Musalman kon or Kafir kon ?

unit 2
Lesson 5

مسلمان کون ہے اور کافر کون



مسلمان وہ شخص کہلاتا ہے جو آنحضرت ﷺ  کے لائے ہوئے پورے دین کو دل و جان سے تسلیم کرتا ہو ۔
 کلمہ طیبہ 

 لا الہ الا اللّه  محمد رسول اللّه 

 اس پورے دین کو ماننے کا مختصر عنوان ہے

کیونکہ جو شخص حضرت محمد صلی اللّہ علیہ و آلہ وسلم کو اللّه کا رسول مانتا ہے وہ لازماً آنحضرت صلی اللّہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک ایک بات کو بھی مانے گا

 اس کے برعکس جو شخص آنحضرت صلی اللّہ علیہ و آلہ وسلم کے دین کی کسی قطعی یقینی اور متواتر چیز 
 جس کی آنحضرت صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم نے خبر دی ہے
 کو نہیں مانتا وہ گویا آنحضرت صلی اللّه  علیہ و آلہ وسلم کی تکذیب کرتا ہے
 اس کا کلمہ پڑھنا محض جھوٹ، فریب اور منافقت ہے

چنانچہ منافق بھی یہ کلمہ پڑھتے تھے، لیکن اللّه تعالی نے فرمایا

 وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَكَاذِبُونَ 

یعنی اللّہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ منافق قطعاً جھوٹے ہیں 


منافق لوگ ایمان کا دعویٰ بھی کرتے تھے لیکن اللّه تعالی نے ان کے اس دعویٰ کو بھی غلط قرار دیا اور فرمایا 

  وَمَا هُمۡ بِمُؤۡمِنِيۡنَ‌ۘ‏  

يُخٰدِعُوۡنَ اللّٰهَ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا ‌


 یعنی یہ لوگ ہرگز مومن نہیں محض خدا کو اور اہل ایمان کو دھوکہ دینے کے لیے ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں


 پس انکے کلمہ طیبہ پڑھنے اور ایمان کا دعویٰ کرنے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان کو جھوٹے اور بے ایمان کہا تو اس کی کیا وجہ تھی






یہی کہ وہ کلمہ صرف زبانی پڑھتے تھے، اور ایمان کا دعویٰ محض مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے کرتے تھے، ورنہ دل سے وہ آنحضرت صلی اللّه علیہ و آلہ وسلم کی رسالت و نبوت پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور آنحضرت صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم دین کی جو باتیں ارشاد فرماتے تھے ان کو صحیح نہیں سمجھتے تھے
پس اس سے یہ اصول نکل آیا کہ مسلمان ہونے کے لئے آنحضرت صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کے لائے ہوئے دین کی ایک ایک بات کو دل وجان سے ماننا شرط ہے جو شخص آپ صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کے لائے ہوئے دین کی کسی ایک بات کو بھی جھٹلاتا ہے یا اس میں شک و شبہ کا اظہار کرتا ہے وہ مسلمان نہیں بلکہ پکا کافر ہے
 اگر وہ کلمہ پڑھتا ہے تو محض منافقت کے طور پر مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے پڑھتا ہے

یہاں ایک اور بات کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ وہ یہ کہ ایک ہے الفاظ کو ماننا اور دوسرا ہے معنی و مفہوم کو ماننا۔ مسلمان ہونے کے لئے صرف دین کے الفاظ کو ماننا کافی نہیں بلکہ ان الفاظ کے جو معنی ومفہوم آنحضرت ﷺ  سے لے کر آج تک تواتر کے ساتھ تسلیم کئے گئے ہیں ان کو بھی ماننا شرط اسلام ہے۔
پس اگر کوئی شخص کسی دینی لفظ کو تو مانتا ہے مگر اس کے متواتر معنی و مفہوم کو نہیں مانتا بلکہ اس لفظ کے معنی وہ اپنی طرف سے ایجاد کرتا ہے تو  ایسا شخص بھی مسلمان نہیں کہلائے گا بلکہ کافر و ملحد اور زندیق کہلائے گا 

مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ میں ایمان رکھتا ہوں کہ قرآن کریم آنحضرت ﷺ  پر نازل ہوا تھا مگر میں یہ نہیں مانتا کہ قرآن سے مراد یہی کتاب ہے جس کو مسلمان قرآن کہتے ہیں
تو یہ شخص کافر ہوگا


یا مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ میں  محمد رسول اللّه ﷺ  پر ایمان رکھتا ہوں مگر محمد رسول اللّه  سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی ہے کیونکہ مرزا صاحب نے وحی الہیٰ سے اطلاع پاکر یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ محمد رسول اللّه  ہے  چنانچہ وہ اپنے  اشتہار

 ”ایک غلطی کا ازالہ“
میں لکھتا ہے

پھر اسی کتاب (براہین احمدیہ)میں یہ وحی اللّه ہے
محمد رسول الله والذين معه اشداء على الكفار رحماء بينهم

اس وحی الہیٰ میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی

یا مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ میں مانتا ہوں کہ مسلمانوں پر نماز فرض ہے  مگر اس سے یہ عبادت مراد نہیں جو پنج وقتہ ادا کی جاتی ہے تو ایسا شخص مسلمان نہیں

یا مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ میں مانتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قرب قیامت میں آنے کی پیش گوئی کی ہے، مگر عیسیٰ بن مریم  سے مراد وہ شخصیت نہیں جس کو مسلمان عیسیٰ بن مریم کہتے ہیں بلکہ اس سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی یا کوئی دوسرا شخص ہے تو ایسا شخص بھی کافر کہلائے گا

 یا مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ میں مانتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ  خاتم النبیین ہیں مگر اس کے معنی وہ نہیں وہ جو مسلمان سمجھتے ہیں کہ آپ ﷺ آخری نبی ہیں آپ ﷺ کے بعد کسی کو نبوت نہیں عطا کی جاۓ گی بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ اب نبوت آپ ﷺ  کی مہر سے ملا کرے گی تو ایسا شخص بھی مسلمان نہیں بلکہ پکا کافر ہے

الغرض آنحضرت صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کے لائے ہوئے دین کے تمام حقائق کو ماننا اور صرف لفظاً نہیں بلکہ اسی معنی و مفہوم کے ساتھ ماننا جو آنحضرت صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم سے لے کر آج تک متواتر چلے آتے ہیں 
شرط اسلام ہے

جو شخص دین محمدی ﷺ  کی کسی قطعی اور متواتر حقیقت کا انکار کرتا ہے  خواہ لفظاً و معنیً دونوں طرح انکار کرے یا الفاظ کو تسلیم کرکے اس کے متواتر معنی و مہفوم کا انکار کرے وہ قطعی کافر ہے  خواہ وہ ایمان کے کتنے ہی دعوے کرے کلمہ پڑھے اور نماز روزے کی پابندی کرے اس لئے کہ  آنحضرت ﷺ  کے دین کی کسی ایک بات کو جھٹلانا خود آنحضرت ﷺ  کو جھٹلانا ہے اور جو آنحضرت ﷺ  کی ایک بات کو بھی جھٹلاتا ہے یا اسے غلط کہتا ہے یا اس میں شک و شبہ کا اظہار کرتا ہے وہ دعویٰ ایمان میں قطعاً جھوٹا ہے


108 comments / Replies


  1. وہ شخص .............کہلاتا ہے جو آنحضرت ﷺ کے لائے ہوئے پورے دین کو دل و جان سے تسلیم کرتا ہو ۔

    ReplyDelete
  2. اللّہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ منافق قطعاً........ ہیں

    ReplyDelete
  3. آنحضرت ﷺ کے دین کی کسی ایک بات کو جھٹلانا خود...... کو جھٹلانا ہے

    ReplyDelete
  4. یعنی یہ لوگ ہر گز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نہیں محض۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کو اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کو دھوکہ دینے کے لیے ایمان کا دعوئ کرتے ہیں

    ReplyDelete
  5. اس کا کلمہ پڑھنا محض جھوٹ،فریب اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہے

    ReplyDelete
  6. ایمان کا دعٰوی محض ..... کو دھوکہ دینے کے لیے کرتے ہیں۔

    ReplyDelete
  7.  اگر کوئی شخص کسی دینی لفظ کو تو مانتا ہے مگر اس کے معنی و مفہوم کو نہیں مانتا تو  ایسا شخص ----- و ----- اور زندیق کہلائے گا 


    ReplyDelete
  8. ورنہ دل سے وہ آنحضرتﷺ کی ..... پر ایمان نہیں رکھتے تھے۔

    ReplyDelete
  9. یہ اصول نکل آیا کہ آنحضرتﷺ کے لاۓ ہوے دین کی ایک ایک بات کو ..... سے ماننا .... ہے

    ReplyDelete
  10. ایک کتاب ......... میں یہ وحی اللہ ہے۔

    ReplyDelete
  11. This comment has been removed by the author.

    ReplyDelete
  12. محمد رسول الله والذين معه اشداء........ رحماء بينهم

    ReplyDelete
  13. یخدعون اللہ والذین ------

    ReplyDelete
  14. وہ کلمہ صرف ----- پڑھتے تھے

    ReplyDelete

Powered by Blogger.