Sharait e Nabuwat : 3-4
Unit 3
Lesson 16
نبوت کی تیسری شرط
علم کامل
نبوت کی تیسری شرط یہ ہے کہ نبی کا علم ایسا کامل اور مکمل ہو کہ امت کے حیطہ ادراک سے بالا اور برتر ہو۔
مرزا صاحب کا دعویٰ تو یہ ہے کہ میں تمام اولین اور آخرین سے علوم میں بڑھا ہوا ہوں۔
(حقیقت الوحی ٧١٥ص ٩٢ تذکرہ ص١٩٢ طبع ٢)
لیکن یہ دعویٰ ایسا بدیہی البطلان ہے کہ جسکو سوائے نادان کے کوئی قبول نہیں کر سکتا مرزا صاحب کی تصانیف کا علماء کی تصانیف سے موازنہ کر لیا جائے۔نثر کا نثر سے اور نظم کا نظم سے اردو کا اردو سے فارسی کا فارسی سے اور عربی کا عربی سے اور انگریزی الہام کا انگریزی ادیبوں کے کلام سے موازنہ کر لیا جائے۔ابھی مرزا صاحب کا مبلغ علم معلوم ہو جاتا ہے مرزا صاحب کی زندگی ہی میں جو علماء تھے ان کی تصانیف کو دیکھ لیا جائے۔حضرت مولانا محمد قاسم صاحب رحمتہ اللّه علیہ بانی دارالعلوم دیوبند اور حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی رحمة اللّه عليه کی تصانیف کو سامنے رکھ کر اگر مرزا صاحب کی کتابوں کو دیکھا جائے۔ دو چار ورق میں فرق معلوم ہو جائے گا۔
مرزا صاحب کی تمام تصانیف میں سوائے اپنے کشف والہام اور تعلیٰ کے دعووں اور دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کی تنقیص اور توہین اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں گالیوں کے اور کیا ہے؟ مرزا صاحب کی کتابوں سے اللّه تعالی کی معرفت اور آخرت کا شوق و رغبت نہیں حاصل ہوتی۔
مرزائیوں سے درخواست ہے کہ وہ حضرت امام غزالی رحمة اللّه عليه کی احیاء العلوم اور کیمیائے سعادت کا ترجمہ پڑھیں اور اس زمانہ کے حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا محمد اشرف علی رحمتہ اللّه علیہ کے مواعظ کا خصوصاً مطالعہ کریں اور دیکھیں کہ کس طرح دل کی آنکھیں کھلتی ہیں۔
قرآن کریم تو اللّه سبحانہ وتعالیٰ کا کلام معجز نظام ہے اور حدیث نبوی کریم صلی اللّه علیہ وآلہ وسلم کا کلام فصاحت التیام ہے جس کا درجہ فصاحت و بلاغت میں قرآن کریم کے بعد ہےحضورﷺ کے خطبات کا عرب کے ادباء فصحاء اور بلغاء کے خطبات سے موازنہ کر لیا جائے تو زمین و آسمان کا فرق نظر آئے گا اور حضورﷺ کے جوامع الکلم کلمات حکمت و موعظت کا حکماء عالم کے کلمات حکمت سے موازنہ کر لیا جائے۔ حکماء عالم کی حکمت و موعظت کو حضورﷺ کی حکمت و موعظت سے وہ نسبت بھی نہ ملے گی جو قطرے کو سمندر کے ساتھ یا زرے کو آفتاب کے ساتھ ہوتی ہے۔
اب مرزائی حضرات اپنے نبی پر نظر ڈالیں کہ وہ تمام انبیاء علیہم السلام سابقین سے افضل اور نبی کریم ﷺ کا عین بلکہ آپ صلی اللّه عليه وآله وسلم سے شاید بہتر و برتر سمجھتے ہیں۔اس کی فصاحت و بلاغت پر نظر ڈالیں۔کیا مرزا صاحب اردو فارسی ادب اور فصاحت و بلاغت میں ادباء زمانہ میں کچھ بڑھ کر تھے؟
مرزا صاحب چونکہ ہوشیار تھے اس لیے اردو فارسی ادب میں تو اعجاز کا دعویٰ نہ کیا کہ ابھی قلعی کھل جائے گی اور دنیا مذاق اڑائے گی۔البتہ عربی زبان میں اعجاز کا دعویٰ کیا اور قصیدہ اعجازیہ لکھ کر اپنا معجزہ پیش کیا علماء نے اس کے مقابل قصائد پیش کر دیے اور مرزا صاحب کے قصیدہ اعجازیہ کی عروضی اور صرفی اور نحوی اور ادبی غلطیاں شائع کر دیں جس کا اب تک مرزا صاحب سے اور مرزائی حضرات سے جواب نہیں ہو سکا اور اگر ہو سکتا ہے تو اب جواب دیں۔
مرزا صاحب کی فصاحت و بلاغت معلوم کرنے کا طریقہ
اگر کسی کو مرزا صاحب کے قصیدہ اعجازیہ پر ناز ہے تو ایک مجلس منعقد کر لی جائے جس میں حجاز اور شام کے ادباء کو مدعو کیا جائے۔ اس میں مرزا صاحب کے قصیدہ اعجازیہ کو پیش کیا جائے اور علمائے اسلام کی گرفتوں کو بھی پیش کیا جائے اور ادباء عرب سے دریافت کیا جائے کہ مرزا صاحب کا قصیدہ اعجازیہ مصر کے مشہور شاعر شوقی اور حافظ ابراہیم کے قصائد کا پاسنگ بننے کے بھی قابل ہے یا نہیں؟
اور کوئی مرزائی دعویٰ کر کے تو دیکھے کہ مرزا صاحب کے اردو شعر اکبر الہ آبادی کے اشعار کے پاسنگ بھی بن سکتے ہیں؟ مرزائی خوب جانتے ہیں کہ سارا ملک اردو زبان جانتا ہے یہ دعویٰ ایک منٹ کے لیے بھی نہیں سنا جا سکتا۔ البتہ عربی زبان ایسی ہے کہ ملک کا اکثر طبقہ اس سے ناآشنا ہے اس لیے عربی زبان میں دعویٰ اعجاز پر کمر بستہ ہوۓ اور قصیدہ اعجازیہ لکھ کر شائع کر دیا۔ جس پر قادیان کے کچھ نادان ایمان لے آئے جن کو نہ عربی کی خبر ہے نہ ہی فارسی کی۔
مرزا صاحب کے صحابی اور تابعی انگریزی زبان کے ماہر ہیں مگر قران اور حدیث کی زبان کے ماہر نہیں۔ماہر تو کیا ہوتے کافیہ اور علم الصیغہ کی بھی خبر نہیں۔ ایسے آدمیوں کی نہ تصدیق معتبر ہے اور نہ تکذیب۔
مرزا صاحب اور ان کے صحابیوں تابعین کے امتحان کا طریقہ
مرزا صاحب کا دعویٰ ہے کہ میں تمام انبیاء کرام کا عموماً اور سرور عالم محمد عربی مصطفیٰ ﷺ کا ظل اور بروز بلکہ ان کا عین ہوں۔
(حقیقت الوحی ص ٧٣ حاشیہ روحانی خزائن ص ٧٦ ج ٢٢)
مرزا صاحب کی عبارت کا احادیث نبویہ کی عربیت سے موازنہ کیا جائے اور مرزا صاحب کے صحابہ اور تابعین کے عربی کلام کا نبی کریم ﷺ کے صحابہ اور تابعین کے خطبات اور اشعار سے موازنہ کیا جائے۔بلکہ غلامان غلامان غلامان غلامان غلامان غلامان غلامان غلامان محمد ﷺ کی نثر اور نظم سے مقابلہ کر لیا جائے ابھی مرزا صاحب اور ان کے تابعین کا مبلغ علم معلوم ہو جائے گا۔
مرزا صاحب کے خلیفہ ثانی مرزا بشیر الدین محمود ربوہ میں موجود ہیں۔ان کی عربی نثر و نظم کو کسی عربی ادیب کو دکھایا جائے اور مرزا کے خلیفہ ثانی تو رسول ﷺ کے خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروقؓ کے خطبوں کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ جس کا جی چاہے امتحان کرے۔
جس وقت یہ رسالہ تالیف کیا گیا اس وقت قادیانیوں کا خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود تھا
نبوت کی چوتھی شرط
عصمت کاملہ و مستمرہ
شاہان دنیا کے تقرب کے لیے سراپا اطاعت ہونا ضروری ہے۔اپنے مخالفوں کو اپنی بارگاہ میں کون گھسنے دیتا ہے اور مسند مقرب پر کون رکھتا ہے۔اس طرح خداوند ذوالجلال کا مقرب اور پیغمبر وہی ہو سکتا ہے جو ظاہر اور باطن میں اللّه تعالیٰ کا پورا پورا مطیع اور فرمانبردار ہو اور اس کے دشمنوں سے بری اور بیزار ہو۔
مرزا صاحب اپنے اقرار سے بھی معصوم نہ تھے اور نہ اللّه کے دشمنوں سے بری اور بیزار تھے۔یہود و نصاریٰٰ سے جہاد اور قتال کو حرام سمجھتے تھے اور ان کے عروج اور ترقی کے لیے دعاگو تھے۔
(ازالہ اوہام حاشیہ ٨٤٩ روحانی خزائن ص ٥٦١ ج ٣)
کافروں کے لیے دعا کا مطلب
کافروں کی حکومت اور سلطنت کے لیے دعا مانگنے کا مطلب یہ ہے کہ کفر اور کافروں کو عزت اور عروج ہو اور اسلام اور مسلمان ذلیل و خوار ہوں۔
سبحان اللّه عجب پیغمبری ہے کہ جس کا مقصد ہی کفر کا عروج اور اسلام کا زوال ہے۔نبوت کا مقصد تو یہ ہے کہ اللّه کا کلمہ بلند ہو اور کافروں کی بات نیچی ہو اللّه کا نام لینے والے عزیز اور سربلند ہوں اور اللّه کے دشمن ذلیل و خوار ہوں اور کافر خدا کے دوستوں کے غلام اور باج گزار بن کر رہیں۔ مگر مرزا صاحب کے دین میں معاملہ برعکس ہے۔یہ عجب نبی ہے جو نصاریٰ کے لیے دعا کرنے والا اور مسلمانوں کے لیے بددعا۔
مرزا صاحب سے یہ تو ممکن نہ ہوا کہ دنیا کو اپنی عصمت طہارت اور نزاہت دکھلا سکیں۔اس لیے انبیاءکرام کی عصمت ہی کا انکار کر دیا کہ نبی کے لیے معصوم ہونا ضروری نہیں۔ تاکہ اپنی عصمت دکھلانی اور ثابت نہ کرنی پڑے۔جس کا مطلب معاذ اللّه یہ ہوا کہ اے لوگو میرے دعویٰ نبوت پر تم میری عصمت کو نہ جانچنا کوئی نبی معصوم نہیں گزرا۔
اے مسلمانو غور تو کرو کہ اگر نبی کے لیے عصمت لازم نہیں تو پھر غیر معصوم کی اطاعت کیسے واجب ہو گی؟
اگر انبیاء کرام واجب العصمت نہ ہوتے تو اللّه تعالیٰ ان کی اطاعت کا حکم نہ دیتا اور نہ ان کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیتا۔

امت کے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سے بالا اور برتر ہو
ReplyDeleteحیطہ ادراک
Deleteحیطہ ادراک
Deleteحیطہ ادراک
Deleteحیطہ ادراک
Deleteمرزا صاحب کا دعوی ہے کہ میں تمام اولین و اخرین سے ----- میں بڑھا ہوا ہوں
ReplyDeleteعلوم
Deleteعلوم
Deleteعلوم
Deleteمرزا صاحب کی تصانیف کا ------ کی تصانیف سے مقابلہ کر لیا جاے
ReplyDeleteعلماء
Deleteعلما
Deleteعلما
Deleteعلمإ
Deleteعلما۶
Deleteمرزا صاحب سے تو یہ ممکن نہ ہوا کہ دنیا کو اپنی --------- دکھا سکیں
ReplyDeleteعصمت طہارت اور نزاہت
Deleteعصمت طہارت اور نزاہت
Deleteعصمت طیارے اور نزاہت
Deleteعظمت طہارت اور نزہت
Deleteعصمت طہارت اور نزاہت
Deleteیہ عجب نبی ہے جونصاری کے لیے ------کرتا یے اور مسلمانوں کے لیے ------
ReplyDeleteدعا
Deleteدعا
Deleteدعا
Deleteیہ عجب پیغمبری ہے جس کا مقصد ہی اسلام کا -------- اور کفر کا ------ ہے
ReplyDeleteکفر کا عروج اور اسلام کا زوال
Deleteکفر کا عروج
Deleteاسلام کا زوال
کفر کا عروج اور اسلام کا زوال
Deleteکفر کا عروج اور اسلامی کا ذوال
Delete