Nazool Hazrat Esaa A.S or Khatam e Nabuwat
unit 2
Lesson 4
نزول عیسیٰ علیہ السلام اور ختم نبوت
حضرت عیسیٰ السلام کا دوبارہ آنا لفظ خاتم النبیین کے منافی نہیں کیوں کہ آنحضرت صلی اللّہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ انبیاء کرام علیہ السلام کی جو فہرست حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوئی تھی وہ آنحضرت صلی اللّہ علیہ وسلم کے نام نامی پر مکمل ہو گئی ہے
جتنے لوگوں کو نبوت ملنی تھی وہ آپ صلی اللّہ علیہ وسلم سے پہلے پہلے مل چکی اب آپ صلی اللّہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبوت نہیں دی جائے گی آپ صلی اللّہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور آپ صلی اللّہ علیہ وسلم کے بعد کوئی شخص منصب نبوت پر فائز نہیں ہوگا
شرح عقائد نسفی میں ہے
اول الانبیاء آدم و آخرھم محمد صلی اللّہ علیہ وسلم
یعنی سب سے پہلے نبی حضرت آدم السلام اور سب سے آخری نبی حضرت محمد صلی اللّہ علیہ وسلم ہیں
حضرت عیسی علیہ السلام بھی آنحضرت صلی اللّہ علیہ وسلم سے پہلے کے نبی ہیں،اور مسلمان آنحضرت صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے کے انبیاء کرام علیہم السلام پر ایمان رکھتے ہیں
ان میں حضرت عیسی علیہ السلام بھی شامل ہیں پس جب وہ تشریف لائیں گے تو آنحضرت صلی اللّہ علیہ وسلم سے پہلے کے نبی ہونے کی حیثیت سے تشریف لائیں گے
ان کو آنحضرت صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد نبوت نہیں دی جائے گی اور نہ مسلمان کسی نئی نبوت پر ایمان لائیں گے
لہذا ان کی تشریف آوری لفظ خاتم النبیین کے منافی نہیں
ان کی تشریف آوری خاتم النبیین کے خلاف تو جب سمجھی جاتی کہ ان کو نبوت آنحضرت صلی اللّہ علیہ وسلم کے بعد ملی ہوتی لیکن جس صورت میں حضرت محمد صلی اللّہ علیہ وسلم سے پہلے کے نبی ہیں تو حصول نبوت کے اعتبار سے آخری نبی آنحضرت صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلم ہی رہے
اس تشریح کے بعد میں آپ کی خدمت میں دو باتیں اور عرض کرتا ہوں
ایک یہ کہ تمام صحابہ کرام رضی اللّہ عنہم، تابعین عظائم ، ائمہ دین، مجدد دین اور علمائے امت ہمیشہ سے ایک طرف آنحضرت صلی اللّہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے پر بھی ایمان رکھتے آئے ہیں اور دوسری طرف حضرت عیسی علیہ السلام کے دوبارہ آنے پر بھی ان کا ایمان رہا ہے اور کسی صحابی، کسی تابعی، کسی امام، کسی مجدد، کسی عالم کے ذہن میں یہ بات کبھی نہیں آئی کہ حضرت عیسی علیہ السلام کا دوبارہ آنا خاتم النبیین کے خلاف ہے ۔بلکہ وہ ہمیشہ یہ مانتے آئے ہیں کہ خاتم النبین کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے بعد کسی شخص کو نبوت نہیں دی جائے گی اور یہی مطلب ہے آخری نبی کا
شیخ الاسلام حافظ ابن حجر عسقلانی رحمتہ اللّہ "الاصابہ" میں لکھتے ہیں
فوجب حمل النفی علی اشآء النبوۃ، لکل احد من الناس لاعلی وجود نبی قد نبی قبل ذالک
(ص425 ج1)
آپ کے بعد کوئی نبی نہیں
اس نفی کو اس معنی پر محمول کرنا واجب ہے کہ آپ صلی اللّہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخص کو نبوت عطا نہیں کی جائے گی
اس سے کسی ایسے نبی کے موجود ہونے کی نفی نہیں ہوتی جو آپ صلی اللّہ علیہ وسلم سے پہلے نبی بنایا جا چکا ہو
ذرا انصاف فرمائیے کہ کیا یہ تمام اکابر
خاتم النبیین کے معنی نہیں سمجھتے تھے
دوسری بات یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللّہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
(مشکوة : ص 365)
میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا
اسی کے ساتھ آنحضرت صلی اللّہ علیہ وسلم نے متواتر احادیث میں یہ پیش گوئی بھی فرمائی ہے کہ قرب قیامت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہونگے جیسا کہ پہلے باحوالہ نقل کر چکا ہوں
مناسب ہے کہ یہاں دو حدیثیں پیش کر دوں
اول
عن أبي هريرة رضي اللّه عنه عن النبي صلى اللّه عليه وسلم قال ليس بيني
وبينه نبي، يعني عيسى عليه السلام ، وانه نازل فازا رائيتموه فاعر فوه رجل
مربوع، الى الحمرة والبياض، بين ممصرتين ، كانه راسه يقطروان لم يصبه،
بلل فيقاتل الناس على الاسلام ، فيدق الصليب ، ويقتل الخنزير، ويضع
الجزية، ويهلك اللّه في زمانه الملل كلها الا الاسلام، ويهلك المسيح
الدجال ، فيمكث في الارض اربعين سنة ، ثم يتوفى فيصلي عليه المسلمون
ابو داؤد ص ۵۹۴ ج ۲، مسند احمد ص 437 ج
تفسير ابن جرير ص 16
ج 2، درمنثور ص ۲۴۲ ج ۲، فتح الباري ص ۳۵۷ ج 6
حضرت ابوہریرہ رضی اللّہ تعالیٰ عنہٗ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللّہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے اور عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی نہیں ہوا اور بے شک وہ نازل ہوں گے پس جب تم ان کو دیکھو تو پہچان لینا۔وہ میانہ قد کے آدمی ہیں سرخی سفیدی مائل دو زرد چادریں زیب تن ہوں گی گویا ان کے سر سے قطرے ٹپک رہے ہیں اگرچہ ان کو تری نہ پہنچی ہو بس لوگوں سے اسلام پر قتال کریں گے پس صلیب کو توڑ ڈالیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ کو موقوف کر دیں گے اور اللّہ تعالی ان کے زمانے میں اسلام کے علاوہ باقی تمام ملتوں کو مٹا دیں گے اور وہ مسیح دجال کو ہلاک کردیں گے پس چالیس برس زمین پر رہیں گے پھر ان کی وفات ہو گئی تو مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے
دوم
دوم: عن عبد اللّه بن مسعود رضي اللّه عنه عن النبي صلى اللّه عليه وسلم قال
لفيت لية أسري بي ابراهيم وموسى وعيسى قال فتذاكروا امر الساعة، فردوا
امرهم الى ابراهيم ، فقال لاعلم لي بها، فردوالامرالي موسئ ، فقال لاعلم لي
بها، فردوا الامر الى عيسى فقال اماوجبتها فلا يعلمها الا اللّه تعالى ذالك،
وفيما عهدالي ربي عزوجل ان الدجال خارج قال ومعى قضيبان ، فاذار آني
ذاب كما يذوب الرصاص، قال فيهلكه اللّه
وفي رواية ابن ماجه: قال: فانزل
فاقتله
..... الى قوله..... ففيما عهد الى ربي عزوجل ان ذالك اذا كان
كذالك فان لساعة كالحامل المتم التي لا يدري متى تفجاء هم بولادها ليلا
اونهاراً
(ابن ماجه ص ۳۰۹، مسند احمد ص ۳۷۵ج ا ، ابن جرير
ص ۷۲ ج ۱۷ ، مستدرك حاكم ص۴۸۸ ،۵۴۵ ج ۴، فتح البارى
ص ۹ ۷ ج۱۳، درمنثور ص 326 ج۴)
حضرت عبداللّہ بن مسعود رضی اللّہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صل اللّہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
معراج کی رات میری ملاقات حضرت ابراھیم حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ ( اور دیگر انبیاء کرام ) علیہم السلام سے ہوئی، مجلس میں قیامت کا تذکرہ آیا
( کہ قیامت کب آئے گی)
سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام سے دریافت کیا گیا
انہوں نے فرمایا مجھے علم نہیں پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پوچھا گیا تو فرمایا کہ قیامت کا ٹھیک وقت تو اللّہ تعالیٰ کے سوا کسی کو بھی معلوم نہیں اور میرے رب عزوجل کا مجھ سے ایک عہد ہے کہ قیامت سے پہلے دجال نکلے گا تو میں نازل ہو کر اس کو قتل کروں گا میرے ہاتھ میں دو شاخیں ہوں گی پس جب وہ مجھے دیکھے گا تو سیسے کی طرح پگھلنے لگے گا
پس اللّہ تعالیٰ اس کو ہلاک کر دیں گے
آگے یاجوج ماجوج کے خروج اور ان کی ہلاقت کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا
پس میرے رب کا جو مجھ سے عہد ہے وہ یہ ہے کے جب ساری باتیں ہو چکیں گی تو قیامت کی مثال پورے دنوں کی حاملہ کی ہوگی جس کے بارے میں کوئی پتہ نہیں ہوتا کہ کس وقت اچانک اس کے وضع حمل کا وقت آجائے، رات میں یا دن میں
یہ دونوں احادیث شریفہ مستند اور صحیح ہیں۔اب غور فرمائیے کہ اللّہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ان کو دوبارہ زمین پر نازل کرنے کا عہد کرتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت انبیاء علیہم السلام کی قدسی محفل میں اس عہد خداوندی کا اعلان فرماتے ہیں اور ہمارے آنحضرت صل اللّہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اس گفتگو کا اظہار و اعلان امت کے سامنے فرماتے ہیں
اس کے بعد کون مسلمان ہوگا جو اس عہد خداوندی کا انکار کرنے کی جرات کرے؟ اگر عیسیٰ علیہ السلام کا دوبارہ آنا آیت خاتم النبیین کے خلاف ہوتا تو اللّہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نازل کرنے کا کیوں عہد کرتے؟
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے سامنے کیوں بیان فرماتے؟ اور آنحضرت صل اللّہ علیہ وآلہ وسلم امت کے سامنے کیوں اعلان فرماتے؟ اس سے واضح ہوتا ہے کے جو لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ آنے کے منکر ہیں وہ اللّہ تعالیٰ کی، تمام انبیاء اکرام کی ، آنحضرت صل اللّہ علیہ وآلہ وسلم کی اور پوری امت اسلامیہ کی تکذیب کرتے ہیں. غور فرمائیے ایسے لوگوں کا اسلام میں کیا حصہ ہے
واللّہ یھدی من یشاء الی صراط مستقیم
°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°°

اول الانبیاء..... محمد صلی اللّہ علیہ وسلم
ReplyDeleteآدم و آخرھم
Deleteآدم و آخرھم
Deleteآدم
Deleteو آخرھم
آدم و آخرھم
Deleteآدم و آخرھم
Deleteآدم واخر ھم
Deleteآ دم و اخرھم
Deleteآدم واخرھم
Deleteآدم و آخرھم
Deleteآدم و آخرهم
Deleteآدم و آخرھم
Deleteآدم
Deleteوآخرھم
آدم و آخرھم
Delete
ReplyDeleteواللّہ یھدی.......... الی صراط مستقیم
من یشاء
Deleteمن یشا۶
Deleteمن یشاء
Deleteمن یشإ
Deleteمن یشاء
Deleteمن یشا
Deleteمن یشا
Deleteمن یشا
Deleteمن ىشا
Deleteمن یشاء
Deleteمن یشإٓ
Deleteمن یشاء
Deleteخاتم النبین کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے بعد کسی شخص کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں دی جائے گی
ReplyDeleteنبوت
Deleteنبوت
Deleteنبوت
Deleteنبوت
Deleteنبوت
Deleteنبوت
Deleteنبوت
Deleteنبوت
Deleteنبوت
Deleteنبوت
Deleteنبوت
Deleteنبوت
Deleteحضرت عیسیٰ السلام کا دوبارہ آنا لفظ خاتم النبیین کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں
ReplyDeleteمنافی
Deleteمنافی
Deleteمنافی
Deleteمنافی
Deleteمنافی
Deleteمنافی
Deleteمنافی
Deleteمنافی
Deleteمنافى
Deleteمنافی
Deleteقیامت کا ٹھیک وقت تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کے سوا کسی کو بھی معلوم نہیں
ReplyDeleteاللہ تعالی
Deleteاللّٰه تعالیٰ
Deleteاللہ تعالی
Deleteاللہ تعالی
Deleteاللہ تعالٰی
Deleteاللہ تعالی
Deleteاللّہ تعالیٰ
Deleteاللہ تعالی
Deleteاللہ تعالی
Deleteاللّٰہ ﷻ
Deleteاللّٰہ تعالیٰ
Deleteنبی کریم صلی اللّہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کے درمیان کوئی نبی نہیں ہوا
ReplyDeleteحضرت عیسئ
Deleteحضرت عیسیٰ علیہ اسلام
Deleteحضرت عیسی
Deleteحضرت عیسی علیہ اسلام
Deleteحضرت عیسٰی
Deleteحضرت عیسی علیہ السلام
Deleteحضرت عیسیٰ
Deleteحضرت عیسی
Deleteحضرت عیسی
Deleteحضرت عیسی علیہ اسلام
Deleteحضرت عیسٰی علیہ السلام
DeleteThis comment has been removed by the author.
Deleteحضرت عیسٰی علیہ السلام
Deleteحضرت عیسیٰ علیہ سلام لوگوں سے اسلام پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کریں گے پس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کو توڑ ڈالیں گے
ReplyDeleteقاتل
Deleteصلیب
قتال
Deleteصلیب
قتال
Deleteصلیب
قتل
Deleteصلیب
قتل
Deleteصلیب
قتل
Deleteصلیب
قتل صلیب
Deleteقتل صلیب
Deleteقتال۔ صلیب
Deleteقتل
Deleteصلیب
قتل صلیب
Deleteقاتل
Deleteصلیب
جتنے لوگوں کو نبوت ملنی تھی وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سے پہلے پہلے مل چکی
ReplyDeleteآپ صلی اللہ علیہ وسلم
Deleteآ پ صلی علیہ وسلم
Deleteآپ صلی اللہ علیہ وسلم
Deleteآپﷺ
Deleteآپﷺ
Deleteآپ صل اللہ علیہ والہ وسلم
Deleteحضرت محمد صل اللہ علیہ و سلم
ReplyDeleteمعراج کی رات آپﷺ کی ملاقات حضرت ابراہیم
ReplyDeleteحضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علیہ اسلام سے ہوٸی (
دیگر انبیاء کرام علیہ السلام
Deleteدیگر انبیاء علیہم السلام
Deleteدیگر انبیا علیہ السلام
Deleteدیگر انبیا علیہ السلام
Deleteدیگر انبیا علیہ السلام
Deleteدیگر انبیا علیہ السلام
Deleteدیگر انبیاء کرام علیہ السلام
Deleteدیگر انبیاء کرام علیہم السلام
Deleteاس کے بعد کون مسلمان ہوگا جو اس عہد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کا انکار کرنے کی جرأت کرے؟
ReplyDeleteخداوندی
Deleteخدا وندی
Deleteخداوندی
Deleteخداوندی
Deleteخداوندی
Deleteخداوندی
Deleteخداوندی
Deleteخداوندی
ReplyDeleteحضرت عیسی علیہ ا لسلام --------برس زمین پر رھیں گے
ReplyDeleteچالیس
Deleteچاليس
Deleteچالیس
Deleteچالیس
Deleteقیامت کی مثال پورے دنوں کی ----- کی جو گی
ReplyDeleteحاملہ
Deleteحاملہ
Deleteحاملہ
Deleteحاملہ
Deleteحاملہ
Deleteجب وہ مجھے دیکھے گا تو ----- کی طرح پگھلے گا
ReplyDeleteسیسے
Deleteسیسے
Deleteسیسے
Deleteسیسے
Deleteسیسے
Deleteسیسے
Deleteسیسے
DeleteThis comment has been removed by the author.
ReplyDeleteG baji aa gye hon blog p
ReplyDelete