Nimaz e Khof ka bayan
نماز خوف کا بیان
سوال : جب دشمن اچانک آجائے اور خوف بڑھ جائے تو امام لوگوں کو کیسے نماز پڑھائے؟
جواب : امام لوگوں کے دو گروہ بنائے (ایک) گروہ دشمن کے مقابلے میں اور (دوسرا) گروہ اپنے پیچھے پس وہ اس گروہ کو مکمل (ایک) رکعت نماز پڑھائے پس جب وہ دوسرے سجدے سے اپنا سر اٹھائے تو یہ گروہ دشمن کے مقابلے میں چلا جائے اور دوسرا گروہ آجائے پس امام انہیں(ایک)رکعت نماز پڑھائے اور امام تشہد پڑھے اور سلام پھیرے اور وہ(لوگ)سلام نہ پھیریں پس جب امام سلام پھیر چکے تو وہ لوگ دشمن کے مقابلے میں چلے جائیں اور پہلا گروہ آجائے پس وہ قرأت کے بغیر اپنی وہ رکعت پڑھیں جو باقی رہ گئی اور تشہد پڑھیں اور سلام پھیریں اور دشمن کے مقابلے میں چلے جائیں اور دوسرا گروہ آجائے پس وہ قرأت وتشہد کے ساتھ باقی ماندہ رکعت پڑھیں اور سلام پھیریں
سوال : اگر امام مقیم ہو تو کیسے کرے؟
جواب : رباعی فرض پڑھائے ہر گروہ کو دو رکعت
سوال : پس جب نماز مغرب ہو تو انہیں کیسے نماز پڑھائے؟
جواب : پہلے گروہ کو دو رکعت اور دوسرے (گروہ) کو(ایک) رکعت نماز پڑھائے
سوال : اگر خوف بڑھ جائے اس حیثیت سے کہ وہ جماعت کی نماز پڑھنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں اور (سواریوں سے) اترنے سے عاجز ہو جائیں تو کیسے کریں؟
جواب : اکیلے اکیلے نماز پڑھیں اس حال میں کہ سوار ہوں رکوع اور سجدہ اشارہ سے کریں
سوال : اگر وہ قبلہ رخ ہونے پر قدرت نہ رکھتے ہوں؟
جواب : اس جہت کی طرف نماز پڑھیں جس کی طرف قدرت رکھتے ہوں
سوال : اگر ان میں سے کوئی زمین پر اترا ہو تو کیسے نماز پڑھے؟
جواب : نماز پڑھے اس حال میں کہ پیدل چلنے والا نہ ہو اور رکوع اور سجدہ کرے پس اگر رکوع اور سجدہ پر قادر نہ ہو تو(رکوع اور سجدہ) اشارہ سے کرے
سوال : پس اگر وہ قتال کی طرف مجبور ہو جائیں اور وہ قتال کریں اس حال میں کہ وہ نماز میں ہوں تو ان کی نماز کا حکم کیا ہے؟
جواب : اگر وہ نماز میں قتال کریں یا پیدل چلیں تو ان کی نماز باطل ہو گئی کیونکہ یہ عمل کثیر ہے
سوال : اگر دشمن اچانک آجائے اور وہ نہ تو رکوع اور سجدہ کے ساتھ اور نہ ہی اشارہ کرنے کے ساتھ نماز پر قادر ہوں اس حال میں کہ جدا جدا ہوں یا امام کی اقتداء کرنے والے ہوں تو کیا کریں؟
جواب : وہ نماز کو مؤخر کریں جیسا کہ نبی پاک صلی اللّه علیہ وسلم نے غزوۂ احزاب میں اسے مؤخر فرمایا اور وہ اسے قضا کریں جب قادر ہوں

Aslam o Alikum
ReplyDeleteوعلیکم السلام
Deleteوعلیکم سلام
Deleteوعلیکم اسلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ReplyDelete
ReplyDeleteجواب : امام لوگوں کے دو گروہ بنائے (ایک) گروہ دشمن کے مقابلے میں اور (دوسرا) گروہ ____ پیچھے
اپنے
Deleteاپنے
Deleteاپنے
Deleteقرأت ____ کے ساتھ باقی ماندہ رکعت پڑھیں اور سلام پھیریں
ReplyDeleteوتشہد
Deleteقرأت و تشہد
Deleteتشہد
Deleteپہلے گروہ کو دو رکعت اور دوسرے (گروہ) کو(ایک) ____ نماز پڑھائے
ReplyDeleteرکعت
Deleteرکعت
Deleteرکعت
Deleteرکعت
DeleteThis comment has been removed by the author.
ReplyDelete: اگر وہ نماز میں ____کریں یا پیدل چلیں تو ان کی نماز باطل ہو گئی کیونکہ یہ عمل ____ ہے
ReplyDeleteقتال
Deleteکثیر
قتال,کثیر
Deleteقتال۔ کثیر
Deleteقتال کثیر
DeleteThis comment has been removed by the author.
ReplyDelete: اس ____کی طرف نماز پڑھیں جس کی طرف قدرت رکھتے ہوں
ReplyDeleteجہت
Deleteجہت
Deleteجہت
Deleteجہت
Deleteنماز کو مؤخر کریں جیسا کہ نبی پاک صلی اللّه علیہ وسلم نے غزوۂ احزاب میں اسے مؤخر فرمایا اور وہ اسے____ کریں جب قادر ہوں
ReplyDeleteقضا
Deleteقضا
Deleteقضا
Deleteقضاء
Deleteاگر امام مقیم ہو تو کیسے کرے؟
ReplyDeleteرباعی فرض پڑھاۓ ہر گروہ کو دو رکعت
Deleteرباھی فرض پڑھے ہر گروہ کو دو رکعت
Deleteخوف بڑھ جائے اس حیثیت سے کہ وہ جماعت کی نماز پڑھنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں اور (سواریوں سے) اترنے سے عاجز ہو جائیں تو کیسے کریں؟
ReplyDelete