Nimazon ki Qaza

فوت شدہ ( نمازوں ) کی قضا کا بیان



سوال : جب نمازی سے نماز فوت ہو جائے تو اسے کب قضا کرے؟

جواب : اُسے قضا کرے جب وہ اُسے یاد آئے لیکن ان تین اوقات میں (فوت شدہ) نماز نہ پڑھے جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے۔



سوال : جس سے کئی نمازیں قضا ہو جائیں تو ان کو کیسے قضا کرے؟

جواب : قضا میں ان کی ترتیب قائم رکھے جس طرح وہ اصل میں واجب ہوئی اور یہ (ترتیب) اس کے لیے واجب ہے جو صاحب ترتیب ہو۔






سوال : صاحب ترتیب ہونے کا مطلب کیا ہے؟

جواب  جب چھ سے کم نمازیں اس سے فوت ہو جائیں تو وہ فقہاء کے عرف میں صاحب ترتیب ہے اور صاحب ترتیب پر وقتیہ (نماز) کی ادا  اور فوت شدہ (نمازوں)کی قضا میں ترتیب واجب ہے ، اور اس پر واجب ہے کہ قضا میں فوت شدہ (نمازوں) کی ترتیب قائم رکھے اور وقتیہ کو ان پر مقدم  نہ کرے پس اگر وہ برعکس کرے تو جو نماز وہ پڑھ چکا اس کو لوٹانا اس پر لازم ہے۔ اور ہم اس کے لیے مثال بیان کرتے ہیں۔

ایک شخص صاحب ترتیب جب وہ قضا میں نماز ظہر پڑھنے سے پہلے عصر کو مقدم کرے تو اس پر واجب ہے کہ نمازِ ظہر پڑھے اور نمازِ (عصر) کو لوٹائے یہ فوت شدہ (نمازوں) کے درمیان (ترتیب کی مثال) ہے بہر حال فوت شدہ اور وقتیہ (نمازوں) کے درمیان ترتیب 

پس اس کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص صاحب ترتیب کو ظہر کے وقت میں فوت شدہ (نماز) یاد تھی پس اس نے فوت شدہ (نماز) سے پہلے نمازِ ظہر پڑھ لی تو اس پر واجب ہے کہ پہلے فوت شدہ نماز پڑھے پھر (نماز) ظہر کو لوٹائے۔



سوال : کیا وتر اور فرض کے درمیان ترتیب واجب ہے؟

جواب  جی ہاں ! وہ واجب ہے پس اگر نماز عشاء سے پہلے نماز وتر پڑھ لی تو نماز عشاء پڑھنے کے بعد وتر کو لوٹانا واجب ہے اور اگر وتر (پڑھنے)  سے (پہلے) سو گیا یہاں تک کہ فجر طلوع ہو گئی تو اس پر واجب ہے کہ پہلے وتر قضا کرے پھر فجر ادا کرے پس اگر اس نے برعکس کیا تو نماز فجر کا لوٹانا اس کو لازم ہے۔



سوال : کیا بعض حالات میں ترتیب کا وجوب ساقط ہو جاتا ہے؟

جواب : جی ہاں ! اس کا وجوب تین اُمور میں سے کسی ایک سے ساقط ہو جاتا ہے۔

(1) 

وتر کے سوا فوت شدہ (نمازوں) کے چھ ہونے سے 

(2) 

فوت شدہ (نماز) بھول جانے سے

 (3)

 وقت کی تنگی سے



پس جب فوت شدہ (نمازیں) چھ ہو جائیں تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ ان میں سے جس نماز کو چاہے مقدم کرے اور اسی طرح فوت شدہ (نمازوں) کے یاد ہوتے ہوئے وقتیہ (نماز) کو ادا کرنا اس کے لیے جائز ہے اور اگر فوت شدہ (نماز) بھول گیا اور وقتیہ نماز اس کے وقت میں پڑھ لی پھر فوت شدہ (نماز) اسے یاد آ گئی تو وہ نماز اسکو کفایت کرے گی جو نماز وہ پڑھ چکا اور اس کا لوٹانا واجب نہیں۔ اور اگر وہ طلوع آفتاب سے کچھ پہلے بیدار ہوا اس حال میں کہ اسے یاد تھا کہ عشاء یا وتر کی نماز اس سے فوت ہو گئی ہے  تو تحقیق وہ نماز فجر پڑھے اور آفتاب بلند ہونے کے بعد عشاء اور وتر کی نماز پڑھےاور (نماز) فجر کا لوٹانا اس پر واجب نہیں کیونکہ ترتیب وقت کی تنگی کی وجہ سے ساقط ہو گئی۔

40 comments / Replies

  1. ان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوقات میں نماز نہ پڑھے جن واقعات میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا

    ReplyDelete
  2. اسے . ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کرے جب وہ اسے یاد آئے

    ReplyDelete
  3. نماز ظہر پڑھنے سے پہلے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کو مقدم کرے

    ReplyDelete
  4. جو نماز پڑھ چکا ہے اس کا لوٹانا ۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں ہے

    ReplyDelete
  5. قضاء میں ان کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قائم رکھے

    ReplyDelete
  6. جب فوت شدہ نمازیں۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوجائیں تو اس کیلئے جائز ہے کہ وہ جس نماز کو چاہے مقدم رکھے

    ReplyDelete

Powered by Blogger.