Hazrat Maseeh (Esa) A.S k karname

Unit 3 
Lesson 8 


 بحیثیت حاکم عادل



آنحضرت ﷺ  نے حضرت مسیح عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے بارے میں حلفیہ خبر دی ہے کہ وہ حاکم عادل کی حیثیت سے تشریف لائیں گے اور ملت اسلامیہ کی سربراہی اور حکومت و خلافت کے فرائض انجام دیں گے
 اس کے برعکس مرزا صاحب پشتوں سے انگریزوں کے محکوم اور غلام چلے آتے تھے  
ان کا خاندان انگریزی سامراج کا ٹوڈی تھا  خود مرزا صاحب کا کام انگریزوں کے لیے مسلمانوں کی جاسوسی کرنا تھا اور وہ انگریزوں کی غلامی پر فخر کرتے تھے ان کو ایک دن کے لیے بھی کسی جگہ کی حکومت نہیں ملی اس لیے ان پر آنحضرت حضور ﷺ  کا ارشاد صادق نہیں آتا 
چنانچہ وہ خود لکھتے ہیں 

    "ممکن ہے اور بالکل ممکن ہے کہ کسی زمانے میں کوئی ایسا مسیح بھی آجائے جس پر حدیثوں کے ظاہری الفاظ صادق آ سکیں  کیونکہ یہ عاجز اس دنیا کی حکومت اور بادشاہت کے ساتھ نہیں آیا
     ( ازالہ اوہام ص ٢٠٠)



  کسرصلیب 


سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کا سب سے اہم اور اصل مشن اپنی قوم کی اصلاح کرنا ہے اور ان کی قوم کے دو حصے ہیں
ایک مخالفین یعنی یہود اور دوسرے محبین یعنی نصاریٰ

ان کے نزول کے وقت یہود کی قیادت دجال یہودی کے ہاتھ میں ہوگی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لا کر سب سے پہلے دجال کو قتل اور یہود کا صفایا کریں گے ان سے نمٹنے کے بعد آپ اپنی قوم نصاریٰ کی طرف متوجہ ہوں گے  اور ان کی غلطیوں کی اصلاح فرمائیں گے

ان کے اعتقادی بگاڑ کی ساری بنیاد عقیدہ تثلیث 
 کفارہ اور صلیب پرستی پر مبنی ہے
 حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری سے واضح ہوجائے گا کہ وہ بھی دوسرے انسانوں کی طرح ایک انسان ہیں 
لہذا تثلیث کی تردید ان کا سراپا وجود ہوگا
 کفارہ اور صلیب پرستی کا مدار اس پر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو معاذ اللّه  سولی پر لٹکایا گیا
 حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بقید حیات ہونا ان کے عقیدہ کفارہ اور تقدس صلیب کی نفی ہوگی 
 اس لیے تمام عیسائی اسلام کے حلقہ بگوش ہو جائیں گے 
اور اپنے سارے عقائد باطلہ سے توبہ کر لیں گے 
 اور ایک بھی صلیب دنیا میں باقی نہیں رہے گی

 خنزیر خوری ان کی ساری معاشرتی برائیوں کی بنیاد تھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام صلیب کو توڑ ڈالیں گے خنزیر کو قتل کریں گے  جس سے عیسائیوں کے اعتقادی اور معاشرتی بگاڑ کی ساری بنیادیں منہدم ہوجائیں گی  
اور خود نصاریٰ مسلمان ہو کر صلیب کو توڑنے اور خنزیر کو قتل کرنے کا کام کریں گے 
اور جو شخص صلیبی طاقتوں کا جاسوس ہو اس کو کسرِ صلیب کی توفیق ہو بھی کیسے سکتی تھی 
یہ ہے وہ  کسر صلیب  جس کو آنحضرت ﷺ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری کے ذیل میں حلفاً بیان فرمایا ہے


جناب مرزا کو کسر صلیب کی توفیق جیسی ہوئی وہ بیان کی محتاج نہیں 
یہی وجہ ہے کہ ان کی مزعومہ
  کسر صلیب  کے دور میں عیسائیت کو روز افزوں ترقی ہوئی 
خود مرزا کا بیان ملاحظہ فرماٸیں 


اور جب تیرھویں صدی کچھ نصف سے زیادہ گزر گٸی تو ایک دفعہ اس دجالی گروہ کا خروج ہوا اور پھر ترقی ہوتی گئی    یہاں تک کہ اس صدی کے اواخر میں بقول پادری ہیکر صاحب پانچ لاکھ تک صرف ہندوستان میں ہی کرسٹان شدہ لوگوں کی نوبت پہنچ گٸی اور اندازہ کیا گیا کہ قریباً بارہ سال میں ایک لاکھ آدمی عیسائی مذہب میں داخل ہو جاتا ہے۔“

 (ازالہ اوہام ص 194)

یہ تو مرزا کی سبز قدمی سے ان کی زندگی میں حال تھا
 اب ذرا ان کے دنیا سے رخصت ہونے کا حال سنئے 

 اخبار الفضل قادیان ۱۹ جون کی اشاعت میں صفحہ ۵ پر لکھتا ہے۔



کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس وقت ہندوستان میں عیسائیوں کے ( 137) مشن کام کررہے ہیں یعنی ہیڈمیشن ان کی برانچوں کی تعداد بہت زیادہ ہے     ہیڈمشنوں میں اٹھارہ سو سے زائد پادری کام کر رہے ہیں

 (403)  
 ہسپتال ہیں جن میں
(۵۰۰)  
  ڈاکٹر کام کر رہے ہیں 
 (43)
 پریس ہیں اورتقر یباً
 (۱۰۰) 
اخبارات مختلف زبانوں میں چھپتے ہیں
(۵۱)
 کالج 
(617)
 ہائی اسکول اور
 (61)

ٹرینگ کالج ہیں ان میں ساٹھ ہزار طالب علم تعلیم پاتے ہیں 
 مکتی فوج میں (308) یورپین اور (2886) ہندوستانی مناد کام کرتے ہیں
 ان کے ماتحت (507) پرائمری اسکول ہیں جن میں (18765) آدمیوں کی پرورش ہورہی ہے
 اور ان سب کوششوں اور قربانیوں کا نتیجہ یہ ہے کہ کہا جاتا ہے روزانہ (224) مختلف مذاہب کے آدمی ہندوستان میں عیسائی ہورہے ہیں 
 ان کے مقابلے میں مسلمان کیا کررہے ہیں؟ 


 وہ تو شاید اس کام کو قابل توجہ بھی نہیں سمجھتے
 (یوں بھی یہ چارج مسیح کے سپرد کیا جا چکا تھا اس لٸے مسلمانوں کی اس طرف توجہ کیوں ہوتی؟   ناقل) 
احمدی جماعت کو سوچنا چاہیۓ کہ عیسائیوں کی مشزیوں کی تعداد کے اس قدر وسیع جال کے مقابلے میں اس کی مساعی کی کیا حیثیت ہے ہندوستان بھر میں ہمارے دو درجن مبلّغ ہیں اور وہ بھی جن مشکلات میں کام کررہے ہیں   انہیں بھی ہم خوب جانتے ہیں۔



دیدہ عبرت سے الفضل کی رپورٹ پڑھئے کہ 1941ء میں (81760) اکیاسی ہزار سات سو ساٹھ آدمی سالانہ کے حساب سے صرف ہندوستان میں عیسائی ہورہے ہیں  باقی سب دنیا کا قصہ الگ رہا  اب انصاف سے بتایئے کہ کیا یہی 
”کسر صلیب“

 تھی جس کی خوشخبری رسول اللّه ﷺ حلفاً دے رہے ہیں اور کیا یہی
”کاسرصلیب“

مسیح ہے جسے سلام پہنچانے کی آپﷺ وصیت فرما رہے ہیں؟ 
کسوٹی میں نے آپ کے سامنے پیش کر دی 
 اگر آپ کھوٹے کھرے کو پرکھنے کی
صلاحیت رکھتے ہیں تو آپ کے ضمیر کو فیصلہ کرنا چاہئے کہ آنحضرت ﷺ 

”مسیح قادیانی“ 
کو     
  ”کسرصلیب‘‘  
 کہہ کر سلام نہیں بجھوار ہے وہ کوئی اور ہی مسیح ہو گا جو چند دنوں میں عیسائیت کے آثار روئے زمین سے صفایا کر دے گا 

 صلٰوة اللّٰه وسلامه علیہ۔

مرزا صاحب کی کوئی بات تاویلات کی بیساکھیوں کے بغیر کھڑی نہیں ہوسکتی تھی حالانکہ آنخضرتﷺ کا حلفیہ بیان ہے جس میں تاویلات کی سرے سے گنجائش ہی نہیں  اسی لیے مرزا صاحب نے
 ”کسر صلیب“ 
کے معنی
 ”موت مسیح کا اعلان “ کرنے کے فرمائے 
چونکہ مرزا صاحب نے بزعم خود مسیح علیہ السلام کو مارکر
 (نعوذ باللّہ) 
یوزا آسف کی قبر واقع محلہ خانیار سرینگر میں انہیں دفن کر دیا  اس لیے فرض کر لینا چاہیے کہ بس صلیب ٹوٹ گئی

انا للّه و انا اليه راجعون



مرزا نے بہت سی جگہ اس بات کو بڑے طمطراق سے بیان کیا ہے کہ میں نے عیسائیوں کا خدا ماردیا 
 ایک جگہ لکھتے ہیں کہ  

اصل میں ہمارا وجود دو باتوں کے لیے ہے ایک تو ایک نبی کو مارنے کے لیے دوسرا شیطان کو مارنے کے لیے

 (ملفوظات 60 جلد 10)

اگر اللّه تعالیٰ نے کسی کو عقل وفہم کی دولت عطا فرمائی ہے تو اسے سوچنا چاہٸے کہ ہندوستان کے خدا کو مارنے کا سہرا سرسید کے سر پر ہے، جس زمانے میں مرزا صاحب حیات مسیح کا عقیدہ رکھتے تھے اور براہین احمدیہ میں
 ص 498, 499, 505 
میں قرآن کریم کی آیات اور اپنےالہامات کے حوالے دے کر حیات مسیح ثابت فرماتے تھے 
سر سید بزعم خود اسی وقت عیسیٰ علیہ السلام کی موت
 ( نعوذ باللّه )



 ازروئے قرآن ثابت کر چکے تھے  حکیم نور دین  مولوی عبد الکریم مولوی محمد احسن امرہوی  اور کچھ جدید تعلیم یافتہ طبقہ سر سید کے نظریات سے متاثر ہو کر وفات مسیح کا قائل تھا
 اس لیے اگر وفات مسیح ثابت کرنا ”کسر صلیب“ 
ہے تو 
”مسیح موعود“
 اور
 ”کاسرصلیب“

کا خطاب مرزا صاحب کو نہیں بلکہ سر سید احمد خان کو ملنا چاہئے
اور اس بات پر بھی غور فرمایئے کہ عیسائیوں کی صلیب پرستی اور کفارہ کا مسئلہ صلیب کے اس تقدس پر مبنی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام 
(نعوذ باللّه) 
صلیب پر لٹکائے گئے

 اور اس نکتہ کو مرزا صاحب نے خود تسلیم کر لیا
 مرزا صاحب کو عیسائیوں سے صرف اتنی بات میں اختلاف ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام صلیب پر نہیں مرے  بلکہ کالمیت
 (مردہ کی مانند) 
ہو گئے تھے اور بعد میں اپنی طبعی موت مرے

بہر حال مرزا صاحب کو عیسیٰ علیہ السلام کا صلیب پر لٹکایا جانا بھی مسلّم اور ان کا فوت ہو جانا بھی مسلّم 
اس سے تو عیسائیوں کے عقیدہ و تقدس صلیب کی تائید ہوئی نہ کہ  کسرصلیب

اس کے برعکس اسلام یہ کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے صلیب پر لٹکائے جانے کا افسانہ ہی یہودیوں کا خود تراشیدہ ہے   جسے عیسائیوں نے اپنی جہالت سے مان لیا ہے  ورنہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہ صلیب پر لٹکائے گئے اور نہ صلیب کے تقدس کا کوئی سوال پیدا ہوتا ہے اور یہی وہ حقیقت ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول پر کھلے گی  اور دونوں قوموں پر ان کی غلطی واضح ہو جائے گی جس کے لیے نہ مناظروں اور اشتہاروں کی ضرورت ہوگی نہ ”لندن کانفرنسوں‘‘ کی 
 حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا وجود سامی ان کے عقائد کے غلط ہونے کی خود دلیل ہوگا







29 comments / Replies

  1. ان کا خاندان انگریزی سامراج کا۔۔۔۔۔۔۔تھا

    ReplyDelete
  2. ان کی قوم کے دو حصے ہیں ایک ۔۔۔۔۔۔۔۔اور دوسرے ۔۔۔۔۔۔۔۔

    ReplyDelete
  3. یہود کی قیادت ۔۔۔۔۔۔۔۔کے ہاتھ ہو گی

    ReplyDelete
  4. ۔۔۔۔۔۔۔۔ان کی ساری معاشرتی برائیوں کی بنیاد تھی

    ReplyDelete

Powered by Blogger.