Jiziah Band Ladai moquf

Unit 3
Lesson 9


لڑائی موقوف  ،   جزیہ بند





صحیح  بخاری کی مندرجہ بالا حدیث  میں حضرت مسیح علیہ السلام  کا ایک کارنامہ یضع الحرب بیان فرمایا ہے یعنی وہ لڑائی  اور جنگ کو ختم کر دیں گے 
 اور دوسری روایات میں اس کی جگہ

و یضع الجزیة 

 کے لفظ ہیں  یعنی جزیہ موقوف کر دیں گے
مرزا صاحب نے اپنی کتابوں میں بے شمار جگہ اس ارشاد نبوی صلی اللّہ علیہ والہ وسلم کے حوالے سے انگریزی حکومت کی دائمی غلامی اور ان کے خلاف جہاد کو حرام قرار دیا ہے  حالانکہ حدیث نبوی صلی اللّہ  علیہ والہ وسلم کا منشا یہ تھا کہ حضرت  عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد لوگوں کے مذہبی اور نفسانی اختلاف مٹ جائیں گے 
 اس لیے نہ لوگوں کے درمیان کوئی عداوت و کدورت باقی رہے گی۔ نہ جنگ و جدال اور چونکہ تمام مذاہب مٹ جائیں گے اس لیے جزیہ بھی ختم ہو جائے گا


ادھر مرزا صاحب کی سبز قدمی سے اب تک دو عالمی جنگیں ہو چکی ہیں  
روزانہ کہیں نہ کہیں جنگ جاری ہے اور تیسری عالمی جنگ کی تلوار انسانیت کے سروں پر لٹک رہی ہے اور مرزا صاحب جزیہ تو کیا بند کرتے وہ اور ان کی جماعت آج تک خود غیر مسلم قوتوں کی باج گزار ہے
 اب انصاف فرمائیے کہ آنحضرت صلی اللّہ علیہ والہ وسلم نے حضرت مسیح علیہ السلام کی جو یہ علامت حلفاً بیان فرمائی ہے کہ ان کے زمانے میں لڑائی  بند ہو جائے گی اور جزیہ موقوف ہو جائے گا کیا یہ علامت مرزا صاحب میں پائی گئی؟  اگر نہیں 
اور یقیناً نہیں تو مرزا صاحب کو مسیح ماننا کتنی غلط بات ہے


  قتل دجال


سیدنا عیسیٰ علیہ اسلام کا ایک عظیم الشان کارنامہ 
 قتل دجال  ہے     احادیث طیبہ کی روشنی میں دجال کا مختصر قصہ یہ ہے کہ وہ یہود کا رئیس ہوگا ابتداء میں نیکی اور پارسائی کا اظہار کرے گا   پھر نبوت کا دعویٰ کرے گا اور بعد میں خدائی کا

 (فتح الباری ص 13،ص 79) 



وہ آنکھ سے کانا ہوگا۔ ماتھے پر  کافر  یا ک  ف  ر       لکھا ہوگا 
جسے ہر خواندہ و ناخواندہ مسلمان پڑھے گا  اس نے جنت و دوزخ بھی بنا رکھی ہوگی 
( مشکوٰتہ ص 473)



اصفہان کے ستر ہزار یہودی اس کے ہمراہ ہوں گے
 (مشکوٰتہ ص 475) 


شام و عراق کے درمیان سے خروج کرے گا اور دائیں بائیں فساد پھیلائے گا   چالیس دن تک زمین میں اودھم مچائے گا   ان چالیس دنوں میں سے پہلا دن ایک سال کے برابر ہوگا   دوسرا اک ماہ کے برابر  تیسرا ایک ہفتہ کے برابر اور باقی 36 دن معمول کے مطابق ہوں گے  ایسی تیزی سے مسافت طے کرے گا جیسے ہوا کے پیچھے بادل ہوں
 ( مشکوٰة ص 473)


لوگ اس کے خوف سے بھاگ کر پہاڑوں میں چلے جائیں گے
حق تعالیٰ کی طرف سے اس کو فتنہ و استدراج دیا جائے گا   اس کے خروج سے پہلے تین سال ایسے گزریں گے کہ پہلے سال ایک تہائی بارش اور ایک تہائی غلہ کی کمی ہو جائے گی  دوسرے سال دو تہائی کی کمی ہوگی اور تیسرے سال نہ بارش کا  قطرہ برسے گا  اور نہ زمین میں کوئی روئیدگی ہوگی
 اس شدت قحط سے حیوانات اور درندے تک مریں گے جو لوگ دجال پر ایمان لائیں گے ان کی زمینوں پر بارش ہوگی اور ان کی زمین میں روئیدگی ہوگی
 ان کے چوپائے کوکھیں بھرے ہوئے چراگاہ سے لوٹیں گے   اور جو لوگ اس کو نہیں مانیں گے وہ مفلوک الحال ہوں گے ان کے سب مال مویشی تباہ ہو جائیں گے
( مشکوٰة ص477)



دجال ویرانے پر سے گزرے گا تو زمین کو حکم دے گا کہ اپنے خزانے اگل دے چنانچہ خزانے نکل کر اس کے ہمراہ ہو لیں گے
( مشکوٰة ص 473)



ایک دیہاتی اعرابی سے کہے گا کہ اگر میں تیرے اونٹ زندہ کر دوں تو مجھے مان لے گا؟  وہ کہے گا ضرور چنانچہ شیطان اس کے اونٹوں کی شکل میں سامنے آئیں گے اور وہ سمجھے گا کہ واقعی اس کے اونٹ زندہ ہوگئے ہیں اور اس شعبدہ کی وجہ سے دجال کو خدا مان لے گا 
اسی طرح ایک شخص سے کہے گا کہ اگر میں تیرے باپ اور بھائی کو زندہ کر دوں تو مجھے مان لے گا؟
 وہ کہے گا ضرور       چنانچہ اس کے باپ اور بھائی کی قبر پر جائے گا تو شیاطین اس کے باپ اور بھائی کی شکل میں سامنے آ کر کہیں گے ہاں  یہ خدا ہے   اسے ضرور مانو

( مشکوٰة ص477)



 اس قسم کے بے شمار شعبدوں سے وہ اللّہ تعالیٰ کی مخلوق کو گمراہ کرے گا
اور اللّہ تعالیٰ کے خاص مخلص بندے ہی ہوں گے جو اس کے دجل و فریب اور شعبدوں اور کرشموں سے متاثر نہیں ہوں گے اس لیے آنحضرت صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم نے وصیت فرمائی جو شخص خروج و دجال کی خبر سنے اس سے دور بھاگ جائے

(مشکٰوة ص477) 



بالآخر دجال اپنے لاوؤ لشکر سمیت مدینہ طیبہ کا رخ کرے گا مگر مدینہ طیبہ میں داخل نہیں ہو سکے گا بلکہ احد پہاڑ سے پیچھے پڑاؤ کرے گا   پھر اللّہ تعالیٰ کے فرشتے اس کا رخ ملک شام کی طرف پھیر دیں گے اور وہیں جا کر وہ ہلاک ہوگا

( مشکوٰة ص 475) 



دجال جب شام کا رخ کرے گا تو اس وقت حضرت امام مہدی علیہ الرضوان قسطنطنیہ کے محاذ پر نصاریٰ  سے مصروف جہاد ہوں گے خروج دجال کی خبر سن کر ملک شام کو واپس آئیں گے  اور دجال کے مقابلے میں صف آراء ہوں گے نماز فجر کے وقت  جب کہ نماز کی اقامت ہو چکی ہوگی  عیسیٰ علیہ السلام نزول فرمائیں گے 
حضرت مہدی علیہ الرضوان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نماز کے لیے آگے کریں گے اور خود پیچھے ہٹ آئیں گے مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام انہی کو نماز پڑھانے کا حکم فرمائیں گے

(مشکوٰة ص480)



 نماز سے فارغ ہو کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کے مقابلے کے لیے نکلیں گے
 وہ آپ کو دیکھتے ہی بھاگ کھڑا ہوگا  اور سیسے کی طرح پگھلنے لگے گا  آپ علیہ السلام  باب لد پر
 (جو اس وقت اسرائیلی مقبوضات میں ہے)
 اسے جا لیں گے اور اسے قتل کر دیں گے

( مشکوٰة ص 473) 



امام ترمذی رحمتہ اللّہ علیہ حضرت مجمع بن جاریہ رحمتہ اللّہ کی روایت سے آنحضرت صل اللّہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کر کے کہ  

حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کو باب لد پر قتل کریں گے
 فرماتے ہیں 

      اس باب میں عمران بن حصینؓ، نافع بن عقبہؓ، ابی برزہؓ، حذیفہ بن اسیدؓ، ابی ہریرہؓ، کیسانؓ، عثمان بن ابی العاصؓ، جابرؓ، ابی امامہؓ، ابن مسعودؓ، عبداللہ بن عمرؓ، سمرہ بن جندبؓ، نواس بن سمعانؓ عمر بن عوفؓ، حذیفہ بن یمانؓ 
(یعنی پندرہ صحابہؓ) 
سے احادیث مروی ہیں، یہ حدیث صحیح ہے

 ( ترمذی 84 ج 2)



یہ ہے وہ دجال جس کے قتل کرنے کی رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم نے پیش گوئی فرمائی ہے اور جس کے قاتل کو سلام پہنچانے کا حکم فرمایا ہے

کوئی شخص رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان ہی نہ رکھتا ہو تو اس کی بات دوسری ہے
 لیکن جو شخص آپ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان رکھنے کا دعویٰ کرتا ہے اسے انصاف کرنا چاہیے کہ کیا ان صفات کا دجال کبھی دنیا میں نکلا ہے اور کیا کسی عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام نے اسے قتل کیا ہے؟

جس طرح مرزا کی مسیحیت خود ساختہ تھی اسی طرح انہیں دجال بھی مصنوعی تیار کرنا پڑا، چنانچہ فرمایا کہ عیسائی پادریوں کا گروہ دجال ہے، یہ بات مرزا صاحب نے اتنی تکرار سے لکھی ہے کہ اس کے لیے کسی حوالے کی ضرورت نہیں۔

اول تو یہ پادری آنحضرت صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی پہلے چلے آ رہے ہیں
 اگر یہی دجال ہوتے تو آنحضرت صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم اپنے زمانے ہی میں فرما دیتے کہ یہ دجال ہیں پھر کیا وہ نقشہ اور دجال کی وہ صفات و احوال جو آنحضرت صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمائے ہیں ان عیسائی پادریوں میں پائے جاتے ہیں؟

اور اگر مرزا صاحب کی اس تاویل کو صحیح بھی فرض کر لیا جائے تو عقل و انصاف سے فرمایا جائے کہ کیا مرزا صاحب کی مسیحیت سے  پادری ہلاک ہو چکے ہیں؟

اور اب دنیا میں کہیں عیسائی پادریوں کا وجود باقی نہیں رہا؟

 یہ تو ایک مشاہدے کی چیز ہے جس کے لیے قیاس و منطق لڑانے کی ضرورت نہیں

 اگر مرزا صاحب کا دجال قتل ہو چکا ہے تو پھر  یہ دنیا میں عیسائی پادریوں کی کیوں بھر مار ہے؟

 اور دنیا میں عیسائیت روز افزوں ترقی کیوں کر رہی ہے؟

81 comments / Replies

  1. حضرت مسیح علیہ السلام کا ایک کارنامہ......... ہے یعنی وہ لڑائی اور جنگ کو ختم کر دیں گے

    ReplyDelete
  2. حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کو........... پر قتل کریں گے

    ReplyDelete
  3. نماز سے فارغ ہو کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام ...........کے مقابلے کے لیے نکلیں گے

    ReplyDelete
  4. دجال جب شام کا رخ کرے گا تو اس وقت حضرت امام مہدی علیہ الرضوان قسطنطنیہ کے محاذ پر............ سے مصروف جہاد ہوں گے

    ReplyDelete
  5. حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بعد لوگوں کے ......... اور.......... مٹ جائیں گے

    ReplyDelete
  6. ابتدا میں نیکی اور پارسائ کا۔۔۔کرے گا اور بعد میں ۔۔۔۔۔۔۔کا دعوی کرے گا

    ReplyDelete
  7. اللہ تعالی کی مخلوق کو۔۔۔۔۔۔۔۔کرے گا

    ReplyDelete
  8. دجال ------دن تک زمین میں اودہم مچاے گا

    ReplyDelete
  9. پہلا دن ------- کے برابر ہو گا

    ReplyDelete
  10. لوگ اس کے خوف سے بھاگ کر --------- میں چلے جایں گے

    ReplyDelete

Powered by Blogger.