Kufar ki aik surat
Unit 2
Lesson : 6
۔۔۔۔۔ کفر کی ایک صورت ۔۔۔۔۔
جو شخص حضور آنحضرت ﷺ کے دین کی کسی بات کا مزاق اڑاتا ہے
وہ بھی کافر اور بے ایمان ہے
مثلاً آنحضرت ﷺ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کی قطعی پیش گوئی فرمائی ہے
جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے ایک شخص آنحضرت ﷺ کی اس پیش گوئی کا مذاق اڑاتا ہے وہ بھی کافر ہوگا کیونکہ یہ شخص حضور ﷺ کا مذاق اڑاتا ہے
اور حضور ﷺ کا مذاق اڑانا
(نعوذ باللّه ثم نعوذ باللّه)
خالص کفر ہے
اسی طرح کوئی شخص کسی نبی کی طرف جھوٹ کی نسبت کرتے ہوئے کہتا ہے
ہائے کس کے آگے یہ ماتم لے جائیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تین پیش گوئیاں صاف طور پر جھوٹی نکلیں اور کون زمین پر ہے جو اس عقیدے کو حل کرے
(اعجاز احمدی ص ۱۴،مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)
تو ایسا شخص بھی کافر ہوگا
کیونکہ ایک نبی کی طرف جھوٹ کی نسبت کرنا تمام نبیوں کو بلکہ نعوذباللّه اللّہ تعالیٰ کو جھوٹا کہنے کے ہم معنی ہے
اسی طرح کوئی شخص اللّہ کے نبی کی توہین کرتا ہے مثلاً یوں کہتا ہے
لیکن مسیح کی راست بازی اپنے زمانے میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی بلکہ یحییٰ نبی کو اس پر ایک فضیلت ہے
کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے آکر اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں یا اپنے سر کے بالوں سے اس کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق اور جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی اسی وجہ سے قرآن میں یحییٰ کا نام "حصور" رکھا
مگر مسیح کا نام نہ رکھا کیونکہ ایسے قصے اس نام رکھنے سے مانع تھے
(دفاع البلاء مصنف مرزا غلام احمد قادیانی )
ایسا شخص بھی دعویٰ اسلام کے باوجود اسلام سے خارج اور پکا کافر ہے
اسی طرح اگر کوئی شخص حضرت خاتم النبیین حضور ﷺ کے بعد نبوت و رسالت کا دعویٰ کرے یا یہ کہے کہ مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے یا معجزہ دکھانے کا دعویٰ کرے یا کسی نبی سے اپنے آپ کو افضل کہے
مثلاً یوں کہے
ابن مریم کے ذکر
اس سے بہتر غلام احمد ہے
(دافع البلاء مصنف مرزا غلام احمد قادیانی)
اس شعر کا کہنے والا اور اس کو صحیح سمجھنے والا پکا بے ایمان اور کافر ہے کیونکہ وہ اپنے آپ کو عیسیٰ ابن مریم سے بہتر اور افضل کہتا ہے
یا یوں کہے
محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شاں میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل
غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں
(اخبار بدر قادیان جلد 2 ص43 مورخہ 25 اکتوبر 1906ء )
ایسا شخص بھی پکا بے ایمان اور کافر ہے اس کا کلمہ پڑھنا ابلہ فریبی اور خود فریبی ہے
خلاصہ یہ کہ کلمہ طیبہ وہی معتبر ہے جس کے ساتھ آنحضرت صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کے دین کی کسی حقیقت کی قولاً یا فعلاً تکزیب نہ کی گئی ہو
جو شخص ایک طرف کلمہ پڑھتا ہے اور دوسری طرف اپنے قول یا فعل سے آنحضرت صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کے لائے ہوئے دین کی کسی بات کی تکذیب کرتا ہے اس کے کلمہ کا کوئی اعتبار نہیں
جب تک کہ وہ اپنے کفریات سے توبہ نہ کرے
اور ان تمام حقائق کو جو آنحضرت صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم سے تواتر کے ساتھ منقول ہیں اسی طرح تسلیم نہ کرے جس طرح کہ ہمیشہ سے مسلمان مانتے چلے آئے ہیں اس وقت تک وہ مسلمان نہیں خواہ لاکھ کلمہ پڑھے
جن لوگوں کو کافر کہا جاتا ہے وہ اسی قسم کے ہیں کہ بظاہر کلمہ پڑھتے ہیں لیکن رسول اللّه صلی اللّه علیہ و آلہ وسلم کے دین کا مذاق اڑاتے ہیں آپ خود انصاف فرمائیں کہ ان کو کافر نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے
•جس گروہ کی وکالت کرتے ہوئے آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ
" وہ صدق دل سے کلمہ پڑھتا ہے"
اس کے بارے میں آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ لعین قادیان مسیلمہ پنجاب مرزا غلام احمد قادیانی کو
"محمد رسول اللّه "
مان کر کلمہ لا الہ الا اللّه محمد رسول اللّه پڑھتا ہے
اس کی پوری تفصیل آپ کو رسالہ
"قادیانوں کی طرف سے کلمہ طیبہ کی توہین"
میں ملے گی یہاں صرف مرزا بشیر احمد قادیانی کا ایک حوالہ ذکر کرتے ہیں
مرزا بشیر احمد لکھتا ہے
مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی بعثت کے بعد محمد رسول اللّه کے مفہوم میں ایک اور رسول (یعنی مرزا قادیانی) کی زیادتی ہو گئی لہذا مسیح موعود( مرزا قادیانی) کے آنے سے نعوذ باللّه
" لا الہ الا اللّه محمد رسول اللّه " باطل نہیں ہوتا بلکہ اور بھی زیادہ شان سے چمکنے لگ جاتا ہے
آگے لکھتا ہے
ہم کو نئے کلمہ کی ضرورت پیش نہیں آتی کیونکہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) نبی کریم صلی اللّہ علیہ وسلم سے کوئی الگ چیز نہیں پس مسیح موعود (مرزا قادیانی) خود محمد رسول اللّه ہے جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے اس لیے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں
ہاں اگر محمد رسول اللّه کی جگہ اور کوئی آتا تو ضرورت پیش آتی فتد برو
(کلمتہ الفصل ص 1158 از مرزا بشیر احمد قادیانی)
پس جو گروہ ایک ملعون کذّاب دجال قادیان کو محمد رسول اللّه مانتا ہو اور جو گروہ اس دجال قادیان کو کلمہ طیبہ لا الہ الا اللّه محمد رسول اللّه کے مفہوم میں شامل کر کے اس کا کلمہ پڑھتا ہو اس گروہ کے بارے میں آپ کا یہ کہنا کہ وہ صدق دل سے کلمہ پڑھتا ہے نہایت افسوسناک نا واقفی ہے ایک ایسا گروہ جس کا پیشوا خود کو محمد رسول اللّه کہتا ہو جس کے افراد
محمّد پھر آئے ہم میں
اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
کے ترانے گاتے ہوں اور اس نام نہاد محمد رسول اللّه کو کلمہ کے مفہوم میں شامل کر کے اس کے نام کا کلمہ پڑھتے ہوں
کیا ایسے گروہ کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ صدق دل سے کلمہ پڑھتا ہے
اور کیا ان کے کافر بلکہ کفر ہونے میں کسی مسلمان کو شک وشبہ ہوسکتا ہے

ReplyDeleteجو شخص حضور آنحضرت ﷺ کے دین کی کسی بات کا مزاق اڑاتا ہے
وہ بھی...... اور........ہے
کافر
Deleteبےایمان
Kafir beiman
Deleteکافر بے ایمان
Deleteکافر
Deleteبے ایمان
Kafir by eman
Deleteکافر
Deleteبےایمان
کافر بے ایمان
Deleteکافر اور بے ایمان
Deleteکافر اور بے ایمان
Deleteکافر
Deleteبے ایمان
ReplyDeleteحضور ﷺ کا مذاق اڑانا
(نعوذ باللّه ثم نعوذ باللّه)
۔.......... ہے
خالص کفر
DeleteKhalis
Deleteخالص کفر
Deleteخالص کفر
DeleteKhalis kufr
Deleteخالص کفر
Deleteخالص کفر
Deleteخالص کفر
Deleteخالص کفر
DeleteKhalis kufar
Deleteخالص کفر
Deleteایک نبی کی طرف......... کی نسبت کرنا تمام نبیوں کو بلکہ نعوذباللّه اللّہ تعالیٰ کو جھوٹا کہنے کے ہم معنی ہے
ReplyDeleteجھوٹ
DeleteJhoot
Deleteجھوٹ
Deleteجھوٹ
DeleteJhoot
Deleteجھوٹ
Deleteجھوٹ
Deleteجھوٹ
Deleteجھوٹ
DeleteJhoot
Deleteجھوٹ
Deleteجو شخص ایک طرف کلمہ پڑھتا ہے اور دوسری طرف اپنے قول یا فعل سے آنحضرت صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کے لائے ہوئے دین کی کسی بات کی....... کرتا ہے اس کے کلمہ کا کوئی اعتبار نہیں
ReplyDeleteتکذیب
DeleteTakazab
Deleteتکذیب
Deleteتکذیب
Deleteتکذیب
DeleteTaqzeeb
Deleteتکذیب
Deleteتکذیب
Deleteتکذیب
DeleteTakzeb
Deleteتکذیب
Deleteجن لوگوں کو کافر کہا جاتا ہے وہ اس قسم کی ہے کہ بظاہر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پڑھتے ہیں
ReplyDeleteکلمہ
Deleteکلمہ
DeleteKlma
Deleteکلمہ
Deleteکلمہ
Deleteکلمہ
Deleteکلمہ
Deleteکلمہ
Deleteمسیح معود کی بعثت کے بعد محمد رسولﷺ کے مفہوم میں ایک اور رسول ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کی ذیادتی ہو گٸی
ReplyDeleteMirza qadyni
Deleteمرزا قادیانی
Deleteمرزا قادیانی
Deleteیعنی مرزا قادیانی
Deleteمرزا قادیانی
DeleteMirza qadiyani
Deleteمرزا قادیانی
Deleteمحمد پھر ----- آئے ھیں ھم میں
ReplyDeleteآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عیسی علیہ السلام کے ------- کی پیشنگوئی فرمائ
ReplyDeleteدوبارہ آنے کی قطعی
Deleteدوبارہ انے کی قطعی
DeleteDobara any ki
Deleteدوبارہ آنے کی
Delete2bara any ki
ReplyDeleteقرآن میں یحیی کا نام---رکھا
ReplyDeleteایسا شخص بھی پکا بے ایمان اور کافر ہے اس کا کلمہ پڑھنا بھی -------- ہے
ReplyDelete