Surah Baqrah aayat 38-39
آیات 39 - 38
رکوع : 4 مکمل
آیت : 38
قُلۡنَا اهۡبِطُوۡا مِنۡهَا جَمِيۡعًا ۚ فَاِمَّا يَاۡتِيَنَّكُمۡ مِّنِّىۡ هُدًى فَمَنۡ تَبِعَ هُدَاىَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ
لفظی ترجمہ
قُلْنَا : ہم نے کہا | اهْبِطُوْا : تم اتر جاؤ | مِنْهَا : یہاں سے | جَمِیْعًا : سب | فَاِمَّا : پس جب | يَأْتِيَنَّكُمْ : تمہیں پہنچے | مِنِّیْ : میری طرف سے | هُدًى: کوئی ہدایت | فَمَنْ تَبِعَ : سو جو چلا | هُدَايَ : میری ہدایت | فَلَا : تو نہ | خَوۡفٌ : کوئی خوف | عَلَيْهِمْ : ان پر | وَلَا هُمْ : اور نہ وہ | يَحْزَنُوْنَ : غمگین ہوں گے
ترجمہ
ہم نے کہا کہ "تم سب یہاں سے اتر جاؤ پھر جو میری طرف سے کوئی ہدایت تمہارے پاس پہنچے تو جو لوگ میر ی ہدایت کی پیروی کریں گے ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہ ہوگا
تفسیر
آدم کا زمین پر اترنا سزا کے طور پر نہیں بلکہ ایک مقصد کی تکمیل کے لئے تھا۔
قُلْنَا اھْبِطُوْا مِنْهَا جَمِيْعًا
جنت سے زمین پر اترنے کا حکم اس سے پہلی آیت میں آچکا ہے اس جگہ پھر اس کو مکرر لانے میں غالبا حکمت یہ ہے کہ پہلی آیت میں زمین پر اتارنے کا ذکر بطور عتاب اور سزا کے آیا تھا اسی لئے اس کے ساتھ انسانوں کی باہمی عداوت کا بھی ذکر کیا گیا اور یہاں زمین پر اتارنے کا ذکر ایک خاص مقصد خلافت الہیہ کی تکمیل کے لئے اعزاز کے ساتھ ہے
اسی لئے اس کے ساتھ ہدایت بھیجنے کا ذکر ہے جو خلافت الہیہ کے فرائض منصبی میں سے ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اگرچہ زمین پر اترنے کا ابتدائی حکم بطور عتاب اور سزا کے تھا مگر بعد میں جب خطا معاف کردی گئی تو دوسری مصالح اور حکمتوں کے پیش نظر زمین پر بھیجنے کے حکم کی حیثیت سے ہوا اور یہ وہی حکمت ہے جس کا ذکر تخلیق آدم کے وقت ہی فرشتوں سے کیا جاچکا تھا کہ زمین کے لئے ان کو خلیفہ بنانا ہے
رنج وغم سے نجات صرف ان لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جو اللّٰه کے فرمانبردار ہیں
فَمَنْ تَبِعَ ھُدَاىَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ
اس آیت میں آسمانی ہدایات کی پیروی کرنے والوں کے لئے دو انعام مذکور ہیں
ایک یہ کہ ان پر کوئی خوف نہ ہوگا
دوسرے وہ غمگین نہ ہوں گے
خَوْفٌ آئندہ پیش آنے والی کسی تکلیف و مصیبت کے اندیشہ کا نام ہے اور حزن کسی مقصد و مراد کے فوت ہوجانے سے پیدا ہونے والے غم کو کہا جاتا ہے
غور کیا جائے تو عیش و راحت کی تمام انواع و اقسام کا ان دو لفظوں میں ایسا احاطہ کردیا گیا ہے کہ آرام و آسائش کا کوئی فرد اور کوئی قسم اس سے باہر نہیں پھر ان دونوں لفظوں کی تعبیر میں ایک خاص فرق کیا گیا ہے کہ خوف کی نفی تو عام انداز میں کردی گئی مگر حزن کے متعلق یہ نہیں فرمایا کہ لاحزن علیہم بلکہ بصیغہ فعل لایا گیا اور اس کی ضمیر فاعل کو مقدم کرکے وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ فرمایا گیا اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ کسی چیز یا مراد کے فوت ہونے کے غم سے آزاد ہونا صرف انہی اولیاء اللّٰه کا مقام ہے جو اللّٰه تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایات کی مکمل پیروی کرنے والے ہیں
ان کے سوا کوئی انسان اس غم سے نہیں بچ سکتا خواہ وہ ہفت اقلیم کا بادشاہ ہو یا دنیا کا بڑے سے بڑا مالدار
کیونکہ ان میں کوئی بھی ایسا نہیں ہوتا جس کو اپنی طبیعت اور خواہش کے خلاف کوئی بات پیش نہ آئے اور اس کا غم نہ ہو جیسا کہ کہا گیا ہے
دریں دنیا کسے بےغم نباشد
وگر باشد بنی آدم نباشد
بخلاف اولیاء اللّٰه کے کہ وہ اپنی مرضی اور ارادے کو اللّٰه رب العزت کی مرضی اور ارادے میں فنا کردیتے ہیں اس لئے ان کو کسی چیز کے فوت ہونے کا غم نہیں ہوتا قرآن مجید میں دوسری جگہ بھی اس کو ظاہر کیا گیا ہے کہ خاص اہل جنت ہی کا یہ حال ہوگا کہ وہ جنت میں پہنچ کر اللّٰه تعالیٰ کا اس پر شکر کریں گے کہ ان سے غم دور کردیا گیا
الْحـَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْٓ اَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ
(٣٤: ٣٥)
اس سے معلوم ہوا کہ اس دنیا میں کچھ نہ کچھ غم ہونا ہر انسان کے لئے ناگزیز ہے بجز اس شخص کے جس نے اپنا تعلق حق تعالیٰ کے ساتھ مکمل اور مضبوط کرلیا ہو
خواجہ عزیز الحسن مجذوب نے خوب فرمایا
جو بچنا ہو غموں سے آپ کا دیوانہ ہوجائے
اس آیت میں اللّٰه والوں سے خوف وغم کی نفی کرنے سے مراد یہ ہے کہ دنیا کی کسی تکلیف یا کسی خواہش و مراد پر ان کو خوف وغم نہ ہوگا
آخرت کی فکر وغم اور اللّٰه جل شانہ کی ہیبت و جلال تو ان پر اور سب سے زیادہ ہوتی ہے اسی لئے رسول اللّهﷺکی شان میں یہ آیا ہے کہ آپ اکثر غمگین اور متفکر رہتے تھے
وجہ یہ ہے کہ آپ کا یہ فکر وغم کسی دنیوی نعمت کے فوت ہونے یا کسی مصیبت کے خطرہ سے نہیں بلکہ اللّٰه جل شانہ کی ہیبت و جلال سے اور امت کے حالات کی وجہ سے تھا
نیز اس سے یہ بھی لازم نہیں آتا کہ دنیا میں جو چیزیں خوفناک سمجھی جاتی ہیں ان سے انبیاء علیہم السلام اور اولیاء کرام کو بشری طور پر طبعی خوف نہ ہو کیونکہ حضرت موسیٰ ٰ علیہ السلام کے سامنے جب لاٹھی کا سانپ بن گیا تو انکا ڈر جانا قرآن مجید میں مذکور ہے
فَاَوْجَسَ فِيْ نَفْسِهٖ خِيْفَةً مُّوْسٰى
(٦٧: ٢٠)
کیونکہ یہ فطری اور طبعی خوف ابتداء حال میں تھا جب اللّٰه تعالیٰ نے فرمایا لاتخف تو یہ ڈر بالکل نکل گیا
اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا یہ خوف عام انسانوں کی طرح اس بنیاد پر نہ تھا کہ یہ سانپ ان کو تکلیف پہنچائے گا بلکہ اس لئے تھا کہ بنی اسرائیل اس سے کہیں گمراہی میں نہ پڑجائیں تو یہ خوف ایک قسم کا اخروی خوف تھا
آیت 39
وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَكَذَّبُوۡا بِـاٰيٰتِنَآ اُولٰٓئِكَ اَصۡحٰبُ النَّارِۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ
لفظی ترجمہ
وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا : اور جن لوگوں نے کفر کیا | وَکَذَّبُوْا : اور جھٹلایا | بِآيَاتِنَا : ہماری آیات | أُوْلَٰئِکَ : وہی | اَصْحَابُ النَّار : دوزخ والے | هُمْ فِیْهَا : وہ اس میں | خَالِدُوْنَ : ہمیشہ رہیں گے
ترجمہ
اور جو اس کو قبول کرنے سے انکار کریں گے اور ہماری آیات کو جھٹلائیں گے وہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے"
تفسیر
آخری آیت والَّذِيْنَ كَفَرُوْا سے یہ بتلا دیا گیا ہے کہ جو لوگ اللّٰه تعالیٰ کی بھیجی ہوئی ہدایت کی پیروی نہیں کریں گے ان کا ٹھکانہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جہنم ہوگا
اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو اس ہدایت کو ہدایت سمجھنے اور اس کی پیروی کرنے سے انکار کردیں یعنی کفار اور مؤمنین جو ہدایت کو ہدایت ماننے کا اقرار کرتے ہیں
وہ عملاً کیسے بھی گہنگار ہوں اپنے گناہوں کی سزا بھگتنے کے بعد بالآخر جہنم سے نکال لئے جائیں گے
واللّٰه اعلم
واللّٰه اعلم

آدم کا زمین پر اترنا..... کے طور پر نہیں بلکہ ایک ..... کی تکمیل کے لیے تھا۔
ReplyDeleteسزا
Deleteسزا
Deleteمقصد
سزا
Deleteسزا
Deleteمقصد
سزا۔
Deleteمقصد
سزا
Deleteمقصد
سزا
Deleteمقصد
Deleteسزا مقصد
Deleteسزا
Deleteمقصد
سزا
Deleteمقصد
قُلنَا ...... مِنھَا جمیعًا
ReplyDeleteاھبطو
Deleteھبطو
Deleteا ھبطو
Deleteاھبطوا
Deleteاھبطو
Deleteاھبطو
Deleteاھبطو
Deleteاھبطو
Deleteاھبطو
Deleteجنت سے زمین پر اترنے کا حکم اس سے ...... ایت میں آچکا ہے۔
ReplyDeleteپہلی
Deleteپہلی
Deleteپہلی
Deleteپہلی
Deleteپہلی
Deleteپہلی
Deleteپہلی
Deleteپہلى
Deleteپہلی
Deleteجو خلافت الہیہ کے فراٸض ....... میں سے ہے۔
ReplyDeleteمنصبی
Deleteمنصبی
Deleteمنصبی
Deleteمنصبی
Deleteمنصبی
Deleteمنصبى
Deleteمنصبی
Deleteزمین پر اترنے کا ابتدائی حکم بطور ..... اور ...... کے تھا۔
ReplyDeleteعتاب
Deleteسزا
عتاب
Deleteسزا
عتاب اور سزا
Deleteعتاب۔
Deleteسزا
عتاب اور سزا
Deleteعتاب
Deleteسزا
عتاب سزا
Deleteعتاب
Deleteسزا
عتاب
Deleteسزا
یہ وہی حکومت ہے جس کا ذکر ....... کے وقت ہی فرشتوں سے کیا جا چکا ہے۔
ReplyDeleteتخلیق آدم
Deleteتخلیق ادم
Deleteتخليق آدم
Deleteتخلیق آدم
Deleteتخلیق آدم
Deleteتخلیق آدم
Deleteتخليق آدم
Deleteتخلیق آدم
Deleteزمین کے لیے ان کو ..... بنانا ہے۔
ReplyDeleteخلیفہ
Deleteخلیفہ
Deleteخلیفہ
Deleteخلیفہ
Deleteخلیفہ
Deleteخلیفہ
Deleteخلیفہ
Deleteخليفہ
Deleteخلیفہ
Deleteاس آیت میں آسمانی ہدایت کی پیروی کرنے والوں کے لیے ..... انعام ہیں۔
ReplyDeleteدو
Deleteدو
Delete2
Deleteدو
Delete2
Deleteدو
Deleteدو
Deleteدو
Deleteدو
Deleteدو
Deleteایک یہ کہ ان پر کوٸی ...... نہ ہوگا
ReplyDeleteخوف
Deleteخوف
Deleteخوف
Deleteخوف
Deleteخوف
Deleteخوف
Deleteخوف
Deleteخوف
Deleteخوف
Deleteخوف
Deleteدوسرے وہ ..... نہ ہوگے
ReplyDeleteغمگیں
Deleteغمگین
Deleteغمگین
Deleteغمگین
Deleteغمگین
Deleteغمگین
Deleteغمگین
Deleteغمگين
Deleteغمگین
Deleteرسول اللہ ﷺ کی شان میں یہ آیا ہے کہ آپﷺ اکثر ..... اور ...... رہتے تھے۔
ReplyDeleteغمگیں
Deleteمتفکر
Gamgeen mutafakir
Deleteغمگین
Deleteمتفکر
غمگین۔
Deleteمتفکر
غمگین اور متفکر
Deleteغمگین
Deleteمتفکر
غمگین متفکر
Deleteغمگين اور متفكر
Deleteغمگیں
Deleteمتفکر
یہ فطری اور ...... خوف ابتدا حال میں تھا۔
ReplyDeleteطبعی
DeleteTibi
Deleteطبعی
Deleteطبعی
Deleteطبعی
Deleteطبعی
Deleteطبعی
Deleteطبعى
Deleteطبعی
Deleteیہ خوف ایک قسم کا ...... خوف تھا
ReplyDeleteاخروی
DeleteAkhrvi
Deleteاخروی
Deleteاخروی
Deleteاخروی
Deleteاخروی
Deleteاخروی
Deleteاخروى
Deleteاخروی
Deleteھُدَای کا لفظی ترجمہ
ReplyDeleteWo hadayt
Deleteکوٸی ہدایت
Deleteکوئ ہدایت
Delete(میری ہدایت (ھدی کوئی ہدایت
Deleteمیری ہدایت
Deleteمیری ہدایت
Deleteمیری ہدایت
Deleteمیری ہدایت
Deleteكوئى ہدايت
Deleteہدایت
Deleteجو ہماری آیات کو جھٹلاٸیں گے وہ ..... میں جانے والے ہیں
ReplyDeleteAag
Deleteآگ
Deleteآگ
Deleteآگ
Deleteآگ
Deleteآگ
Deleteآگ
Deleteآگ
Deleteوَکَزَّبُوا کا لفظی ترجمہ
ReplyDeleteOr jutlaya
Deleteاور جھٹلایا
Deleteاور جھٹلایا
Deleteاور جھٹلایا
Deleteاور جھٹلايا
Deleteاور جھٹلایا
Deleteاور جھٹلایا
ReplyDeleteاور جھٹلایا
ReplyDeleteاور جھٹلایا
ReplyDelete