرنا, حلال روزی حاصل کر سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع کرنا

      Delete
  11. نہ اللہ تعالی کی۔۔۔۔۔۔کسی کے برابر ہو نااورنا کسی کا۔۔۔۔۔۔۔خوف اس کے برابربہو

    ReplyDelete
  12. یعنی لوئی چیزایسی نہیں ہے جو تعریف کے ساتھ اس کی۔۔۔۔۔۔۔بیان نہ کرتی ہو

    ReplyDelete
  13. یعنی کوئی نہیں آسمان اور زمین میں جو نہ آوے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کا بندہ ہو کر

    ReplyDelete
  14. جو شخص اللہ پر ایمان لائے اس کے دل کو۔۔۔۔۔۔۔۔کر دیتے ہیں

    ReplyDelete
  15. حق پر وہ جماعت ہو گیجو میرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔کے طرز پر ہو گی

    ReplyDelete

Powered by Blogger.