Khatim ul Nabiyeen tafaseer ki roshni me

Unit 3 
Lesson 1 

خاتم النبیین تفاسیر کی روشنی میں 



تمام مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ خاتم النبیّین  کے معنی یہ ہیں کہ آپ ﷺ آخری نبی ہیں
آپ ﷺ کے بعد کسی کو منصب نبوت پر فائز نہیں کیا جائے گا چنانچہ


امام حافظ ابن کثیرؒ اس آیت کے ذیل میں اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں 


یہ آیت اس مسئلہ میں نص ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں اور جب آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں تو رسول بدرجہ اولٰی نہیں ہوسکتا کیونکہ مقامِ نبوت مقامِ رسالت سے عام ہے کیونکہ ہر رسول نبی ہوتا ہے اور ہر نبی رسول نہیں ہوتا اور اس مسئلہ پر کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی و رسول نہیں  آنحضرت ﷺ کی متواتر احادیث وارد ہیں جو صحابہ کرامؓ کی ایک بڑی جماعت سے مروی ہیں


 (تفسیر ابن کثیر ص۱۹۳، ج۳)




امام قرطبی اس آیت کے تحت لکھتے ہیں

 ابن عطیہ فرماتے ہیں کہ خاتم النبیّین کے یہ الفاظ تمام قدیم و جدید علمائے امت کے نزدیک کامل عموم پر ہیں جو نص قطعی کے ساتھ تقاضا کرتے ہیں کہ آنحضرت  ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں


 (تفسیر قرطبی 196، ج 14)




 حجتہ الاسلام امام غزالی الاقتصاد میں فرماتے ہیں


 بے شک امت نے بالاجماع اس لفظ 
(خاتم النبیّین) 
سے یہ سمجھا ہے کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ آپ ﷺ کے بعد نہ کوئی نبی ہوگا اور نہ رسول 
 اور اس پر اجماع ہے کہ اس لفظ میں کوئی تاویل و تخصیص نہیں  پس اس کا منکر یقیناً اجماع امت کا منکر ہے


(الاقتصاد في الاعتقاد ص 123 )



آنحضرت ﷺ نے متواتر احادیث میں اپنے خاتم النبیّین ہونے کا اعلان فرمایا اور ختم نبوت کی ایسی تشریح بھی فرما دی کہ اس کے بعد آپ ﷺ کے آخری نبی ہونے میں کسی شک و شبہ اور تاویل کی گنجائش باقی نہیں رہی  متعدد اکابر نے ان احادیث ختم نبوت کے متواتر ہونے کی تصریح کی ہے چنانچہ 


 حافظ ابن حزم ظاہری 
کتاب الفصل في الملل والا ھوا والنحل
 میں لکھتے ہیں


 وہ تمام حضرات جنہوں نے آنخضرتﷺ کی نبوت آپﷺ کے معجزات اور آپ ﷺ کی کتاب
 (قرآن کریم ) 
کو نقل کیا ہے انہوں نے  یہ بھی نقل کیا ہے کہ آپ ﷺ نے یہ خبر دی تھی کہ آپﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں 


(کتاب الفصل ص ٧٧ ج١)



حافظ ابن کثیرؒ آیت خاتم النبیّین کے تحت لکھتے ہیں


اور ختم نبوت پر آنحضرتﷺ کی احادیث متواتر وارد ہوئی ہیں جن کو صحابہ کرامؓ کی ایک بڑی جماعت نے بیان فرمایا


(تفسیر ابن کثیرص۱۹۳،ج ۳)




علامہ سید محمود آلوسی تفسیر روح المعانی میں زیر آیت خاتم النبیّین لکھتے ہیں
اور آنخضرتﷺ کا خاتم النبیّین ہونا ایسی حقیقت ہے جس پر قرآن ناطق ہے
احادیث نبویہ نے جس کو واشگاف طور پر بیان فرمایا ہے اور امت نے جس پراجماع کیا ہے  پس جو شخص اس کے خلاف کا مدعی ہو اس کو کافر قرار دیا جائے گا اور اگر وہ اس پر اصرار کرے تو اس کو قتل کیا جائے گا


 (روح المعانی ص 41 ، جلد۲۲)





45 comments / Replies

  1. مقامِ نبوت مقامِ........ سے عام ہے

    ReplyDelete
  2. ہر رسول نبی ہوتا ہے اور ہر نبی.........نہیں ہوتا

    ReplyDelete
  3. تمام مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کی معنی یہ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔۔۔۔۔۔ہیں

    ReplyDelete
  4. آنخضرتﷺ کا خاتم النبیّین ہونا ایسی حقیقت ہے جس پر قرآن........... ہے

    ReplyDelete
  5. ختم نبوت پر آنحضرتﷺکی احادیث ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وارد ہوٸی ہیں

    ReplyDelete

Powered by Blogger.