Kheton or Phalon ki Zakat

کھیتوں اور پھلوں کی زکاۃ کا بیان


سوال: کیا کھیتوں اور پھلوں میں زکاۃ ہے؟

جواب: جی ہاں! ان میں زکاۃ ہے جو پیداوار اس کا عشر( دسواں حصہ)  یا نصف عشر( بیسواں حصہ) نکالا جاۓ ان پانیوں کے اختلاف کے مطابق جن کے ساتھ سیراب کیا گیا ہے۔



سوال: کیا اس میں نصاب ہے؟

جواب: حضرت ابو حنیفہؒ کے نزدیک اس میں نصاب نہیں پس ہر وہ ( چیز) جو زمین پیدا کرے تھوڑی ہو یا زیادہ اس میں زکاۃ واجب ہوتی ہے مگر لکڑی ،بانس اور گھاس کہ ( حضرت ابو حنیفہؒ) کے نزدیک ان میں زکاۃ نہیں اور حضرت ابو یوسفؒ و حضرت محمدؒ فرماتے ہیں کہ زمین کی پیداوار میں زکاۃ نہیں مگر اس( پیداوار) میں جس کا پھل باقی رہنے والا ہو بشرطیکہ وہ پانچ وَسق( بحساب مثقال پانچ من اڑھائ سیر ٨٠ تولہ کے سیر سے۔بحساب درهم ٥من پونے پانچ سیر ٨٠ تولہ کے سیر سے (اوزان شرعیہ)   )  کو پہنچ جائے اور ان کے نزدیک سبزیوں میں زکاۃ نہیں۔



سوال: وسق کیا ہے؟

جواب: وہ ناپنے کا آلہ ہے اور وہ ساٹھ صاع (بحساب درہم ٢٧٣تولہ یعنى ١٨٤٢٧٢ء٣ کلو گرام اور بحساب مثقال ٢٧٠تولہ (اوزان شرعیہ مع تتمہ)) کی گنجائش رکھتا تھا۔



سوال: عشر اور نصف( عشر) کے وجوب میں کیا تفصیل ہے؟

جواب: جب جاری پانی سے سیراب کیا جاۓ یا بارش اسے سیراب کرے تو اس میں عشر ہے اور جب چڑسہ یا رہٹ یا سانڈنی سے سیراب کیا جاۓ تو دونوں قولوں ( کے اختلاف)  پر اس میں نصف عشر ہے۔



سوال: جب پیداوار اس میں سے ہو جو وسق نہ کی جاۓ یعنی وسقوں کے زریعہ نہ ناپی جاۓ جیسے زعفران اور روئ تو اس میں زکاۃ واجب ہونے میں صاحبین کا قول کیا ہے ؟ 

جواب: حضرت ابو یوسفؒ فرماتے ہیں کہ جب اس کی قیمت ایسی ادنی درجہ کی ( پیداوار) کے پانچ وسق کی قیمت کو پہنچ جاۓ جو وسق کے تحت داخل ہوتی ہے  تو اس میں عشر واجب ہوگا اور حضرت محمدؒ فرماتے ہیں کہ عشر واجب ہوگا جب پیداوار پانچ عدد اعلیٰ اس مقدار کو پہنچ جاۓ جس کے ساتھ اس قسم ( کی چیزوں) کا اندازہ کیا جاتا ہے پس روئ میں پانچ گون اور زعفران میں پانچ سیر معتبر ہوں  گے



سوال: کیا شہد میں عشر واجب ہوتا ہے؟

جواب: حضرت ابو حنیفہ کے نزدیک جب شہد عشری زمین سے لیا جاۓ تو اس میں عشر واجب ہوگا (شہد )کم ہو یا زیادہ ہو اور حضرت ابو یوسفؒ فرماتے ہیں کہ ( شہد) میں کچھ نہیں یہاں تک کہ وہ دس مشکوں تک پہنچ جاۓ  اور حضرت محمدؒ فرماتے ہیں کہ اس میں کچھ نہیں یہاں تک کہ وہ پانچ فرق کو پہنچ جائے۔



سوال: فرق کی مقدار کتنی ہے؟ 

جواب: وہ چھتیس رطل( ٣٤تولہ ڈیڑھ ماشہ یعنی ٠٣٤ء٣٩٨  گرام ( اوزان شرعیہ مع تتمہ)) عراقی کا ہوتا ہے ۔



سوال: جب کوئ چیز خراجی زمین سے پیدا ہو تو کیا اس میں عشر واجب ہے؟

جواب: عشر اس میں واجب نہیں ہوگا بلکہ اس میں خراج پر قناعت کی جاۓ گی۔



سوال: کیا عشر یا نصف ( عشر) ادا کرنے سے پہلے اخراجات مثلاً مزدوروں کی اجرت اور بیلوں وغیرہ کہ خرچوں کو وضع کیا جاۓ ؟

جواب: اخراجات وضع نہ کیۓ جائیں بلکہ زمین کی تمام پیداوار سے واجب ( مقدار) عشر ہو یا نصف ( عشر) کا نکالنا واجب ہوتا ہے






No comments:

Powered by Blogger.