Soney or chandi ki zakat ka bayan

سونے اور چاندی کی زکاۃ کا بیان



سوال : چاندی کی کتنی مقدار پر زکاۃ فرض ہوتی ہے؟

جواب: جب وہ چاندی کے دو سو درہموں

٢٠٠درہم :٥ء٥٢ تولہ یعنی ٣٦ء٦١٢ گرام

(اوزان شرعیہ مع تتمہ) 
 کا مالک ہو جاۓ اور ان پر سال گزر جاۓ تو زکاۃ اس میں فرض ہو جاتی ہے پس وہ اپنے مال میں سے چالیسواں حصہ ادا کرے اور وہ ہر دو سو درہموں میں سے پانچ درہم ہیں۔



سوال: جب دراہم دو سو درہموں  سے زیادہ ہو جائیں تو جو( مقدار) زیادہ ہوئ اس کی زکاۃ کیسے ادا کرے؟ 

جواب: حضرت ابو حنیفہؒ فرماتے ہیں کہ زیادت میں کچھ نہیں  یہاں تک کہ  وہ چالیس درہموں کو پہنچ جاۓ پس جب چالیس درہم دو سو درہموں سے زائد ہو جائیں تو زائد میں پانچ درہموں کے ساتھ ایک درہم ہے پھر چالیس درہموں میں ایک درہم ہے اور حضرت ابو یوسفؒ و حضرت محمدؒ فرماتے ہیں کہ دو سو( درہموں) سے جو زائد ہو جاۓ پس اس کی زکاۃ اس کے حساب سے ہے زیادت کم ہو یا زیادہ۔



سوال: سونے کی کتنی مقدار میں زکاۃ فرض ہوتی ہے؟

جواب: جب وہ سونے کے بیس مثقال {٢٠ مثقال:٥ء٧ تولہ يعنى ٤٨ء ٨٧ گرام( اوزان شرعیہ مع تتمہ)} کا مالک ہو اس پر سال گزر جاۓ تو ان میں سے آدھا مثقال ادا کرے  اور وہ بھی چالیسواں حصہ ہے پھر زائد میں ہر چار مثقال میں دو قیراط{٨ء١رتى يعنى ٧ء٢١٨ ملی گرام( اوزان شرعیہ مع تتمہ)}ہیں اور چار مثقال سے کم زائد میں زکاۃ نہیں اور یہ حضرت ابو حنیفہؒ کے نزدیک ہے اور آپکے صاحبینؒ فرماتے ہیں کہ بیس مثقال میں آدھا مثقال ہے اور جو بیس( مثقال) سے زائد ہو جاۓ اس میں زکاۃ اسکے حساب سے واجب ہوتی ہے۔



سوال: جب سونے یا چاندی سے  زیور یا برتن ڈھالا جاۓ تو کیا اس میں زکاۃ فرض ہوتی ہے؟

جواب: زکاۃ سونا اور چاندی میں اور ہر ایسی (شے) جو ان سے ڈھالی جاۓ یعنی انکی ڈلیوں،انکے زیورات اور انکے برتنوں میں فرض ہوتی ہے۔اور اس میں مستعمل  وغیر( مستعمل) برابر ہیں۔



سوال: جب سونا یا چاندی میں کچھ کھوٹ ہو تو اس کا حکم کیا ہے؟

جواب: جب چاندی کے سکہ پر غالب چاندی ہو تو وہ چاندی کے حکم میں ہے اور جب غالب کھوٹ ہو تو وہ سامان کے حکم میں ہے اور کھوٹا سونا چاندی کی مانند ہے اس( حکم) میں جو (ابھی) ہم ذکر کر چکے ہیں۔





سوال: ایک شخص کہ اسکے پاس نہ سونا ہے اور نہ چاندی لیکن وہ ان نوٹوں کا مالک ہے جن کو حکومتی بینک جاری کرتے ہیں تو کیا ان میں زکاۃ ہے؟

جواب: جی ہاں! ان میں زکاۃ ہے جبکہ وہ دونوں نصابوں یعنی سونے اور چاندی کے نصابوں میں سے کسی ایک ( نصاب ) کو پہنچ جائیں کیونکہ وہ رائج اثمان کی طرح ہیں( کہ) ہر چیز ان کے ساتھ خریدی جاتی ہے اور ان کے ساتھ تجارت کی جاتی ہے اور جو ان ( نوٹوں) کو بینک میں لاۓ حکومت اس کیلئے ضامن ہوتی ہے کہ اسے وہ نقود ( یعنی دراہم و دنانیر) واپس کرے یہ نوٹ جن( نقود) کے قائم مقام ہیں۔



No comments:

Powered by Blogger.