Hayat Hazrat Esaa A.S

unit 2
Lesson 3

 حیاتِ حضرت عیسیٰ علیہ السلام 


آنحضرت صلی اللّہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک تمام امت محمدیہ صلی اللّہ علیہ وسلم کا اتفاق ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں قرب قیامت میں حضرت مہدی علیہ الرضوان کے زمانہ میں جب کانا دجال نکلے گا تو اس کو قتل کرنے کے لئے آسمان سے اتریں گے۔

یہاں تین مسئلے ہیں

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا زندہ آسمان پر اٹھایا جانا

 آسمان پر ان کا زندہ رہنا

  اور آخری زمانے میں ان کا آسمان سے نازل ہونا






یہ تینوں باتیں آپس میں لازم و ملزوم ہیں اور اہل حق میں سے ایک بھی فرد ایسا نہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان سے نازل ہونے کا قائل نہ ہو پس جس طرح قرآن کریم کے بارے میں ہر زمانے کے مسلمان ہی وہ مانتے ہیں کہ یہ وہی کتاب مقدس ہے جو حضرت محمد صلی اللّہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل ہوئی تھی اور مسلمانوں کے اس تواتر کے بعد کسی شخص کیلئے یہ گنجائش نہیں رہ جاتی کہ وہ اس کے بارے میں کسی شک و شبہ کا اظہار کریں اور اسی طرح گزشتہ صدیوں کے تمام بزرگان دین اور اہل اسلام بھی مانتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا گیا ہے اور یہ کہ وہ آخری زمانے میں دوبارہ زمین پر اتریں گے۔

اس لئے نسل بعد نسل ہر دور،ہر زمانے،ہر طبقے اور ہر علاقے کے مسلمانوں کا عقیدہ چلا آتا ہے کسی مسلمان کے لئے اس میں شک و شبہ اور تشدد کی گنجائش نہیں اور جو شخص اسے قتل جمائی اور متواتر کی دو کا انکار کرے وہ مسلمانوں کی فہرست سے خارج ہے۔

1884 تک مرزا غلام احمد قادیانی کے نزدیک بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ تھے اور قرب قیامت میں آسمان سے نازل ہونے والے تھے چنانچہ وہ براہین احمدیہ حصہ چہارم میں جو  1884  میں شائع ہوئی ایک جگہ لکھتا ہے

  حضرت مسیح تو انجیل کو ناقص چھوڑ کر آسمانوں پر جا بیٹھے 

ایک اور جگہ لکھتا ھے

 یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت موسیٰ کے حق میں پیش گوئی ہے اور جس غلبہ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ اس کے ذریعے سے ظہور میں آئے گا اور جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمی آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا 

(ص 498/499)

ایک اور جگہ اپنا الہام درج کر کے اس کی تشریح اس طرح کرتا ہے

خدائے تعالی کا ارادہ اس بات کی طرف متوجہ کرتا ہے جو تم پر رحم کرے اور اگر تم نے گناہ سرکشی کی طرف رجوع کیا تو ہم بھی سزا اور عقوبت کی طرف رجوع کریں گے اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لئے قید خانہ بنا رکھا ہے 

 یہ آیت اس مقام میں حضرت مسیح کے جلالی طور پر ظاہر ہونے کا اشارہ ہے یعنی اگر طریق رفق اور نرمی اور لطف انسان کو قبول نہیں کریں گے اور حق محض جو دلائل واضح اور آیات بیینا سے کھل گیا ہے اس سے سر کش رہیں گے تو وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ جب خدا تعالی مجرمین سے شدت اور عنف اور قہر اور سختی کو استعمال میں لائیں گے اور حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے  اور تمام راہوں اور سڑکوں کو خس و خاشاک سے صاف کردیں گے اور کج اور ناراست کا نام و نشان نہ رہے گا اور جلال الہی گمراہی کے تخم کو اپنی بجلی قہری سے نست و نابود کر دے گا  اور یہ زمانہ اس زمانہ کے لیے بطور آرہاص کےواقع ہوا ہے"

(ص 505)

مندرجہ بالا عبارتوں سے واضح ہے کہ 1884 تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ تھے اور قرآن نے ان کے دوبارہ دنیا میں آنے کی پیشگوئی کی تھی قرآن کریم کے علاوہ خود مرزا صاحب کو بھی ان کے نازل ہونے کا الہام ہوا تھا 
1884 سے لے کر اب تک نہ عیسیٰ علیہ السلام دنیا میں دوبارہ آئے ہیں اور نہ ان کی وفات کی خبر آئی ہے اس لئے قرآن کریم کی پیشگوئی آنحضرت صلی اللّہ علیہ وسلم کے ارشادات اور امت اسلامیہ کے چودہ سو سالہ متواتر عقیدے کی روشنی میں ہر مسلمان کو یقین رکھنا چاہیے کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور وہ آسمان سے نازل ہو کر دوبارہ دنیا میں آئیں گے  کیونکہ بقول مرزا غلام احمد قادیانی آنحضرت صلی اللّہ علیہ وسلم نے متواتر حدیث میں ان کے دوبارہ آنے کی پیشگوئی فرمائی ہے۔

مرزا قادیانی ازالہ اوہام میں لکھتا ہے

 مسیح ابن مریم کے آنے کی پیشگوئی ایک اول درجہ کی پیشگوئی ہے جس کو سب نے بلاتفاق قبول کر لیا ہے اور جس قدر صحاح میں پیشگوئیاں لکھی گئی ہیں  کوئی پیش گوئی اس کے ہم پہلو اور ہم وزن ثابت نہیں ہوتی 
تواتر کا اول درجہ جو اس کو حاصل ہے انجیل بھی اس کی مصدق ہے اب اس قدر ثبوت پر پانی پھیرنا اور یہ کہنا کہ یہ تمام حدیث موضوع ہے اور درحقیقت ان لوگوں کا کام ہے جن کو خدا تعالی نے بصیرت دینی اور حق شناسی سے کچھ بھی بخرہ اور حصہ نہیں دیا اور ان لوگوں کے دلوں میں "قال اللّہ قال الرسول" کی عظمت باقی نہیں رہی اس لیے جو بات ان کی سمجھ سے بالاتر ہو کر اس کو محالات اور ممتنعات میں داخل کر لیتے ہیں 

مسلمانوں کی بدقسمتی سے یہ فرقہ بھی اسلام میں پیدا ہو گیا جس کا قدم دن بدن الحاد کے میدانوں میں آگے ہی آگے چل رہا ہے

(ازالہ اوہام'ص 558)

مرزا غلام احمد قادیانی کے ان حوالوں سے مندرجہ ذیل باتیں واضح ہوئی ہیں

اول

حضرت عیسی علیہ السلام کے دوبارہ دنیا میں تشریف لانے کی قرآن کریم نے پیش گوئی کی ہے

دوم 

آنحضرت صلی اللّہ علیہ وسلم کی متواتر احادیث میں بھی یہی پیش گوئی کی گئی ہے

سوم

تمام مسلمانوں نے بااتفاق اس کو قبول کر لیا ہے اور اس عقیدے پر اجماع ہے

چہارم

انجیل میں خود حضرت عیسی علیہ السلام کا قول بھی اس پیش گوئی کی تصدیق و تائید کرتا ہے

پنجم

خود مرزا قادیانی کو بھی اللّہ تعالی نے عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کی اطلاع الہام کے ذریعے دی تھی 

ششم 

جو شخص ان قطعی ثبوتوں کے بعد بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کو نہ مانے وہ دینی بصیرت سے یکسر محروم اور ملحد و بے دین ہے

°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

92 comments / Replies

  1. حضرت عیسیٰ علیہ السلام......... ہیں

    ReplyDelete

  2. حضرت عیسی علیہ السلام کے دوبارہ دنیا میں تشریف لانے کی........... نے پیش گوئی کی ہے

    ReplyDelete
  3. مسیح ابن مریم کے آنے کی پیشگوئی ایک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کی پیشگوئی ہے

    ReplyDelete
  4. قرآن کریم کے علاوہ خود مرزا صاحب کو بھی ان کے نازل ہونے کا........ ہوا تھا

    ReplyDelete

  5. انجیل میں خود حضرت عیسی علیہ السلام کا قول بھی اس پیش گوئی کی...........کرتا ہے

    ReplyDelete
  6. جہنم کو کافروں کے لئے....... بنا رکھا ہے

    ReplyDelete
  7. ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو انجیل کو ناقص چھوڑ کر آسمانوں پر جا بیٹھے

    ReplyDelete
  8. ان لوگوں کے دلوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کی عظمت باقی نہیں رہی

    ReplyDelete
  9. وہ وقت بھی آنے والا ہے جب خدا تعالیٰ مجرمین سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور سختی کو استعمال میں لاٸیں گے

    ReplyDelete
  10. شدت اور عنف اور قھر

    ReplyDelete

Powered by Blogger.