Qadyanion se taluq k bare me sawal o jawab

Unit 3
Lesson 13

قادیانیوں سے تعلق کے بارے میں سوال و جواب 


سوال اول

موضع داتہ ضلع مانسہرہ جو کہ ربوہ ثانی ہے  
میں ایک مرزائی مسمّی ڈاکٹر محمد سعید کے مرنے پر مسلمانان داتہ نے ایک مسلمان امام کے زیر امامت اس قادیانی کی نماز جنازہ ادا کی اور اسکے بعد قادیانیوں نے دوبارہ مسمّی مذکور کی نماز جنازہ پڑھی شرعاً امام مذکور اور مسلمانوں کے متعلق کیا حکم ہے؟؟


جواب 


جن مسلمانوں نے مرزائی مرتد کا جنازہ پڑھا ہے اگر وہ اس کے عقائد سے ناواقف تھے تو انہوں نے برا کیا اس پر ان کو استغفارکرنا چاہئے کیونکہ مرزائی مرتد کا جنازہ پڑھ کر انہوں نے ایک ناجائز عمل کا ارتکاب کیا ہے

اور اگر ان لوگوں کو معلوم تھا کہ یہ شخص مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتا ہے، اس کی وحی پر ایمان رکھتا ہے اورعیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے کا منکر ہے اس علم کے باوجود انہوں نے اس کو مسلمان سمجھا اور مسلمان سمجھ کر ہی اس کا جنازہ پڑھا تو ان تمام لوگوں کو جو جنازہ میں شریک تھے،اپنے ایمان اور نکاح کی تجدید کرنی چاہئے کیونکہ ایک مرتد کے عقائد کو اسلام سمجھنا کفر ہے اس لیے ان کا ایمان بھی جاتا رہا اور نکاح بھی باطل ہو گیا
 ان میں سے کسی نے اگرحج کیا تھا تو اس پر دوباره حج کرنا بھی لازم ہے
یہاں یہ ذکر کر دینا بھی ضروری ہے کہ قادیانیوں کے نزدیک کسی مسلمان کا جنازہ جائز نہیں یہاں تک کہ مسلمانوں کے معصوم بچے کا جنازہ بھی قادیانیوں کے نزدیک جائز نہیں، چنانچہ قادیانیوں کے خلیفہ دوم مرزامحمود اپنی کتاب انوار خلافت میں لکھتے ہیں




ایک اور سوال رہ جاتا ہے کہ غیر احمدی (یعنی مسلمان) تو حضرت مسیح موعود (غلام احمد قادیانی)کے مرتد ہوۓ اس لئے ان کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہئے لیکن اگر کسی غیر احمدی کا چھوٹا بچہ مر جاۓ تو اس کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جاۓ وہ تو مسیح موعود کا مکفر نہیں؟

میں یہ سوال کرنے والے سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ بات درست ہے تو پھر ہندوؤں اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا
 کتنے لوگ ہیں جو ان کا جنازہ پڑھتے ہیں
 اصل بات یہ ہے کہ جو ماں باپ کا مذہب ہوتا ہے شریعت وہی مذہب بچے کا قرار دیتی ہے
 پس غیراحمدی کا بچہ غیراحمدی ہوا اس لئے اس کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہیۓ پھر میں کہتا ہوں کہ بچہ گنہگار نہیں ہوتا اس کو جنازے کی ضرورت ہی کیا ہے
بچے کا جنازہ تو دعا ہوتی ہے اس کے پس ماندگان کے لئے اور اس کے پسماندگان ہمارے نہیں بلکہ غیر احمدی ہوتے ہیں   اس لیے جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہئے

 (انوار خلافت ۹۳)



اخبار افضل مورخہ ۱۲۳اکتوبر۱۹۳۲ء میں مرزا محمود کا ایک فتویٰ شائع ہوا کہ 

جس طرح عیسائی بچے کا جنازہ نہیں پڑھا جاسکتا ہے اگرچہ وہ معصوم ہی ہوتا ہے اسی طرح ایک غیراحمدی کے بچے کا بھی جنازہ نہیں پڑھا جاسکتا

چنانچہ اپنے مذہب کی پیروی کرتے ہوئے چوہدری ظفر اللّه خان نے قائد اعظم کا جنازہ نہیں پڑھا

اور منیر انکوائری عدالت میں جب اس کی وجہ دریافت کی گئی تو کہا

نماز جنازہ کے امام مولانا شبیراحمد عثمانیؒ  احمدیوں کو کافر مرتد اور واجب القتل  قرار دے چکے تھے اس لئے میں اس نماز میں شریک ہونے کا فیصلہ نہ کر سکا جن کی  امامت مولانا کررہے تھے

(رپورٹ تحقیقاتی عدالت پنجاب ص۲۱۲)



لیکن عدالت سے باہر جب ان سے یہ بات کی گئی کہ آپ نے قائداعظم کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا

 تو جواب دیا

آپ مجھے کافر حکومت کا مسلمان وزیر سمجھ لیں یا مسلمان حکومت کا کافر نوکر

(زمیندار، لاہور، ۸فروری ۱۹۵۰ء)

اور جب اخبارات میں چوہدری ظفر اللّه خان کی اس ہٹ دھرمی کا چرچا ہوا تو جماعت احمدیہ ربوہ کی طرف سے اس کا جواب دیا گیا

جناب چوہدری ظفر اللّه خان پر ایک اعتراض کیا جاتا ہے کہ آپ نے قائد اعظم کا جنازہ نہیں پڑھا تمام دنیا جانتی ہے کہ قائد اعظم احمدی نہ تھے لہذا جماعت احمدیہ کے کسی فرد کا ان کا جنازہ نہ پڑھنا کوئی قابل اعتراض بات نہیں

(ٹریکٹ ۲۲، احراری علماء کی راست گوئی کا نمونہ ”ناشر مہتمم نشرواشاعت انجمن احمدیہ ، ربوہ ضلع جھنگ)


قادیانیوں کے اخبار الفضل نے اس کا جواب دیتے ہوئے لکھا ہے

کیا حقیقت نہیں کہ ابوطالب بھی قائد اعظم کی طرح مسلمانوں کے بہت بڑے محسن تھے مگر مسلمانوں نے آپ کا جنازہ پڑھا  اور  نہ رسول خدا نے
(افضل ربوہ، ۲۸ اکتوبر ۱۹۵۴ء)

کس قدر لائق شرم بات ہے کہ قادیانی تو مسلمانوں کو ہندوؤں، سکھوں اور عیسائیوں کی طرح کافر سمجھتے ہوئے نہ ان کے بڑے سے بڑے آدمی کا جنازہ پڑھیں اور نہ ان کے معصوم بچوں کا 


کیا ایک مسلمان کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ قادیانی مرتد کا جنازہ پڑھے
 کیا اس کی غیرت اس کو برداشت کرسکتی ہے


سوال دوم 


مسلمان لڑکیاں قادیانیوں کے گھروں میں بیوی کے طور پر رہ رہی ہیں
اور مسلمان والدین کے ان قادیانیوں کے ساتھ داماد اور سسرال جیسے تعلقات ہیں کیا شریعت محمد ﷺ کی رو سے ان کے ہاں پیدا ہونے والی اولاد حلالی ہوگی یا والد الحرام کہلائے گی؟

جواب 

جب یہ معلوم ہوا کہ قادیانی کافر و مرتد ہیں تو اس سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ کسی مسلمان لڑکی کا نکاح  مرزاٸی مرتد سے نہیں ہو سکتا بلکہ شرع اسلام کی رو سے یہ خالص زنا ہے اگر کسی مسلمان  نے لاعلمی اور بے خبری کی وجہ سے کسی مرزاٸی کو لڑکی بیاہ دی ہے تو اسکا فرض ہے کہ علم ہو جانے کے بعد اپنے گناہ سے توبہ کرے اور لڑکی کو قادیانیوں کے چنگل سے واگزارا کراٸے

واضح رہے کہ مرزائیوں کے نزدیک مسلمانوں کی وہی حیثیت ہے جو ہمارے نزدیک یہودیوں اور عیسائیوں کی ہے مرزائیوں کے نزدیک مسلمانوں سے لڑکیاں لینا تو جائز ہے لیکن مسلمانوں کو دینا جائز نہیں ۔


قادیانیوں کے دوسرے خلیفہ مرزا محمود کا فتویٰ ہے 

جو اپنی لڑکی کا رشته غیر احمدی لڑکے کو دیتا ہے میرے نزدیک وہ احمدی نہیں
کوئی شخص کسی کوغیر مسلم سمجھتے ہوۓ اپنی لڑکی اس کے نکاح میں نہیں دے سکتا


 جو نکاح خواں ایسا نکاح پڑھاۓ اس کے متعلق کیا حکم ہے


ایسے نکاح خواں کے متعلق ہم وہی فتویٰ دیں گے جو اس شخص کی نسبت دیا جاسکتا ہے جس نے ایک مسلمان لڑکی کا نکاح ایک عیسائی یا ہندو لڑکے سے پڑھ دیا


 کیا ایسا شخص جس نے غیراحمدیوں سے اپنی لڑکی کا رشتہ کیا ہے وہ دوسرے احمدیوں کو شادی میں مدعو کرسکتا ہے


جواب

 اسکی شادی میں شریک ہونا بھی جائز نہیں

 (اخبار افضل قادیان ۲۳۰ مئی ۱۹۳۱ء)



پس جس طرح مرزامحمود کے نزدیک وہ مرزائی جماعت سے خارج ہے جوکسی مسلمان لڑکے کو اپنی لڑکی بیاہ دے اسی طرح وہ مسلمان بھی دائرہ اسلام سے خارج ہے جو قادیانیوں کے عقائد سے واقف ہونے کے بعد کسی مرتد مرزائی کو اپنی لڑکی دینا جائز سمجھے اور جس طرح مرزا محمود  کے نزدیک کسی مرزائی لڑکی کا نکاح کسی مسلمان لڑکے سے پڑھانا ایسا ہے جیسا کہ کسی ہندو یا عیسائی سے
 اسی طرح ہم کہتے ہیں کہ کسی مرزائی مرتد کو داماد بنانا ایسا ہے جیسے کسی ہندو   سکھ  چوہڑے کو داماد بنالیا جائے


سوال سوم 


عام مسلمانوں کے قادیانیوں کے ساتھ کافروں جیسے تعلقات نہیں بلکہ مسلمانوں جیسے تعلقات ہیں ان کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے    کھاتے پیتے اور انکی شادیوں اور ماتم میں شرکت کرتے ہیں اور جب ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو السلام عليكم کہہ کر ملتے ہیں شادی ماتم میں کھانے دیتے ہیں فاتحہ میں شرکت کرتے ہیں کیا شریعت محمدﷺ کی رو سے وہ قابل مواخذہ ہیں یا کہ نہیں اور شرع کی رو سے وہ مسلمان بھی ہیں یا کہ نہیں؟


جواب 


کسی مسلمان کے لیے مرزاٸی مرتدین کےساتھ مسلمانوں کا سا سلوک کرنا حرام ہے 
اس کے ساتھ اٹھنا، بیٹھنا، کھانا پینا انکی شادی غمی میں شرکت کرنا یا ان کو اپنی شادی غمی میں شریک کرنا حرام ہے اور قطعی حرام ہے جو لوگ اس معاملے میں رواداری سے کام لیتے ہیں وہ اللّٰہ اور رسولﷺ کے غضب کو دعوت دیتے ہیں ان کو اس سے توبہ کرنی چاہيے اور مرزاٸیوں سے اس قسم  کے تمام تعلقات ختم کر دینے چاہيے 
قادیانی اللّٰہ اور رسولﷺ کے دشمن ہیں اور اللّٰہ اور رسولﷺ کے دشمنوں سے دوستانہ تعلق رکھنا کسی مومن کا کام نہیں ہو سکتا 



قرآنِ مجید میں ہے

المجادلة - آیت نمبر 22



لَا تَجِدُ قَوۡمًا يُّؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ يُوَآدُّوۡنَ مَنۡ حَآدَّ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَلَوۡ كَانُوۡۤا اٰبَآءَهُمۡ اَوۡ اَبۡنَآءَهُمۡ اَوۡ اِخۡوَانَهُمۡ اَوۡ عَشِيۡرَتَهُمۡ‌ؕ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِىۡ قُلُوۡبِهِمُ الۡاِيۡمَانَ وَاَيَّدَهُمۡ بِرُوۡحٍ مِّنۡهُ‌ ؕ وَيُدۡخِلُهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا‌ ؕ رَضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ‌ ؕ اُولٰٓئِكَ حِزۡبُ اللّٰهِ‌ ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزۡبَ اللّٰهِ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ 

ترجمہ

تم کبھی یہ نہ پاؤ گے کہ جو لوگ اللّه اور آخرت پر ایمان رکھنے والے ہیں وہ اُن لوگوں سے محبت کرتے ہوں جنہوں نے اللّه اور اس کے رسول کی مخالفت کی ہے
خواہ وہ اُن کے باپ ہوں، یا اُن کے بیٹے، یا اُن کے بھائی یا اُن کے اہل خاندان یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللّه نے ایمان ثبت کر دیا ہے اور اپنی طرف سے ایک روح عطا کر کے ان کو قوت بخشی ہے وہ ان کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے اللّه ان سے راضی ہوا اور وہ اللّه سے راضی ہوئے وہ اللّه کی پارٹی کے لوگ ہیں خبردار رہو، االلّه کی پارٹی والے ہی فلاح پانے والے ہیں  


اخیر میں یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ پاکستان کے آٸین میں قادیانیوں کو  غیر مسلم اقلیت  قرار دیا گیا  لیکن قادیانیوں نے اس فیصلہ کو تسلیم کرکے پاکستان کے غیر مسلم شہری (ذمّی)  کی حیثیت  سے رہنے کا معاہدہ نہیں کیا
 اس لیے ان کی حیثیت ذمّیوں کی نہیں بلکہ   محارب کافروں  کی ہے اور محاربین سے کسی قسم کا تعلق رکھنا شرعاً جائز نہیں


  واللّه اعلم





24 comments / Replies

  1. اللہ ان سے ۔۔۔۔۔ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے

    ReplyDelete
  2. اللہ کی پارٹی والے ہی ۔۔۔۔۔۔۔پانے والے ہیں

    ReplyDelete
  3. جن کے نیچے ۔۔۔۔۔۔بہتی ہوں گی

    ReplyDelete
  4. اس لیے ان کی حیثیت ۔۔۔۔۔۔کی نہیں محارب کافروں کی ہے

    ReplyDelete

Powered by Blogger.