Murtad or iski nasal ka hukam

Unit 2
Lesson 13 


مرتد اور اسکی نسل کا حکم


اصول یہ ہے کہ مرتد کو تین دن کی مہلت کے بعد قتل کردیا جاتا ہے۔ لیکن مرتدوں کی ایک جماعت بن جائے، ایک پارٹی بن جائے اور اسلامی حکومت ان پر قابو نہ پا سکے, اس لئے وہ قتل نہ کئے جاسکیں اور رفتہ رفتہ اصل مرتد مر کھپ جائیں اور ان مرتدوں کی نسل جاری ہو جائے۔

مثال کے طور پر کسی بستی کے لوگوں نے متفقہ طور پر عیسائیت قبول کر لی تھی(نعوذ باللّه) عیسائی بن گئے تھے۔اب کسی نے ان کو قتل نہیں کیا یا وہ پکڑ میں نہیں آ سکے۔اس کے بعد یہ لوگ جو خود عیسائی بنے تھے مر کر ختم ہو گئے۔ پیچھے ان کی نسل رہ گئی جو خود مسلمان سے عیسائی نہیں ہوئی تھی بلکہ انہوں نے اپنے آباؤ اجداد سے عیسائی مذہب لیا تھا تو مرتد کی صلبی اولاد تو تبعاً مرتد ہے، اصالتاً مرتد نہیں ہے۔اس لئے اس کو حبس و ضرب کے ساتھ اسلام لانے پر مجبور کیا جائے گا۔ مگر قتل نہیں کیا جائے گا اور مرتد کی اولاد کی اولاد نہ اصالتاً مرتد اور نہ تبعاً۔ بلکہ وہ اصلی کافر کہلائے گی اور ان پر سزائے ارتداد جاری نہیں ہوگی، کیونکہ اولاد کی اولاد مرتد نہیں وہ سادہ کافر ہے۔ اس لئے اس کا حکم مرتد کا نہیں ہے۔






خلاصہ یہ ہے کہ


(1)
 جو شخص خود مرتد ہوا ہو وہ واجب القتل ہے۔

(2)
 مرتد کی صلبی اولاد تبعاً مرتد نہیں، اس لئے اگر وہ اسلام قبول نہ کرے تو واجب الحبس ہے, یعنی اس کو قید کرنا لازم ہے۔

(3) 
اور تیسری پیڑھی میں مرتد کی اولاد کی اولاد سادہ کافر ہے۔اس پر مرتد کے احکام جاری نہیں ہوں گے۔


83 comments / Replies

  1. مرتد کو تین دن کی مہلت کے بعد
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کردیا جاتا ہے

    ReplyDelete
  2. جو شخص خود مرتد ہوا ہو وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہے۔

    ReplyDelete
  3. تیسری پیڑھی میں مرتد کی اولاد کی اولاد سادہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہے

    ReplyDelete
  4. مرتد کی صلبی اولاد تبعاً۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں، اس لئے اگر وہ اسلام قبول نہ کرے تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہے, یعنی اس کو قید کرنا لازم ہے۔

    ReplyDelete
  5. مرتد کی اولاد کی اولاد نہ اصالتاً مرتد اور نہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بلکہ وہ اصلی کافر کہلائے گی

    ReplyDelete
  6. مرتد اور اس کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کاحکم

    ReplyDelete
  7. مرتد اور اس کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کاحکم

    ReplyDelete

Powered by Blogger.