Taymam ka bayan

تیمم کا بیان


سوال : تیمم کی لغوی اور شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب : تیمم کی لغوی حیثیت قصد و ارادہ ہے اور شرعی حیثیت طہارت کی نیت کے ساتھ ازالۂ حدثین کی خاطر خاص طریقہ پر مٹی یا اس (چیز) کو استعمال کرنا جو زمین کی (جنس) سے ہے. اور اس سلسلہ میں اصل اللّه تعالیٰ کا فرمان ہے


فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُم مِّنْهُ


ترجمہ : "پھر تمہیں پانی نہ ملے تو تم پاک زمین سے تیمم کر لیا کرو یعنی اس (زمین) پر سے اپنے چہروں اور ہاتھوں پر ہاتھ پھیر لیا کرو"۔



سوال : بے وضو شخص کے لیے تیمم کب جائز ہوتا ہے؟

جواب : اگر بے وضو (شخص) کو پانی نہ ملے اس حال میں کہ وہ مسافر ہو یا شہر سے باہر ہو اس حال میں کہ اس کے اور پانی کے درمیان ایک میل یا اس سے زیادہ کی مسافت ہو تو وہ ازالۂ حدث کے لیے تیمم کرے۔




سوال : اگر پانی موجود ہو لیکن وہ بیمار ہو تو کیا اس کے لیے تیمم جائز ہے؟

جواب : جی ہاں! جب مریض کو پانی کے استعمال سے مرض بڑھ جانے کا اندیشہ ہو یا جنبی کو اندیشہ ہو اگر اس نے ٹھنڈے پانی سے غسل کیا تو ٹھنڈک اسے ہلاک کردے گی یا اسے بیمار کردے گی تو وہ تیمم کرے بشرطیکہ اس کو ایسی (شے) نہ ملے جس سے وہ پانی گرم کرے۔



سوال : تیمم کیسے کرے؟

جواب : سب سے پہلے وہ حدثِ اصغر یا حدثِ اکبر ان میں سے جو بھی ہو اس کے ازالہ کی نیت کرے یا نماز کی اباحت طلب کرنے کی نیت کرے پھر وہ اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارے پس ان جو اپنے چہرے پر پھیرے اس حال میں کہ وہ (چہرے کا) احاطہ کرنے والا ہو اس حیثیت سے کہ بال برابر جگہ باقی نہ رہے مگر یہ کہ اس پر ہاتھ گزر جائے پھر دوسری مرتبہ اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارے پس اپنا بایاں ہاتھ دائیں ہاتھ پر انگلیوں کے سروں سے کہنی کی منتہیٰ تک پھیرے پھر اسی طرح اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر پھیرے اس حال میں کہ وہ انگلیوں کے سروں سے کہنی تک احاطہ کرنے والا ہو۔


سوال : یہ تیمم حدث اکبر کے لیے ہے یا حدثِ اصغر کے لیے؟

جواب : تیمم کی وہ صورت جو ہم نے ابھی ذکر کی ہے اس میں صاحب حدث اصغر اور صاحب حدث اکبر برابر ہیں، ان کے تیمم میں کوئی فرق نہیں۔



سوال : کس چیز کے ساتھ تیمم کرے؟

جواب : پاک مٹی اور ہر ایسی چیز کے ساتھ تیمم جائز ہے جو زمین کی جنس سے ہو جیسے ریت، گچ، چونہ، سرمہ اور پتھر اگرچہ نرم چکنا ہو کہاس پر غبار نہ ہو اور ان تمام اشیاء میں شرط لگائی جاتی ہے کہ وہ پاک ہوں یہ (تعمیم) حضرت ابو حنیفہ رضی اللّه عنہ اور حضرت محمد ﷺ کے نزدیک ہے اور حضرت ابو یوسف رضی اللّه عنہ فرماتے ہیں کہ ( تیمم ) خاص طور پر مٹی یا ریت کے ساتھ جائز ہے بشرطیکہ وہ دونوں پاک ہوں۔



سوال : جب (کوئی شخص) گھر گرائے یا ہوا غبار اڑائے پس مٹی اس کے چہرے اور ہاتھوں کو پہنچے تو کیا اس سے تیمم حاصل ہوجاتا ہے اور اس (تیمم) سے نماز جائز ہوجاتی ہے؟

جواب : وہ اس (عمل) سے متیمم نہیں بنتا اور اس سے مطلوبہ طہارت حاصل نہیں ہوتی کیونکہ نیت تیمم میں فرض ہے۔ بہرحال اس نے پانی میں غوطہ لگایا اور غسل کی نیت نہیں کی تو یہ (عمل) اس کو غسل سے کفایت کرے گا اور اسی طرح جب بارش وضو کے تمام اعضاء کو پہنچے اور ہانی (اعضاء) پر بہہ پڑے اور وہ اپنا ہاتھ اپنے سر پر پھیر دے تو یہ عمل اس کو وضو سے کفایت کرے گا اگرچہ اس نے وضو کی نیت نہ کی ہو اور یہ اس لیے کہ نیت وضو اور غسل میں فرض نہیں بلکہ یہ (یعنی نیت) دونوں میں سنت ہے۔



سوال : جب وہ تیمم کر لے تو کیا اس کے لیے (تیمم) کے ساتھ نوافل پڑھنا جائز ہے؟
جواب : تیمم کے ساتھ فرائض اور نوافل میں سے جو (فرض و نفل) نماز پڑھنا چاہے اس کے لیے جائز ہے۔ اور ہر وہ کام کرنا (جائز ہے) جو جنبی کے غسل اور  متوضی کے وضو کے بعد جائز ہوتا ہے کیونکہ غسل یا وضو سے حاصل ہونے والی طہارت اور تیمم سے حاصل ہونے والی طہارت میں کوئی فرق نہیں پس متیمم کے لیے قرآن پاک کو چھونا ،مسجد میں داخل ہونا،قرآن پاک کی تلاوت کرنا اور بیت اللّه کا طواف کرنا جائز ہے۔



سوال : کیا تندرست مقیم کے لیے بعض حالات میں تیمم جائز ہے؟

جواب : پانی کے ملنے اور اس کے استعمال پر قادر ہونے کے باوجود تندرست مقیم کے لیے اس صورت میں تیمم جائز ہے جب جنازہ حاضر ہو جائے اور ولی اس کا غیر ہو اور اسے اندیشہ ہو کہ اگر وہ وضو میں مشغول ہوا تو نماز جنازہ اس سے فوت ہوجائے گی ایسے شخص کے لیے تیمم کرنا اور نماز جنازہ پڑھنا جائز ہے۔ 



سوال : اگر یہ صورت اس شخص کو پیش آجائے جو (نماز) عید میں حاضر ہو اس حال میں کہ وہ بے وضو ہو؟

جواب : اسی طرح جو شخص نماز عید میں حاضر ہو اور اسے اندیشہ ہو کہ اگر وہ وضو کرنے میں مشغول ہوا تو نماز عید اس سے فوت ہوجائے گی تو وہ تیمم کرے اور امام کے ساتھ نماز عید پڑھے۔



سوال : ایک شخص نماز جمعہ میں حاضر ہوا اور اس حال میں کہ وہ باوضو نہیں، اگر وہ طہارت میں مشغول ہو تو اسے نماز جمعہ فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو کیا تیمم ایسے شخص کے لیے جائز ہے؟

جواب  : تیمم اس کے لیے جائز نہیں۔ وضو کرنا اس پر لازم ہے ہس اگر وہ امام کے ساتھ (نماز) جمعہ پا لے تو وہ اس کے ساتھ نماز جمعہ پڑھ لے ورنہ چار رکعت نماز ظہر پڑھ لے۔



سوال : اگر وقت تنگ ہو اس حیثیت سے کہ اگر اس نے وضو بنایا تو وقت نکل جائے گا اور نماز اس سے فوت ہوجائے گی اس شخص کی طرح جو طلوع آفتاب سے پہلے بیدار ہوا اور وقت وضو و نماز دونوں کی گنجائش نہیں رکھتا تو کیا تیمم ایسے شخص کے کیے جائز ہے؟

جواب : تیمم ایسے شخص کیلیئے جائز نہیں.اور وضو کرنا اس پر لازم ہے اور اگر وہ جنبی ہو تو غسل کرنا اس پر لازم ہے اور وہ طلوع آفتاب اور نیزے کی مقدار (آفتاب)  طلوع ہونے کے بعد قضا نماز پڑھے کیونکہ تنگئ وقت جوازِ تیمم کیلیئے عذر نہیں



سوال : کیا ایسے شخص کیلیئے نماز مؤخر کرنا جائز ہے جسے پانی نہ ملے اس حال میں کہ وہ (نماز کے) آخر وقت میں (پانی) ملنے کی امید رکھتا ہو؟

جواب : ایسا کرنا اس پر لازم نہیں بلکہ اس کیلیئے مستحب ہے کہ وقت کے آخر تک نماز مؤخر کرے پس اگر اسے پانی مل جائے تو وضو کرے وگرنہ تیمم کرے اور نماز پڑھے



سوال : مسافر اپنے کجاوہ میں پانی بھول گیا اور (پانی) اس نے خود رکھا تھا یا اس کے حکم سے کسی نے رکھا تھا پس اس نے تیمم کیا اور نماز پڑھی پھر (نماز) کے وقت میں پانی اسے یاد آگیا تو کیا وہ اپنی نماز لوٹائے ؟

جواب : حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللّه اور حضرت محمد رحمہ اللّه کے نزدیک (نماز) لوٹانا اس پر لازم نہیں اور حضرت ابو یوسف رحمہ اللّه فرماتے ہیں کہ وہ اس صورت میں نماز لوٹائے



سوال : ایک شخص سفر میں ہے اس کے پاس پانی نہیں (تو ) کیا پانی تلاش کرنا اس پر واجب ہے؟

جواب : پانی کی تلاش اس پر لازم نہیں  اگر پانی کا قریب ہونا اس کے ظن پر غالب نہ ہو اور اس کا غالب گمان یہ ہو کہ وہاں پانی ہے تو اس کیلیئے تیمم جائز نہیں یہاں تک کہ وہ (پانی)  تلاش کرے



سوال : اور اگر اس کے ساتھی کے پاس پانی ہو (تو) کیا تیمم سے پہلے وہ اس سے (پانی) طلب کرے؟

جواب : جی ہاں ! وہ اس سے پانی طلب کرے پس اگر وہ اسے قیمت پر دے دے جس قیمت میں لوگ نقصان برداشت کر لیتے ہیں یا قیمت کے بغیر (دے دے)  تو وہ وضو کرے اور اگر وہ اسے نہ دے (تو) وہ تیمم کرے اور نماز پڑھے



سوال : کون سی شے تیمم کو توڑ دیتی ہے؟

جواب : ہر وہ شے تیمم کو توڑ دیتی ہے جو وضو کو توڑ دیتی ہے جبکہ اس نے وضو کی جگہ تیمم کیا ہو اور جنبی کے تیمم کو وہ (شے) توڑ دیتی ہے جس سے غسل واجب ہوتا ہے نیز دونوں صورتوں میں پانی کا ملنا اور اس کے استعمال پر قادر ہونا تیمم کو توڑ دیتا ہے

89 comments / Replies

  1. اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

    ReplyDelete
  2. اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

    ReplyDelete
    Replies
    1. وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

      Delete
  3. تیمم کی لغوی حیثیت ___ و ارادہ ہے

    ReplyDelete
  4. ترجمہ : "پھر تمہیں پانی نہ ملے تو تم پاک زمین سے ____ کر لیا کرو یعنی اس (زمین) پر سے اپنے چہروں اور ______ پر ہاتھ پھیر لیا کرو"۔

    ReplyDelete
  5. اس کو ایسی (شے) نہ ملے جس سے وہ پانی ______کرے۔

    ReplyDelete
  6. تیمم کی وہ صورت جو ہم نے ابھی ذکر کی ہ اس میں صاحب ______ اور صاحب ______برابر ہیں،

    ReplyDelete
  7. حضرت ابو یوسف رضی اللّه عنہ فرماتے ہیں کہ ( تیمم ) خاص طور پر `___ یا ____ کے ساتھ جائز ہے بشرطیکہ وہ دونوں پاک ہوں۔

    ReplyDelete

  8. تیمم کے ساتھ فرائض اور نوافل میں سے جو (فرض و نفل) نماز پڑھنا چاہے اس کے لیے جائز ہے۔

    ReplyDelete
  9. کیونکہ تنگئ وقت جوازِ تیمم کیلیئے _____ نہیں

    ReplyDelete
  10. حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللّه اور حضرت محمد رحمہ اللّه کے نزدیک (نماز) ____ اس پر لازم نہیں

    ReplyDelete
  11. ! وہ اس سے پانی طلب کرے پس اگر وہ اسے قیمت پر دے دے جس _____ میں لوگ نقصان _____ کر لیتے ہیں

    ReplyDelete
  12. ہر وہ شے _____کو توڑ دیتی ہے جو وضو کو ____ دیتی ہے جبکہ اس نے وضو کی جگہ تیمم کیا ہو ا

    ReplyDelete

Powered by Blogger.