Sharait e Nabuwat : 1-2

Unit 3 
Lesson 15


شرط اول

  عقل کامل


نبی کے لیے یہ ضروری ہے کہ کامل العقل بلکہ اکمل العقل ہو  
نبی کے لیے عقل کامل کی ضرورت اس لیے ہے کہ نبی وحی الٰہی کے سمجھنے میں غلطی نہ کرے نیز جب تک عقل کامل نہ ہو، اس پر اطمینان نہیں ہو سکتا۔نبوت غبادت کے ساتھ کبھی جمع نہیں ہو سکتی ۔غبی کا نبی ہونا عقلاً محال ہے


ایک عاقل اور دانا کو غبی اور ناقص العقل پر ایمان لانے کا حکم دینا سراسر خلاف عقل ہے
 غبی اور ناقص العقل تو اپنا بھی ہادی اور راہنما نہیں ہو سکتا
 چہ جائیکہ وہ عقلاء اور ازکیاء کی ہدایت کے لیے مبعوث ہو بچے اور عورتیں چونکہ ناقص العقل ہوتے ہیں
اس لیے وہ بغیر ولی اور سرپرست کے اپنے مال میں بھی تصرف کرنے کے مجاز نہیں حتیٰ کہ ناقص العقل کو بغیر ولی کے نکاح کرنے کی بھی اجازت نہیں اور عقلاً بھی یہ محال ہے کہ کسی غبی اور ناقص العقل شخص کو فقط غبی اور ناقص العقل لوگوں کی طرف نبی بنا کر بھیجا جائے  
اس لیے کہ نبی اور امت جب دونوں ہی ناقص العقل ہوں گے تو پھر وہ دین عجیب حماقتوں کا مجموعہ ہو گا  اور ایسے احمقانہ دین سے کسی صلاح و فلاح کی توقع تو درکنار،خرابی ہی میں اضافہ ہوگا


بلکہ


نبی کے لیے فقط کامل العقل ہونا کافی نہیں بلکہ اکمل العقل ہونا ضروری ہے
 یعنی عقل اور فہم میں اس درجہ بلند ہو کہ اس زمانہ میں کوئی اس کی نظیر نہ ہو  اس لیے کہ یہ ناممکن ہے کہ کسی امتی کی عقل اس کے نبی کی عقل سے بڑھ کر ہو  
نبوت کی سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ نبی اپنی تمام امت میں عقل اور دانائی میں بالا اور برتر ہو
کسی بڑے سے بڑے عاقل کی عقل اس کے ہم پلہ اور پاسنگ نہ ہو



دوسری شرط 

 حفظ کامل  


نبوت کی دوسری شرط یہ ہے کہ اس کا حافظہ فقط صحیح اور درست ہی نہ ہو، بلکہ کامل الحفظ اور بلکہ اکمل الحفظ ہو۔ معاذ اللّه اگر نبی کا حافظہ خراب ہو، تو اس کو اللّه کی وحی بھی پوری یاد نہ رہے گی بسا اوقات ایک لفظ کی کمی سے بھی حکم میں زمین و آسمان کا فرق ہو جاتا ہے اور جب نبی کا حافظہ خراب ہونے کی وجہ سے بندوں تک اللّه کی وحی اور اس کا حکم پورا پورا نہ پہنچے گا تو وہ بجائے ہدایت کے گمراہی کا سبب ہوگا


حدیث شریف میں ہے کہ جب ابتداء بعثت میں جبرائیل امین علیہ السلام آنحضرت صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کے پاس وحی لے کر نازل ہوتے تو حضور صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ ساتھ پڑھتے
مبادا کوئی لفظ قرآن کا بھول جاؤں اس پر اللّه تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی


 لاتحرك به لسانك لتجعل به
 ان علينا جمعه و قرانه 
فاذا قراناه فاتبع قرانه 
ثم ان علينا بيانه
 (سورة القيامة)


ترجمہ

 نہ چلا تو اس کے پڑھنے پر اپنی زبان شتاب  اس کو سیکھ لے وہ تو ہمارا ذمہ  ہے اس کو سمیٹ رکھنا اور پڑھنا پھر جب ہم پڑھنے لگیں تو ساتھ رہ اس کے پڑھنے کے

اور دوسری جگہ ارشاد ہے۔

سنقرئك فلاتنسى الاماشاء اللّه

 ( سورة اعلىٰ )

ترجمہ

 ہم پڑھا دیں گے تجھ کو پھر تو نہ بھولے گا مگر جو چاہے اللّه  



اب ہم خود مرزا کے اقرار سے یہ بتانا چاہتے ہیں کہ مرزا کی نہ عقل درست تھی اور نہ حافظہ


🔹

 اقرار مراق 


مرزا نے اپنی تحریرات اور اعلانات میں اپنے مراق اور مالیخولیا اور خرابی حافظہ کا صاف اقرار کیا ہے
 چنانچہ مرزا فرماتے ہیں 

 دیکھو میری بیماری کی نسبت بھی آنحضرت صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم نے پیش گوئی کی تھی جو اسی طرح وقوع میں آئی
آپ صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ مسیح آسمان پر سے جب اترے گا  تو دو زرد چادریں اس نے پہنی ہوئی ہوں گی
 تو اسی طرح مجھ کو دو بیماریاں ہیں  ایک اوپر کے دھڑ کی اور ایک نیچے کے دھڑ کی
 یعنی مراق اور کثرت بول
(از مرزا غلام احمد قادیانی صاحب مندرجہ رسالہ تشہیذ الاذہان قادیان ماہ جون 1906ء )

 ( ملفوظات ج 8ص 445)


مراق کا مرض حضرت مرزا میں موروثی نہ تھا  بلکہ یہ خارجی اثرات کے ماتحت پیدا ہوا اور اس کا باعث سخت دماغی محنت، تفکرات، غم اور سئو ہضم تھا

 (از رسالہ ریویو قادیان ص 10 بابت ماہ اگست 1926ء)


🔹

خرابی حافظہ کا اقرار 


 مکرمی اخویم سلمہٰ، میرا حافظہ بہت خراب ہے اگر کئی دفعہ کسی کی ملاقات کی ہو تب


خاکسار غلام احمد از صدر انبالہ احاطہ ناگ پھنی

( مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر 3ص 21 مجموعہ مکتوبات مرزا غلام احمد)



مرزائے قادیان میں عقل اور حافظہ دونوں کا فقدان  


مرزا صاحب میں نبوت کی یہ دونوں شرطیں مفقود تھیں۔مرزا کو اپنے مراق (مالیخولیا) اور خرابی حافظہ کا خود اقرار اور اعتراف ہے
 مرزا حافظ قرآن نہ تھے مسلمانوں کے بچوں کے برابر بھی حافظہ نہ تھا حالانکہ مرزا کا  دعویٰ یہ تھا کہ میری بعثت ( معاذ اللّه ) رسول صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کی بعثت ثانیہ بلکہ اس سے بھی اکمل ہے

(خطبہ الہامیہ ص 272 ،271 روحانی خزائن ص272،271 ج 16)



 پس رسول صلی 
 اللّه علیہ وآلہ وسلم کو بعثت ثانیہ میں قرآن یاد نہ رہا تھا، نیز مرزا صاحب کے اختلافات اور متعارض اور متناقض اقوال مرزا کی خرابی حافظہ کی دلیل ہیں۔ مرزا کو یاد نہیں رہتا کہ پہلے کیا لکھ چکا ہوں اور ناسخ و منسوخ کی تاویل مرزا کی من گھڑت ہے۔ احکام میں تو کچھ چل نہیں سکتی ہے لیکن واقعات  اور خبروں میں نسخ جاری نہیں ہوتا۔ لہذا واقعات کے بیان میں مرزا صاحب کی جو متعارض عبارتیں ہوں گی، ان میں سوائے خرابی حافظہ یا چالاکی کے اور کوئی تاویل نہیں ہو سکتی۔ چالاکی سے مراد یہ ہے کہ مرزا ہر مسئلہ میں دو دو اور تین تین اور چار چار مختلف اقوال ان کی کتابوں میں ملتے ہیں کچھ مسلمانوں کے عقائد کے مطابق ہیں اور بہت کچھ اسلامی عقائد کے خلاف ہیں تاکہ جیسا موقع ہو ویسی  ہی عبارت مرزا کی کتاب سے پیش کر دی جائے۔ جب مرزا کا اسلام ثابت کرنا ہو تو مرزا کی وہ عبارتیں دکھلا دی جائیں جو مسلمانوں کے اجتماعی عقائد کے مطابق دعویٰ نبوت سے پہلے لکھی ہیں اور جب اپنی مرزانیت اور نیا دین پیش کرنا ہو تو دعویٰ نبوت کے بعد کی عبارتیں دکھلا دی جائیں۔ غرض یہ کہ مرزا کے تھیلے میں سب کچھ ہے۔ختم نبوت بھی اور دعویٰ نبوت بھی حیات مسیح بھی ہے اور وفات مسیح بھی۔ نزول مسیح بھی ہے اور نزول مسیح کا انکار بھی۔ مرزا صاحب کے اختلافات اور متعارض اقوال پر علماء نے مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ جن کے دیکھنے سے یہ معلوم ہوتا ہے، کہ دنیا کے کسی شخص کے اقوال میں اتنا اختلاف نہیں  جتنا کہ مرزا کے اقوال میں  ہے



 مرزا کو یہود اور نصاریٰ اور مجوس اور ہندوؤں کی بھی کتابیں یاد ہونی چاہیں 
مرزا کا دعویٰ ہے کہ میں تمام انبیاء اور کافروں اور ہندوؤں کے اوتاروں کا بروز ہوں



(حقیقت الوحی حاشیہ ص 73 روحانی خزائن ص 76ج 22) 
( لیکچر سیالکوٹ میں34 روحانی خزائن ص 228 ج 20)

 اس لیے مرزا کو توریت اور انجیل اور  زبور کے علاوہ چاروں وید وغیرہ بھی یاد ہونے چاہیں حالانکہ مرزا کو توریت اور انجیل اور زبور اور وید کا ایک ورق بھی یاد نہ تھا
مرزا کا یہ دعویٰ ہے کہ قرآن کریم کہ تیس آیتوں سے صراحتاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات اور ممات ثابت ہے
 (ازالہ اوہام ص 598 روحانی خزائن ص 423ج 3) 




لیکن سوال یہ ہے کہ 

مرزا دعوئے نبوت سے پہلے اگرچہ نبی نہیں بنے تھے لیکن مجدد اور محدث اور ملہم من اللّه ہونے کا دعویٰ تو کر چکے تھے اور اپنی الہامی کتاب براہین احمدیہ میں حضرت مسیح ابن مریم علیہ السلام کی حیات اور دوبارہ دنیا میں تشریف لانے کا اعلان فرما رہے تھے

 ( براہین احمدیہ چہار حصص ص 499 روحانی خزائن ص 593 ج ا) 



کیا اس وقت یہ تیس آیتیں مرزا کی نظر سے مخفی ہوگئی تھیں؟ 
ظاہر یہ ہے کہ مرزا مجدد بنیں یا نبی

 قرآن کی تلاوت ضرور فرماتے ہوں گے اور صلوتہ الاوابین کی بیس رکعتوں اور تہجد کی آٹھ رکعتوں میں قرآن کریم کے کئی کئی پارے ضرور پڑھتے ہوں گے

جن میں وفات مسیح کی آیتیں بھی گزرتی ہوں گی تو پھر کیا وجہ ہے کہ باوجود مجدد اور ملہم من اللّه ہونے کے ان تیس آیتوں سے حضرت مسیح کی وفات کو نہیں سمجھتے، بلکہ اس کے برعکس اپنی الہامی کتاب میں حیات مسیح اور نزول مسیح کی اشاعت کر رہے ہیں۔

کم عقلی کی یہ انتہا ہے کہ جو مسئلہ قرآن کریم کی تیس آیتوں میں صراحتہً مزکور ہو ، وہ باوجود مجدد  اور ملہم من اللّه ہونے کے بھی نہ سمجھ میں آوے اور اگر غباوت نہیں تو صراحتہً مکر ہے۔ اور جس طرح غبی اور بدعقل نبی نہیں ہو سکتا، اسی طرح صاحب مکر شخص نیک بھی نہیں ہو سکتا  
 چہ جائیکہ نبی ہو جائے







37 comments / Replies

  1. نبی کے لیے یہ ضروری ہے کہ کامل العقل بلکہ........... ہو

    ReplyDelete
  2. مرزا کا یہ دعویٰ ہے کہ قرآن کریم کہ تیس آیتوں سے صراحتاً ............کی وفات اور ممات ثابت ہے

    ReplyDelete

  3. مرزا کا دعویٰ ہے کہ میں تمام انبیاء اور کافروں اور ہندوؤں کے اوتاروں کا....... ہوں

    ReplyDelete
  4. غبی کا نبی ہونا -------محال ہے

    ReplyDelete
  5. ------- کا مرض مرزا میں موروثی نہ تھا

    ReplyDelete
  6. دنیا کے کسی شخص کے قول میں اتنا ------نھیں جتنا مرزا کے اقوال میں ہے

    ReplyDelete

Powered by Blogger.