Janwaron ki Zakat

جانوروں کی زکاۃ کا بیان 


سوال : کیا سونے، چاندی، اور تجارت کے سامان کے سوا میں زکاۃ واجب ہوتی ہے؟

جواب :  جی ہاں! سوائم میں زکاۃ واجب ہوتی ہے۔



سوال: سوائم کیا ہے؟

جواب: یہ وہ چوپاۓ ہیں جو جنگل میں چرتے ہیں مثلاً اونٹ،گاۓ،اور بکری اور ( ان میں) زکاۃ کے واجب ہونے کیلئے شرط لگائی جاتی ہے کہ سال کے اکثر ( حصہ) میں چرنے پر قناعت کریں پس اگر انہیں آدھا سال یا زیادہ ( عرصہ گھر پر) چارہ دے تو اس میں زکاۃ نہیں۔



سوال: ان جنسوں میں کیا( چیز) واجب ہوتی ہے؟

  جواب  ان میں واجب مقدار مختلف ہوتی ہے اور وہ مقدار ( بھی مختلف ہوتی ہے) جس میں زکاۃ واجب ہوتی ہے



سوال: ان چوپایوں کی زکاۃ میں آپکا قول کیا ہے جو کام کرتے ہیں،بوجھ اٹھاتے ہیں اور انہیں گھر پر چارہ دیا جاتا ہے؟

جواب: کام کرنے والے ،بوجھ اٹھانے والے اور (گھر پر) چارہ کھانے والے (جانوروں) میں زکاۃ نہیں ہے۔


______________________



   گاۓ بیل کی زکاۃ کا بیان


سوال: گاۓ بیل کی زکاۃ میں واجب کی مقدار بیان کیجیئے؟

جواب: تیس گاۓ بیل سے کم میں زکاۃ نہیں پس جب وہ تیس ہو جائیں اس حال میں کہ وہ چرنے والے ہوں اور ان پر سال گزر جاۓ تو ان میں ایک تَبِیع(جو دوسرے سال میں داخل ہو جاۓ) یا تَبِیعَه ہے اور چالیس میں  ایک مُسنّ( جو تیسرے سال میں داخل ہو جاۓ) مُسِنّہ ہے پس جب وہ چالیس سے زائد ہو جائیں تو حضرت ابو حنیفہؒ کے نزدیک زیادت میں اس کے بقدر واجب ہوگا ساٹھ تک۔پس ایک میں مسنّہ کا چالیسواں حصہ اور دو میں مُسِنّہ کا بیسواں حصہ اور تین میں چالیس حصوں کے تین حصے ( واجب ہوں گے) اور حضرت ابو یوسفؒ و حضرت محمدؒ فرماتے ہیں کہ زیادت میں کچھ نہیں یہاں تک کہ وہ ساٹھ کو پہنچ جائیں پس ان میں دو تبیع یا دو تبیعہ ہوں گے اور ستر میں ایک مسنّہ اور ایک تبیع ہیں اور اسّی میں دو مسنّے ہیں اور نوے میں تین تبیعے ہیں اور سو میں دو تبیعے اور ایک مسنّہ ہیں اور اسی ( اصول) پر نصاب ہر دس میں تبیع سے مُسِنّہ کی طرف بدلتا رہے گا۔



سوال: واجب کی مقدار میں بھینسوں کا حکم کیا ہے؟

جواب: بھینس اور گاۓ بیل اس ( حکم) میں برابر ہیں۔


_________________________


   بکریوں کی زکاۃ کا بیان


سوال: بکریوں کی زکاۃ میں تفصیل بیان کیجئے؟

جواب: چالیس بکریوں سے کم میں زکاۃ نہیں پس جب وہ چالیس ہو جائیں اس حال میں کہ وہ چرنے والی ہوں اور ان پر سال گزر جاۓ  تو ان میں ایک بکری ہے ایک سو بیس تک پس جب ایک زائد ہو جاۓ تو ان میں دو بکریاں ہیں دو سو تک پس جب ایک زائد ہو جاۓ تو ان میں تین بکریاں ہیں۔پس جب وہ چار سو کو پہنچ جائیں تو ان میں چار بکریاں ہیں پھر ہر سو میں ایک بکری ہے۔



سوال: کیا بھیڑ،دنبہ اور بکری کا حکم مختلف ہوتا ہے؟

جواب: دونوں برابر ہیں حکم ان میں مختلف نہیں ہوتا۔


_________________________

گھوڑوں کی زکاۃ کا بیان


سوال: کیا گھوڑوں میں زکاۃ ہے؟

جواب: جب گھوڑے چرنے والے ہوں  نر و مادہ اور ان پر سال گزر جاۓ تو ان کا مالک بااختیار ہے اگر چاہے ہر گھوڑے کی طرف سے ایک دینار دے اور اگر چاہے اسکی قیمت لگاۓ اور ہر دو سو درہموں میں سے پانچ درہم دے اور حضرت ابو حنیفہؒ کے نزدیک تنہا نر (گھوڑوں) میں زکاۃ نہیں 



سوال: کیا گھوڑوں کی زکاۃ میں اختلاف ہے؟

جواب: جی ہاں! حضرت ابو یوسفؒ و حضرت محمدؒ نے اس ( مسئلہ) میں حضرت ابو حنیفہؒ کی مخالفت کی ہے اور فرمایا کہ گھوڑوں میں زکاۃ نہیں۔



سوال: کیا خچروں اور گدھوں میں زکاۃ واجب ہوتی ہے؟

جواب: خچروں اور گدھوں میں کچھ( واجب) نہیں الا یہ کہ وہ تجارت کیلئے ہوں تو ان میں وہ ( مقدار زکاۃ) واجب ہوگی جو تجارت کہ مالوں میں واجب ہوتی ہے.

_________________________


متفرق مسائل



سوال: اونٹنی اور گاۓ کی اولاد میں حضرت ابو حنیفہؒ کا قول کیا ہے؟


جواب: حضرت ابو حنیفہؒ وحضرت محمدؒ کے نزدیک اونٹنی کے بچوں ،بکری کے بچوں اور گاۓ کے بچوں میں زکاۃ نہیں الا یہ کہ ان کے ساتھ بڑے ہوں اور حضرت ابو یوسفؒ کے نزدیک ان میں سے ایک ان میں واجب ہے۔



سوال: جب زکاۃ وصول کرنے والا جاۓ تاکہ جانوروں کی زکاۃ لے تو کیسے کرے جب وہ ان کے پاس اس ( جانور) کو نہ پاۓ جو ان کے مالوں میں واجب ہو؟

جواب: ادنیٰ( جانور) لے اور باقی (دام) لے یا اعلیٰ ( جانور) لے اور زائد ( دام) لوٹاۓ۔




سوال: زکاۃ وصول کرنے والا عمدہ مال لے یا گھٹیا؟

جواب: نہ یہ لے اور نہ وہ اور سوائے اس کے نہیں درمیانہ (مال) لے۔


فائدہ: اونٹوں کی زکاۃ میں نر جیسے اِبْنِ مَخاضْ ( دینا) جائز نہیں الا یہ کہ مادہ کی قیمت کے طور پر ( ہو) بخلاف گاۓ بیل اور بکریوں کے کیونکہ ان میں واجب ہونے والے جانور میں نر اور مادہ( دونوں دینا)  جائز ہے۔




سوال: جب نصاب باقی رہ جاے اور عَفْو( یعنی دو نصابوں کے درمیان کا عدد) ہلاک ہو جاۓ تو جو باقی رہ گیا اس کے بقدر تمام موجود میں زکاۃ واجب ہے یا تمام مال سے جو ہلاک ہو گیا اس کے حساب سے( زکاۃ) کم ہو جاۓ گی؟

جواب: حضرت ابو حنیفہؒ و حضرت ابو یوسفؒ کے نزدیک اس ( مسئلہ) میں اصل یہ ہے کہ زکاۃنصاب میں واجب ہے عَفْو میں نہیں پس جب عفو ہلاک ہو جاۓ  اور نصاب باقی رہ جاۓ تو ( شیخینؒ) کے نزدیک تمام واجب باقی رہے گا اور حضرت محمدؒ و حضرت زفرؒ فرماتے ہیں کہ جو ہلاک ہو گیا اس کے حساب سے واجب ساقط ہوگا۔



سوال: اس اجمال سے ثمرۂ اختلاف واضح نہیں ہوا پس اس کی شرح کیجیئے؟

جواب: ہم اس کے لیے ایک مثال وضع کرتے ہیں پس اپنے ظاہر اور اپنے باطن کے ساتھ مکمل توجہ کیجیئے.
ایک شخص کے پاس نو اونٹ تھے اور ان پر سال گزر گیا پھر ان میں سے چار ہلاک ہو گۓ پس اس پر باقی (اونٹوں) میں کامل بکری ہے جیسا کہ اس ( صورت) میں واجب ہوتی ہے جب اونٹ پانچ سے زائد نہ ہوں اور ہلاک ہونے والی ( تعداد)  کو عفو یعنی اس زائد کی طرف پھیرا جاۓ گاجس میں زکاۃ واجب نہیں ہوتی یہاں تک کہ وہ دس کو پہنچ جائیں  یہ حضرت ابو حنیفہؒ کے نزدیک اور حضرت ابو یوسفؒ کے نزدیک ہے اور حضرت محمدؒ ،حضرت زفرؒ کے نزدیک باقی( اونٹوں) میں بکری کے پانچ تسع(٥/٩) کی ادا اس پر واجب  ہے پس انہوں نے واجب کو نو اونٹوں پر تقسیم کیا اور ہلاک ہونے والی ( تعداد) کو تمام مال کی طرف پھیرا  اور ہلاک ہونے والی ( تعداد) کے حساب سے تمام ( مال) سے واجب کو ساقط کیا۔
اور دوسری مثال یہ ہے کہ ایک شخص کے پاس اسّی بکریاں تھیں پس سال مکمل ہونے کے بعد چالیس ہلاک ہو گئیں تو حضرت ابو حنیفہؒ و حضرت ابو یوسفؒ کے نزدیک اس پر باقی ( بکریوں) میں ایک کامل بکری ہے اور ( حضرت محمدؒ و حضرت زفرؒ) کے نزدیک آدھی بکری ہے اور اگر ان میں سے  ساٹھ ہلاک ہو گئیں تو شیخینؒ کے نزدیک اس پر آدھی بکری ہے اور ( حضرت محمدؒ و حضرت زفرؒ) کے نزدیک بکری کی چوتھائی ہے پس غور کیجیۓ۔

___________





No comments:

Powered by Blogger.