Nimaz Jumma ka bayan

نماز جمعہ کا بیان


سوال : نماز جمعہ کا حکم کیا ہے؟

جواب : یہ آزاد، بالغ، عاقل، تندرست، بینا، مقیم مرد پر فرض عین ہے



سوال : کیا اس کو قائم کرنے کےلیے شرائط ہیں؟
جواب : جی ہاں ! اس کیلیے شرائط ہیں وہ درج ذیل ہیں 

اول:  یہ کہ وہ جامع شہر یا شہر کی عید گاہ میں ہو پس دیہاتوں میں جائز نہیں 

دوم : یہ کہ بادشاہ اسے قائم کرے یا وہ (قائم کرے) جسے بادشاہ حکم کرے یا وہ اسے قائم کرے مسلمان جس پر اکھٹے ہو جائیں اور اسے امام کے طور پر متعین کریں تاکہ وہ انہیں جمعہ  پڑھائے

سوم : (نماز جمعہ )کا ظہر کے وقت میں ہونا پس ظہر کے وقت سے پہلے اور اس کے گزرنے کے بعد صحیح نہیں ہوتی 

چہارم : نماز سے پہلے خطبہ، پس اگر اللّه تعالی کے ذکر پر اکتفا کرے تو حضرت ابو حنیفہ کے نزدیک جائز ہے اور آپ کے دونوں شاگرد 

 (حضرت ابو یوسف و محمد ) 
فرماتے ہیں کہ طویل ذکر ضروری ہے جس کا نام خطبہ رکھا جاتا ہے 

پنجم : جماعت، حضرت ابو حنیفہ و حضرت محمد صلی اللّه علیہ وسلم کے نزدیک اس کی کمتر
 (تعداد )
امام کے سوا دو ہے





سوال : ان عذروں کو بیان کیجیے جن کی وجہ سے جمعہ میں حاضر نہ ہونا جائز ہے؟
جواب : وہ درج ذیل ہیں



 (1 )
نمازی کا قصر کی مسافت کا مسافر ہونا
 (2)
نسوانیت
  (3)
بیماری
  (4)
اندھا پن
 (5)
غلامی


پس(نماز جمعہ)مسافر، عورت، بیمار، نابینا اور غلام پر واجب نہیں ہوتی



سوال : اگر یہ (لوگ )نماز جمعہ میں حاضر ہوں اور لوگوں کے ساتھ نماز پڑھیں تو کیا یہ (نماز جمعہ )انہیں وقت کے فرض یعنی  (نماز ظہر )سے کفایت کرے گی؟

جواب : جی ہاں ! یہ انہیں وقت کے فرض سے کفایت کرے گی. 



سوال : اگر غلام یا بیمار یا مسافر یا نابینا نماز جمعہ میں امامت کریں اس حال میں میں کہ ان کے پیچھے آزاد،تندرست اور مقیم  (لوگ ) ہوں  تو کیا امام و مقتدیوں کی نماز صحیح ہو جائے گی؟

جواب : جی ہاں! ان کیلیے جائز ہے کہ نماز جمعہ میں لوگوں کی امامت کریں اور ان سب کی نماز صحیح ہو جائے گی



سوال : جس(شخص )سے نماز جمعہ عذر کی وجہ سے فوت ہو جائے تو اس پر کیا واجب ہے؟

جواب : وہ نماز ظہر پڑھے اور اسی طرح ہر وہ (شخص نماز ظہر پڑھے ) جو (نماز جمعہ ) میں حاضر نہیں ہوا اور اگر عذر کے بغیر  (نماز جمعہ ) چھوڑنے والا ہو تو گہنگار ہو گا



سوال : جس نے جمعہ کے دن امام کی نماز سے پہلے اپنے گھر میں نماز ظہر پڑھ لی اس حال میں کہ اس کیلیے کوئی عذر نہیں تو کیا یہ جائز ہے؟ 

جواب : یہ اس پر حرام ہے


سوال : اگر وہ یہ کرے اور ظہر کا وقت نکل جائے تو کیا وہ نماز جو اس نے پڑھی وقت کے فرض (یعنی نماز جمعہ )سے اسے کفایت کرے گی؟ 

جواب : وقت کے فرض سے اسے کفایت کرے گی 



سوال : اور اگر وہ جمعہ کی طرف متوجہ ہو اور امام کے ساتھ نماز جمعہ پڑھے تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب : نماز جمعہ صحیح ہو گئی اور جمعہ کی طرف چلنے سے نماز ظہر جو وہ پڑھ چکا,باطل ہو گئی اور یہ حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللّه کے نزدیک ہے اور آپ کے صاحبین فرماتے ہیں کہ اس کی ظہر باطل نہیں ہو گی یہاں تک کہ وہ نماز جمعہ میں امام کے ساتھ داخل ہو جائے



سوال : کیا معذور اور قیدی (لوگ) جمعہ کے دن, نماز ظہر جماعت کے ساتھ پڑھ لیں؟

جواب : یہ ان کیلیئے مکروہ ہے وہ تنہا تنہا نماز (ظہر) پڑھیں



سوال : جو (شخص) نماز جمعہ میں ایک رکعت کے ساتھ مبسوق ہوا تو کیسے کرے؟

جواب : اس پر جمعہ کی بنا کرے اور (جمعہ) کی جو (رکعت) اس سے فوت ہو گئی اس کی قضا کرے



سوال : پس اگر اس نے تشہد میں یا سجدۂ سہو میں امام کو پا لیا تو کیا کرے؟

جواب : حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللّه اور حضرت ابو یوسف رحمہ اللّه کے نزدیک اس پر جمعہ کی بنا کرے اور حضرت محمد رحمہ اللّه فرماتے ہیں کہ اگر (امام) کے ساتھ دوسری رکعت کا اکثر (حصہ) پا لیا تو اس پر جمعہ کی بنا کرے اور اگر (امام) کے ساتھ دوسری رکعت کا کم (حصہ) پایا تو اس پر ظہر کی بنا کرے یعنی اس تحریمہ کے ساتھ چار رکعت نماز پڑھے



سوال : جمعہ کی اذان کے بعد خرید و فروخت کا حکم کیا ہے؟

جواب : یٰآاٙیُّھٙا الّٙذِیْنٙ اٰمٙنُوْا اِذٙا نُوْدِیٙ لِلصّٙلٰوۃِ مِنْ یّٙومِ الْجُمُعٙۃِ فٙاسْعٙوْا اِلٰی
 ذِکْرِ اللّٰہِ وٙذٙرُوا الْبٙیْعٙ  


(الجمعۃ: ٩ )


 جب جمعہ کے دن نماز  (جمعہ) کیلیئے اذان دی جائے  تو اللّه تعالیٰ کے ذکر (خطبہ و نماز) کی طرف (فوراً) چل پڑو اور خرید و فروخت(و دیگر مشاغل) چھوڑ دو



سوال: امام کے (منبر کی طرف) نکلنے کے بعد نماز و کلام کا حکم کیا ہے؟

جواب : جب امام (منبر کی طرف) نکل آئے تو لوگ نماز و کلام چھوڑ دیں یہاں تک کہ وہ اپنے خطبہ سے فارغ ہو جائے یہ حضرت ابو حنیفہ رحمہ اللّه کے نزدیک ہے اور آپ کے صاحبین فرماتے ہیں کہ کلام کرنے میں کوئی حرج نہیں جب تک (امام) خطبہ شروع نہ کرے



سوال : جمعہ میں کتنی مرتبہ اذان دی جائے؟

جواب : دو مرتبہ,پہلی اذان جب آفتاب ڈھل جائے پس اس وقت لوگوں پر لازم ہے کہ وہ جمعہ کی طرف متوجہ ہوں اور خرید و فرخت چھوڑ دیں اور اللّه تعالی کے ذکر (خطبہ و نماز) کی طرف چل پڑیں دوسری (اذان) جب امام منبر پر چڑھے اور اس پر بیٹھ جائے پس تحقیق شان یہ ہے کہ اس وقت اس کے سامنے اذان دی جائے پھر امام دو خطبے دے پس جب امام دوسرے خطبہ سے فارغ ہو تو نماز قائم کرے



سوال : مسنون طریقہ پر خطبہ کی صفت بیان کیجئیے؟

جواب : امام باوضو کھڑا ہو کر دو خطبے دے. دونوں (خطبوں) کے درمیان ایک بیٹھک (یعنی تھوڑی دیر) بیٹھے



سوال : امام جمعہ میں بلند آواز سے قرأت کرے یا پوشیدہ آواز سے (قرأت) کرے؟

جواب : اس میں بلند آواز سے قرأت کرے



سوال :  اس (شخص) کیلیئے خطبہ سننے کا حکم کیا ہے جو (امام) سے دور ہو؟

جواب : اس (مسئلہ) میں دور والا قریب کی طرح ہے خطبہ کے وقت کان لگانا اور خاموش رہنا ہر اس (شخص)کیلیئے واجب ہے جو(امام سے) دور ہو یا قریب ہو, امام کے آواز سنے یا نہیں



57 comments / Replies

  1. : یہ آزاد، بالغ، عاقل، تندرست، بینا، مقیم مرد پر .......ہے

    ReplyDelete

  2. اول: یہ کہ وہ جامع شہر یا شہر کی عید گاہ میں ہو پس ...... میں جائز نہیں

    ReplyDelete

  3. دوم : یہ کہ بادشاہ اسے قائم کرے یا وہ (قائم کرے) جسے بادشاہ حکم کرے یا وہ اسے قائم کرے مسلمان جس پر اکھٹے ہو جائیں اور اسے ...... کے طور پر متعین کریں تاکہ وہ انہیں جمعہ پڑھائے

    ReplyDelete

  4. سوم : (نماز جمعہ )کا...... کے وقت میں ہونا پس ظہر کے وقت سے پہلے اور اس کے گزرنے کے بعد صحیح نہیں ہوتی

    ReplyDelete

  5. (حضرت ابو یوسف و محمد )
    فرماتے ہیں کہ طویل ذکر ضروری ہے جس کا نام..... رکھا جاتا ہے

    ReplyDelete
  6. : ان عذروں کو بیان کیجیے جن کی وجہ سے جمعہ میں حاضر نہ ہونا جائز ہے؟

    ReplyDelete
    Replies
    1. عزر درج ذیل ہیں



      (1 )
      نمازی کا قصر کی مسافت کا مسافر ہونا
      (2)
      نسوانیت
      (3)
      بیماری
      (4)
      اندھا پن
      (5)
      غلامی


      پس(نماز جمعہ)مسافر، عورت، بیمار، نابینا اور غلام پر واجب نہیں ہوتی

      Delete
    2. نمازى كا قصر كى مسافت كا مسافر هونا
      نسوانيت
      بيمارى
      اندها پن
      غلامى

      Delete
    3. 1.نمازی کا قصر کی مسافت کا مسافر ہونا
      2.نسوانیت
      3.بیماری
      4.اندھا پن
      5.غلامی

      Delete

    4. .نمازی کا قصر کی مسافت کا مسافر ہونا.نسوانیت
      .بیماری
      .اندھا پن
      .غلامی

      Delete
    5. نمازی کا قصر کی مسافت کا مسافرہونا
      نسوانیت
      بیماری
      اندھا پن
      غلامی

      Delete
    6. نمازی کا قصر کی مسافت کامسافروں ہونا
      نسوانیت
      بیماری
      اندھا پن
      غلامی

      Delete
  7. اگر عذر کے بغیر (نماز جمعہ ) چھوڑنے والا ہو تو ..... ہو گا

    ReplyDelete

  8. جب جمعہ کے دن نماز (جمعہ) کیلیئے اذان دی جائے تو اللّه تعالیٰ کے ذکر (خطبہ و نماز) کی طرف (فوراً) چل پڑو اور ......(و دیگر مشاغل) چھوڑ دو

    ReplyDelete
  9. : جمعہ میں کتنی مرتبہ اذان دی جائے؟

    ReplyDelete

Powered by Blogger.