Surah Baqrah 51-54

آیات  : 54 - 51


آیت : 51


وَاِذۡ وٰعَدۡنَا مُوۡسٰٓى اَرۡبَعِيۡنَ لَيۡلَةً ثُمَّ اتَّخَذۡتُمُ الۡعِجۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِهٖ وَاَنۡـتُمۡ ظٰلِمُوۡنَ 


لفظی ترجمہ


 وَاِذْ وَاعَدْنَا : اور جب ہم نے وعدہ کیا   |  مُوْسَىٰ : موسیٰ   |  اَرْبَعِیْنَ لَيْلَةً : چالیس رات   |  ثُمَّ : پھر   |  اتَّخَذْتُمُ : تم نے بنا لیا   |  الْعِجْلَ : بچھڑا   |  مِنْ بَعْدِهِ : ان کے بعد   |  وَاَنْتُمْ ظَالِمُوْنَ : اور تم ظالم ہوئے 


ترجمہ

یاد کرو جب ہم نے موسیٰؑ کو چالیس شبانہ روز کی قرارداد پر بلایا تو اس کے پیچھے تم بچھڑے کو اپنا معبود بنا بیٹھے اُس وقت تم نے بڑی زیادتی کی تھی




تفسیر


اور وہ زمانہ یاد کرو جبکہ وعدہ کیا تھا ہم نے موسیٰ علیہ السلام سے تورات دینے کا ایک مدت گذرنے پر جس میں دس رات کا اضافہ ہوکر چالیس رات کا زمانہ ہوگیا تھا پھر تم لوگوں نے پرستش کے لئے تجویز کرلیا گوسالہ کو موسیٰ علیہ السلام کے جانے کے بعد اور تم نے اس تجویز میں صریح ظلم پر کمر باندھ رکھی تھی کہ ایسی بےجا بات کے قائل ہوگئے تھے


فائدہ 


یہ قصہ اس وقت ہوا جب فرعون کے غرق ہونے کے بعد بنی اسرائیل بقول بعض مصر میں واپس آکر رہنے لگے یا بقول بعض کسی اور مقام پر ٹھہر گئے تو موسیٰ علیہ السلام سے بنی اسرائیل نے عرض کیا کہ اب ہم بالکل مطمئن ہوگئے اگر کوئی شریعت ہمارے لئے مقرر ہو تو اس کو اپنا دستور العمل بنائیں موسیٰ علیہ السلام کی عرض پر حق تعالیٰ نے وعدہ فرمایا کہ تم کوہ طور پر آکر ایک مہینہ ہماری عبادت میں مشغول رہو ایک کتاب تم کو دیں گے آپ نے ایسا ہی کیا اور تورات آپ کو مل گئی مگر دس روز مزید عبادت میں مشغول رہنے کا حکم اس لئے دیا گیا کہ موسیٰ علیہ السلام نے ایک ماہ روزہ رکھنے کے بعد افطار فرما لیا تھا

 اللّٰه تعالیٰ کو روزہ دار کے منہ کا رائحہ (جو خلوئے معدہ کی تبخیر سے پیدا ہوجاتا ہے پسند ہے اس لئے موسیٰ علیہ السلام کو حکم ہوا کہ دس روزے اور رکھیں تاکہ وہ رائحہ پھر پیدا ہوجائے اس طرح یہ چالیس روزے پورے ہوگئے موسیٰ علیہ السلام تو یہ یہاں رہے 

 وہاں ایک شخص سامری نامی تھا اس نے چاندی یا سونے کا ایک بچھڑے کا قالب بنا کر اس کے اندر وہ مٹی جو اس نے جبرئیل علیہ السلام کے گھوڑے کے قدم کے نیچے سے اٹھا کر اپنے پاس محفوظ رکھی ہوئی تھی ڈال دی اس بچھڑے میں جان پڑگئی اور جہلا بنی اسرائیل نے اسی کی پرستش شروع کردی



آیت  52


ثُمَّ عَفَوۡنَا عَنۡكُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِكَ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُوۡنَ‏ 


لفظی ترجمہ


 ثُمَّ : پھر   |  عَفَوْنَا : ہم نے معاف کردیا   |  عَنْكُمْ : تم سے   |  مِنْ : سے   |  بَعْدِ : بعد   |  ذَٰلِکَ : یہ   |  لَعَلَّكُمْ : تاکہ تم   |  تَشْكُرُوْنَ : احسان مانو 


ترجمہ

مگر اس پر بھی ہم نے تمہیں معاف کر دیا کہ شاید اب تم شکر گزار بنو



تفسیر



پھر بھی ہم نے تمہاری توبہ کرنے پر درگذر کیا تم سے اتنی بڑی بات ہوئی پیچھے اس توقع پر کہ تم احسان مانو گے


فائدہ 


اس توبہ کا بیان آگے کی تیسری آیت میں مذکور ہے اللّٰه تعالیٰ کے اس توقع رکھنے کا مطلب نعوذ باللّٰه یہ نہیں کہ خدا تعالیٰ کو شک تھا بلکہ مطلب یہ ہے کہ یہ درگذر کرنا ایسی چیز ہے کہ دیکھنے والوں کو شکر گذاری کی توقع کا گمان ہوسکتا ہے



آیت  53



وَاِذۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ وَالۡفُرۡقَانَ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ 



لفظی ترجمہ


 وَاِذْ : اور جب   |  آتَيْنَا : ہم نے دی   |  مُوْسَى: موسیٰ   |  الْكِتَابَ : کتاب   |  وَ : اور   |  الْفُرْقَانَ : جدا جدا کرنے والے احکام   |  لَعَلَّكُمْ : تاکہ تم   |  تَهْتَدُوْنَ : ہدایت پالو 



ترجمہ

یاد کرو کہ
 (ٹھیک اس وقت جب تم یہ ظلم کر رہے تھے)
 ہم نے موسیٰؑ کو کتاب اور فرقان عطا کی تاکہ تم اس کے ذریعے سے سیدھا راستہ پاسکو



تفسیر



اور وہ زمانہ یاد کرو جب ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو کتاب تورات دی اور فیصلہ کی چیز اس توقع پر کہ تم چلتے رہو


فائدہ 


فیصلہ کی چیز یا تو ان احکام شرعیہ کو کہا جو تورات میں لکھے ہیں کیونکہ شرع سے تمام تر اعتقادی اور عملی اختلافات کا فیصلہ ہوجاتا ہے۔

 یا معجزوں کو کہا کہ ان سے بچے جھوٹے دعوی کا فیصلہ ہوتا ہے یا خود تورات ہی کو کہہ دیا کہ اس میں کتاب ہونے کی صفت بھی ہے اور فیصل ہونے کی صفت بھی



آیت  54



وَاِذۡ قَالَ مُوۡسٰى لِقَوۡمِهٖ يٰقَوۡمِ اِنَّكُمۡ ظَلَمۡتُمۡ اَنۡفُسَکُمۡ بِاتِّخَاذِكُمُ الۡعِجۡلَ فَتُوۡبُوۡآ اِلٰى بَارِئِكُمۡ فَاقۡتُلُوۡٓا اَنۡفُسَكُمۡؕ ذٰ لِكُمۡ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ عِنۡدَ بَارِئِكُمۡؕ فَتَابَ عَلَيۡكُمۡ‌ؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيۡمُ 



لفظی ترجمہ


 وَاِذْقَالَ : اور جب کہا   |  مُوْسَىٰ : موسیٰ   |  لِقَوْمِهِ : اپنی قوم سے   |  يَا قَوْمِ : اے قوم   |  اِنَّكُمْ : بیشک تم   |  ظَلَمْتُمْ : تم نے ظلم کیا   |  اَنْفُسَكُمْ : اپنے اوپر   |  بِاتِّخَاذِكُمُ : تم نے بنالیا   |  الْعِجْلَ : بچھڑا   |  فَتُوْبُوْا : سو تم رجوع کرو   |  اِلَىٰ : طرف   |  بَارِئِكُمْ : تمہاراپیدا کرنے والا   |  فَاقْتُلُوْا : سو تم ہلاک کرو   |  اَنْفُسَكُمْ : اپنی جانیں   |  ذَٰلِكُمْ : یہ   |  خَيْرٌ: بہتر ہے   |  لَكُمْ : تمہارے لئے   |  عِنْدَ : نزدیک   |  بَارِئِكُمْ : تمہارا پیدا کرنے والا   |  فَتَابَ : اس نے توبہ قبول کرلی   |  عَلَيْكُمْ : تمہاری   |  اِنَّهُ هُوَ : بیشک وہ   |  التَّوَّابُ : توبہ قبول کرنے والا   |  الرَّحِیْمُ : رحم کرنے والا 


ترجمہ


یاد کرو جب موسیٰؑ (یہ نعمت لیتے ہوئے پلٹا، تو اُس) نے اپنی قوم سے کہا کہ "لوگو!
 تم نے بچھڑے کو معبود بنا کر اپنے اوپر سخت ظلم کیا ہے لہٰذا تم لوگ اپنے خالق کے حضور توبہ کرو اور اپنی جانوں کو ہلاک کرو اسی میں تمہارے خالق کے نزدیک تمہاری بہتری ہے" اُس وقت تمہارے خالق نے تمہاری توبہ قبول کر لی کہ وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے


تفسیر



اور وہ زمانہ یاد کرو جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اے میری قوم بیشک تم نے اپنا بڑا نقصان کیا اس گوسالہ پرستی کی تجویز سے سو تم اب اپنے خالق کی طرف متوجہ ہو پھر بعض  جنہوں نے گوسالہ پرستی نہیں کی بعض آدمیوں کو  جنہوں نے گوسالہ پرستی کی قتل کرو یہ عمل درآمد تمہارے لئے بہتر ہوگا تمہارے خالق کے نزدیک پھر اس عملدر آمد کرنے سے حق تعالیٰ تمہارے حال پر اپنی عنایت سے متوجہ ہوئے بیشک وہ تو ایسے ہی ہیں کہ توبہ قبول کرلیتے ہیں اور عنایت فرماتے ہیں


فائدہ


یہ اس طریق کا بیان ہے جو ان کی توبہ کے لئے تجویز ہوا یعنی مجرم لوگ قتل کئے جائیں جیسا ہماری شریعت میں بھی بعض گناہوں کی سزا باوجود توبہ کے بھی قتل وجان ستانی مقرر ہے مثلاً قتل عمد کے عوض قتل اور ثبوت زنا بالشہادۃ پر رجم
 کہ توبہ سے یہ سزا ساقط نہیں ہوتی چناچہ ان لوگوں نے اس پر عمل کیا جس کی وجہ سے آخرت میں مورد رحمت و عنایت ہوگئے


23 comments / Replies

  1. اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

    ReplyDelete
  2. یاد کرو جب ہم نے موسیٰؑ کو ___`_` شبانہ روز کی قرارداد پر بلایا

    ReplyDelete
  3. اس کے پیچھے تم ______ کو اپنا معبود بنا بیٹھے

    ReplyDelete
  4. اللّٰه تعالیٰ کو روزہ دار کے منہ کا ____ (جو خلوئے معدہ کی تبخیر سے پیدا ہوجاتا ہے پسند ہے

    ReplyDelete

  5. مگر اس پر بھی ہم نے تمہیں ____ کر دیا کہ شاید اب تم______ بنو

    ReplyDelete

  6. اور وہ زمانہ یاد کرو جب ہم نے موسیٰ علیہ السلام کو کتاب _____ دی

    ReplyDelete
  7. تمہارے خالق کے نزدیک پھر اس عملدر آمد کرنے سے _____ تمہارے حال پر اپنی عنایت سے متوجہ ہوئے

    ReplyDelete
  8. توبہ سے یہ سزا ____ نہیں ہوتی چناچہ ان لوگوں نے اس پر عمل کیا جس کی وجہ سے آخرت میں مورد رحمت و _____ ہوگئے

    ReplyDelete

Powered by Blogger.