Nimaz ki sharton ka bayan

نماز کی شرطوں کا بیان 


 سوال : نماز کی ان شرطوں کو بیان کیجیئے جو صحت نماز کیلیئے ضروری ہیں؟


جواب : نمازی کیلیئے ضروری ہے کہ وہ


دونوں حدثوں سے پاک جس وقت وہ نماز پڑھے نماز کے شروع سے آخر تک

2  

اور یہ کہ اس کا جسم نجاستوں سے پاک ہو

3  

اور یہ کہ اس کا مصلیٰ (نماز پڑھنے کی جگہ) پاک ہو

4

 اور یہ کہ وہ پاک کپڑا پہنے ہوئے ہو جس کے ساتھ وہ اپنے ننگیز کو چھپائے پس ننگیز کے کھلنے کے ساتھ نماز صحیح نہیں ہوتی جیسا کہ ناپاک کپڑے میں جائز نہیں ہوتی

5  

اور یہ کہ ہر نماز اپنے وقت میں ہو پس وقت داخل 
ہونے سے پہلے (نماز) جائز نہیں ہوتی

6

 اور یہ کہ وہ قبلہ رخ ہو

7 

اور یہ کہ وہ نماز میں ایسی نیت کے ساتھ داخل ہو کہ (نیت) اور تحریمہ میں فصل نہ کرے پس وہ اپنے دل میں یہ حاضر کرے کہ وہ کونسی نماز پڑھ رہا ہے اور مقتدی کو اس کےساتھ امام کی اقتداء کی نیت (بھی) لازم ہوتی ہے






سوال جس کو پاک کپڑا نہ ملے اور اس کے پاس ایسی چیز نہ ہو جس سے نجاست زائل کرے (تو) وہ کیسے کرے؟

جواب  وہ اس ناپاک کپڑے میں نماز پڑھے اور اسکی نماز اسی طرح صحیح ہے پس وہ (نماز) نہ لوٹائے



سوال  جس کو ا(تنا)کپڑا جس کے ساتھ اپنا ننگیز چھپائے (تو) وہ کیسے نماز پڑھے؟

جواب  اگر وہ کھڑے ہو کر رکوع اور سجدہ کے ساتھ نماز پڑھے (تو) اسکو یہ (عمل) کفایت کرے گا لیکن اس کیلیئے افضل یہ ہے کہ بیٹھ کر نماز پڑھے رکوع اور سجدہ اشارہ سے کرے اور ان دونوں سورتوں میں لوگوں کی نظروں سے چھپے



سوال : مرد کیلیئے اس کی ننگیز کی حد کتنی ہے جس کا چھپانا نماز کے جواز کیلیئے ضروری ہے؟

جواب : مرد کا ننگیز ناف کے نیچے سے گھٹنے تک ہے اور گھٹنا ننگیز ہے ناف ننگیز نہیں



سوال : عورت کا ننگیز کیا ہے؟

جواب : عورت جب آزاد ہو تو جواز نماز کیلیئے اس کا ننگیز اس کا تمام بدن ہے. اس کے چہرے, دونوں ہتھیلیوں اور دونوں قدموں کے سوا کوئی چیز اس سے مستثنیٰ نہیں. (اور یہ جواز نماز کیلیئے ہے اور ایسے شخص کے سامنے چہرہ کھولنا جائز نہیں جو اس عورت کا محرم نہیں) اور جو مرد کا ننگیز ہے پس وہ باندی کا ننگیز ہے اور اس میں(باندی)کے پیٹ اور اس کی پشت کا اضافہ کیا جاتا ہے اور اس کے سوا اسکا بدن ننگیز نہیں



سوال : جو (شخص) قبلہ رخ ہونے پر قادر نہ ہو اس وجہ سے کہ وہ درندے یا اس کے علاوہ (کسی)سے خوفزدہ ہو (تو) کیا کرے؟

جواب : جس جہت کی طرف وہ قادر ہو نماز پڑھے



سوال : اگر قبلہ نمازی پر مشتبہ ہو جائے اور وہاں کوئی نہ ہو جس سے وہ قبلہ کے بارے میں پوچھے تو اس کے قبلہ رخ ہونے کا حکم کیا ہے؟

جواب :  اجتہاد کرے اور قبلہ کی جہت میں غور و فکر کرے اور ایسی جہت کی طرف نماز پڑھے کہ اس کا غالب گمان یہ ہو کہ وہ (نماز) کی جہت ہے


  
سوال :  پس اگر اس نے اجتہاد کرتے ہوئے غور و فکر کرتے ہوئے نماز پڑھی اور نماز پڑھنے کے بعد اسے علم ہوا کہ اس نے قبلہ میں غلطی کی تو کیا وہ نماز لوٹائے؟

جواب : (نماز) لوٹانا اس کے ذمے نہیں 



سوال : اور اگر اسے علم ہو اس حال میں کہ وہ نماز میں ہو کہ وہ (قبلہ کے بارے میں)غلطی پر ہے (تو)کیا کرے؟

جواب : وہ نماز میں قبلہ کی طرف گھوم جائے اور (پڑھی ہوئی نماز) پر بنا کرے اور ازسر نو نماز پڑھنا اس کے ذمہ نہیں


فائدہ : جب نمازی مسجد حرام میں موجود ہو تو عین کعبہ کی طرف رخ کرنا ضروری ہے پس بہر حال جو (کعبہ) سے غائب ہو تو اس کا قبلہ جہت کعبہ ہے اگرچہ وہ مکہ(مکرمہ)میں ہو

69 comments / Replies


  1. دونوں حدثوں سے _____ جس وقت وہ نماز پڑھے نماز کے شروع سے آخر تک

    ReplyDelete

  2. اور یہ کہ وہ پاک کپڑا پہنے ہوئے ہو جس کے ساتھ وہ اپنے ____ کو چھپائے

    ReplyDelete

  3. اور یہ کہ وہ نماز میں ایسی نیت کے ساتھ داخل ہو کہ (نیت) اور ____ میں ___ نہ کرے

    ReplyDelete
  4. افضل یہ ہے کہ بیٹھ کر نماز پڑھے رکوع اور______اشارہ سے کرے

    ReplyDelete
  5. مرد کا _____ ناف کے نیچے سے گھٹنے تک ہے اور ____ ننگیز ہے ____ ننگیز نہیں

    ReplyDelete
  6. اس کے چہرے, دونوں ____ اور دونوں ______ کے سوا کوئی چیز اس سے ______نہیں

    ReplyDelete
  7. جس ____ کی طرف وہ قادر ہو نماز پڑھے

    ReplyDelete
  8. پس بہر حال جو (کعبہ) سے غائب ہو تو اس کا ___ جہت کعبہ ہے اگرچہ وہ مکہ(مکرمہ)میں ہو

    ReplyDelete

Powered by Blogger.