Nimaz e Edien ka bayan

نمازِ عیدین کا بیان 


سوال : نمازِ عیدین کا حکم کیا ہے؟ 

جواب: ہر اس ( شخص) پر واجب ہے جس پر جمعہ واجب ہوتا ہے۔



سوال: عیدین کا شروع وقت اور آخری (وقت) کیا ہے؟ 

جواب: اس کا اول وقت تب ہے جب آفتاب بلند ہونے سے نماز جاٸز ہو جاۓ اور اس کا آخری وقت تب ہے جب آفتاب ڈھل جاۓ لیکن عید الاضحٰی کے دن نماز میں تعجیل مستحب ہے کیونکہ نماز کے بعد قربانیاں ہوتی ہیں اور عید الفطر کے دن اس میں تاخیر مستحب ہے۔ 



سوال: عیدین کے دنوں میں جو مسنون ہے اسے بیان کیجۓ؟ 

جواب: فطر اور اضحٰی کے دنوں میں مستحب ہے کہ مسواک کرے، غسل کرے،خوشبو لگاۓ اور اپنے اچھے کپڑے پہنے پس اگر عیدالفطر کا دن ہو تو طاق عدد کھجور یا کوئی میٹھی چیز کھاۓ اور عیدگاہ کی طرف جانے سے پہلے صدقہ فطر نکالے اور اگر عیدالاضحٰی کا دن ہو تو کھانے کو مٶخر کرے حتٰی کہ نماز سے فارغ ہو اور اس کے بعد قربانی کرے پس اپنی قربانی میں سے کھاۓ ۔ 





سوال: کیا راستے میں تکبیر کہے جب عیدین کی نمازوں کیلۓ جاۓ ؟ 

جواب: ہمارے تینوں اماموں کے نزدیک وہ راستے میں بلند آواز سے تکبیر کہے جب عیدالاضحٰی کے دن عیدگاہ کی طرف جاۓ۔ پس بہرحال عیدالفطر کے دن میں تو (صاحبین) کے نزدیک تکبیر کہے اور حضرت ابوحنیفہؒ کے نزدیک تکبیر نہ کہے ( فتاوی شامیہ، جوہرہ نیرہ اور ہندیہ وغیرہ سے معلوم ہوتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا مختار مسلک یہ ہے کہ عیدالفطر کے دن پوشیدہ آواز سے تکبیر کہنا مستحب ہے تو گویا امام ابو حنیفہؒ کا صاحبین سے نفس تکبیر میں اختلاف نہیں البتہ جہر میں اختلاف ہے) ۔



سوال: کیا عیدگاہ جانے میں معروف سنت ہے؟ 

جواب: جو عیدین کی نمازوں کیلۓ جاۓ تو اس کیلۓ مستحب ہے کہ جانے اور واپس آنے میں راستہ بدل دے پس ایک راستہ سے جاۓ اور دوسرے راستے سے لوٹے۔



سوال: کیا نمازِ عید سے پہلے عیدگاہ میں نفل پڑھے؟
جواب: نمازِ عید سے پہلے اور اس کے بعد عیدگاہ میں نفل نہ پڑھے۔ 



سوال: نمازِ عیدین کی کیفیت بیان کیجۓ؟ 

جواب: امام اور لوگ آبادی سے صحرا۶ کی طرف نکلیں اور امام لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھاۓ پہلی (رکعت) میں احرام کی تکبیر کہے پھر ثناء پڑھے پھر ہر تکبیر کے ساتھ ہاتھوں کو اٹھاتے ہوۓ بلند آواز سے تین تکبیریں کہے پھر پوشیدہ آواز سے تعوذ و تسمیہ پڑھے پھر بلند آواز سے ”فاتحة الکتاب“ اور اس کے ساتھ (کوٸی ) سورت پڑھے پھر ہر نماز میں رکوع اور سجدہ کرنے کے مطابق اس رکعت کو مکمل کرے پس جب دوسری رکعت کیلۓ کھڑا ہو تو پوشیدہ آواز سے ”بسم اللّه الرحمٰن الرحیم“ پڑھے بلند آواز سے فاتحة الکتاب اور اس کے ساتھ (کوٸی) سورت پڑھے پس جب قرا۶ت سے فارغ ہو تو ہر تکبیر کے ساتھ ہاتھوں کو اٹھاتے ہوۓ بلند آواز سے تین تکبیریں کہے پھر ہاتھوں کو اٹھاۓ بغیر رکوع کیلۓ چوتھی تکبیر کہے اور اس رکعت کو نمازوں کی ادا میں مُعتَادُ (طریقہ) کے مطابق مکمل کرے اور تشہد، نبی کریم ﷺ پر درود اور دُعا کے بعد سلام پھیرے۔ 



سوال: کیا زائد تکبیروں کے درمیان ہاتھوں کو چھوڑ دے یا انہیں اپنی ناف کے نیچے رکھے؟ 

جواب: پہلی رکعت میں تیسری (زائد ) تکبیر کے سوا تمام زائد تکبیروں میں (ہاتھوں) کو چھوڑ دے پس تحقیق وہ (پہلی رکعت میں تیسری تکبیر) کے بعد (ہاتھوں) کو ناف کے نیچے رکھے۔



سوال: یہ عیدین کی نماز میں امام کا عمل ہے پس مقتدی کیا کریں؟ 

جواب: جو (لوگ) اس کے پیچھے نماز پڑھیں تو وہ ہر شے میں اس کی اقتدا۶ کریں مگر تعوذ،تسمیہ اور قرا۶ت میں (نہیں) پس وہ ان تینوں کو نہ پڑھیں اور بلند آواز سے تکبیر نہ کہیں بلکہ تکبیرات پوشیدہ آواز سے کہیں۔



سوال: کیا عیدین کی نمازوں میں خطبہ ہے؟ 

جواب: جی ہاں! عیدین کی نمازوں میں دو خطبے مسنون ہیں پس امام خطبہ دے اور اُن (خطبوں) میں عیدین کے احکام مثلاً عیدالفطر کے خطبہ میں صدقہ فطر اور نمازِ اضحٰی کے خطبہ میں تکبیراتِ تشریق اور قربانی کے مسائل سکھاۓ۔



سوال: عیدین کے خطبہ کا حکم کیا ہے؟
جواب: یہ سنت ہے اور اس کا محل نماز کے بعد ہے۔ 



سوال: حاضرین کیلۓ (خطبہ) سننے کا حکم کیا ہے؟ 

جواب: ہر خطبہ کے وقت کان لگانا اور خاموش رہنا واجب ہے برابر ہے کہ جمعہ کا خطبہ ہو یا عید کا خطبہ۔



سوال: ایک شخص پیچھے رہ گیا پس نمازِ عید اس سے فوت ہوگٸ تو کیا اُسے قضا کرے؟

جواب: اس پر نمازِ عید کی قضا نہیں جس سے فوت ہو جاۓ۔ 



سوال: پس اگر چاند ابر آلود ہو جاۓ اور (لوگ) امام کے پاس زوال کے بعد چاند دیکھنے کی گواہی دیں تو کب نماز عید پڑھے؟ 

جواب: کل آٸندہ نماز(عید) پڑھے۔



سوال: پس اگر عذر پیش آجاۓ (جو) لوگوں کو دوسرے دن میں نماز پڑھنے سے روک دے تو کب نمازِ (عید) پڑھی جاۓ؟ 

جواب: دوسرے دن کے گزرنے کے بعد نمازِ (عید) نہ پڑھی جاۓ۔



سوال: پس اگر قربانی کے دن میں نماز سے ( مانع) عذر پیش آجاۓ تو کب نمازِ (عید) پڑھے؟ 

جواب: کل آٸندہ اور پرسوں آٸندہ نمازِ (عید) پڑھے اور اس کے بعد نمازِ(عید) نہ پڑھے۔



سوال: تکبیرِ تشریق کیا ہے؟ 

جواب: وہ یہ ہے کہ ہر فرض نماز کے بعد کہے

 اَللّٰہُ اَکبَرُ اَللّٰہُ اَکبَرُ ،لا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَ اللّٰہُ اَکبَرُ اَللّٰہُ اَکبَرُ وَ لِلّٰہِ الحَمدُ۔ 



سوال: اس تکبیر کے وقت کی ابتدا کب اور اس کی انتہا کب (ہوتی) ہے؟
جواب: اس کا اول عرفہ کے دن نمازِ فجر کے بعد ہے اور اس کا آخر قربانی (دس ذوالحجہ) کے دن نمازِ عصر کے بعد ہے، یہ حضرت ابو حنیفہؒ کے نزدیک ہے اور آپؒ کے صاحبینؒ فرماتے ہیں کہ اس کا آخری وقت ایام تشریق کے آخر میں نمازِ عصر کے بعد ہے اور فتویٰ (صاحبینؒ) کے قول پر ہے۔



سول: یہ تکبیر بلند آواز کے پڑھی جاۓ یا پوشیدہ آواز سے پڑھی جاۓ ؟ 

جواب: امام اور مقتدی ( حضرات) اسے بلند آواز سے پڑھیں مگر عورت اسے بلند آواز سے نہ پڑھے۔ 



سوال: اگر امام تکبیر تشریق بھول جاۓ تو کیا مقتدی تکبیر کہے؟
جواب: جی ہاں! مقتدی تکبیر کہے اگرچہ امام بھول جاۓ۔



سوال: اس تکبیر کا حکم کیا ہے؟ 

جواب: یہ (تکبیر) ہر اس ( شخص) پر واجب ہے جو پانچوں فرض (نمازوں) یا جمعہ میں سے (جونسی) فرض نماز پڑھے اور سلام کے بعد فوراً اسے پڑھے۔

38 comments / Replies

  1. مقتدی تکبیر کہے اگرچہ امام..... جائے

    ReplyDelete
  2. نماز عیدین ہر اس شخص پر واجب ہے جس پر...... واجب ہے

    ReplyDelete
  3. امام اور مقتدی اسے بلند آواز میں پڑھے لیکن عورت اسے..... پڑھے

    ReplyDelete
  4. اس پر نماز عید کی قضا نہیں جس سے یہ...... ہو جا ئے

    ReplyDelete
  5. دوسرے دن کے گزر جانے کے بعد...... نہ پڑھے

    ReplyDelete
  6. یہ...... ہے اور اسکا..... نماز کے بعد ہے

    ReplyDelete
  7. عیدین کی نماذوں میں......... مسنون ہیں

    ReplyDelete
  8. نماذ عید سے....... اور نماز عید کے بعد....... نہ پڑھے

    ReplyDelete
  9. ہر خطبہ کے وقت...... اور....... رہنا واجب ہے

    ReplyDelete

Powered by Blogger.