Akabir Umat ki Tasreehat
Unit 3
Lesson 3
اکابر امت کی تصریحات
چونکہ مسئلہ ختم نبوت پر قرآن کریم کی آیات اور احادیث متواترہ وارد ہیں اس لیے یہ عقیدہ امت میں متواتر چلا آ رہا ہے کہ آنحضرت صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم آخری نبی ہیں
آپ صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی شخص منسب نبوت پر فائز نہیں ہو سکتا اور جو شخص آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے وہ مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہے
یہاں چند اکابر کی تصریحات نقل کی جاتی ہیں
علامہ علی قاری شرح فقہ الاکبر میں لکھتے ہیں
دعوی النبوۃ بعد نبینا صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کفر بالاجماع
(شرح فقہ الاکبر ص ۲۰۲)
ہمارے نبی صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا بالاجماع کفر ہے
حافظ ابن حزم اندلسی کتاب الفصل فی الملل والاھواء والنحل میں لکھتے ہیں
جس کثیر التعداد جماعت اور جم غفیر نے آنحضرت ﷺ کی نبوت اور نشانات اور قرآن مجید کو نقل کیا ہے اسی کثیر التعداد جماعت اور جم غفیر کی نقل سے حضور ﷺ کا یہ فرمان بھی ثابت ہوچکا ہےکہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی مبعوث نہ ہو گا
البتہ صحیح احادیث میں یہ ضرور آیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے
یہ وہی عیسیٰ علیہ السلام ہیں جو بنی اسرائیل میں مبعوث ہوئے تھے اور یہود نے جن کو قتل کرنے اور صلیب دینے کا دعویٰ کیا تھا پس اس امر کا اقرار واجب ہے کہ حضور ﷺ کے بعد نبوت کا وجود باطل ہے ہر گز نہیں ہو سکتا۔"
(کتاب الفصل ص۷۷ ج ا)
حافظ ابن حزم ایک اور جگہ لکھتے ہیں
اللّہ تعالیٰ کا فرمان
ولکن رسول اللّه خاتم النبیین
اور حضور ﷺ کا ارشاد
لا نبی بعدی
سن کر مسلمان کیسے جائز سمجھ سکتا ہے کہ حضور ﷺ کے بعد زمین میں کسی نبی کی بعثت ثابت کی جائے سوائے نزول عیسیٰ علیہ السلام کے آخر زمانہ میں جو رسول اللّه ﷺ کی صحیح احادیث مسندہ سے ثابت ہے
( کتاب الفصل ص ۱۸ ح ۱-مکتبہ دارالمعرفۃ شارع بلس بیروت لبنان)
ایک اور جگہ لکھتے ہیں
جس شخص نے کسی انسان کو کہا کہ یہ اللّه ہے یا یہ کہا کہ اللّہ اپنی خلقت کے اجسام میں سے کسی جسم میں حلول کرتا ہے یا یہ کہا کہ محمد ﷺ کے بعد کوئی نبی ہے سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے پس ایسے شخص کے کافر ہونے میں دو آدمیوں کا بھی اختلاف نہیں۔"
( کتاب الفصل ص 239 __ 250 ج 3 )
حافظ فضل اللّه تور پشتی (م630) کا اسلامی عقائد پر ایک رسالہ معتمد فی المعتقد کے نام سے فارسی میں ہے جس میں عقیدہ ختم نبوت بہت تفصیل سے لکھا ہے اور آخر میں منکرین ختم نبوت کے خارج از اسلام ہونے کی تصریح فرمائی ہے
اس کے چند ضروری اقتباسات درج ذیل ہیں
منجملہ عقائد کے یہ ہے کہ اس بات کی تصدیق کرے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں نہ رسول اور نہ غیر رسول
اور خاتم النبیین سے مراد یہ ہے کہ آپ نے نبوت پر مہر لگا دی اور نبوت آپ ﷺ کی تشریف آوری سے حد تمام کو پہنچ گئی یا یہ معنی ہیں کہ اللّہ تعالی نے پیغمبری پر آپ ﷺ کے ذریعہ مہر لگا دی اور اللّہ تعالیٰ کا مہر کرنا اس بات کا حکم ہے کہ آپ ﷺ کے بعد نبی نہیں بھیجے گا۔
(متعمد في المعتقد ص ۹۱)
اور بہت سی احادیث رسول اللّه ﷺ سے ثابت ہیں کہ نبوت آپ ﷺ کی تشریف آوری پر پوری ہوگئی آپ ﷺ کے بعد کوئی اور نبی نہیں ہوگا
ان احادیث میں سے ایک حدیث کا مضمون یہ ہے کہ میری امت میں تقریبا تیس جھوٹے دجال ہوں گے ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ میں نبی ہوں حالانکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا
اور اس باب میں روایات و احادیث حد شمارسے زیادہ ہیں
(ص۹۵)
جب اس طریقہ سے ثابت ہوا کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا تو یہی بات ہے کہ رسول بھی نہ ہو گا کیوں کہ کوئی رسول ایسا نہیں ہوتا جو نبی نہ ہو
جب نبوت کی نفی کرو تو رسالت کی نفی بدرجہ اولیٰ ہو گئی
(ص96)
بحمد للّه
یہ مسئلہ اہل اسلام کے درمیان اس سے زیادہ روشن ہے کہ اس کی تشریح و وضاحت کی ضرورت ہو۔ اتنی وضاحت بھی ہم نے قرآن کریم سے اس اندیشہ کی بناء پر کر دی کہ مبادا کوئی زندیق کسی جاہل کو شبہ میں ڈالے
اور عقیدہ ختم نبوت کا منکر وہی شخص ہوسکتا ہے جو آنحضرت ﷺ کی نبوت پربھی ایمان نہ رکھتا ہو
کیونکہ اگر یہ شخص آپ ﷺ کی رسالت کا قائل ہوتا تو جن چیزوں
کی آپ نے خبر دی ہے ان میں آپ ﷺ کو سچا سمجھتا
اور جن دلائل اور جس طریق تواتر سے آپ کی رسالت و نبوت ہمارے لیے ثابت ہوئی ہے ٹھیک اسی درجہ کے تواتر سے یہ بات بھی ثابت ہوئی ہے کہ آپ ﷺ آخری نبی ہیں اور آپ ﷺ کے زمانہ میں اور قیامت تک کوئی نبی نہ ہوگا
اور جس شخص کو اس ختم نبوت میں شک ہو اسے خود رسالت محمدی ﷺ میں بھی شک ہوگا
اور جو شخص یہ کہے کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی ہوا تھا یا اب موجود ہے یا آئندہ کوئی نبی ہو گا
اسی طرح جوشخص یہ کہے کہ آپ کے بعد نبی ہوسکتا ہے وہ کافر ہے
(ص97)
حافظ ابن کثیر آیت خاتم النبین کے تحت لکھتے ہیں
پس بندوں پر اللّه کی رحمت ہے محمد ﷺ کا ان کی طرف بھیجنا پھر اللّه تعالیٰ کی جانب سے ان کی تعظیم و تکریم میں سے یہ بات بھی ہے کہ اللّه تعالیٰ نے آپ ﷺ پر تمام انبیاء اور رسل علیہم السلام کو ختم کیا اور دین حنیف کو آپ کے لیے کامل کر دیا
اللّه تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اور اس کے رسول نے اپنی احادیث متواترہ میں خبر دی ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی پیدا ہونے والا نہیں تا کہ امت جان لے کہ ہر وہ شخص جو آپ ﷺ کے بعد اس مقام نبوت کا دعویٰ کرے وہ بڑا جھوٹا افتراپرداز دجال گمراہ اور گمراہ کرنے والا ہے اگرچہ شعبده بازی کرے اور قسم قسم
کا جادو طلسم اور نیرنگیاں دکھلائے اس لیے کہ یہ سب کا سب عقلاء کے نزدیک باطل اور گمراہی ہے
جیسا کہ اللّه تعالیٰ نے اسود عنسی (مدعی نبوت) کے ہاتھ پر یمن میں اور مسیلمہ کذاب (مدعی نبوت) کے ہاتھ پر یمامہ میں احوال فاسدہ اور اقوال باردہ ظاہر کئے جن کو دیکھ کر ہر عقل و فہم اور تمیز والا یہ سمجھ گیا کہ یہ دونوں جھوٹے اور گمراہ کرنے والے ہیں
اللّه تعالیٰ ان پرلعنت کرے
اور ایسے ہی قیامت تک ہر مدعی نبوت پر
یہاں تک کہ مسیح دجال پر ختم کردیئے گئے جس کے ساتھ اللّه تعالیٰ ایسے امور پیدا فرمادے گا کہ علماء اور مسلمان اس کے جھوٹے ہونے کی شہادت دیں گے
(ابن کثیر تفسیر القرآن عظیم ص494 ج3)
علامہ سفارینی حنبلی شرح عقیدہ سفارینی میں لکھتے ہیں
جو شخص یہ عقیدہ رکھے کہ نبوت حاصل ہوسکتی ہے وہ زندیق اور واجب القتل ہے کیوں کہ اس کا کلام و عقیدہ اس بات کو متقضی ہے کہ نبوت کا دروازہ بند نہیں
اور یہ بات نص قرآن اور احادیث متواترہ کے خلاف ہے جن سے قطعاً ثابت ہے کہ ہمارے نبی خاتم النبیین ہیں
(محمد بن احمد سفارینی ص ۲۵۷ ج۲)
علامہ زرقانی شرح المواہب میں امام ابن حبان سے نقل کرتے ہیں
جس شخص کا یہ مذہب ہو کہ نبوت کا دروازہ بند نہیں بلکہ حاصل ہوسکتی ہے یا یہ کہ ولی نبی سے افضل ہوتا ہے ایسا شخص زندیق اور واجب القتل ہے
کیونکہ وہ
قرآن کریم کی آیت
خاتم النبیین
کی تکذیب کرتا ہے
(شرح المواهب اللدنیۃ ص 188ج6)
اور سید محمود آلوسی بغدادی تفسیر روح المعانی میں آیت خاتم النبین کے ذیل میں لکھتے ہیں
اور آنحضرت ﷺ کا آخری نبی ہونا ان مسائل میں سے ہے جن پر قرآن ناطق ہے جن کو سنت نے واشگاف کیا ہے اور جن پر امت کا اجماع ہے پس اس کے خلاف دعویٰ کرنے والا کافر قرار دیا جائے گا اور اگر وہ اصرار کرے تو اسے قتل کیا جائے گا
(روح المعانی ص ۴۱ج۲۲)
قاضی عیاض الشفا میں لکھتے ہیں
اسی طرح جو شخص ہمارے نبی کے ساتھ یا آپ ﷺ کے بعد کسی شخص کے نبی ہونے کا مدعی ہو یا خود اپنے لیے نبوت کا دعویٰ کرے یا نبوت کے حصول کو اور صفائے قلب کے ذریعہ مرتبہ نبوت تک پہنچنے کو جائز رکھے
اسی طرح جوشخص یہ دعویٰ کرے کہ اس پر وحی نازل ہوتی ہے خواہ صراحتاً نبوت کا دعویٰ نہ کرے تو یہ سب لوگ کافر ہیں
کیونکہ یہ آنحضرت ﷺ کی تکذیب کرتے ہیں کیونکہ آنحضرت ﷺ نے خبر دی کہ آپ ﷺ خاتم النبیین ہیں
(الشفاء 246 ،247 ج 2)
اور خلیفہ عبدالملک بن مروان نے مدعی نبوّت حارث کو قتل کر کے سولی پر لٹکایا تھا اور بے شمار خلفاء سلاطین نے اس قماش کے لوگوں کے ساتھ یہی سلوک کیا
اور اس دور کے تمام علماء نے بالاجماع ان کے اس فعل کو صحیح اور درست قرار دیا اور جو شخص مدعی نبوت کے کفر میں اس اجماع کا مخالف ہو وہ خود کافر ہے
(الشفاء 257 ج 2 )

ReplyDeleteآپ صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کے بعد کوئی شخص..........پر فائز نہیں ہو سکتا
منسبِ نبوت
Deleteمنسبِ نبوت
Deleteمنسبِ نبوت
Deleteمنسب نبوت
Deleteمنسب نبوت
Deleteمنسب نبوت
Deleteمنصب نبوت
Deleteمنسب نبوت
Deleteمنسب نبوت
Deleteخلیفہ عبدالملک بن مروان نے مدعی نبوّت........ کو قتل کر کے سولی پر لٹکایا تھا
ReplyDeleteحارث
Deleteحارث
Deleteحارث
Deleteحارث
Deleteحارث
Deleteحارث
Deleteحارث
Deleteحارث
Deleteحارث
Deleteجو شخص مدعی نبوت کے کفر میں اس اجماع کا مخالف ہو وہ خود....... ہے
ReplyDeleteکافر
Deleteکافر
Deleteکافر
Deleteکافر
Deleteکافر
Deleteکافر
Deleteکافر
Deleteجب نبوت کی نفی کرو تو....... کی نفی بدرجہ اولیٰ ہو گئی
ReplyDeleteرسالت
Deleteرسالت
Deleteرسالت
Deleteرسالت
Deleteرسالت
Deleteرسالت
Deleteرسالت
Deleteرسالت
Delete