Qiraat ka bayan

قرأت کا بیان 



سوال : امام، مقتدی اور منفرد کے لیے قراءت کے احکام بیان کیجئے؟


جواب : درج ذیل مسائل یاد کیجئے۔

1
 مطلق قراءت تمام نمازوں میں فرض ہے


2
 سورۃ الفاتحہ کی قرأت واجب ہے


3
اور اسی طرح (سورۃ الفاتحہ) کے بعد سورت کا تین
آیات کی مقدار واجب ہے اور مطلق قراءت ان دونوں واجبوں میں سے کسی ایک سے ادا ہو جاتی ہے۔

4
 اور اس (حکم) سے فرض نماز کی تیسری اور چوتھی رکعت کو مستثنیٰ کیا جاتا ہے کیونکہ ان میں فاتحہ کی قراءت سنت ہے فرض اور واجب نہیں۔

5
فرض کی پہلی دو رکعتوں میں قراءت کو متعین کرنا واجب ہے

6
 فاتحہ کو اس کے بعد کی قراءت پر مقدم کرنا واجب ہے

7
 نمازی فرائض میں پہلی دو رکعتوں کے بعد کی رکعت میں بااختیار ہے اگر چاہے فاتحہ پڑھے اور یہ افضل ہے اور اگر چاہے سُبْحَانَ اللّہِ کہے اور اگر فرائض میں پہلی دو رکعتوں کے بعد کی رکعت میں فاتحہ پر قراءت کا اضافہ کرے تو اس پر سجدۂ سہو واجب نہیں ہوتا

8
 مقتدی امام کے پیچھے قراءت نہ کرے نہ جہری نماز میں اور نہ سری (نماز )میں۔

9
 فجر، جمعہ, عیدین کی دونوں رکعتوں اور دونوں عشاء یعنی مغرب اور عشاء کی پہلی دو رکعتوں میں بلند آواز سے قراءت کرنا امام پر واجب ہے۔

10
 امام اور منفرد ظہر و  عصر کی تمام رکعتوں میں مغرب کی تیسری رکعت اور عشاء کی آخری دو رکعتوں میں پوشیدہ آواز سے قراءت کریں۔

11
 منفرد اس نماز میں پوشیدہ آواز سے قراءت کرنے اور بلند آواز سے قراءت کرنے کے درمیان بااختیار ہے جس نماز میں امام بلند آواز سے قراءت کرتا ہے یعنی منفرد کے لیے دونوں طرح قراءت کرنا جائز ہے

12
 امام اور منفرد کے لیے مسنون ہے کہ فجر و ظہر کی نماز میں طوال مفصل، عصر و عشاء میں اوساط مفصل اور مغرب میں قصار مفصل کی قراءت کریں اور یہ حکم مقیم کے لیے ہے پس بہرحال مسافر تو وہ اتنی قراءت کرے جو اسے مناسب معلوم ہو





سوال : کیا امام یا منفرد بَسْمَلَهُ اور تَعْوُّذْ بلند آواز سے پڑھے جب بلند آواز سے قراءت کرے؟

جواب : ان کو بلند آواز سے نہ پڑھے بلکہ پوشیدہ پڑھے



سوال : کیا امام اور مقتدی سورۃ الفاتحہ ختم ہونے کے وقت آمین بلند آواز سے کہیں؟

جواب : آمین بلند آواز سے نہ کہیں



سوال : کیا عورت جہری نماز میں بلند آواز سے قراءت کرے جب تنہا نماز پڑھے؟

جواب : بلند آواز سے قراءت نہ کرے بلکہ پوشیدہ آواز سے قرات کرے



سوال : کیا بعض نمازوں میں کسی سورت کی قراءت متعین ہے؟

جواب : کسی نماز میں کسی معین سورت کی قراءت اس حیثیت سے متعین نہیں کہ اس سورت کے علاوہ جائز نہ ہو بلکہ تمام نمازوں میں یا بعض نمازوں میں کسی معین سورت کی قراءت کو اس حیثیت سے اختیار کرنا مکروہ ہے کہ نماز میں اس سورت کے علاوہ سورت نہ پڑھے



سوال : اگر بعض نمازوں میں بعض سورتوں کی قراءت وُجوبًا متعین نہیں تو کیا سنت میں بعض نمازوں میں بعض سورتوں کی قراءت اس حیثیت سے وارد ہوئی ہے کہ اگر  نمازی ان سورتوں کو اختیار کرے تو اس کی وجہ سے ثواب و اجر دیا جائے؟

جواب : جی ہاں ! بعض نمازوں میں بعض سورتوں کی قراءت وارد ہوئی ہے ان سورتوں کو ان نمازوں میں اختیار کرنا اجر و فضل کو ثابت کرتا ہے اور ہم ذیل میں ان میں سے بعض کا ذکر کرتے


1

جمعہ کے دن نماز فجر میں پہلی رکعت میں
 الٓم 
 تَنْزِیْلُ 
(سورۃ السجدہ) 

اور اس کی دوسری رکعت میں
 ھَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَانِ 
(سورۃ الدھر) 
کی قراءت مسنون ہے


2

 نماز جمعہ کی پہلی رکعت میں سورۃ الجمعۃ کی قراءت اور اس کی دوسری رکعت میں 
اِذَا جَآءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ 
(سورۃ المنافقون) 
کی قراءت مسنون ہے


3
نماز جمعہ کی پہلی رکعت میں سورۃ سَبِحِ اسْمَ رَبِكَ الْاَعْلَی اور اس کی دوسری رکعت میں 
ھَلْ اَتٰكَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَۃِ 
کی قراءت مسنون ہے۔


4
 اور عیدین میں بھی ان ہی دو سورتوں 
(یعنی سورۃ الاعلیٰ اور سورۃ الغاشیۃ)
 کی قرات مسنون ہے۔

71 comments / Replies

  1. ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔قرأت تمام۔ نمازوں میں فرض ہے۔

    ReplyDelete
  2. سورۃ الفاتحہ کی قرأت۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہے

    ReplyDelete
  3. فرض نماز کی تیسری اور چوتھی رکعت میں سورۃ الفاتحہ کی قرأت۔۔۔۔۔۔۔۔ ہے

    ReplyDelete
  4. الفاتحہ کو اس کے بعد کی قرأت پر۔۔۔۔۔۔۔۔کرنا واجب ہے

    ReplyDelete
  5. مقتدی امام کے پیچھے قرأت ۔۔۔۔۔۔۔کرے

    ReplyDelete
  6. ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو وہ اتنی قراءت کرے جو اسے مناسب معلوم ہو

    ReplyDelete
  7. عورت جہری نماز میں بلند آواز سے قراءت نہ کرے بلکہ ۔۔۔۔۔۔۔ آواز سے قرات کرے

    ReplyDelete
  8. نمازوں میں یا بعض نمازوں میں کسی معین سورت کی قراءت کو اس حیثیت سے اختیار کرنا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہے کہ نماز میں اس سورت کے علاوہ سورت نہ پڑھے

    ReplyDelete
  9. بعض نمازوں میں بعض۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کی قراءت وارد ہوئی ہے ان سورتوں کو ان نمازوں میں اختیار کرنا اجر کاباعث ہے

    ReplyDelete

Powered by Blogger.