Musafir ki Nimaz

مسافر کی نماز کا بیان 


سوال : کیا سفید شریعت میں مسافر کے احکام ہیں ؟
جواب : جی ہاں ! مسافر کے احکام ہیں جن کو فقہ کی کتابوں میں ان کے ابواب میں بیان کیا گیا ہے۔ 



سوال: اُن میں سے وہ (احکام) بیان کیجۓ جو نماز سے متعلق ہیں ؟ 

جواب : جب (کوئی) اونٹ کی رفتار اور پیدل چلنے کے ساتھ تین دن کی مسافت کا سفر کرنا چاہے اور اپنے شہر یا گاٶں سے نکل جاۓ تو وہ رباعی فرض (نماز) میں قصر کرے اور اس کا معنی یہ ہے کہ وہ نمازِ ظہر،نمازِ عصر، نمازِ عشا۶ دو رکعت دو رکعت پڑھے اور نمازِ مغرب ، وتر، سنتوں اور نفلوں میں قصر نہیں ہے۔ 



سوال: اگر اُن نمازوں میں چار رکعت نماز پڑھے جن میں قصر کی جاتی ہے تو کیا اس پر اسے ثواب ملے گا؟ 

جواب: دو رکعتوں پر اضافہ اس کیلۓ مکروہ ہے کیونکہ قصر مٶکد ہے۔ 




سوال: اور اس کے مکروہ ہونے کے باوجود اگر (کسی) نے چار (رکعت) نماز پڑھ لی تو کیا دو رکعتیں اسے فرض کفایت کریں گی؟ 

جواب: اگر اس نے چار ( رکعت) نماز پڑھی اس حال میں کہ وہ دوسری (رکعت) میں تشہد کی مقدار بیٹھا تو دو رکعتیں اسے فرض سے کفایت کریں گی اور آخری دو (رکعتیں) اس کیلۓ نفل ہو جاٸیں گی۔ 






سوال: اگر دوسری (رکعت) میں تشہد کی مقدار نہیں بیٹھا تو اس کا حکم کیا ہے؟ 

جواب: اس کی فرض (نماز) اس وجہ سے باطل ہوگٸ اور اس پر لازم ہے کہ اپنی نماز لوٹاۓ۔ 



سوال: کیا مسافر بعض اوقات اپنی رباعی (نماز) کو مکمل کرتا ہے؟ 

جواب: جی ہاں! مکمل کرتا ہے جب وہ اس نماز کے وقت میں مقیم امام کی اقتدا کرے جو نماز وہ پڑھا رہا ہے اور اسی طرح مسافر رباعی (نماز) کو مکمل کرے جب کسی شہر یا بستی میں پندرہ دن قیام کرنے کی نیت کرلے۔ 



سوال: اگر پندرہ دن سے کم قیام کرنے کی نیت کرے ؟ 

جواب: قصر کرے اور اتمام نہ کرے۔ 



سوال: ایک مسافر کسی شہر یا گاٶں میں داخل ہو پندرہ دن قیام کرنے کی اس کی نیت نہیں ہے بلکہ وہ کہتا ہے کہ کل یا پرسوں چلا جاٶں گا تو اس کا حکم کیا ہے؟
جواب: اس کا حکم یہ ہے کہ وہ اپنی رباعی نماز دو رکعت دو رکعت پڑھے اگرچہ اس (حالت) میں کٸی سال رہے۔ 



سوال: مسلمانوں کا لشکر دشمن کی سرزمین میں داخل ہوا اور انہوں نے پندرہ دن قیام کرنے کی نیت کی تو کیا نماز مکمل کرنا اُن پر لازم ہے؟ 

جواب: اُن پر لازم ہے کہ وہ نماز میں قصر کریں کیونکہ ان کی نیت غیر معتبر ہے۔



سوال: مسافر نے رباعی (نماز) میں امامت کی اس حال میں کہ اس کے پیچھے مقیم (لوگ) ہیں تو  کیا انہیں نمازِ قصر پڑھاۓ ؟ 

جواب: جی ہاں! مسافر امام نماز میں قصر کرے اور جو مقیم (لوگ)  اس کے پیچھے ہیں وہ دو رکعت پر امام کے سلام پھیرنے کے بعد اتمام کریں (یعنی رباعی نماز مکمل کریں)۔



سوال: کیا مسافر امام مقتدیوں کو کچھ بتاۓ ؟

جواب: جی ہاں! اس کیلۓ مستحب ہے کہ جب سلام پھیرے تو انہیں مخاطب بناتے ہوۓ کہے کہ اپنی نماز مکمل کرو کیونکہ ہم مسافر ہیں۔



سوال: جب مسافر مکہ اور منٰی میں پندرہ دن قیام کرنے کی نیت کرے تو وہ مسافر ہے یا مقیم ؟

جواب: وہ مسافر ہے کیونکہ اقامت کی نیت ایک آبادی میں معتبر ہوتی ہے۔ 



سوال: مسافر اپنے وطن لوٹ آیا اور اس نے اس میں پندرہ دن قیام کرنے کی نیت نہیں کی تو وہ اتمام کرے یا قصر کرے؟

جواب: جب مسافر اپنے وطن میں داخل ہو اگرچہ ایک گھڑی کیلۓ تو اپنی نماز مکمل کرے اور اس میں اقامت کی نیت کی شرط نہیں لگاٸ جاتی۔



سوال: ایک شخص کا وطن اصلی تھا جس میں وہ پیدا ہوا اور کچھ عرصہ زندگی بسر کی پھر اسے چھوڑ دیا اور دوسرے شہر کو وطن بنا لیا پس اپنی کسی ضرورت کی وجہ سے پہلے وطن میں داخل ہوا تو قصر کرے یا اتمام کرے؟ 

جواب: قصر کرے جبکہ اصلی وطن تین دن یا زیادہ مسافت پر ہو نبی کریم ﷺ نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت فرمائی پھر جب آپ ﷺ مکہ (مکرمہ) میں داخل ہوۓ تو نماز میں قصر فرماٸ۔ 



سوال: مسافر کہ سفر میں نماز اس سے فوت ہوگٸ اور وہ اس کی قضا چاہتا ہے یا اپنے وطن میں مقیم کی نماز اس سے فوت ہوگٸ اور وہ اس نماز کو قضا کرنا چاہتا ہے تو کیسے کریں ؟ 

جواب: اس بارے میں ضابطہ یہ ہے کہ قضا ادا کی مانند پس جس سے سفر میں نماز فوت ہوگٸی وہ حضر میں دو رکعت اس کی قضا کرے اور جس سے حضر میں نماز فوت ہوگٸ تو وہ سفر میں چار (رکعت) اس کی قضا کرے۔ 



سوال:  یہ رخصت فرمانبردار مسافر کیلۓ ہے یا فرمانبردار اور نافرمان اس میں برابر ہیں ؟ 

جواب: فرمانبردار اور نافرمان اس رخصت میں برابر ہیں۔



سوال: اس زمانے میں (لوگ) موٹر کاروں اور ہوائی جہازوں کے ذریعے سفر کرتے ہیں اور کوٸی مشقت مسافروں کو لاحق نہیں ہوتی تو کیا وہ اس کے باوجود قصر کریں؟ 

جواب: جب وہ قصر کی مسافت کا ارادہ کرتے ہوۓ اپنے وطنوں سے نکلیں تو نماز میں قصر کریں اور نفسِ سفر کو مشقت کے قائم  مقام بنا دیا گیا ہے۔ 



سوال: کیا مسافر کیلۓ دو نمازوں ظہر و عصر یا مغرب و عشا۶ کے درمیان جمع جاٸز ہے؟
جواب: یہ (جمع) ازروۓ فعل جائز ہے اور ازروۓ وقت جائز نہیں کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں 

اِنَّ الصَّلٰوةَ کَانَت عَلَی المُٶمِنِینَ کِتٰبًا مَّوقُوتًا 

( النسا۶ : ١٠٣) 

 یقیناً نماز اہل ایمان پر فرض ہے جس کا وقت مقرر ہے



سوال : آپ کے قول ”یہ ازروۓ فعل جاٸز ہے اور ازروۓ وقت جاٸز نہیں“ کی شرح کیا ہے؟ 

جواب: جمع ازروۓ فعل یہ ہے کہ ظہر کو مٶخر کرے اور عصر کو معجل کرے پس ظہر کو اس کے آخر وقت میں اور عصر کو اس کے اول وقت میں پڑھے اور یہ کہ مغرب کو مٶخر کرے پس اسے آخر وقت میں اور عشا۶ کو اول وقت میں پڑھے اور یہی جمع ازروۓ فعل ہے اور فقہا۶ کے عرف میں اس کا نام ”جمع صوری“ رکھا جاتا ہے۔ پس بہرحال دو وقتوں میں سے ایک (وقت) کی نماز دوسری (نماز) کے وقت ازروۓ تقدیم یا ازروۓ تاخیر سو وہ ہمارے نزدیک جاٸز نہیں یہی جمع وقتی ہے فقہا۶ جس کا نام ”جمع حقیقی“ رکھتے ہیں۔

37 comments / Replies

  1. یقینًا نماز اہل ایمان پر فرض ہے۔ جس کا وقت ...... ہے۔

    ReplyDelete
  2. جمع ازروۓ فعل یہ ہے کہ ظہر کو ..... کرے۔

    ReplyDelete
  3. فقہا کے عرف میں اس کا نام ..... رکھا جاتا ہے۔

    ReplyDelete
  4. فرمانبردار اور نافرمان اس رخصت میں .... ہیں

    ReplyDelete
  5. دو ركعتوں پر اضافہ ممنوع هے كيونكہ _____ مؤكد ہے

    ReplyDelete
  6. نفس سفر كو _____كے قائم مقام بنا ديا گيا ہے

    ReplyDelete
  7. : جب وہ قصر کی مسافت کا ارادہ کرتے ہوۓ اپنے وطنوں سے نکلیں تو_____میں قصر کریں

    ReplyDelete

Powered by Blogger.