Mirza Qadyani ki Nabuwat ki daleel

Unit 3
Lesson 20


 مرزا قادیانی کی نبوت کی دلیل 


مرزا کی نبوت کی دلیل نہ تو علم ہے اور نہ عقل اور نہ حافظہ اور نہ فہم اور نہ زہد اور نہ تقویٰ اور نہ صداقت اور امانت اور نہ عصمت اور نہ عفت اور نہ حسب اور نہ نسب اور نہ اخلاق فاضلہ اور نہ معجزات اور نہ کرامات  کچھ بھی نہیں سب صفر ہے۔


دلیل صرف یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پا گۓ۔سبحان اللّه عجیب دلیل ہے۔کیا محض کسی نبی کا فوت ہو جانا کسی مدعی کے نبی ہونے کی دلیل ہو سکتا ہے۔تھوڑی دیر کے لیے فرض کیجیے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پا گۓ۔ لیکن آپ اپنے نبی ہونے کی مستقل دلیل بیان کیجیے۔ خاتم الانبیاء سے پہلے ایک نبی کی زندگی میں بھی نبی آتے رہے ہیں۔


اگر کسی گاؤں کا دہقان یہ دعویٰ کرے کہ میں اس ملک کا بادشاہ ہوں اور چوہدری اور دلیل بیان کرے کہ چونکہ اس ملک کا بادشاہ مر چکا ہے اور میں اس فوت شدہ بادشاہ کا مثیل ہوں اور شبیہ اور ہم نام ہوں اور میرا گاؤں اسی کے دار السلطنت کے سمت پر واقع ہے لہٰذا ثابت ہوا کہ میں اس ملک کا بادشاہ ہوں۔تو کیا اہل عقل کے نزدیک اس طرح سے اس شخص کی بادشاہت ثابت ہو جاۓ گی؟؟؟


اہل عقل کے نزدیک جو شخص اس کی بادشاہت تسلیم کرے گا وہ بھی پاگل اور دیوانہ سمجھا جاۓ گا۔اور اگر اس طرح کے چند پاگل مل کر عقلاء کو مناظرہ اور مباہلہ کا چیلنج دیں کہ آؤ ہم اس بادشاہ کی وفات ثابت کریں گے تاکہ اس کی وفات سے اس مدعی کی بادشاہت ثابت ہو جاۓ تو عقلاء کو جائز ہے کہ تفریحی طور پر ان احمقوں کی حماقت ظاہر کرنے کے لیے دعوت مناظرہ منظور کر لیں۔ورنہ مناظرہ فی الحقیقت نظری امور میں ہوتا ہے۔ایسے بدیہی البطلان امور میں تو مناظرہ نہیں ہوتا۔مرزا کا دعویٰ آریوں کے بادشاہ ہونے کا بھی ہے مگر کسی آریہ کے حلق کے نیچے نہیں اترا۔



12 comments / Replies

Powered by Blogger.