Hazrat Maseeh A.S kab aen ge ?

Unit 3 
Lesson 5


 حضرت مسیح علیہ السلام کب آئیں گے؟



اس سلسلہ میں سب سے پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے
 کہ مسیح علیہ السلام کب آئیں گے؟

کس زمانے میں ان کی تشریف آوری ہوگی؟

 اس کا جواب خود جناب مرزا ہی کی زبان سے سننا بہتر ہوگا

 مرزا اپنے نشانات ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں


پہلا نشان 
قال رسول اللّه صلی  اللّه علیہ وآلہ وسلم ان اللّه يبعث لهذه الامة على راس کل مانة من يجددلها دينها

(ابوداؤد)

یعنی  اللّہ  ہر  ایک صدی کے سر پر اس امت کے لیے ایک شخص کو مبعوث فرماۓ گا  جو اس کے لئے دین کو تازہ کرےگا

اور یہ بھی  اہل سنت کے درمیان متفق علیہ امر ہے  کہ آخری مجدد اس امت کا مسیح  موعود ہے جو آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا اب تنقیح طلب یہ امر ہے کہ یہ آخری زمانہ ہے یا نہیں؟     یہود و نصاریٰ دونوں قومیں اس پر اتفاق رکھتی ہیں کہ  یہ آخری زمانہ ہے  اگر چاہو تو پوچھ لو۔"

(حقیقة الوحی ص ۱۹۳)

(الف)
ارشاد نبوی ﷺ کہ ہر صدی کے سر پر ایک مجدد ہوگا

(ب) 
اہل سنت کا اتفاق کہ آخری صدی کا آخری مجدد  مسیح ہوگا

(ج)
 یہود و نصاریٰ کا اتفاق کہ مرزا کا زمانہ آخری زمانہ ہے



 نتیجہ ظاہر ہے کہ اگر چودہویں صدی آخری زمانہ ہے تو اس میں آنے والا مجدد  بھی  آخری مجدد  ہوگا اور جو آخری مجدد ہوگا لازماً مسیح موعود بھی ہوگا  لیکن اگر چودھویں صدی کے ختم ہونے پر پندرھویں صدی شروع ہوگئی تو فرمودہ نبوی ﷺ کے مطابق اس کے سر پر بھی کوئی مجدد آئے گا اس کے بعد سولہویں صدی شروع ہوئی تو لازماً اس کا بھی کوئی مجدد ضرور ہوگا
پس نہ چودھویں صدی آخری زمانہ ہوا اور نہ مرزا کا  آخری مجدد دعویٰ صحیح ہوا

اور جب وہ آخری مجدد نہ ہوئے تو مہدی یا مسیح بھی نہ ہوئے کیونکہ 
اہل سنت میں یہ امر متفق علیہ امر ہے کہ آخری مجدد اس امت کے حضرت مسیح علیہ السلام ہوں گے
 اگر آپ صرف اسی ایک نکتہ پر بنظر انصاف غور فرمائیں تو آپ کا فیصلہ یہ ہوگا کہ مرزا صاحب کا دعویٰ غلط ہے 
 وہ مسیح اور  مہدی نہیں 



حضرت مسیح  علیہ السلام کتنی مدت قیام فرمائیں گے؟


زمانہ نزول مسیح کا تصفیہ ہو جانے کے بعد دوسرا سوال یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام کتنی مدت زمین پر قیام فرمائیں گے؟ 
اس کا جواب یہ ہے کہ احادیث طیبہ میں ان کی مدت قیام چالیس سال ذکر فرمائی گئی ہے






 (حقيقة النبوہ ص ۱۹۲ ـ از مرزا محمود احمد ) 
یہ مدت خود مرزا صاحب کو بھی مسلّم
ہے، بلکہ اپنے بارے میں ان کا چہل(40) سالہ دعوت کا الہام بھی ہے
چنانچہ اپنے رسالہ  نشان آسمانی میں شاہ نعمت اللّه ولی کے شعر

تا چہل سال اے برادر من
 دور آں شہسوارمی بینم

کو نقل کر کے لکھتے ہیں

یعنی اس روز سے جو وہ امام ملہم ہو  کر اپنے تیئں  ظاہر کرے گا چالیس برس تک زندگی کرے گا اب واضح رہے کہ یہ عاجز اپنی عمر  کے چالیسویں برس میں دعوت حق کے لیے  بالہام خاص مامور کیا گیا اور بشارت دی گئی کہ اسیّ (۸۰)  برس تک یا اس کے قریب  تیری عمر ہے سو اس الہام سے چالیس برس تک دعوت ثابت ہوتی ہے
جن میں سے دس برس کامل گزر بھی گئے ۔“

 (ص 13 طبع چہارم اگست 1934ء)


مرزا کے اس حوالے سے واضح  ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام چالیس برس زمین پر رہیں گے اور سب جانتے ہیں کہ مرزا صاحب نے  ۱۸۹ء  میں مسیحیت کا دعویٰ  کیا اور   26  مئی ۱۹۰۸ء   کو داغ مفارقت دے گئے 
 گویا مسیح ہونے کے دعوے کے ساتھ کل ساڑھے سترہ برس دنیا میں رہے 
 اور اگر اس کے ساتھ وہ زمانہ بھی شامل کرلیا جائے جبکہ ان کا دعویٰ صرف مجددیت کا تھا
مسیحیت کا نہیں تھا، تب بھی جون 1892ء
 (جونشان آسمانی کا سن تصنیف ہے)


 تک  دس برس کامل کا زمانہ اس میں مزید شامل کرنا ہوگا اور ان کی مدت قیام 26 سال بنے گی لہذا فرموده نبوی ﷺ   (چالیس برس زمین پر رہیں گے)  کے میعار پر تب بھی وہ پورے نہ اترے اور نہ ان کا دعویٰ مسیحیت ہی صحیح ثابت ہوا 
یہ دوسرا نکتہ ہے  جس سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزا صاحب مسیح  نہیں تھے





35 comments / Replies

  1. اللّہ ہر ایک صدی کے سر پر اس امت کے لیے ایک شخص کو مبعوث فرماۓ گا جو اس کے لئے.........کو تازہ کرےگا

    ReplyDelete
  2. مرزا صاحب نے ۱۸۹ء میں....... کا دعویٰ کیا

    ReplyDelete
  3. تا چہل سال اے برادر من
    دور آں.......... بینم

    ReplyDelete

  4. یہود و نصاریٰ کا اتفاق کہ ........ کا زمانہ آخری زمانہ ہے

    ReplyDelete
  5. ارشاد نبوی ﷺ کہ ہر صدی کے سر پر ایک ........... ہوگا

    ReplyDelete

Powered by Blogger.