Nimaz e Istasqaa ka bayan
نمازِ استسقا۶ کا بیان
سوال : استسقا۶ کا مطلب کیا ہے؟
جواب : وہ بارش طلب کرنا ہے جب لوگ قحط زدہ ہوں۔
سوال: استسقا۶ میں کیا کیا جاۓ؟
جواب: اس میں نماز مشروع ہے لیکن وہ واجب نہیں پس اگر وہ دعا و استغفار پر اکتفا۶ کریں تو جائز ہے پس تحقیق نبی کریمﷺ نے کبھی نمازِ استسقا۶ پڑھی اور بعض اوقات جمعہ کے دن اپنے منبر پر بارش کے اُترنے کیلۓ اللّٰہ تعالٰی سے دعا فرمائی اور نماز نہیں پڑھی اور یہ سب آپﷺ سے ثابت ہے۔
سوال: فقہ کی کتابوں میں ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت ابو حنیفہؒ نے فرمایا کہ ” استسقا۶ میں نماز مسنون نہیں“ تو آپؒ کے قول کا مطلب کیا؟
جواب: آپؒ کے قول کا مطلب یہ ہے کہ نماز، استسقا۶ میں متعین نہیں اور سنتِ مٶکدہ نہیں اس حیثیت سے کہ اس کے سوا اِستسقا۶ صحیح نہ ہو۔
سوال: اگر امام لوگوں کو نمازِ استسقا۶ پڑھانا چاہے تو کیسے کرے؟
جواب: امام اور لوگ پیدل چلتے ہوۓ، خاکساری کرتے ہوۓ، اللّٰہ تعالی کیلۓ عاجزی کا اظہار کرتے ہوۓ ، اپنے سروں کو جھکاتے ہوۓ صحرا۶ کی طرف نکلیں اور امام (لوگوں) کو دو رکعت نماز پڑھاۓ جن میں بلند آواز سے قرا۶ت کرے پھر دو خطبے دے جن میں لوگوں کی طرف اپنا چہرہ کرے اور خطبہ کے دوران اپنی چادر پلٹ دے پس اوپر والے (کنارے) کو نیچے کردے اور نیچے والے(کنارے) کو اس کے اوپر کردے اور اس کے داٸیں پلو کو باٸیں کندھے پر اور برعکس (یعنی باٸیں پلو کو داٸیں کندھے پر) کردے اور قوم اپنی چادروں کو نہ پلٹے اور (امام) خطبہ کے بعد قبلہ رخ ہو اور دعا میں مشغول ہو اس حال میں کہ لوگ بیٹھے ہوۓ، قبلہ رخ ہونے والے، دعا کرنے والے، استغفار کرنے والے، توبہ کرنے والے ہوں اور مناسب ہے کہ وہ کمزوروں، بوڑھوں، بوڑھیوں اور بچوں کے طفیل بارش طلب کرے۔
سوال: کیا اس کے سوا کوٸی عمل ہے جو آپ نے ذکر فرمایا؟
جواب: جی ہاں! چاہۓ کہ وہ نمازِ (استسقا۶) کی طرف نکلنے سے پہلے صدقہ کریں۔

استسقاء کا مطلب ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ طلب کرنا
ReplyDeleteاستسقاء میں نماز . . . ہے
ReplyDeleteامام اور لوگ۔۔۔۔۔۔۔۔ چلتے ہوئے جائیں
ReplyDeleteنماز استقا کے لیے نکلنے سے پہلے۔۔۔،۔۔۔۔۔ کریں
ReplyDelete