Saman ki Zakat
سامان کی زکاۃ کا بیان
سوال: تجارت کے سامان میں زکاۃ کا حکم کیا ہے ؟
جواب: زکاۃ تجارت کے سامان میں واجب ہے جب کہ اس کی قیمت چاندی یا سونے کے نصاب کو پہنچ جائے۔اس کے ساتھ( سامان) کی قیمت لگاۓ جو ان دونوں میں سے کسی ایک کے نصاب کو پہنچ جائے اور وہ فقیروں و مسکینوں کے لیے زیادہ نفع مند ہو یہ حضرت ابو حنیفہؒ کے نزدیک ہے اور حضرت ابو یوسف فرماتے ہیں کہ اس کے ساتھ قیمت لگاۓ جس کے ساتھ اسے خریدا ہے پس اگر اسے چاندی کے ساتھ خریدا ہے تو ( چاندی) کے ساتھ اس کی قیمت لگاۓ اور اگر اسے سونے کے ساتھ خریدا ہے تو سونے کے ساتھ اسکی قیمت لگاۓ۔پس اگر سونے اور چاندی کے علاوہ کے ساتھ خریدا ہے تو شہر میں غالب نقد کے ساتھ قیمت لگاۓ۔اور حضرت محمدؒ فرماتے ہیں کہ ہر حال میں شہر میں غالب نقد کے ساتھ قیمت لگاۓ ۔
سونے چاندی اور تجارت کے سامان کی زکاۃ کیسے ادا کرے؟
سوال: اپنے مال کی زکاۃ کیسے ادا کرے؟
جواب: اللّٰه تعالیٰ نے اس کے مال میں زکاۃ کی جو مقدار فرض فرمائ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور وہ چالیسواں حصہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اس ( شخص) کو دے جس کو ( زکاۃ) دینا جائز ہے ایسی نیت کے ساتھ جو ادا کے وقت ملی ہوئ ہو یا ایسی نیت کے ساتھ جو فرض مقدار علیحدہ کرنے کے وقت ملی ہوئ ہو۔
سوال: فرض مقدار علیحدہ کرنے کے وقت ( نیت کے) ملنے کا مطلب کیا ہے؟
جواب: جب وہ سال کے آخر میں اپنے مال کا حساب کرے تو فرض مقدار جدا کرے اور نیت کرے کہ جب بھی زکاۃ کا مستحق ملے گا وہ اسے دے دے گا۔تو یہ نیت ادا میں بھی معتبر ہے۔پس جب بھی کوئ فقیر یا مسکین آیا اور اس نے اسے جدا کۓ ہوۓ مال میں سے دے دیا تو اس کے ساتھ زکاۃ ادا ہو جاۓ گی اگرچہ مستحق کو دینے کے وقت نیت مستحضر نہ ہو۔
سوال: ایک صاحب نصاب شخص نے دوران سال مال حاصل کیا تو کیا اس کی زکاۃ دے؟
جواب: جب دوران سال مال حاصل کرے تو اسے اس مال کی جنس کے ساتھ ملا دے اور اس کی اس( مال) کے ساتھ زکاۃ ادا کرے
سوال: کیاسال مکمل ہونے سے پہلے زکاۃ دینا جائز ہے؟
جواب: اگر صاحب نصاب سال گزرنے سے پہلے زکاۃ ادا کرے تو یہ جائز ہے اور اس کی زکاۃ ادا ہو گئ۔
سوال: نصاب کے مالک شخص نے سال کے آخر میں اپنے مال کی زکاۃ ادا کی لیکن آئندہ سال کے دوران اس کا مال کم ہو گیا تو کیا اس پر زکاۃ واجب ہوتی ہے؟
جواب: جب نصاب سال گزرنے سے پہلے مکمل ہو جائے تو اس پر زکاۃ واجب ہوگی اور نصاب جب سال کی دونوں جانبوں میں کامل ہو تو اس کے درمیان اس کی کمی زکاۃ کو ساقط نہیں کرتی ۔
سوال: ایک شخص سامان کا مالک ہے اس میں تجارت کرتا ہے اور وہ ( سامان) نصاب کو نہیں پہنچتا۔اور اس کے پاس اس کے ساتھ سونا یا چاندی ہے تو کیا اس پر زکاۃ واجب ہوگی؟
جواب: سامان کی قیمت کو سونے یا چاندی یا دونوں کے ساتھ ملایا جاۓ پس جب مجموعہ نصاب کو پہنچ جاۓ تو اس میں زکاۃ واجب ہوگی۔
سوال:ایک شخص کے پاس بیس مثقال سے کم سونا اور دو سو درہم سے کم چاندی ہے تو کیا اس پر زکاۃ ہے؟
جواب:جی ہاں! سونے کو چاندی کے ساتھ قیمت ( کے اعتبار) سے ملایا جاۓ یہاں تک کہ نصاب مکمل ہو جاۓ اور یہ حضرت ابو حنیفہؒ کے نزدیک ہے اور آپکے صاحبینؒ فرماتے ہیں کہ ان میں سے ایک کو دوسرے کے ساتھ قیمت ( کے اعتبار) سے نہ ملایا جاۓ بلکہ اجزاء ( کے اعتبار ) سے ملایا جاۓ۔
سوال: ایسی مثال بیان کیجئے جس سے ثمرۂ اختلاف ظاہر ہو جاۓ؟
جواب: ایک شخص کے پاس سو درہم چاندی اور پانچ مثقال سونا ہے جس کی قیمت سو درہم ہے تو
( حضرت ابو حنیفہؒ)
کے نزدیک اس پر زکاۃ واجب ہوگی( صاحبینؒ) کے نزدیک نہیں کیونکہ ( حضرت ابو حنیفہؒ) کے نزدیک نصاب قیمت کی حیثیت سے تحقیق مکمل ہو گیا اور( صاحبینؒ) کے نزدیک اجزاء کی حیثیت سے مکمل نہیں ہوا ۔اور اگر ایک شخص کے پاس سو درہم اور دس مثقال ہیں جن کی قیمت سو درہم ہے تو بالاجماع اس پر زکاۃ واجب ہوگی کیونکہ نصاب دونوں جہتوں سے مکمل ہو گیا ہے ۔
_________________

No comments: