Aazan or Iqamat ka bayan

اذان اور اقامت کا بیان


سوال : سفید شریعت میں اذان کا کیا حکم ہے؟

جواب : اذان پانچوں نمازوں اور جمعہ کیلئے سنت مؤکدہ ہے ان کے ماسوا نمازوں کیلئے نہیں
 پس(اذان) عیدین،سنتوں،نفلوں ،نماز استسقاء اور نماز کسوف کیلئے مشروع نہیں۔



سوال : اذان کے الفاظ کیا ہیں؟

جواب : اللّٰه اَکْبَرُ اللّٰه اَکْبَرُ،اللّٰه اَکْبَرُ اللّٰه اَکْبَرُ، اَشْھَدُ  اَنْ لَّا اِلٰهَ الَّا اللّٰهُ،اَشْھَدُ  اَنْ لَّا اِلٰهَ الَّا اللّٰهُ اَشْھَدُ انَّ مُحَمَّدًا الرَّسُولُ اللّٰه اَشْھَدُ انَّ مُحَمَّدًا الرَّسُولُ اللّٰهحَیَّ عَلَی الصَّلا ۃِحَیَّ عَلَی الصَّلا ۃِحَیَّ عَلَی الْفَلاحِ،حَیَّ عَلَی الْفَلاحِاللّٰه اَکْبَرُ اللّٰه اَکْبَرُ،لَّا اِلٰهَ الَّا اللّٰهُ








سوال : کیا کسی وقت کی اذان میں ان الفاظ پر اضافہ کیا جاتا ہے؟

جواب : جی ہاں ! فجر کی اذان میں حَیَّ عَلَی الْفَلاحِ کے بعد اَلصَّلاۃُ خَیْرٌمِّنَ النَّوْم دو مرتبہ کا اضافہ کیا جاتا ہے۔




سوال: کیا اذان میں ترجیح ہے؟

ترجیع یہ ہے کہ شہادتین کو  دو دو مرتبہ پست آواز سے پھر دو دو مرتبہ بلند آواز سے پڑھا جاۓ۔۔۔۔

جواب : حنفیہ کے نزدیک اذان میں ترجیع نہیں ۔




سوال : اقامت کے الفاظ اور اسکا محل بیان کیجیۓ؟

جواب : جب لوگ جماعت کی نماز کیلئے کھڑے ہو جائیں تو 

مؤذن اتنی آواز کے ساتھ اذان کے الفاظ دہراۓ کہ مسجد میں حاضر ہونے والے اسے سن لیں۔ اور وہ ان
( الفاظ)
 میں حَیَّ عَلَی الْفَلاحِ کے بعد  قَد قَامَتِ اَلصَّلاۃُ دو مرتبہ کا اضافہ کرے پس یہی اقامت ہے۔



سوال : کیا ادا کی حیثیت سے اذان اور اقامت کے درمیان فرق ہے؟

جی ہاں ! اذان ٹھہر ٹھہر کر کہے اور اقامت ذرا جلدی کہے۔



سوال : ( اذان اور اقامت) میں قبلہ رخ ہونے کا حکم کیا ہے؟

جواب : دونوں میں قبلہ رخ ہو اور نبی کریم صلی اللّٰه علیہ وسلّم ( کے مبارک زمانہ) سے لیکر آج تک یہی منقول ہے۔




سوال :  کیا اذان کے وقت بعض کلمات میں اپنے چہرے کو( دائیں بائیں) پھیرے؟

جواب : مؤذن کیلئے مستحب ہے کہ جب حَیَّ عَلَی الصَّلا ۃِ، کہے تو اپنا چہرہ دائیں طرف پھیرے اور جب حَیَّ عَلَی الْفَلاحِ کہے تو اپنا چہرہ بائیں طرف پھیرے۔




سوال : کانوں میں ( شہادت کی) انگلیاں ڈالنے کا کیا حکم ہے؟

جواب : یہ اذان میں سنت ہے نبی کریم صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلّم نے حضرت بلال رضی اللّٰه عنہ کو اسکا حکم فرمایا کہ یہ ( عمل) آپؓ کی آواز کو زیادہ بلند کرے گا۔




سوال : فوت شدہ نماز کیلئے اذان اور اقامت کا حکم کیا ہے؟

جواب : فوت شدہ ( نماز) کیلئے اذان دے اور اقامت کہے اور اگر اس سے کئ نمازیں فوت ہو جائیں اور وہ ایک وقت میں انکو پڑھنا چاہے   تو پہلی کیلئے اذان دے اور اقامت کہے اور وہ اس کے بعد والی میں با اختیار ہے اگر چاہے ( اذان اور اقامت) دونوں کو جمع کرے اور اگر چاہے اقامت پر اکتفاء کرے۔




سوال : کیا وہ اذان دے اور اقامت کہے اس حال میں کہ وہ بے وضو ہو؟

جواب : مناسب ہے کہ با وضو اذان دے اور اقامت کہے پس اگر اس نے بے وضو اذان دی  تو جائز ہے اور بے وضو اقامت کہنا مکروہ ہے اور اسی طرح اذان دینا مکروہ ہے اس حال میں کہ وہ جنبی یعنی حدث اکبر کے ساتھ محدث ہو۔




سوال : پس اگر وہ اذان دے اور اقامت کہے اس حال میں کہ وہ جنبی ہو تو اس کا حکم کیا ہے؟

جواب : اسکی اذان لوٹائ جاۓ اور اسکی اقامت نہ لوٹائ جاۓ۔




سوال : کیا بچے کی اذان جائز ہے اور اس پر اکتفاء کیا جائے؟

جواب: جی ہاں ! تمیز رکھنے والے عقلمند بچے کی اذان جائز ہے پس جب وہ اذان دے تو اسکی اذان نہ لوٹائ جاۓ۔




سوال : نماز کا وقت داخل ہونے سے پہلے اذان کا حکم کیا ہے؟

جواب : یہ جائز نہیں۔پس اگر (ایسا) کرے ( تو) لوٹاۓ مگر ابو یوسفؒ نے وقت کے داخل ہونے سے پہلے فجر کی اذان کو جائز قرار دیا ہے۔

No comments:

Powered by Blogger.