Maseeh A.s K zamane ka aam Naqsha
Unit 3
Lesson 10
مسیح علیہ السلام کے زمانے کا عام نقشہ
آنحضرت ﷺ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بابرکت زمانے کا نقشہ بھی بڑی وضاحت و تفصیل سے بیان فرمایا ہے
اختصار کے مدنظر ہم یہاں بطور نمونہ صرف ایک حدیث کا ترجمہ نقل کرتے ہیں
جسے مرزا محمود احمد نے حقيقة النبوة کے صفحہ ۱۹۲ پر نقل کیا ہے یہ ترجمہ بھی خود مرزا محمود احمد کے قلم سے ہے
آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں
انبیا ء علاتی بھائیوں کی طرح ہوتے ہیں ان کی مائیں تو مختلف ہوتی ہیں اور دین ایک ہوتا ہے اور میں عیسیٰ ابن مریم سے سب سے زیاد تعلق رکھنے والا ہوں کیونکہ اس کے اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں اور وہ نازل ہونے والا ہے پس جب اسے دیکھو تو پہچان لو کہ وہ درمیانہ قامت سرخ سفیدی ملا ہوا رنگ زرد کپڑے پہنے ہوئے اس کے سر سے پانی ٹپک رہا ہو گا گو سر پر پانی ہی نہ ڈالا ہو اور وہ صلیب کو توڑ دے گا اور خنزیر کو قتل کر دے گا اور جزیہ ترک کر دیگا اور لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دے گا
اس کے زمانے میں سب مذاہب ہلاک ہو جائیں گے اور صرف اسلام ہی رہ جائے گا اور شیر اونٹوں کے ساتھ چیتے گائے بیلوں کے ساتھ بھیڑیئے بکریوں کے ساتھ چرتے پھریں گے اور بچے سانپوں سے کھیلیں گے اور وہ ان کو نقصان نہ دیں گے
عیسیٰ ابن مریم چالیس سال زمین پر رہیں گے اور پھر وفات پا جائیں گے اور مسلمان ان کے جنازہ کی نماز پڑھیں گے
اس حدیث کو بار بار بنظر عبرت پڑھا جائے
کیا مرزا صاحب کے زمانے کا یہی نقشہ ہے؟
آنخضرتﷺ فرماتے ہیں کہ لڑائی بند ہو جائے گی مگر اخباری رپورٹ کے مطابق اس صدی میں صرف ۲۴ دن ایسے گزرے ہیں جب زمین انسانی خون سے لالہ زار نہیں ہوئی
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دور میں امن و آتشی کا یہ حال ہوگا کہ دو آدمیوں کے درمیان تو کیا دو درندوں کے درمیان بھی عداوت نہیں ہوگی مگر یہاں خود مرزا صاحب کی جماعت میں عداوت ونفرت کے شعلے بھڑک رہے ہیں دوسروں کی تو کیا بات؟
دنیا سے بے رغبتی اور انقطاع الیٰ اللّه
صحیح بخاری شریف کی حدیث جس کا حوالہ پہلے گزر چکا ہے کہ آخر میں آنحضرتﷺ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں مال سیلاب کی طرح بہہ پڑے گا یہاں تک کہ کوٸی اسے کوئی قبول نہیں کرے گا حتیٰ کہ ایک سجده دنیا و مافیھا سے بہتر ہوگا
اس کی وجہ یہ ہوگی کہ ایک تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری سے دنیا کو قیامت کے قریب آ لگنے کا یقین ہو جائے گا اس لیے ہرشخص پر دنیا سے بے رغبتی اور انقطاع الیٰ اللّه کی کیفیت غالب آجائے گی
اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صحبت کیمیا اثر اس جذبے کومزید جلا بخشے گی
دوسرے
زمین اپنی تمام برکتیں اگل دے گی اور فقر و افلاس کا خاتمہ ہو جائے گا حتیٰ کہ کوئی شخص زکوة لینے والا بھی نہیں رہے گا اس لیے مالی عبادات کے بجائے نماز ہی ذریعہ تقرب ره جائے گی اور دنیا و مافیھا کے مقابلے میں ایک سجدے کی قیمت زیادہ ہوگی
جناب مرزا صاحب کے زمانے میں اس کے بالکل برعکس حرص اور لالچ کو ایسی ترقی ہوئی کہ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے اتنی ترقی اے شاید کبھی نہیں ہوئی ہوگی
چونکہ آنجناب نے حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں خدا اور رسول کی مخالفت ترک کرنے کی اس نا کارہ کو فہمائش کی ہے اس لیے میں جناب سے اور آپ کی وساطت سے آپ کی جماعت اور جماعت کے امام جناب مرزا ناصر احمد صاحب
(موجودہ خلیفہ مرزا مسرور احمد)
سے اپیل کروں گا کہ خدا اور رسول کے فرمودات کو سامنے رکھ کر مرزا صاحب کی حالت پرغور فرمائیں اگر مرزاصاحب مسیح ثابت ہوتے ہیں تو بے شک ان کو مانیں
اور اگر وہ معیار نبویﷺ پر پورے نہیں اترتے تو ان کو مسیح موعود ماننا خدا اور رسول کی مخالفت اور اپنی ذات سے صریح ناانصافی ہے
اب جبکہ پندھویں صدی کی آمد آمد ہے ہمیں نئی صدی کے لیے مجدد کے لیے منتظر رہنا چاہئے
اور مرزا صاحب کے دعوے کو غلط سمجھتے ہوئے آنحضرت ﷺ کے فرمودات کی تصدیق کرنی چاہئے کیونکہ خود مرزاصاحب کا ارشاد ہے
اگر میں نے اسلام کی حمایت میں وہ کام کر دکھایا جو مسیح موعود اور مہدی موعود کو کرنا چاہیے تو پھر میں سچا ہوں اور اگر کچھ نہ ہوا اور میں مر گیا تو پھر سب گواہ رہیں کہ میں جھوٹا ہوں
پس اگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غائی ظہور میں نہ آوے تو میں جھوٹا ہوں
(مرزا صاحب کا خط بنام قاضی نذر حسین ، مندرجہ اخبار بدر ۱۹ جولائی ۱۹۰۶ء)
جناب مرزا صاحب کا آخری فقرہ آپ کے پورے خط کا جواب ہے
پیش گوئیوں کی، بلند آہنگ دعووں کی ، اشعار کی ، رسالوں کی ، کتابوں کی پریس کانفرنسوں کی ، پریسں (وغیرہ وغیرہ) کی صداقت و حقانیت کے بازار میں کوئی قیمت نہیں ہے دیکھنے کی چیز وہ معیار نبوی ﷺ ہے جو حضرت مسیح علیہ السلام کی تشریف آوری کے لیے آنحضرت ﷺ نے امت کو عطا فرمایا
اگر مرزاصاحب ہزار تاویلوں کے باوجود بھی اس معیار صداقت پر پورے نہیں اترتے تو اگر آپ ان کی حقانیت پر کروڑ نشان بھی پیش کر دیں تب بھی نہ وہ مسیح موعود بنتے ہیں اور نہ ان کو مسیح موعود کہنا جائز ہے
میں جناب کو دعوت دیتا ہوں وہ مرزا صاحب کے دعاوی سے دستبردار ہو کر فرمودات نبوی ﷺ پر ایمان لائیں
حق تعالی آپ کو اس کا اجر دیں گے اور اگر آپ نے اس سے اعراض کیا تو مرنے کے بعد انشاءاللّٰه حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی
سبتعلم لیلیٰ ای دين تدانیت
وای غريم في التقاضي غريمها
والحمد للّه اولا واخرا

انبیاعلاتی ..... کی طرح ہوتے ہیں
ReplyDeleteبھائیوں
Deleteبھاٸیوں
Deleteبھائیوں
Deleteبھائیوں
DeleteBaheou
Deleteبھائیوں
Deleteبھائیوں
Deleteبھاٸیوں
Deleteان کی ماٸیں تو مختلف ہوتی ہیں اور دین ..... ہوتا ہے
ReplyDeleteایک
Deleteایک
Deleteایک
DeleteAik
Deleteایک
Deleteایک
Deleteایک
Deleteعیسیٰ ابن مریم ..... سال زمین پر رہیں گے
ReplyDeleteچالیس
Deleteچالیس
Deleteچالیس
Deleteچالیس
Delete40
Deleteچالیس
Deleteچالیس
Deleteعیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں مال ..... کی طرح بہہ پڑے گا
ReplyDeleteسیلاب
Deleteسیلاب
Deleteسیلاب
Deleteسیلاب
Deleteسیلاب
Deleteسیلاب
Deleteزمین اپنی تمام .... اگل دے گی
ReplyDeleteخزانے
Deleteخزانے
Deleteخزانے
Deleteخزانے
Deleteخزانے
Deleteخزانے
Deleteخزانے
Deleteدنیا و مافیہا کے مقابلے میں ایک سجدے کی قیمت ..... ہو گی
ReplyDeleteزیادہ
Deleteذیادہ
Deleteذیادہ
Deleteذیادہ
DeleteZaida
Deleteذیادہ
Deleteزیادہ
Deleteزیادہ
Deleteاگر مجھ سے کروڑ نشان بھی ظاہر ہوں اور یہ علت غاٸی ظہور میں نہ آوے تو .... ہو
ReplyDeleteمیں جھوٹا
Deleteمیں جھوٹا
Deleteمیں جھوٹا
Deleteمیں جھوٹا
DeleteMain.jotha
Deleteمیں جھوٹا
Deleteمیں جھوٹا
Deleteمیں جھوٹا
Deleteمرزا محمود احمد نے ..... کے صفحہ ١٩٢ پر نقل کیا ہے
ReplyDeleteحقیقة النبوة
Deleteحقیقه النبوۃ
ReplyDelete