Nimaz k Aadab
نماز کے آداب کا بیان
سوال : نماز کے آداب کیا ہیں ؟
جواب : وہ درج ذیل ہیں
(١)
تکبیر کے وقت مرد کا اپنی ہتھیلیوں کو آستینوں سے نکالنا
(٢)
نمازی کا قیام کی حالت میں اپنے سجدہ کی جگہ کی طرف، رکوع کی حالت میں پشت قدم کی طرف، سجدہ کی حالت میں ناک کے بانسہ کی طرف، جلوس کی حالت میں گود کی طرف اور سلام کہنے کی حالت میں کندھوں کی طرف دیکھنا
(٣)
کھانسی دور کرنا جتنی طاقت رکھتا ہو
(٤)
جماٸی کے وقت منہ بند کرنا۔
تحریمہ سے سلام تک اداۓ نماز کی کیفیت کا بیان
سوال : نماز کی ابتدا سے اسکے آخر تک اداۓ نماز کی کیفیت بیان کیجۓ ؟
جواب : جب نماز شروع کرنا چاہے (تو) افتتاح کے لیے مد کے بغیر ( مد کے بغیر کا مطلب یہ ہے اللہ اور اکبر کے شروع میں الف کو اور اکبر کے با کو نہ کھینچے ) تکبیر (یعنی اللہ اکبر) کہے اس حال میں کہ کھڑا ہو اور ہاتھوں کو کانوں تک اٹھانے والا ہو اور تکبیر (تحریمہ) کے بعد اپنے داٸیں ہاتھ کو باٸیں ہاتھ پر ناف کے نیچے رکھ دے پھر ثنا۶ پڑھے پس کہے
سُبحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَ بِحَمدِکَ وَ تَبَارَکَ اسمُکَ وَتَعَالٰی جَدُّکَ وَ لا اِ لٰہَ غَیرُکَ
ترجمہ : ” اے اللہ ! آپ پاک ہیں اور سب تعریف آپ کی ہے اور آپ کا نام بابرکت ہے اور آپ کی بزرگی بلند ہے اور آپ کے سوا کوٸ معبود نہیں ۔
پھر تَعَوُّذ پڑھے اور اس کے بعد تَسمِیَّہ پڑھے اور ان تینوں ( ثَنا۶، تَعَوُّذ، تَسمِیَّہ ) کو آہستہ کہے اور مقتدی، تعوذ و تسمیہ نہ پڑھے کیونکہ وہ قرا۶ت نہیں کرتا اور فاتحتہ الکتاب پڑھے اور (فاتحہ) سے فارغ ہونے کے بعد آہستہ سے آمین کہے اگرچہ جہری نماز میں ہو اور اس کے بعد ( قرآن پاک میں سے ) جہاں سے چاہے ایک سورت یا تین آیات پڑھے پس جب قرا۶ت سے فارغ ہو تو رکوع کے لیے جھکتے ہوۓ ہاتھوں کو اٹھاۓ بغیر تکبیر کہے اور اپنے ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھے اس حال میں کہ (ہاتھوں کی ) انگلیوں کو کشادہ کرنے والا ہو تاکہ (گھٹنوں) پر گرفت مضبوط ہو اور پنڈلیوں کو کھڑا رکھے اور اپنی پشت کو پھیلاۓ اس حال میں کہ (پشت) کو سرین کے برابر کرنے والا ہو نہ اپنے سر کو اونچا کرنے والا ہو اور نہ نیچے کرنے والا ہو اور رکوع میں تسبیح کہے (یعنی) سُبحاَنَ رَبِّیَ العَظِیمِ تین دفعہ کہے اور یہ (تسبیح) کا ادنٰی (درجہ) ہے پھر سَمِعَ اللَّہُ لِمَن حَمِدَہُ کہتے ہوۓ سر اٹھاۓ اور اس کے متصل بعد رَبَّناَ لَکَ الحَمدُ کہے جبکہ نماز پڑھ رہا اس حال میں کہ وہ منفرد ( یعنی تنہا ) ہو پس بہرحال امام تو وہ تَسمِیع پر اکتفا کرے اور مقتدی تحمید پر اکتفا کرے اور سیدھا کھڑا ہو جاۓ پھر تکبیر کہے اس حال میں کہ سجدہ کیلۓ جھکے پس گھٹنوں، پھر ہاتھوں پھر چہرے کو ہتھیلیوں کے درمیان رکھتے ہوۓ ہاتھوں کی انگلیوں کو ملاتے ہوۓ ان کو قبلہ رخ کرتے ہوۓ سجدہ کرے اور اپنی ناک اور پیشانی پر سجدہ کرے اور بغلوں کو ظاہرکرے پیٹ کو رانوں سے دور رکھے اورقدموں کے سروں کو قبلہ رُخ کرے اور تسبیح کہے پس سُبحَانَ رَبِّیَ الا علٰی تین مرتبہ کہے اور یہ (تسبیح) کا ادنٰی (درجہ) ہے پھر تکبیر کہتے ہوۓ سر اٹھاۓ اور رانوں پر ہاتھوں کو پھیلاتے ہوۓ سیدھا اطمینان سے بیٹھ جاۓ پھر تکبیر کہے اور تین مرتبہ تسبیح کہتے ہوۓ اطمینان سے دوسرا سجدہ کرے پھر زمین پر ہاتھوں سے سہارا لینے اور بیٹھنے کے بغیر قدموں کے پنجوں پر اٹھنے کے وقت تکبیر کہے اور پہلے اپنا سر پھر ہاتھوں پھر گھٹنوں کو اٹھاۓ اور دوسری رکعت کیلۓ کھڑا ہو جاۓ اور یہ پہلی (رکعت) کی طرح ہے اِلّا یہ کہ وہ ہاتھوں کو نہ اٹھاۓ اور ثنا۶ و تَعَوُّذ نہ پڑھے اور جب دوسری رکعت کے دونوں سجدوں سے فارغ ہو (تو) اپنے باٸیں پاٶں کو بچھاۓ اور اس پر بیٹھ جاۓ اور اپنے داٸیں پاٶں کو کھڑا کرے اس حال میں کہ اسکی انگلیاں قبلہ رخ کرنے والا ہو اور اپنے (ہاتھوں) کی انگلیاں رانوں پر پھیلاتے ہوۓ داٸیں ہاتھ کو داٸیں ران پر اور باٸیں ہاتھ کو باٸیں ران پر رکھے اور حضرت ابن مسعودؓ کا تَشَھُّد پڑھے پس کہے
پھر تَعَوُّذ پڑھے اور اس کے بعد تَسمِیَّہ پڑھے اور ان تینوں ( ثَنا۶، تَعَوُّذ، تَسمِیَّہ ) کو آہستہ کہے اور مقتدی، تعوذ و تسمیہ نہ پڑھے کیونکہ وہ قرا۶ت نہیں کرتا اور فاتحتہ الکتاب پڑھے اور (فاتحہ) سے فارغ ہونے کے بعد آہستہ سے آمین کہے اگرچہ جہری نماز میں ہو اور اس کے بعد ( قرآن پاک میں سے ) جہاں سے چاہے ایک سورت یا تین آیات پڑھے پس جب قرا۶ت سے فارغ ہو تو رکوع کے لیے جھکتے ہوۓ ہاتھوں کو اٹھاۓ بغیر تکبیر کہے اور اپنے ہاتھوں کو گھٹنوں پر رکھے اس حال میں کہ (ہاتھوں کی ) انگلیوں کو کشادہ کرنے والا ہو تاکہ (گھٹنوں) پر گرفت مضبوط ہو اور پنڈلیوں کو کھڑا رکھے اور اپنی پشت کو پھیلاۓ اس حال میں کہ (پشت) کو سرین کے برابر کرنے والا ہو نہ اپنے سر کو اونچا کرنے والا ہو اور نہ نیچے کرنے والا ہو اور رکوع میں تسبیح کہے (یعنی) سُبحاَنَ رَبِّیَ العَظِیمِ تین دفعہ کہے اور یہ (تسبیح) کا ادنٰی (درجہ) ہے پھر سَمِعَ اللَّہُ لِمَن حَمِدَہُ کہتے ہوۓ سر اٹھاۓ اور اس کے متصل بعد رَبَّناَ لَکَ الحَمدُ کہے جبکہ نماز پڑھ رہا اس حال میں کہ وہ منفرد ( یعنی تنہا ) ہو پس بہرحال امام تو وہ تَسمِیع پر اکتفا کرے اور مقتدی تحمید پر اکتفا کرے اور سیدھا کھڑا ہو جاۓ پھر تکبیر کہے اس حال میں کہ سجدہ کیلۓ جھکے پس گھٹنوں، پھر ہاتھوں پھر چہرے کو ہتھیلیوں کے درمیان رکھتے ہوۓ ہاتھوں کی انگلیوں کو ملاتے ہوۓ ان کو قبلہ رخ کرتے ہوۓ سجدہ کرے اور اپنی ناک اور پیشانی پر سجدہ کرے اور بغلوں کو ظاہرکرے پیٹ کو رانوں سے دور رکھے اورقدموں کے سروں کو قبلہ رُخ کرے اور تسبیح کہے پس سُبحَانَ رَبِّیَ الا علٰی تین مرتبہ کہے اور یہ (تسبیح) کا ادنٰی (درجہ) ہے پھر تکبیر کہتے ہوۓ سر اٹھاۓ اور رانوں پر ہاتھوں کو پھیلاتے ہوۓ سیدھا اطمینان سے بیٹھ جاۓ پھر تکبیر کہے اور تین مرتبہ تسبیح کہتے ہوۓ اطمینان سے دوسرا سجدہ کرے پھر زمین پر ہاتھوں سے سہارا لینے اور بیٹھنے کے بغیر قدموں کے پنجوں پر اٹھنے کے وقت تکبیر کہے اور پہلے اپنا سر پھر ہاتھوں پھر گھٹنوں کو اٹھاۓ اور دوسری رکعت کیلۓ کھڑا ہو جاۓ اور یہ پہلی (رکعت) کی طرح ہے اِلّا یہ کہ وہ ہاتھوں کو نہ اٹھاۓ اور ثنا۶ و تَعَوُّذ نہ پڑھے اور جب دوسری رکعت کے دونوں سجدوں سے فارغ ہو (تو) اپنے باٸیں پاٶں کو بچھاۓ اور اس پر بیٹھ جاۓ اور اپنے داٸیں پاٶں کو کھڑا کرے اس حال میں کہ اسکی انگلیاں قبلہ رخ کرنے والا ہو اور اپنے (ہاتھوں) کی انگلیاں رانوں پر پھیلاتے ہوۓ داٸیں ہاتھ کو داٸیں ران پر اور باٸیں ہاتھ کو باٸیں ران پر رکھے اور حضرت ابن مسعودؓ کا تَشَھُّد پڑھے پس کہے
اَلتَّحِیَّاتُ لِلّٰہِ وَ الصَّلَوَاتُ وَ الطَیِّبَاتُ اَلسَّلامُ عَلَیکَ اَیُّھَا النَّبِیُّ وَ رَحمَةُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ اَلسَّلامُ عَلَینَا وَ عَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصَّالِحِینَ اَشھَدُ أن لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللَّہُ وَ أشھَدُ أنَّ مُحَمَّدًا عَبدُہُ وَرَسُولُہُ
ترجمہ : ” تمام قولی عبادتیں ، بدنی عبادتیں اور مالی عبادتیں اللہ کیلۓ ہیں۔ اے نبی! آپ پر سلام اللہ کی رحمت اور اسکی برکتیں (نازل) ہوں۔
ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام (نازل) ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوٸ معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں
اور شہادت کے وقت انگوٹھے اور بیچ کی اُنگلی سے حلقہ بناتے ہوۓ، خنصر( ”خنصر“ چھنگلیا۔ ”بنصر“ چھنگلیا اور بیچ کی انگلی کے درمیان کی انگلی) اور بنصر کو بند کرتے ہوۓ داٸیں انگشت شہادت کے ساتھ اشارہ کرے۔ پس اگر اس نے دو رکعتوں کی ادا کی نیت کی تھی (تو) تشہد کے بعد نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجے پھر اس (کلام) کے ساتھ دعا کرے جو تنزیل ( قرآن پاک ) یا سنت کے الفاظ کے مشابہ ہو اس (کلام) کے ساتھ نہیں جو لوگوں کے کلام کے مشابہ ہو پھر دو مرتبہ سلام کہے پس اپنی داٸیں جانب اور اسی طرح اپنی باٸیں جانب اَلسَّلامُ عَلَیکُم وَرَحمَةُ اللّٰہِ کہے یہاں تک کہ کندھوں کی طرف دیکھتے ہوۓ اس کے رخسار کی سفیدی دکھاٸی دے اور اس حال میں کہ اپنے سلام میں امام، نمازیوں اور حفاظت کرنے والے فرشتوں کی نیت کرے جو اس کی داٸیں جانب میں اور جو اس کی باٸیں جانب میں ہوں اس کے مطابق جو ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں ۔ پس اگر اس نے تحریمہ کے وقت چار رکعت نماز پڑھنے کی نیت کی تھی تو جس وقت وہ تشہد سے فارغ ہو تو تیسری رکعت کیلۓ کھڑا ہو اور ہاتھوں کو نہ اٹھاۓ اور ثنا۶ و تَعَوُّذ نہ پڑھے پھر (تیسری رکعت) کے دونوں سجدوں سے فارغ ہونے کے بعد چوتھی (رکعت) کیلۓ کھڑا ہو اور قیام، قرا۶ت ، رکوع اور سجدہ کے ساتھ ان دونوں (رکعتوں) کو مکمل کرے جیسا کہ اس نے پہلی دو رکعتوں کو مکمل کیا اور چوتھی رکعت کے دو سجدوں کے بعد بیٹھ جاۓ جیسا کہ پہلی دو رکعتوں پر بیٹھا اور تشہد، نبی پاکﷺ درود پھر دعا پھر داٸیں جانب اور باٸیں جانب سلام پڑھے جیسا کہ گزر چکا اور اگر تحریمہ کے وقت تین رکعت نماز پڑھنے کی نیت کی تھی تو تیسری رکعت کے دو سجدوں کے بعد بیٹھ جاۓ اور تشہد، نبی کریم ﷺ پر درود ، دعا اور سلام پڑھے۔
ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام (نازل) ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوٸ معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں
اور شہادت کے وقت انگوٹھے اور بیچ کی اُنگلی سے حلقہ بناتے ہوۓ، خنصر( ”خنصر“ چھنگلیا۔ ”بنصر“ چھنگلیا اور بیچ کی انگلی کے درمیان کی انگلی) اور بنصر کو بند کرتے ہوۓ داٸیں انگشت شہادت کے ساتھ اشارہ کرے۔ پس اگر اس نے دو رکعتوں کی ادا کی نیت کی تھی (تو) تشہد کے بعد نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجے پھر اس (کلام) کے ساتھ دعا کرے جو تنزیل ( قرآن پاک ) یا سنت کے الفاظ کے مشابہ ہو اس (کلام) کے ساتھ نہیں جو لوگوں کے کلام کے مشابہ ہو پھر دو مرتبہ سلام کہے پس اپنی داٸیں جانب اور اسی طرح اپنی باٸیں جانب اَلسَّلامُ عَلَیکُم وَرَحمَةُ اللّٰہِ کہے یہاں تک کہ کندھوں کی طرف دیکھتے ہوۓ اس کے رخسار کی سفیدی دکھاٸی دے اور اس حال میں کہ اپنے سلام میں امام، نمازیوں اور حفاظت کرنے والے فرشتوں کی نیت کرے جو اس کی داٸیں جانب میں اور جو اس کی باٸیں جانب میں ہوں اس کے مطابق جو ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں ۔ پس اگر اس نے تحریمہ کے وقت چار رکعت نماز پڑھنے کی نیت کی تھی تو جس وقت وہ تشہد سے فارغ ہو تو تیسری رکعت کیلۓ کھڑا ہو اور ہاتھوں کو نہ اٹھاۓ اور ثنا۶ و تَعَوُّذ نہ پڑھے پھر (تیسری رکعت) کے دونوں سجدوں سے فارغ ہونے کے بعد چوتھی (رکعت) کیلۓ کھڑا ہو اور قیام، قرا۶ت ، رکوع اور سجدہ کے ساتھ ان دونوں (رکعتوں) کو مکمل کرے جیسا کہ اس نے پہلی دو رکعتوں کو مکمل کیا اور چوتھی رکعت کے دو سجدوں کے بعد بیٹھ جاۓ جیسا کہ پہلی دو رکعتوں پر بیٹھا اور تشہد، نبی پاکﷺ درود پھر دعا پھر داٸیں جانب اور باٸیں جانب سلام پڑھے جیسا کہ گزر چکا اور اگر تحریمہ کے وقت تین رکعت نماز پڑھنے کی نیت کی تھی تو تیسری رکعت کے دو سجدوں کے بعد بیٹھ جاۓ اور تشہد، نبی کریم ﷺ پر درود ، دعا اور سلام پڑھے۔
سوال: اگر پگڑی کے پیچ یا فالتو کپڑے پر سجدہ کرے تو اس کا حکم کیا ہے؟
جواب: اگر (پگڑی کا ) پیچ پیشانی پر ہو اور وہ اسی طرح سجدہ کرلے (تو) سجدہ کراہت (تنزیہی) کے ساتھ جاٸز ہے اور اگر عزر کی وجہ سے ہو تو جواز کراہت کے بغیر ہے۔

تکبیر کے وقت مرد کا اپنی ہتھیلیوں کو...... نکالنا
ReplyDeleteآستینوں سے باہر
Deleteآستینوں سے باہر
Deleteآستینوں سے باہر
Deleteنماز کے آداب میں سے ہے سجدہ کی حالت میں.....، کی طرف دیکھنا ے
ReplyDeleteناک کی سیدھ
Deleteناک کی سیدھ
Deleteناک کی سیدھ
Deleteجب نماز شروع کرنا چاہے (تو) افتتاح کے لیے مد کے بغیر ( مد کے بغیر کا مطلب....... ہے )
ReplyDeleteاللہ اور اکبر میں الف کو اور اکبر میں با کو نہ کھینچے
Deleteاللہ اور اکبر میں الف کو اور اکبر میں با کو نہ کھینچے
Deleteجلوس کی حالت میں کہاں دیکھنا چاہیے؟؟
ReplyDeleteگود
Deleteگود
Deleteگود
Deleteرکوع کی حالت میں کہاں دیکھنا چاہیے؟؟
ReplyDeleteThis comment has been removed by the author.
Deleteپشت قدم
Deleteپشت قدم
Deleteپشت قدم
Deleteتکبیر (تحریمہ) کے بعد اپنے داٸیں ہاتھ کو باٸیں ہاتھ پر ...... کے رکھ دے
ReplyDeleteناف کے نیچے
Deleteناف کے نیچے
Delete( ثَنا۶، تَعَوُّذ، تَسمِیَّہ ) کو....... کہے
ReplyDeleteآہستہ
Deleteآہستہ
Deleteآہستہ
Deleteکشف فاطمہ آپ بھی سوالات بنائیں شاباش
ReplyDelete